Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 58)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 58)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
وارڈ کا دروازہ کھلتے ہی صفا کی نظر سامنے ہسپتال کے مخصوص گاؤن میں بیٹھے شخص پر پڑی اس کے قدم ساکت ہوئے تھے
“بابا ” آواز اتنی آہستہ تھی کہ وہ خود بھی بامشکل ہی سن پائی
سامنے کا منظر دیکھ کر صفا کو اپنی آنکھیں نم ہوتی محسوس ہوئیں
سامنے کوئی آٹھ نو سال کی بچی اپنے بابا کے گلے لگ کر شدت سے رو رہی تھی
بابا بابا کہتے وہ کبھی ان کا گال چوم رہی تھی تو کبھی ہاتھ
بیٹا بابا کو ڈرپ لگی ہے نہ جان انہیں آرام کرنے دو وہ پاس کھڑی یقینا اس بچی کی ماں تھی آنکھیں اس کی بھی سرخ سی تھیں
“please papa don’t leave us alone”
“بابا پلیز ہمیں اکیلا نہیں چھوڑئیے گا “
وہ بچی کرب سے بولی
بچی کے جملے نے صفا کو بھی دہلا دیا تھا کوئی شدت سے یاد آیا تھا
“جی آپ؟” وہ لڑکی (بچی کی ماں ) صفا کی جانب متوجہ ہوئی
آئی ایم سوری شاید میں غلط روم میں آگئی صفا نے ہڑبڑا کر شرمندگی سے کہا
“کوئی بات نہیں” وہ لڑکی دھیما کر مسکرا کر دوبارہ اپنی بیٹی اور شوہر کی جانب متوجہ ہوئی
_________
صفا اس روم سے باہر نکلی تو اس کا دھیان موبائل کے وال پیپر پر واضح ہوتے وقت پر گیا
وہ عون کے ماموں کی عیادت کا ارادہ ملتوی کرتی جلدی جلدی وہاں سے نکلی اسے ابھی گھر بھی پہنچنا تھا اور ٹریفک کا کوئی پتا نہیں تھا
وہ جلدی سے نکلی
ابھی وہ میں گیٹ سے گھر کے اندر داخل ہی ہوئی تھی جب اس کے پیچھے بالاج کی گاڑی سے خاموش سی حیا اترتی نظر آئی
سپاٹ چہرے کے ساتھ حیا بغیر کہیں دیکھے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی
صفا نے بالاج بھائی کو دیکھا وہ بھی کچھ پریشان اور خاموش تھے
“سامان پیک کرلو گڑیا ہم لوگ جا رہے ہیں مما کو صبح آفیشل ہیرئینگ کے لیے جانا ہے “
بالاج اپنے موبائل پر آتی کال کو ان دیکھا کئیے نرمی سے صفا کے قریب آیا جس کے چہرے پر تشویش ابھری تھی
“جی ٹھیک ہے بھائی میں بیا کو بھی کہہ دیتی ہوں “
صفا کہتی بچوں والے کمرے کی جانب بڑھ گئی جہاں انابیہ بچوں کے ساتھ ابھی بھی لڈو کھیلنے میں مصروف تھی
________
نائٹ بلب کی ہلکی سی روشنی میں کمرے کو دیکھ پانا مشکل تھا مگر غور کرو زمین پر بکھرا سامان نظر آتا ہے تبھی ایک دم موبائل کا شور اٹھا
یہ پانچویں کال تھی جو بج بج کر اب بند ہوگئی تھی مقابل کوئی بہت ڈھیٹ انسان تھا جو مسلسل کال پر کال کر رہا تھا
ڈھیٹ تو اس موبائل کا مالک بھی تھا جو کال کو اگنور کر رہا تھا مگر رِنگ بند نہیں کر رہا تھا
تبھی چھٹی کال پر بستر پر نیم دراز سے شخص نے سفید پٹی میں مقید ہاتھ کو بڑھا کر بغیر دیکھے فون کان سے لگایا
“مسٹر اعوان ہمیں ہمارا گھر واپس چاہیے آپ نے میٹینگ فائنل کر کے آنے کی زحمت نہیں کی یہ کہاں کا اصول ہے پہلے تو آپ نے دھوکا ۔۔۔!!!”
نسوانی آواز پر جازب نے بے زاری سے کال بھیچ میں ہی کاٹ دی اور فون مٹھی میں قید کرلیا
وہ بیڈ کی چوڑائی میں پیٹ کے بل بکھرے حلیے میں لیٹے ہوئے تھا آدھی ٹانگیں بیڈ سے باہر نیچے کو بینڈ ہوئی ہوئی تھیں دایاں ہاتھ جس میں موبائل قید تھا وہ خود سفید پٹی میں قید تھا شرٹ کے بازو فولڈ ہونے کی وجہ سے مردانہ بالوں والی مضبوط کلائیوں پر پڑی خراشیں اور کانچ لگنے کے نشان واضح تھے
مگر وہ بے سدھ لیٹا ہوا تھا
“ہیلو رفیق میں نے ایک کام کہا تھا تمہیں مجھے اگلا سورج نکلنے سے پہلے اپنا کام مکمل چاہیے نہیں تو تم کل کا سورج بھول جانا”
آگے سے کیا کہا گیا جب مقابل کے چہرے کے تاثرات کچھ نرم پڑے
ہمم ۔۔۔ میری اسلام آباد کی ایمرجنسی فلائیٹ بک کرواؤ “
بھاری آواز میں کہہ کر جازب نے فون بند کرکے بیڈ پر پھینک دیا اور اٹھ کر بیٹھ گیا
اس نے اپنے پٹی والے ہاتھ کو سامنے کیا
آنکھوں میں۔ ایک چہرہ آسمایا کانوں میں آواز گونجی
“آپ کا ۔۔۔ آپ کا دماغ خراب ہے جازب کمال یہ کیا فضول حرکت ہے “حیا اس کا ہاتھ تھام کر چلا رہی تھی
“آپ ٹھیک ہیں حیا۔؟”جازب نے گیلی سرخ آنکھوں سے ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ حیا کو دیکھا
حیا نے اسے ایسے دیکھا جیسے اس کا دماغ چل گیا ہو
“میں ٹھیک ہوں مگر آپ کا دماغ چل گیا ہے
چلیں آپ کے ہاتھ سے خون نکل رہا ہے” حیا نے سختی سے کہا
مگر وہ چت کھڑا حیا کو دیکھ رہا تھا وہ جیسے ابھی بھی بے یقین ہی تھا
“آپ کو کچھ ہوا تو نہیں حیا “
وہ پھر سے ٹرانس کی ہی کیفیت میں بولے
حیا اسے دیکھ کر رہ گئی
“میری آواز آرہی ہے آپ کو جازب یاں آپ پاگل ہوگئے ہیں “
“پاگل ۔۔۔ ہاں پاگل ہی ہوگیا تھا میں آپ تصور کرسکتی ہیں حیا خان میری جان نکل گئی تھی “
جازب کے ہاتھ حیا کے بازوں پر تھے
حیا کی آواز اگر تیز تھی تو جازب بھی اپنے ہوش میں نہیں رہ گئے تھے حیا ایک لمحے کو تو سہم سی گئی تھی
تم کو خبر ہوئی نہ زمانہ سمجھ سکا ۔۔۔
ہم چپکے چپکے تم پہ کئی بار مرگئے۔۔۔
بالاج ان کے قریب آگیا
“انکل” بالاج سنجیدگی سے جازب کے قریب آیا
“بالاج بالاج حیا مل گئیں، وہ ٹھیک ہیں” جازب خوشی سے مسکراتے ہوئے بالاج کو شانے سے تھام کر گلے لگا کر بولے انداز ایسا تھا جیسے ابھی نیند سے جاگے ہوں
“جی ماما ٹھیک ہیں انکل آپ چلیں بالاج اسے بازو سے پکڑ کر لے جانے لگا جبکہ حیا کچھ کہنے کے قابل ہی نہ رہی تھیں “
“میں ٹھیک ہوں یار !” جازب نے انکار کرنا چاہا مگر بالاج انہیں خاموش کروا گیا پھر بالاج نے زبردستی جازب کی کلینک سے پٹی کروائی
“میں چلا جاؤں گا بیٹا میں ٹھیک ہوں تسلی رکھو ” جازب نے گاڑی سے اتر کر اپنی گاڑی کی جانب قدم بڑھائے جو حیا چلا رہی تھیں
حیا بھی جازب کی گاڑی سے اتر گئی
وہ دونوں آمنے سامنے تھے
اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا ۔۔۔۔
سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔۔۔۔
“شک۔۔۔۔!”
“شکریہ کہہ کر میرے جزبات کو فارمیلیٹی کی بھینٹ مت چڑھائیے گا حیا “
“واقع جو آج آپ نے کیا ہے شکریہ بہت چھوٹا لفظ ہے آپ نے اپنی پرواہ کیے بغیر میری جان بچائی ہے جازب صاحب میں ۔۔۔۔”
“میں نے کہا نہ آپ کو شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے
آپ کی حفاظت کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں اور جازب کمال حق و فرائض کے معاملے میں جان لینے دینے والا شخص ہے “
گھمبیر لہجے میں جتایا گیا
اتنی شدت تھی لہجے میں کہ حیا بالاج سے ہی نظریں چرا گئی جو سنجیدگی سے جازب کو دیکھ رہا تھا
حیا سے کہہ کر جازب مسکرا کر بالاج کی جانب دیکھتے اپنی گاڑی میں آکر بیٹھ گئے
اور پھر وہ دونوں ماں بیٹا جازب کی سیاہ گاڑی کو نظروں سے دور ہوتا دیکھتے رہے ۔۔۔
حیا جازب کی ٹون پر گنگ تھی کب کیا تھا اس نے اتنا واضح اظہار ۔۔۔۔
_______
کچھ منٹ بعد عون دھڑکتے دل کے ساتھ حدید کے کمرے میں داخل ہوا مگر اس کی سوچ کے برعکس صفا وہاں نہیں تھی
حدید شاہ اپنے دائیں بازو کو آنکھوں کر رکھے لیٹے ہوئے تھے
“میں نے کہا تھا نہ عون وہ نہیں آئے گی “
اس سے پہلے عون حدید سے کوئی سوال کرتا حدید خود ہی بول پڑے
“وہ نہیں آئیں ؟ ‘ عون کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی وہ حیران تھا
“مجھ سے پوچھ رہے ہو یاں بتا رہے ہو ؟”حدید نے کہا تو لہجہ دکھ سے بھر گیا
“میں پوچھ رہا ہوں ماموں کیونکہ میرے سامنے وہ اس طرف آئیں تھی میں پی ھے اس لیے نہیں آیا میں کچھ وقت آپ لوگوں کو اکیلے میں دینا چاہتا تھا “
عون پریشانی سے حدید کے پاس آتے بولا
“وہ نہیں آئی عون وہ شاید میرا چہرہ تک دیکھنے کی روادار نہیں یاں وہ دروازے تک پہنچ کر مڑ گئی وہ دل کو منا نہیں سکی اپنے خود غرض باپ کو ایک نظر دیکھنے کے لیے “
حدید دل میں اڑتی تکلیف پر تڑپ کر بولے
“ایسی بات نہیں ہے ماموں” عون جھنجھلایا
“ضرور کوئی اور بات ہے میں پوچھتا ہوں ان سے “
“رہنے دو عون بڑی مشکل سے دل کو منایا ہے میرے بچے اگر مجھ سے دور رہنا چاہتے ہیں تو رہ لینے دو ایک باپ جو اپنی دوستی اولاد کے وجود سے ہی لاعلم تھا وہ ایسی ہی نفرت ڈیذرو کرتا ہے “
“نہیں ماموں میری صفا اتنی پتھڑ دل نہیں ہیں “
وہ تیزی سے بولا وہ جس پتھڑ پر اتنے عرصے سے سر مار کر لہولہان ہورہا تھا آج بھی کسی کو اس پر بات کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا
خوش نصیب ہے صفا عون جو تم اس سے محبت کرتے ہو اسے بہت خوش رکھنا لڑکیوں کے دل بہت حساس ہوتے ہیں”
“ماموں صفا ہر بات سے لاعلم ہیں ! “
عون نے گہری سانس بھر کر حدید کی غلط فہمی دور کی
حدید شاہ بے یقینی سے عون کا منہ تکنے لگے
“لاعلم ؟!!”
“جی وہ نہیں جانتی آپ اور آنٹی دور کیوں ہیں وہ کچھ بھی نہیں جانتی ” عون نے کچھ دیر پہلے صفا کی بتائی ساری باتیں حدید کے گوش گزار کی
“عون مجھے ایک دفعہ اپنی بچی سے ملنا ہے “
وہ آنسوں سے تر چہرے کے ساتھ عون کے سامنے ہاتھ جوڑ کر تڑپ کر بولے
“ماموں ہاتھ تو نہ جوڑیں” وہ خفگی سے بولا
“عون مجھے اپنی بیٹی سے ملنا ہے پلیز عون” وہ جو کچھ دیر پہلے دل کو مضبوط کر چکے تھے حیا کے اپنے اوپر اتنے بڑے احساس پر دل پھر سے ہاتھوں سے نکلنے لگا دل بیٹی کو سینے سے لگانے کا کرنے لگا
________
“حیات بات سنو ؟”
“جی بھابھی”
“رشتے کے نام پر دھوکا تو دے ہی چکی ہو اب جاتے جاتے زرا ہمارے سر سے بوجھ اتار جاؤ وہ دو پلاٹ کے کاغزات ہیں ان پر دستخط کر دو دیکھ لو آج تم یہاں اتنی شان و شوکت کی زندگی جی رہی ہو اس میں کہیں نہ کہیں میرا ہاتھ بھی ہے” وشمہ بھابھی نے چمک کر کہا
“کونسے کاغزات آپ لائیں میں دیکھتی ہوں”
حیا اس وقت زہنی اور جسمانی طور پر اس قدر تھکی ہوئی تھی کہ وہ وشمہ بھابھی سے کسی بھی قسم کی بحث سے بچنا چاہ رہی تھی ویسے بھی بھائیوں سے مل کر اس نے نکل جانا تھا تو جاتے جاتے وہ کوئی بد مزگی نہیں چاہ رہی تھی
_______
“مما ڈیڈ ” شجاع ہاتھ میں موبائل پکڑے سیدھا اپنے ماں باپ کے کمرے میں آیا
“مما حیا آنٹی اور بالاج کل تک پہنچ جائیں گے اسلام آباد آپ کل ہی جائیں مما اور منگنی کی نہیں بلکہ نکاح کی تاریخ لے کر آئیں “
شجاع کے بے تابی سے کہنے پر شبانہ خاور نے اسے ناگواری سے دیکھا
“اتنے اتاولے مت ہو شجاع سارے فیصلے یوں جلد بازی میں نہیں ہوجاتے “
خاور صاحب نے اسے ٹوک کر کہا
“ہوجاتے ہیں ڈیڈ جن فیصلوں میں بڑوں کی رضامندی ہو وہ پھر دن اور رات کا فرق بھلائے جلدی پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں “
شجاع کے سپاٹ لہجے پر وہ دونوں میاں بیوی نظریں چرا گئے ..
“کل پھر چلیں گے تم بالاج سے وقت لے لو “
خاور صاحب نے گہری سانس بھر کر مسکراتے ہوئے کہا تاکہ بیٹے کے تاثرات بھی کچھ بحال ہوں
_______
” یہ لو حیات یہ کاغذات ہیں ان پر جلدی سے دستخط کر دو ویسے حمزہ اور پریہان کا رشتہ کردیا ہے تمہارے بھائی صاحب نے تو آخر اکلوتی پھوپھو ہو ان بچوں کے لیے کچھ نہیں کرو گی ؟ “
وشمہ بھابھی نے آئی برو اُچکاتے حیا سے استفسار کیا جو سنجیدگی سے اپنے سامنے پڑے دستاویزات کو پڑھ رہی تھیں
“یہ میرا والا پلاٹ میں پہلے ہی حمزہ کے نام کرنے والی تھی بھابھی اور دوسرے پلاٹ میں سے بھی مجھے کچھ نہیں چاہیے میں بھائیوں کو بتا دوں گی”
وہ بغیر دستخط کیے کاغذات والی فائل بند کرگئی
“کیا مطلب اور میرے بچے میری پری اس کا کیا ؟ بولو یاں بدلے لے رہی ہو تم وہ جو برسوں پہلے میں نے تمہیں گھر سے نکال دیا تھا ارے ناشکری عورت میں تمہیں گھر رکھ لیتی تو کیا تم اس مقام تک پہنچتی ابھی ادھر ہوتی تو تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے بچے بھی نانی کے در پر رل رہے ہوتے
اور تم ہو کہ زرا دل نہیں بڑا کر پارہی “
“بس کردیں بھابھی کونسا احسان میں خاموش تھی صرف اپنے بھائی اور ان کے بچوں کے منہ خاموش تھی نہیں تو آپ اس قابل ہیں آپ سے بات کی جائے “
آپ نے یہ بھی نہیں سوچا آپ کی جوان نند ایک شیر خوار بچے کو لے کر کہاں جائے گی خدانخواستہ اس رات جہانگیر بھائی کی جگہ کسی اور کے ہتھے چڑھ جاتی تو پتا بھی نہیں لگنا تھا کون سی حیات کہاں گئی حیات اور اس کا بچہ “
حیا تکلیف سے بولی یہاں تک کہ اس کی آواز پھٹ گئی
“میں ماں بننے والی تھی اس رات کوئی اونچ نیچ ہو جاتی تو میرا کیا ہوتا بھابھی اتنے سال اپنے گھر والوں سے دور رہی صرف آپ کی ایک دہائی پر کہ آپ کے شوہر اور بچوں کی جان خطرے میں نہ ڈالوں
آپ کی وجہ سے میرا باپ چھن گیا مجھ سے میں نے دوڑ کر شادی نہیں کی تھی آپ لوگوں کی مرضی سے کی تھی مگر مجھے بدنام اور مجبور کردیا گیا میرے نکاح کو گناہ بنا دیا سب نے مل کر “
حیا کی بلند آوازیں گونج رہی تھیں وہ پہلے ہی اتنی پریشان تھی وشمہ بھابھی اپنی ساری حدیں پار کر چکی تھیں حیا کی بھی بس ہوگئی
ان کے کچھ فاصلے پر لاونج میں کھڑے علی اور عدنان بھائی
بے یقینی سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے
