Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 54)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 54)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“بابا ۔۔۔بابا کیا ہوا ؟” جاوید شاہ کا پسینے سے تر چہرہ دیکھ کر حدیقہ پریشانی سے ان کے پاس آئی
“کچھ نہیں “وہ گہری یاسیت بھری سانس لیتے بولے
جب دو ڈاکٹرز کچھ مضطرب سے ان دونوں کی جانب آرہے تھے
میل ڈاکٹر نے اپنے چہرے سے ماسک اتارتے ہوئے ایک نظر جاوید شاہ پر ڈال کر حدیقہ کو دیکھا
“ان کی دائیں جانب کی بوڈی پیرالائز ہوگئی ہے جسم کا مکمل دایاں حصّہ جام ہوچکا ہے چہرے کے دائیں حصّے کے جام ہونے کی وجہ سے وہ شاید کبھی سہی سے نہ بول سکیں انہیں تھوڑی دیر میں روم میں شفٹ کر دیں گے تب آپ مل لیجئے گا “
ڈاکٹرز آبدہ شاہ کی طبیعت سے آگاہ کرکے وہاں سے چلا گیا پیچھے حدیقہ اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا گئی ۔۔۔۔
________
“کام کاج چھوڑ دیئے ہیں آپ نے بہنوئی صاحب جو یہی کہ ہوکر رہ گئے ہیں “
حدید نے دونوں باپ بیٹے کو کتنی دیر اپنے پاس ہی بیٹھا دیکھ کر جھنجھلا کر کہا
وہ کہاں عادی رہ گیا تھا نظروں کا محور بننے کا
“کام تو بہت ہیں مگر بیوی سے زیادہ عزیز نہیں”
ابراہیم شاہ کی تپی سی آواز پر حدید کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چھلکی
“لگتا ہے نشے میں ہو بہنوئی صاحب جو تمہیں مجھ سے میں اپنی بیوی نظر آرہی ہے “
حدید نے اٹھنے کی کوشش کی عون نے جلدی سے حدید کو سہارا دیا
“نشے میں تو نہیں البتہ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہوں میں اور میری بیوی کو اس کا بڑا بھائی بہت عزیز ہے، یہ الگ بات ہے اس نے اپنے بڑے بھائی کے دیئے جانے والے غم بھلا دیئے ہیں “
حدید کے چہرے پر سے مسکراہٹ نوچی گئی
“ڈیڈ پلیز” عون نے پہلو بدلہ
تبھی ابراہیم پر حدیقہ کا فون آیا
وہ کمرے سے نکلا
“ماموں اب طبیعت کیسی ہے ؟ ” عون نے نرمی سے پوچھا
تیرا باپ سکون سے رہنے دے تو پھر ہی نہ
آ”پ ڈیڈ کی بات کا برا نہیں منائیے گا اوپر سے وہ جتنا مرضی کہہ لیں اندر سے وہ بھی آپ سے پیار کرتے ہیں جب آپ ایمرجنسی میں تھے تو ڈیڈ کی نظر ایک دفعہ بھی دروازے سے نہیں ہٹی”
عون نے حدید کا ہاتھ تھام کر یقین دلایا
اور بے شک حدید نے یقین کر بھی لیا
“جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں شاہوں میں بہت انا ہوتی ہے کبھی بھی جھکتے نہیں ہیں” وہ استہزایہ ہنس دیا
اس لمحے بہت کچھ یاد آیا تھا اسے
ت”م بھی حیات شاہ بن گئی تھی اس رات حیات حفیظ ہوتی تو بات سن کر جاتی “
دل میں درد سا اٹھا تھا پھر سے مگر یہ تو مستقل کا درد تھا اور اسے دیکھ لینے کے بعد سے تو جیسے دل سے باقاعدہ خون رسنے لگا تھا جس پر وہ کوئی مرہم نہیں رکھنا چاہتا تھا
تبھی حدید کے ڈاکٹر اندر آئے
“کیسے ہیں مسٹر شاہ ؟ “ڈاکٹر جبار نے مسکرا کر حدید کی جانب دیکھا پھر اس کا بلڈ پریشر چیک کیا
“بلڈ پریشر ہائی ہے آپ کا حدید شاہ ” ڈاکٹر جبار نے فکر مندی سے کہا ابھی وہ مزید کچھ کہتے عجلت سے کوئی دروازہ کھول کر اندر آیا
“ڈاکٹر جبار سیریسلی ۔۔۔۔ ؟”ڈاکٹر نیہا نے بغیر کسی کی جانب دیکھے اپنے شوہر نامدار کو گھورا
” ڈھائی بج گئے ہیں جبار اب آپ اکیلے ہی منائیے گا انیورسری اپنے پیشنٹس کے ساتھ آپ کی وجہ سے میں نے اپنی ساری اپونٹمنٹس بغیر بریک کہ گیارہ بجے تک ختم کی تھیں “
“نیہا یار وہ آئی ایم سوری تم میرے کیبن میں جاؤ میں آرہا ہوں”
ڈاکٹر جبار نے ایک نظر حدید اور اپنے فون میں مصروف عون پر نظر ڈال کر اپنی جزباتی بیگم کو کہا
“نہیں اب میں گھر ہی جا ۔۔۔۔!” وہ بولتے بولتے چونکی
“مسٹر شاہ ۔۔۔۔۔ آپ حدید شاہ ہی ہیں نہ ؟ “
نیہا حدید کو دیکھ کر ایک دم سے پرجوش ہوکر بولی
حدید نے نا سمجھی سے نیہا ہی جانب دیکھا اس نے پہچاننے کی کوشش کی مگر وہ پہچان نہ سکا
“آپ نے مجھے پہچانا نہیں ہوگا مگر میں حیات کی گائینی ہوں نیہا جبار”
حیات کے زکر پر جہاں عون چونکا وہی حدید کا رواں رواں سماعت بن گیا
“یہ آپ کا دوسرا بیٹا ہے؟” نیہا نے عون کی طرف دیکھ کر خود ہی پرجوش ہوکر کہا
عون کے نقوش کی حدید سے ہوتی مماثلت پر کوئی بھی شخص اسے حدید کا بیٹا کہہ سکتا تھا جو بھی ان دونوں کے رشتے سے نا واقف ہو
“جبار میں نے آپ کو بتایا تھا نہ اپنی ایک پیشنٹ کے بارے میں جن کا کیس مجھے ہمیشہ یاد رہا وہ پیاری سے لڑکی “
اپنے شوہر کو متوجہ کرنے کے بعد وہ واپس حدید کی جانب مڑی
” آپ کا بڑا بیٹا کہاں پر ہے مسٹر شاہ وہ میرے کریئر کا حسین ترین بچہ تھا جس کا میں نے ایز ا ڈاکٹر ویلکم کیا تھا آپ یقین کریں وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے میں نے بہت سے لوگوں کو بچوں کی پیدائش پر خوش ہوتے جشن مناتے دیکھا ہے مگر آپ لوگوں نے جس طرح پورے ہاسپٹل کو اپنے بے بی کے ویلکم لیے سجا دیا تھا ۔۔۔”
“تم بھی بہت پیارے ہو بچے وہ پھر عون کو دیکھ کر بولیں کافی سال پہلے آئی تھی حیات میرے پاس جب وہ سیکنڈ ٹائم ایکسپیکٹ کر رہی تھی بہت گھبرائی ہوئی تھی کہ پہلے بے بی کے پانچ مہینے بعد پھر سے گڈ نیوز مگر دیکھیں وقت کتنی جلدی گزر گیا اب آپ کا دوسرا بیٹا بھی ماشاءاللہ کتنا بڑا ہوگیا میں شادی کے بعد کینیڈا چلی گئی تھی نہیں تو مجھے پورا یقین ہے حیات میرے پاس ہی
آتی “
جبار نے حدید اور عون کو خاموش اور عجیب انداز میں نیہا کو گھورتے دیکھ کر اپنی بیوی کو خاموش کروایا
میں نے میڈیسن لکھ دی ہے اور یہ ڈرپ بھی آپ منگوا لیجیے گا
“چلیں ڈاکٹر نیہا۔۔۔” وہ اپنی بیوی کو ہاتھ سے پکڑ کر لے گئے
“یار تم کہی بھی شروع ہوجاتی ہو” نیہا ماحول تو دیکھ لے بندہ
دروازہ بند ہونے تک ڈاکٹر جبار کے الفاظ دونوں ماموں بھانجے نے سنے تھے اور پھر اسکے بعد سے کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی
دونوں ماموں بھانجا ایک دوسرے سے نظریں چرا گئے ۔۔۔
________
“ریلیکس حدیقہ اب ٹھیک ہے حدید “
“صحیح”
“ہاں تم بابا اور آنٹی کا دھیان رکھنا میں عون کو سچویشن بتا کر آتا ہوں “
“ہاں میری جان اب رونا نہیں یار پلیز “
________
رات کے پہر تقریباً تین بجے کا وقت تھا جب حیا نے کروٹ بدلی تھی ایک نظر اپنی مما پر ڈالی جو پرسکون سی سوئی ہوئی تھی
وہ سیدھی ہوگئی نظریں سیلینگ پر گئیں اے سی چلنے کی وجہ سے پنکھا بند تھا ساکن پانکھے کے درمیان میں میٹل کا وہ گولا جس میں وہ بیڈ اور اپنا ہلکا سا عکس دیکھ پا رہی تھی
وہ اس میں کھوتی چلی جا رہی تھی
“ناجائز ہے وہ “
“کیا حقیقت ہے اس کی “
“تم بزدل تھی حیات جو بغیر بتائے وہاں سے بھاگ گئی “
“ایک بار سنی تو ہوتی “
وہ ایک دم سے چونک کر اٹھی تھی چہرے پر پیسنے کے قطرے نمودار ہوئے اے سی کی خنکی کے باوجود ان کا دم گھٹ رہا تھا
تبھی انھوں نے فون تھاما کافی ناٹیفیکیشن شو ہو رہے تھے
خرم داد نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی ہے پرسو اسے اور جازب کو سپریم کورٹ جانا پڑے گا
حیا کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے حالانکہ جازب نے اسے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا خرم داد کے کارندے بیٹھنے والے نہیں ہے
تبھی اس نے بغیر وقت پر نظر ڈالے جازب کو میسج کردیا
“پرسو سپریم کورٹ جانا ہوگا ہمیں “
وہ میسج تو کر چکی تھی پھر خود ہی مضطرب ہوئی اس وقت میسج کرنے کی کیا ضرورت تھی صبح بھی تو بات ہوسکتی تھی
حیا نے اس پل سوچا میسج ڈلیٹ فار ایوری ون کردے
کتنا چائلڈش لگے لگا وہ سر پر ہاتھ مار گئی
ابھی وہ اسی شش و پنج میں مبتلا تھی جب ان کا فون رنِگ ہوا
جازب کمال موبائل سکرین پر نظر آتے نام پر وہ گہری سانس لے کر رہ گئی ابھی بامشکل دس منٹ ہوئے تھے کہ جازب کا ریپلائے آگیا
یہ شخص لگتا ہے چوبیس گھنٹے فون ہاتھ میں رکھ کر پھرتا ہے وہ آنکھیں گھما گئی
“جی میں نے بھی ابھی ہی دیکھا “
“آپ جاگ رہے ہیں ؟ “
“اس سے بھی زیادہ کوئی سٹوپیڈ سوال ہوتا تو پوچھ لیتی حیا خان “
حیا نے جھنجھلا کر خود کو ملامت کی
دوسری جانب جازب مسکرا دیئے
“اس لیے پوچھ رہی تھی میرے میسج نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کردیا دراصل پورا دن مصروفیت میں گزر گیا ابھی وقت ملا تو بغیر وقت دیکھے میسج کردیا “
حیا نے جلدی سے میسج لکھا
یاں صفائی دی
“جی میں جاگ ہی رہا تھا آپ نے ڈسٹرب نہیں کیا لیٹ ریپلائے کے لیے معزرت میں نماز پڑھ رہا تھا “
مسکراتے ہوئے میسج لکھا وہ واقع تہجد ادا کر رہا تھا اس نے نماز میں حیا کا زکر کیا تھا اور جس شدت سے کیا تھا حیا کا میسج آگیا
نماز ؟ او تہجد حیا نے خود کو میسج کرنے سے روکا
“آپ کل واپس آئیں گی ؟ “
اگر میسج سے لفظوں کے علاؤہ پوچھے جانے والے سوال کی شدت بھی اگلے تک پہنچتی تو حیا گھبرا کر فون رکھ دیتی
“کل یہاں کام ہیں مجھے ایک دو پرسو فجر کے وقت نکلیں گے بائے روڈ نہیں تو فلائٹ لیں گے ۔۔۔ “
دو حرفی جواب کو بھی اس نے تفصیل سے بتایا
“صحیح “
“جی”
جازب کو سمجھ نہیں آئی اب وہ کیا پوچھے وہ گھبرا رہا تھا کہیں وہ جذبات میں آکر کچھ الٹا سیدھا نہ لکھ دے
وہی دوسری جانب حیا نے تو خود کو سختی سے ڈپٹ لیا
آج وہ عجیب و غریب سوال کر رہی تھی جیسے جازب اکثر اس کے سامنے کرتا تھا
دونوں ہی آن لائن تھے دونوں نے ہی ایک دوسرے کی چیٹ کھول رکھی تھی مگر اب نہ تو اسلام آباد میں اپنے کمرے میں بیٹھے جازب کمال اعوان کے فون کا ناٹیفیکیشن بیل رنگ ہوا اور نہ لاہور میں اپنی ماں کے کمرے میں لیٹی حیا خان کے فون کا ۔۔۔۔
________
اگلی صبح لاؤنج میں رونق سی لگی ہوئی تھی حاجرہ بیگم کی طبیعت بھی قدرے بہتر تھی سب بچے اور عورتیں لاونج میں موجود تھے علی اور عدنان بھائی دونوں کام پر گئے تھے حمزہ ابھی گھر پر ہی تھا
“ماشاءاللہ بہت سلجھے ہوئے ہیں تمہارے بچے حیات “
وشمہ بھابھی نے چائے سرو کرتی پریہان سے چائے کا کپ لے کر
‘جی ، پریہان بھی بہت پیاری بچی ہے “
حیا نے پریہان سے چائے کا کپ لے کر اسے اپنے پاس بٹھا لیا
پریہان بھی مسکرا کر بیٹھ گئی
“اس میں کوئی شک نہیں میری پری تو لاکھوں میں ایک ہے بلکہ تمہارا ہی عکس ہے شکل و صورت کے علاؤہ بھی
اللہ پاک نصیب اچھے کرے بچیوں کے “
سب باتوں میں مصروف تھے جب حیا کے ساتھ وشمہ نے بھی بالاج اور انابیہ کی آنکھوں کے اشاروں کو نوٹ کیا
حیا نے انابیہ اور بالاج کی آنکھوں ہی آنکھوں میں ہوتی گفتگو پر مسکراہٹ دبانے کے لیے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا
جبکہ وشمہ نے پہلو بدلہ
“نصیب تو بے شک اللہ کے ہاتھ میں ہیں مگر وسیلہ تو انسان نے ہی بننا ہے تمہیں یاد ہے تمہیں کتنا لگاؤ تھا پریہان کے ساتھ بلکہ تم نے تو بچپن میں ہی اسے اپنی بہو بنانے کا بھی کہہ دیا تھا “
وشمہ بھابھی نے ہنس کر ہلکے پھلکے انداز میں کہا
کوثر بھابھی اپنی دیورانی کے بدلتے پینترے ہی دیکھ کر رہ گئی جبکہ حیات نے لب بھینج لیے
انابیہ کا رنگ متغیر ہوا اس سے پہلے وہ کچھ کہتی صفا نے اس کا ہاتھ دبا کر اسے خاموش کروا دیا
جبکہ پریہان کی نظریں تو اپنی ماں سے تھوڑے فاصلے پر سن سے کھڑے حمزہ پر تھیں
تو بتاؤ حیات ابھی بھی اپنی بھانجی سے اتنی ہی محبت ہے تمہیں یاں ہمارے حالات
“کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ بھابھی مجھے پریہان اتنی ہی عزیز ہے جتنی صفا اور میری انابیہ “
وشمہ کا چہرہ چمک اٹھا
“مجھے تو پہلے ہی پتا تھا جتنے تم عدنان کو عزیز ہو تمہارے لیے عدنان کی اولاد بھی پہلے ہی آئے گی “
وشمہ بھابھی نے جیسے کچھ جتایا تھا انابیہ کو
حمزہ وہاں سے نکل گیا
پریہان بھی اٹھی تھی
شرما گئی لگتا ہے وشمہ بھابھی نے ہنس کر کہا
انابیہ کی یہاں پر بس ہوئی وہ اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھ گئی
صفا نے مضطرب ہوکر اس کے پیچھے جانا چاہا مگر پھر موبائل پر آتی کال پر اٹھ کر گراج کی طرف بڑھی
جبکہ بالاج انابیہ کے نکلتے ہی ماں پر ایک خاموش نظر ڈال کر اٹھ گیا تھا
________
“حمزہ ” پریہان نے جلدی سے حمزہ کو آواز دی
چاہے پیے بغیر جا رہے ہو تمہاری الگ سے الائچی والی بنائی ہے وہ تیزی سے آئی تھی تبھی سانس پھولی تھی
“نہیں تم پیو مہمانوں کو سرو کرو ” گراج میں کھڑی صفا کو دیکھ کر بولا
“پری بات سنو “
ماں کی آواز پر پریہان بےبسی سے حمزہ کو دیکھ کر رہ گئی ۔۔۔
________
“ہمارا آنا آپ کو پسند نہیں آیا ؟ “
صفا نے ڈس کنیکٹ فون پر نظر ڈال کر گیٹ کی طرف بڑھتے حمزہ کو دیکھ کر پوچھا
“ایسی بات نہیں ہے” حمزہ نے فوراً اپنے تاثرات درست کیے تھے اسے اپنی پھوپھو بہت عزیز تھی
تو پھر یہ چہرے پر پھیلی ناگواری؟
“نہیں بچے ایسا کچھ نہیں ہے بس دفتر کے لیے لیٹ ہوگیا ہوں ابو اور چاچو کی کال آتی ہو گی “
وہ لہجے کو ہشاش بشاش بنائے بولا
“اچھا مگر حمزہ بھائی آپ کی آنکھیں تو کچھ اور کہہ رہی ہیں”
صفا اس کے بچے کہنے پر تھوڑا ریلکس ہوتی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی
“اچھا کیا کہتی ہیں آنکھیں ؟”
حمزہ نے دلچسپی لیتے پوچھا
“یہ ہی کہہ کیا اتنا آسان ہے بھاگ لینا ؟”
چہرے کی مسکراہٹ نچڑ گئی
“مطلب “
“عشق اور مشق چھپائے نہیں چھپتے برو ،مگر بزدل ہے وہ شخص جو بھاگنے کی کرتا ہے “
وہ مسکائی
صفا اس سے آٹھ سال تو چھوٹی ہوگی وہ چھوٹی سی لڑکی اسے بزدل کہہ رہی تھی
اسے برا لگنا چاہیے تھا مگر اسے برا نہیں لگا شاید وہ خود کو بھی اس معاملے میں بزدل ہی جانتا تھا
تبھی اس کا فون بجا
بابا کی کال تھی
“بہت بڑی باتیں کرتی ہو پیاری لڑکی “
صفا نے کندھے اچکا دیئے
“مگر ایک چیز تمہارے آنکھیں بھی کہتی ہیں بتاؤں ؟ “
“تم بھی اسی پوزیشن میں ہو جہاں میں ہوں “
وہ اسے بھی بزدل کہہ گیا تھا
ہاں وہ بزدل ہی تو تھی
حمزہ نے جاتے جاتے اس کے سر پر شفقت بھری چت لگائی تھی
اور ایک بہت بڑا راز جو اسے لگتا تھا وہ خود پر بھی کبھی واضح نہیں ہونے دی گئی وہ محض ایک دن کی ملاقات میں وہ جان گیا تھا ۔۔۔۔
________
حیا نے وشمہ بھابھی کی طرف دیکھا یہ عورت حد سے زیادہ بڑھ رہی تھی
حیا نے مٹھی بھینجی
“پریہان پھوپھو کے لیے کیک بیک کرو نہ بچے حیا کو بہت پسند ہے کیک جاؤ میری جان”
ماں کے کہنے پر پریہان فورا وہاں سے چلی گئی
اب وہاں صرف کوثر بھابھی وشمہ اور حیات موجود تھے
کوثر بھابھی نے بھی تاسف سے اپنی دیورانی کو دیکھا تھا
