Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 77)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 77)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
شاہ ہاؤس میں غم کا ماحول تھا فیصل جاوید باہر خاموشی سے کھڑے تھے ان کے بالکل پاس بالاج کچھ فاصلے پر عون اور ابراہیم کسی تعزیت کرتے رشتے کے پاس کھڑے تھے
جبکہ حدید شاہ وہ کہاں تھا وہ تو ایک نظر اپنی ماں کو دیکھ کر کہیں غائب ہوگیا تھا
کتنی عجیب بات تھی ایک کی وہ بیوی تھی ، ایک کی ماں اور ایک کی دادی اور وہ تینوں بس ایک نظر اس عورت کو دیکھ کر باہر چلے آئے تھے ۔۔۔
اندر صفا حدیقہ کو خود سے لگائے بیٹھی ہوئی تھی جو اس قدر شوک میں تھی کہ رو بھی نہیں پارہی تھی
تبھی وہاں حدید شاہ آیا میت کو لے جانے کا وقت ہوگیا ہے
جانے کہاں سے آواز آئی تھی حدیقہ کی چیخ بلند ہوئی ابھی ابھی تو ماں ملی تھی مجھے ابھی ۔۔۔ وہ دوڑتے ہوئے حدید کے پاس آئی
بھائی ابھی نہیں سب ٹھیک ہورہا تھا سب ۔۔۔ ابھی نہیں بھائی
حدید نے اسے خود سے لگایا
شش۔۔۔ اُن کا اتنا ہی وقت تھا اس دنیا میں
حدید نے اس کے بالوں کو سہلا کر کہا
بہت سخت دل ہے آپ کا بھائی حدیقہ نے اسے جھٹکتے ہوئے کہا آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے
آنٹی ۔۔۔آنٹی پلیز صفا نے روتی ہوئی حدیقہ کو خود میں بھینجا
قبرستان میں آبدہ شاہ کے وجود کو سپردِ خاک کرتے ہوئے فیصل جاوید نے فقط ایک ہی لفظ دہرایا ۔۔۔
میں نے تمہیں معاف کیا آبدہ اللہ تمہارا سفر آسان کرے ۔۔۔
عون فیصل جاوید کے گلے لگا پھر حدید کے ماموں حدید کی پیٹھ سہلاتے نرمی سے حدید کو پکارا
بالاج بھی سب کے گلے لگا حدید کے پاس آتے وہ رک گیا پھر حدید کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مڑنے لگا
جب حدید نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“اپنی ماں سے کہنا میری ماں کو معاف کردے “
وہ کر چکی ہیں انہوں نے کہا تھا وہ سب کو معاف کر چکی ہیں ماضی سے کسی کو یاد نہیں رکھنا چاہتیں۔۔۔
رات کہیں بارہ بجے کے قریب بالاج اور صفا واپس گھر لوٹے تھے
حیا انابیہ کے کمرے میں تھی بالاج نے جب دروازہ کھولا تو وہ دونوں ہی سو رہی تھیں
مگر حیا کچی نیند کے باعث جاگ گئی
ماں لیٹی رہیں بالاج نے دھیرے سے کہا
نہیں تم آو ۔۔۔ میری بس ابھی آنکھ لگی تھی حیا نے اٹھتے ہوئے اپنے کپڑوں کو درست کیا
شب خیر صبح ملاقات ہوتی ہے جاتے ہوئے بالاج کے شانے کو تھپتھپا کر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔
بالاج ابھی لیٹا ہی تھا جب انابیہ بے چین ہوکر اٹھی
کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے نہ ؟ وہ فوراً سیدھا ہوا
جی طبیعت ٹھیک ہے آپ کب آئے ؟ وہاں سب ٹھیک تھے ؟ انابیہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی
بس ابھی ہی آیا ہوں ۔۔۔ ہاں
کیا ہوا اتنے چپ چپ کیوں ہیں لاج سر درد کر رہا ہے تو چائے بنا دوں ؟ وہ اٹھنے ہی لگی تھی جب بالاج نے اسے روک لیا
میں نے انہیں گلے نہیں لگایا آنا وہ شاید انتظار میں تھے بالاج نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا ؟
کسے ۔۔۔؟ او حدید شاہ۔۔! انابیہ نے پہلے نا سمجھی سے پوچھا پھر سمجھ نے پر سر ہلا گئی ۔
کیا مجھے انہیں گلے لگانا چاہے تھا ان سے تعزیت کرنی چاہیے تھی ؟
وہ اگر دونوں کہتے تھے کہ ایک دوسرے سے ہر بات شئیر کرسکتے ہیں تو وہ کرتے بھی تھے چاہے وہ غلٹ ہو کوئی بے ساختہ سی سوچ ہو یاب کوئی بے تکی بات ہو
بالاج کتنی عجیب بات ہے شادی جیسے رشتے میں میاں بیوی کے درمیان تیسرا وجود بچے کا ہوتا ہے جو ان دونوں سے بنتا ہے اور اس وجود سے رشتہ اتنا گہرا ہوتا ہے کہ اس کے بنانے والے ستون بے شک الگ ہو جائیں مگر بچے سے رشتہ چاہ کر بھی نہیں ختم کرسکتے
وہ اب آپ کی ماں کے شوہر نہیں ہیں بس آپ کے اور صفا کے بابا ہیں اب آپ نے انہیں ماں کے مجرم محرم کی نظر سے نہیں اپنے باپ کی نظر سے دیکھنا ہے جنہیں آپ اولاد کی حیثیت سے معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں یاں نہیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہے ؟
انابیہ نے اس کی سوچ کا پہلو بدلا تھا ۔۔۔
———-
اگلی صبح انابیہ کا روٹین چیک اپ کروانا تھا تو صفا کو بھی کوٹ چھوڑنے بالاج جارہا تھا
آپی ایک بات کہوں ؟ بالاج گاڑی میڈیکل سٹور کے باہر روک کر کچھ لینے گیا تھا جب انابیہ نے گردن پیچھے موڑ کر صفا کو مخاطب کیا
ہاں بولو چندہ صفا نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل ہر نظر دہرا کر کہا
آپ کو جازب انکل کیسے لگتے ہیں
مطلب ؟؟
فائل بند کرکے اس نے ناسمجھی سے پوچھا
جازب انکل مما کے ساتھ کتنے اچھے لگتے ہیں دونوں کتنے سوٹ کرتے ہیں
بیا ۔۔۔ صفا نے ٹوکا
کیا سوچتی رہتی ہو تم ایسا کچھ نہیں ہے
یار آپی میں سوچ نہیں رہی بلکہ جازب انکل کے بابا نے بالاج سے بات کی ہے اس بارے میں
تبھی بالاج وہاں آیا تو انابیہ خاموش ہوگئی جبکہ صفا پورے راستے سوچتی رہی یہاں تک کہ اپنے آفس پہنچ کر بھی وہ چور نظر جازب کے چہرے پر ڈال کر جیسے ان کے اندر کا راز جاننا چاہ رہی تھی
مس صفا کچھ ہوا ہے ؟ یاں آپ کو کچھ چاہیے ؟
جازب نے اس کی مسلسل غائب دماغی نوٹ کرکے زرا سخت لہجے میں کہا تو وہ ہڑبڑا گئی۔۔
ن۔نہیں نہیں سوری سر وہ دوبارہ فائل کی طرف متوجہ ہوئی
لنچ ٹائم میں بھی وہ جازب کے ساتھ حیا کو ایمیجن کرنے لگی
اللہ اللہ بیا کی بچی کیا ڈال دیا ہے تم نے میرے دماغ میں اف صفا نے سر پکڑا تبھی اسے عون کا میسج موصول ہوا
صفا یہ آپ کی بک آپ پرسو یہاں ٹیبل پر بھول گئی تھیں چار بجے کے قریب صفا جب سامان سمیٹ رہی تھی تو جازب نے اپنے میز کے دراز میں سے بھورے رنگ کی ڈائری نکال کر صفا کی جانب بڑھائی
اپنی ڈائری جازب کے ہاتھ میں دیکھ کر ایک پل کو وہ سن سی ہوئی وہ صرف ڈائری نہیں تھی اس کے احساسات اس کے حاصل اور لاحاصِل کی فہرست تھی اس میں
ش۔۔شکریہ سر وہ ڈائری پکڑ کر وہاں سے نکلی پیچھے جازب نے گہری سانس لے کر نفی میں سر ہلایا
———
دن یوں ہی اپنے معمول پر آگئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک مہینہ گزر گیا اگست کا مہینہ حبض ،گرمی اور بے وقت کی بارشیں شروع تھیں گزشتہ ایک مہینے میں حدیقہ نے دو دفعہ حیا کے پاس چکر لگایا تھا حیا کے ساتھ اس کی اچھی بات چیت تھی بلکہ حیا کے پرخلوص رویے پر حدیقہ کو اس پر رشک آتا تھا۔۔۔
باقی بالاج کو ایک دم شجاع کے ساٹھ پارٹنر شپ ختم کرنے پر نقصان سے دوچار ہونا پڑا تھا مگر اسے یقین تھا وہ اپنی محنت سے دوبارہ سب اول پوزیشن میں لے آئے گا صفا کی پریکٹس کو ڈیڑھ مہینہ ہوگیا تھا باقی حیا کا زیادہ وقت انابیہ کے پاس گزرتا تھا
وہی دوسری جانب نشاء کا دماغی توازن خراب ہوگیا تھا وہ سب کو بددعائیں دیتی نرسوں کے ساتھ ہاتھ چالاکی کرتی تو کبھی سارا سارا دن حیات حیات چلاتی رہتی
نشاء کی ابتر حالت کے ساتھ زیاد لغاری کو ایک اور جھٹکا ایک بہت بڑے ڈیلر کی طرف سے سکام ہونے کی صورت میں ملا تھا اس سے بڑا جھٹکا تب لگا جب اسے معلوم کروانے پر پتا لگا یہ سکام حدید شاہ کے ہاتھوں کروایا گیا ہے اب اس کا ایک ہی مشن تھا وہ لاہور والے گھر کو واپس ہتھیا کر حدید کو مینٹلی ٹارچر کرنا آخر کو بہت سی یادیں جڑیں تھیں حدید شاہ کی اس گھر سے
اس کے لیے وہ خوار ہورہا تھا کبھی کسی وکیل کے پاس تو کبھی کسی مگر ہر کوئی مقابل میں جازب کمال کو دیکھ کر قدم پیچھے لے لیتا زیاد لغاری پاگل ہوچکا تھا ۔۔۔
——–
اتنے رولے بکھیروں کے بعد آج آخر کار عون کی زندگی میں بھی وہ دن آہی گیا جب وہ اپنی صفا کو بیاہ کر اپنے گھر لے آیا مشکل تھا یہ سفر مگر نا ممکن نہیں اس نے اپنی کریم رنگ کی شیروانی کے بٹن کھولے اپنا کلا اتار کر ہاتھ میں پکڑا اور مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا
اس کے کمرے میں اس کے بیڈ پر وہ پورے استحقاق سے بیٹھی ہوئی تھی سرخ رنگ کے لہنگے میں اسے دیکھتی عون کا دل دھڑکا گئی ۔۔۔
تم کہہ رہے تھے نہ عون کہ صفا مجھے کوئی بھی سزا دے دیں مجھے قبول ہے مگر معاف کردیں
صفا نے بات کی شروعات کی
عون کا دل پھر سے دھڑکا مگر اس بار کچھ غلط ہونے کی نیت سے وہ اس کے قریب چلا آیا مگر صفا نے ہاتھ کھڑا کرکے اسے روکا
ادھ رہی ٹھہر جاؤ عون میں نے بہت سوچا تمہیں کیا سزا دوں پھر مجھے ایک بہترین سزا ملی
تمہاری سب سے بڑی سزا ہے مجھ سے جدائی جو میری موت کی ہی صورت میں ممکن ہے اتنا کہہ کر صفا بری طرح کھانسی اس کے لبوں سے نکلتا خون اور ہاتھوں سے پھسلتی شیشی دیکھ کر عون وہی بیڈ کے قریب بیٹھتا چلا گیا ۔۔۔۔
صفا۔۔۔ اس کی درد ناک چیخ بلند ہوئی
وہ جھٹکے سے اٹھا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا ہاتھ کانپ رہے تھے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا اس نے تیزی سے اپنے بیڈ کے قریب پڑی سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مارا بائیک کی چابی ہاتھ میں لگتے ہی وہ عجلت سے کمرے سے بھاگا اسے ہوش نہیں تھی کہ اس نے دو الگ الگ چپلوں کا پیر پہن رکھا ہے اسے اس وقت صرف صفا کو دیکھنا تھا اپنے سامنے بالکل صحیح سلامت
بارش بہت تیز تھی
سر گاڑی نکال دو بارش ہورہی ہے گارڈ نے اس کے پاس آکر پوچھا مگر وہ ہی کک مار کر بائک میں ریس دیتا خان پاؤں کی جانب نکل گیا ۔۔۔
اف یہ بارش میرا دل کر رہا ہے پکوڑے کھانے کا انابیہ نے بارش کی رم جھم محسوس کیے مزہ لے کر کہا
چندہ مما سے پوچھ لو پھر بنا کر دوں گی صفا نے چائے کو کپ میں ڈال کر مسکراہٹ دبا کر کہا پتا تھا اجازت نہیں ملنی
کتنی ظالم ہوگئی ہیں آپ صفا آپی آپ جب مما بننے والی ہوں گی تب پوچوں گی
انابیہ نے ہمیشہ کی طرح بے دھڑک کہا صفا اسے گھورنے کی کوشش ہی کر رہی تھی جب آندھی طوفان بنا عون اندر آیا
صفا۔۔ اس نے اگلے ہی پل صفا کو زور سے گلے لگا لیا
صفا ہونق بنی منہ پر ہاتھ رکھ کر کھڑی انابیہ کو دیکھ رہی تھی جو بعد میں اسے آنکھ مار کر وہاں سے رفو چکر ہوگئی تھی
عون ۔۔۔۔ صفا کی تپی تپی سی آواز پر وہ زرا دور ہوا اور صفا کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا
صفا آپ مجھے سے ناراض تو نہیں ہیں نہ آپ مجھے کوئی بھی سزا دے دیں مجھے قبول ہے مگر جدائی نہیں آپ کی منگنی کے بعد کے وہ ڈھائی دن مجھ پر قیامت کی طرح گزرے ہیں
میں بیان نہیں کر سکتا میں مر رہا تھا اس لمحے مجھے میرے لفظوں کی بیت بھاری سزا مل چکی ہے مجھے اور کوئی بھاری سزا مت دیجیے گا میں ختم ہو جاؤں گا ۔۔۔
آئی کانٹ۔۔۔ وہ پھر سے اس کے گلے لگا صفا کو محسوس ہوا عون پوری طرح بھیگا ہوا ہے پھر اسے اپنا کندھا بھیگتا ہوا محسوس ہوا
عون صفا نے نرمی سے اسے پیچھے کرنا چاہا مگر وہ نہیں ہوا
عون ہم کچن میں ہیں یہاں کوئی بھی آسکتا ہے چھوڑو
صفا نے زرا سختی سے اسے خود سے دور کیا
تبھی اس کی نظر عون کے آنسوں سے تر چہرے سے ہوکر پیرؤں میں موجود دو الگ جوتیوں پر پڑی
وہ کچھ دھیمی سی پڑی
یہاں بیٹھو ۔۔۔۔ کرسی کھینچ کر عون کو اس پر بٹھایا
کیا ہوا ہے ؟
کچھ نہیں بس آپ کی یاد آرہی تھی وہ معاً بات چھپا کر خود کو کمپوز کرنے لگا
عون تم نے مجھ سے کھا لینی ہے عزت سے بتاؤ ایسا بھی کیا ہوگیا تم اتنی تیز بارش میں یہاں آگئے ؟
برا خواب دیکھا تھا اچھو۔۔۔۔ عون نے جس معصومیت سے کہا تھا صفا کو اپنا غصہ قائم رکھنا مشکل لگا
حد ہے اٹھو اور اوپر چلو میں تمہیں بھیا کے کپڑے دیتی ہوں تب تک یہ ڈرائے ہو جائیں گے
صفا نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا وہ مسکرا کر اپنے ہاتھ کو صفا کے ہاتھ میں دیکھ رہا تھا
زندگی آئی مس یو وِد مائی ایوری بریتھ
زندگی میں آپ کو اپنی ہر سانس کے ساتھ یاد کرتا ہوں
وہ اسے اوپر لے جارہی تھی مگر عون کی زبان رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی
تبھی وہ لال پیلی ہوتی اسے اپنے کمرے میں دھکا دے گئی جاؤ عون میں بیا سے کپڑے لے کر آئی
صفا نے سر پر ہاتھ پھیرا ابھی تو انابیہ نے اس کا ریکارڈ لگانا تھا
بھیا کی کوئی پینٹ شرٹ ہے تو دینا چندہ
صفا نے نظریں پورے کمرے میں دھرا لیں مگر انابیہ کی شریر آنکھوں کی جانب بھول کر بھی نہیں دیکھا
ہاں ہاں ہے نہ انابیہ نے الماری سے پینٹ شرٹ نکال کر صفا کی جانب بڑھائی
آپی آپ کے گال پر کچھ لگا ہوا ہے !
انابیہ ایک دم سنجیدگی سے بولی
کیا ؟ صفا نے گال پر ہاتھ پھیرا
پتا نہیں لال ،لال سا شاید بلش ہے انابیہ کہتی چھپاک سے دروازہ بند کر گئی
صفا کو غصے سے بڑبڑاتے ہوئے اپنے کمرے میں آئی بیڈ پر عون کے لیے کپڑے رکھے کیونکہ واشروم سے پانی کے گرنے کی آواز آرہی تھی تبھی اسے یاد آیا اس کی تو چائے نیچے پڑی ہے اب تک تو ٹھنڈی بھی ہوگئی ہوگی۔۔
وہ اب کے دو کپ چائے بنانے نیچے کی طرف چل دی۔۔۔
———-
حیا کی عدت کو ساڑھے تین مہینے گزر گئے تھے انابیہ کا بھی آٹھواں مہینہ شروع ہونے والا تھا صفا کی پریکٹس کا آخری مہینہ چل رہا تھا وہ بہت مصروف ہوگئی تھی کیونکہ جازب کی طرف سے اسے پریکٹس کے بعد اپنے ساتھ کام کرنی کی آفر مل چکی تھی ۔۔۔ بالاج بھی دو ،تین دن سے کراچی میں کام کے سلسلے سے گیا ہوا تھا ۔۔۔
حیا نماز ادا کر رہی تھی جب انابیہ نے اسے آواز دے کر اپنا لان میں واک کرنے کا بتا کر نیچے آگئی
اس کا وجود پہلے سے بہت بھاری ہوگیا تھا یہاں تک کہ انابیہ اور بالاج کو ٹیونز کا شک ہونے لگا تھا مگر ڈاکٹر نے ان دونوں کی نفی کی جس پر ایک پل کو انابیہ تھوڑی سی بھج گئی تھی مگر پھر خود ہی ٹھیک ہوگئی۔۔۔
آج موسم بہت سوگوار سا تھا ہوا میں خنکی سی تھی سردیوں کی آمد آمد تھی آتی سردیوں میں وہ یوں ہی اداس ہو جایا کرتی تھی کچھ اسے بالاج کی بھی شدت سے یاد آرہی تھی بلکہ وہ دو دن سے اوپر ہونے پر بالاج سے ناراض بھی ہوگئی تھی تبھی اس کا فون بھی نہیں اٹھا رہی تھی
لینڈ لائن پر کال کرتی ہوں ۔۔۔۔ لینڈ لائن کا خیال آتے وہ تیزی سے گھر کے اندر جانے کو لپکی ۔۔۔۔
———-
قاسم
لاہور والے گھر کے پیپرز کا کہا تھا وہ بن گئے ؟
جی سر بن گئے ہیں قاسم نے مؤدب سی نظر اپنے بوس پر ڈالی جو گزشتہ چند مہینوں سے بیت بدل گئے تھے نا صرف جسمانی طور پر بلکہ عملی طور پر بھی بات بے بات غصہ کرنے کی عادت بھی بہت کم ہوگئی تھی
خان ہاؤس کے لینڈ لائن پر کال کرو مجھے ایڈوکیٹ حیا خان سے بات کرنی ہیں
——–
تیزی سے اندر آتے انابیہ کا پاؤں بری طرح کارپیٹ کی سلوٹ میں لپیٹا گیا وہ منہ کے بل گری تھی اس نے دہل کر اپنا ایک ہاتھ پیٹ پر رکھا جبکہ دوسرا ہاتھ لینڈ لائن فون کے ٹیبل پر لگنے کی وجہ سے فون زمیں بوس ہوا انابیہ کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا درد برداشت سے باہر تھی تبھی بجتا فون اس کی آخری امید تھی
بالاج فون کے اس طرف انابیہ کی خوف ناک آواز پر حدید شاہ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے
گاڑی نکالو قاسم جلدی
حدید کی چیخ پر قاسم باہر کی جانب بھاگ گیا ۔
حدید نے آخری دفعہ ریش ڈرائیو پچیس سال پہلے اپنے ایکسیڈنٹ والے دن کی تھی اس کے بعد سے اس کی گاڑی زیادہ تر قاسم ہی ڈرائیو کرتا تھا مگر آج وہ اڑ کر انابیہ تک پہنچ جانا چاہتا تھا
انابیہ کی چیخ پر سلام پھیرتی حیا دہل کر اٹھی اور نیچے کی جانب بھاگی
انابیہ ۔۔۔۔ بیا میرا بچہ حیا نے ڈرائیور کو آواز دی مگر وہ بھی نماز پڑھنے مسجد گیا تھا
اس نے تیزی سے فون نکال کر جازب کو کال ملائی مگر جواب ندارد
تبھی گارڈ سے لڑ کر حدید بھاگتا ہوا اندر آیا
انابیہ وہ تیزی سے بے ہوشی میں جاتی انابیہ کے پاس آیا
حیات جلدی کرو حیات نے تیزی سے انابیہ کو اس کے ساتھ اٹھوایا اور جیسے تیسے کرکے اسے گاڑی میں بٹھایا
لاج ۔۔۔۔ لاج
بس میرا بچہ بالاج بھی آرہا ہے تم نے ہمت نہیں ہارنی ہم ہاسپٹل پہنچ گئے حیا اس ہر پڑھ کر پھونکتی ہوئی بڑے ضبط سے بولی
ڈاکٹر ۔۔۔۔
انابیہ کو فوراً ایمرجنسی روم کی جناب لے جایا گیا
حدید نے فون نکال کر بالاج کو اطلاع دی
وہ گھبرایا سا اٹھا اپنی میٹینگ وہی چھوڑ کر تیزی سے اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا
اللہ۔۔۔ دل اللہ سے اپنی بیوی اور اولاد کی خیریت مانگ رہا تھا ۔۔۔
خوف کی وجہ سے ان کا ہارٹ ریٹ ڈروپ کر رہا ہے اور بلڈ پریشر بھی لو کی طرف جارہا ہے ایسے میں ان کا اوپریشن کرنا بہت رزکی ہے پہلے اس کا بی پی اور ہارٹ ریٹ کا صحیح ہونا ضروری ہے
ڈاکٹر انابیہ کی کنڈیشن بتاتی وہاں سے گئی
حیا وہی سر پکڑ کر بیٹھ گئی
میں نے اس کا دھیان نہیں رکھا میں اپنی بچی کا دھیان نہیں رکھ سکی میں کیا منہ دکھاؤں گی بالاج کو؟
حیا شدید دباؤ میں آکر بڑبڑائی
تبھی حدید تیزی سے اندر بڑھا
انابیہ انابیہ بیٹا حوصلہ کرو ڈاکٹرز نے کہا جب تک آپ حوصلہ نہیں کریں گی وہ کچھ نہیں کر پائیں گے
اپنا سوچو بیٹا بالاج کا سوچو اپنے خواب کا سوچو جو آپ دونوں نے مل کر اپنی اولاد کے لیے دیکھے ہیں
ہمت ہار جاؤ گی تو بالاج کو کیا منہ دکھاؤ گی وہ اپنا سب کچھ تمہیں سونپ کے گیا تھا
حدید نے اس کے پاس جھک کر کہا یک دم ہی انابیہ کی دھڑکنیں تیزی سے بھرنے لگیں
ڈاکٹرز آپ باہر جائیں ان کے شوہر کہاں ہیں انہیں کہیں دستخط کردیں تاکہ ہم آپریشن شروع کریں
حدید کو لگا وہ پھر سے ماضی میں آ کھڑا ہوا ہے جب حیات ہاسپٹل میں تھی ڈاکٹرز اس کے پاس سائن کروانے آئے تھے کہ وہ بچے اور ماں میں سے کسی ایک کو ہی بچا سکتے ہیں
میں ماں ہوں اس کی آپ آپریشن شروع کریں میرا بیٹا راستے میں ہے آپ وقت ضائع مت کریں
آپ لوگوں نے ہر حال میں میری بیٹی کو بچانا ہے
گھنٹہ ہونے کو آیا تھا اندر سے کوئی جواب نہیں آیا نرس باہر آتی مگر کچھ بھی بتائے بغیر واپس اندر چلی جاتی
اب تو حیا کا حوصلہ بھی ٹوٹنے لگا تھا وہ پرئیر روم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
حدید وہی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا ساتھ کچھ فاصلے پر قاسم کھڑا تھا تبھی ڈاکٹر باہر آئی
ڈاکٹر حدید اٹھ کر اس کے پاس آیا
اٹس اے ہیلدی بے بی بوائے پری میچور ہونے کی وجہ سے کچھ ٹیسٹ ہورہے ہیں پھر آپ کو دے دیا جائے گا آپ کا پوتا
اور انابیہ ؟ شی از السو بیٹر ناؤ
ڈاکٹر مسکرا کر کہتی وہاں سے چلی گئی جبکہ حدید کتنے ہی لمحے یوں ہی کھڑا رہ گیا ۔۔۔۔
