Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 14)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 14)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“طبیعت میری خراب ہوئی ہے بھانجے لیکن لگتا ہے اثر تمہارے دماغ پر ہوگیا ہے “
حدید شاہ نے سنجیدگی سے گاڑی ڈرائیو کرتے عون کی طرف دیکھ کر کہا جس کی کشادہ پیشانی پر اس وقت پر سوچ لکیریں نمودار ہوئی ہوئی تھی
“یہ میرے گھر کا راستہ نہیں ہے عون ” عون کو ہنوز خاموش دیکھ کر حدید شاہ نے بھی اس پر سنجیدگی سے کہا
“آپ میرے ساتھ جا رہے ہیں مامو ” اٹل لہجے میں کہتے اس نے سٹریرنگ کو گھمایا تھا
“ارے یار نہیں ہوتا مجھے کچھ تم بس مجھے گھر چھوڑ کر آؤ نہین تو ادھر ہی اتار دو میں ڈرائیور کے ساتھ “
“مامو آپ کو میری قسم ہے اگر آپ نے مجھے اب انکار کیا تو “
حدید شاہ خاموش ہوگئے تھے ۔۔۔۔ در حقیقت وہ اِس وقت کوئی بحث کرنا بھی نہیں چاہتے تھے
ابھی تو وہ دماغ میں چھڑی جنگ سے ہی لڑ رہے تھے ۔۔۔
_______
تمام شکووں بدگمانیوں کے باوجود آج بھی انابیہ بالاج خان کے تمام غم، آنسووں اور زخموں کی مسیحائی کے لیے بالاج خان کی موجودگی درکار ہے وہ بےدریغ اس کے گلے لگ کر روتی چلی گئی
بالاج نے بھی بنا کوئی سوال کے اسے رونے دیا بس دھیرے سے اس کے بال سہلاتا رہا۔۔۔
“لاج ۔۔اندھیرا اتنا میں نے سب کو پکارا مما کو ۔۔۔ص۔صفا آپی ۔۔ آپ آپ کو ۔۔کوئی نہیں آیا میرے پاس ۔۔۔ کوئی نہیں سب چلے گئے ۔۔۔سب مما ۔۔۔بھی با۔۔۔سب ۔۔۔میرا سانس بند ہورہا تھا“
ہچکیوں میں روتی بالاج کو شدید ملال میں ڈال گئی ۔۔۔
“آئی ایم سوری ۔۔۔ سو سوری میری جان اپنے بالاج کو معاف کردو” بالاج نے بے آواز سر گوشی کی
مگر انابیہ ایک دفعہ پھر شدید تناؤ میں آکر اس کے ساتھ لگی لگی ہی پھر سے غنودگی میں جانے لگی
انابیہ کے وجود کا سارا وزن اپنی طرف محسوس کرکے بالاج نے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور اس پر کمفرٹر اوڑھایا ۔۔۔ اُس کی طرف جھک کر بے حد نرمی سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا تھا
اس کی تھوڑی سی لاعلمی نے نہ صرف انابیہ کو زہنی اور جسمانی نقصان پہنچایا اس کا خود کا وجود بھی اذیت کی گہری لہروں میں ڈوب گیا ۔۔۔۔
_______
بالاج اس وقت اپنے لان میں موجود تھا ساتھ ہی اس کا بہت وفادار گارڈ بھی ہاتھ باندھے کھڑا تھا اور ان کے بالکل سامنے سر جھکائے گھر کے ملازم اور گارڈز۔۔۔۔
“کس کام کے لیے تم لوگ اس گھر میں موجود ہو ؟”
بالاج کی سرد آواز اور ہاتھ میں تھامی گن پر گارڈز کے رنگ متغیر ہوئے
“ص۔۔صاحب رکھوالی کے لیے۔۔۔۔ “
مین گیٹ پر تعینات رہنے والا گارڈ ہکلاتے ہوئے بولا
“تو کل کہاں مرے ہوئے تھے تم لوگ ؟” بالاج کی دھاڑ پر وہ سارے کے سارے کانپ گئے
“صاحب ۔۔۔وہ میں ک۔کھا۔۔کھانا “
“کھانے کے پیسے لیتے ہوں تم لوگ”۔۔۔۔ بالاج نے شدید غصے کے سبب ہاتھ میں تھامی لوڈڈ گن سے زمین پر ایک کے بعد ایک فائر کیا
ملازمین کے درمیان خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہوئی
“صاحب معاف ۔۔۔معاف کردیں آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی “
“معافی۔۔۔۔!!!”
“دفعہ ہوجاؤ سارے کے سارے آئندہ تم میں سے کوئی بھی اپنی شکل نہ دیکھائے مجھے “
“علی بخش !!!….”
بالاج نے اپنے وفادار ملازم کو بلایا
“جی سرکار ..!!”
“آج کے بعد مجھے ان میں سے کوئی بھی اپنے گھر کے نزدیک نہ دکھے مجھے آج ہی نئے گارڈز چائیے جن کی نگرانی تمہارے زمے ہوگی “
بالاج نے سپاٹ لہجے میں چہرا پیچھے موڑے بغیر اسے حکم دیا
“جو حکم سرکار “
_______
“بالاج کیسی طبعیت ہے اب انابیہ کی ؟؟ “
حیا نے فکر مندی سے بالاج کو لاونج میں آتے دیکھ کر کہا
“وہ ٹھیک ہے مما بخار بھی اب قدرے کم ہے ۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔”
“مگر کیا ۔۔؟ بالاج کوئی بات ہوئی ہے ؟؟”حیا نے اس کے پاس آکر استفسار کیا
“مجھے اُس کی یہ حالت خوف کی وجہ سے نہیں لگتی ۔۔۔۔مسئلہ کچھ اور ہے” بالاج نے سنجیدگی سے حیا کی جانب دیکھ کر کہا
“کچھ اور ۔۔۔؟؟ اللّٰہ۔۔!!” حیا کے دماغ میں ایک خیال بجلی کی طرح کندہ
“بالاج آج تاریخ کیا ہے ؟؟ ” حیا نے فکرمندی سے موبائل اون کرتے اس سے بھی پوچھا ۔۔۔
آج ۔۔۔؟! بالاج سر تھام گیا
آج 18 دسمبر تھی یعنی آج کے ہی دن انابیہ کے ماما بابا
کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا
وہ دن صرف انابیہ کے لیے ہی نہیں بلکہ اّن سب پر بھاری تھا انابیہ صرف یتیم نہیں ہوئی تھی حیا کو بھی لگا تھا وہ ایک دفعہ پھر سے بے گھر ہوگئی بالاج کا سائبان چُھٹ گیا اور صفا ۔۔۔۔ اس کا کیا وہ تو اپنی اریبہ مما کے سب سے زیادہ قریب تھی انابیہ کو سنبھالنے کے لیے سب تھے حتیٰ کہ وہ بھی تھی مگر اس کا دُکھ ۔۔۔۔
حیا کی آنکھیں نم ہوگئیں تھی
وہ سیاہ دن آنکھوں کے سامنے پھر سے چمکا تھا کسی برے خواب کی طرح جس کی تعبیر نے اس کے ساتھ اس کے بچوں کی زندگی میں کبھی نہ بھولنے والی سیاہی مل دی تھی ۔۔۔۔
حیا صفا کو کھانا دے رہی تھی جبکہ بالاج اپنے کمرے میں اپنے پیپر کی تیاری میں مصروف تھا
اور اس کے پاس بیٹھی انابیہ اسے مسلسل تنگ کرنے میں بزی تھی جس کی ایک ہی ضد تھی وہ لاج کے ساتھ کھانا کھائے گی ۔۔
جب حیا کے فون پر انابیہ کے بابا کے نمبر سے کال آئی تھی
اسلام علیکم!!
جی ۔۔۔جی ۔۔کیا ۔!؟؟
ایکسیڈینٹ ۔۔!!
حیا کی آواز اتنی متغیر تھی کہ بالاج بھی اپنی کتابیں چھوڑ کر حیا کے پاس آیا جس کے ہاتھ سے فون گڑ چکا تھا
“مما ۔۔۔۔مما کیا ہوا؟!! “
بالاج نے حیا کو ہلایا جو ٹرانس کی کیفیت میں ایک ہی نقطے کو دیکھ رہی تھی
پھر خود ہی فون کان کے ساتھ لگایا ۔۔۔
“بالاج ۔۔۔۔جازب انکل کو فون کرو ” حیا کو اپنی خود کی آواز گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی
بالاج بھی بات سمجھ کر سر ہلاتا کمال اعوان کو فون کرکے ساری بات سے آگاہ کرنے لگا
کمال اعوان اور جازب اعوان پندرہ منٹ میں ان کے گھر تک پہنچے
حیا گھر کو اچھے سے لاک کرکے بچوں سمیت گاڑی میں بیٹھی
گاڑی مطلوبہ ہاسپٹل کی طرف بڑھ گئی تھی
ہاسپٹل میں پہنچتے ہی حیا ریسپشن سے پتا کر کے انابیہ کی مما کے کمرے کی طرف بڑھی تھی
“اریبہ آپی ۔.”حیا کی آنکھیں آنسووں سے بھر گئی
“حیا ۔۔۔” مشینوں کے سہارے کھینچ کھینچ کر سانس لیتی اریبہ حیا کو روانی سے رونے پر مجبور کر گئی
“حیا ۔۔۔جہانگیر؟؟!!! ” وہ بیوی بستر مرگ پر بھی اپنے شوہر کا پوچھ رہی تھی
حیا رودی وہ کیا بتاتی جہانگیر بھائی کا ہاسپٹل آنے سے ہی انتقال ہوگیا
“اریبہ کے آنسو بھی اپنے شوہر کا سوچ کر بہہ نکلے “
بچے ۔۔۔بچے آئے ہیں ۔۔۔؟؟!!
“جی بچے باہر ہیں سر جی اور جازب صاحب کے پاس ” حیا نے اریبہ کا ہاتھ تھام کر کہا
“میں تم سے۔۔۔۔ کچھ مانگو۔۔۔۔ حیا ۔۔۔۔مجھے منع تو نہیں کرو گی “
آپی ۔۔۔!! حیا ہچکیوں میں رونے لگی
“حیا رونے کا وقت نہیں ہے میرے پاس ۔۔۔جہانگیر میرا انتظار کر رہے ہیں “
حیا میری بچی کو اپنی بیٹی بنا لو
“آپی وہ میری ہی بیٹی ہے کیسی باتیں کر رہی ہیں …”
“نہیں۔۔۔ حیا اسے بالاج کے نام کردو تاکہ میں سکون سے مر سکو “
آپی مرنے کی بات کیوں کرتی ہیں اور انابیہ میری ہی بچی ہے آپ نا بھی کہتی تو میں نے اسے ہمیشہ بالاج کے لیے سوچا ہے جب بالاج اس کے قابل ہوجائے گا تب آپ سے اسے مانگ لوں گی “
حیا بالاج کو بھیجو میرے پاس پلیز میرے پاس وقت نہیں ہے اریبہ نے اپنے جسم سے اٹھتے درد کو محسوس کرکے کہا
حیا اسبات میں سر ہلا کر وہاں سے نکلی
بالاج ۔۔۔۔
اریبہ کے پکارنے پر بالاج نے اپنی آنکھوں میں بے ساختہ جمع ہونے والی نمی کو صاف کیا
اریبہ مما ۔۔۔ بالاج کے لہجے میں توڑ پھوڑ تھی کہ اریبہ کی آنکھیں بھی غم نے نم ہوئی
بالاج اریبہ مما کی بیا آپ کو پسند ہے نہ ۔۔۔اریبہ نے دھیرے سے سرگوشی کی تھی
بالاج نے اسبات میں سر ہلایا اور آگے بھر کر اریبہ کے آنسو صاف کئیے
“بالاج میں اپنی بیا کو تمہارے نام کرکے جا رہی ہوں میری بیا کا دھیان رکھو گے نہ وہ کبھی روئے تو اس کے آنسو بھی اسی طرح صاف کرو گے نہ ؟”
کتنے سارے سوال تھے جو اریبہ نے ایک سانس میں کئیے تھے اس وقت اپنی جان سے زیادہ اپنی اولاد عزیز تھی
قرینہ نے کانپتا ہاتھ اٹھانا چاہا جسے
بالاج نے تھام لیا” جی اریبہ مما میں بیا کا بہت دھیان رکھو گا آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا _”
“حیا میں چاہتی ہوں ان کا نکاح میری آنکھوں کے سامنے ہو “
اریبہ کو جانے کیا خوف تھا مگر حیا نے بھی انکار نہیں کیا وہ کر ہی نہیں سکتی تھی
انابیہ روتے ہوئے اپنی ماں کا چہرہ چوم رہی تھی
صفا بھی اپنی اریبہ مما کا حال دیکھ کر ہچکیوں میں روتی جا رہی تھی
چندہ !! اریبہ نے صفا کو پکارا تھا جو اریبہ کا ہاتھ چوم رہی تھی
“میری چندہ تو بہت بہادر ہے نہ “
صفا زور زور سے سر اثبات میں ہلانے لگی
حیا نے جازب کمال سے بات کی فوراً مولوی صاحب کا ارینج کیا گیا بالاج اتنا سمجھ دار تو تھا جو نکاح کا مطلب سمجھتا مگر انابیہ کو رشتے کی باریکیوں کا علم نہیں تھا حیا نے اسے تھوڑا بہت سمجھایا اریبہ کی حالت کے بارے میں سمجھایا
انابیہ نے کسی قسم کی ضد کیئے بغیر حامی بھرلی
اریبہ کے سامنے دونوں کا نکاح ہوا تھا
” حیا میرے تینوں بچوں کا دھیان رکھنا۔۔۔۔ تم بہت بہادر ہو۔۔۔۔ میری جان “
اریبہ نے اکھڑتی سانسوں کے ساتھ حیا کے پیچھے کلمہ دھرایا اور آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر لی
اپنے ماں باپ کے وجودوں کو ایک ساتھ ہاسپٹل سے ایمبولینس کی گاڑی میں منتقل ہوتے دیکھ انابیہ دیوانہ وار ان کی طرف بھاگنے لگی جسے راستے میں ہی بالاج نے تھام لیا
انابیہ کسمسائی اس نے بہت ہاتھ چھڑوانا چاہا مگر وہ بے ہوش ہوگئی ۔۔۔۔
جب اسے ہوش آیا تو بالاج جازب اور کمال اعوان کے ساتھ شجاع کے والد وہاں موجود تھے جو میت لے جانے کو تیار تھے
لاج ممی بابا چلے جائیں گے ۔۔۔۔لاج بیا کی ممی بابا اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے جائیں گے
انہیں روکے
حیا مما روکیں سب کو
وہ چیخیں مار رہی تھی مگر اریبہ اور جہانگیر کو ان کی آخری آرام گاہ کی طرف لے گئے تھے ۔۔۔۔
بالاج جہانگیر کی قبر کے پاس بیٹھا اپنے ہاتھوں کی جانب دیکھ کر رہا تھا اس نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا تھا نہ اسے حقیقت جاننے کے بعد اپنے باپ سے ملنے کی چاہ تھی
مگر اس نے اپنے سائبان کی جگہ پر ہمیشہ جہانگیر کو دیکھا تھا
جس نے ہمیشہ اسے زندگی کے بارے میں ایسی ایسی سیکھ دی تھی
بالاج کو کبھی کسی قسم کی کوئی کمی محسوس نہیں ہونے دی
اریبہ ماما اور جہانگیر انکل کی بے شمار محبت کا گواہ تھا وہ
جب حیا نے اپنی پڑھائی کنٹینیو کی تھی تو اس کا خیال ہر وقت وہ دونوں ہی رکھتے تھے۔۔۔
آج وہ ان دونوں کی قبروں میں اپنے ہاتھوں سے مٹی ڈال رہا تھا
آنسو آنکھوں سے بہنے لگے
ابھی تو اریبہ مما اسے جاتے جاتے اتنی بڑی زمہ داری دے گئی تھی جسے اس نے آخری سانس تک نبھانا تھا
میں وعدہ کرتا ہوں اریبہ مما آپ کی بیا کا ہمیشہ اپنی جان سے بھر کر خیال رکھوں گا اسے کبھی آپ کی اور انکل کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گی
وہ ان کی قبروں پر مٹی ڈالتا ہوا خود کلامی کرتے ہوئے بولا
بالاج !!! جازب کمال کی آواز پر وہ ایک نظر دونوں کی قبروں پر ڈال کر واپسی کے لیے مڑا تھا ۔۔۔۔
ابھی گھر میں اس سے بڑا امتحان باقی تھا انابیہ کو سنبھالنا تھا حیا کو سنبھالنا تھا اب گھر کا اکلوتا مرد وہ تھا اور اسے مضبوط ہونا تھا ۔۔۔
رات کے پہر انابیہ کو ہوش آیا وہ ایک دفعہ پھر سے زور زور سے رونے لگی تھی اتنا روئی کہ حیا سے سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا
تب بالاج جو جہانگیر کے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا
وہ اس کے پاس آیا
لاج ممی بابا چلے گئے ۔۔۔۔لاج بیا کی ممی بابا اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے
شش۔۔۔۔ انا میں ہوں نہ مما بھی ہیں صفا بھی دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے بالاج نرم خو لہجے میں بولا
نہیں تم لے کر گئے لاج مما بابا کو دور مجھ سے انابیہ اسے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مکے مارنے لگی مگر بالاج بغیر ہلے اس کے سامنے کھڑا رہا ۔۔۔ انابیہ مارتے مارتے ایک دم رک گئی
لاج مما بابا ٹھیک ہیں نہ ؟؟!! بالاج کی آنکھوں سے آنسو نکل گئی اس کی گال پر گڑا
ہاں وہ ٹھیک ہیں !! مگر اس طرح تم رؤ گی تو وہ ٹھیک نہیں رہیں گے اس کے گالوں کو صاف کرتے ہوئے اسے کہا
حیا اپنے آنسو صاف کرکے بچوں کے لیے کھانا لینے چلی گئی تھی صفا اور اس نے پھر بھی پہلے کھالیا تھا بالاج اور انابیہ نے ناشتے کے بعد کچھ نہیں کھایا تھا۔۔۔
دوسری جانب صفا کو چپی لگ گئی تھی ۔۔۔
وہ بالکل خاموش ہوگئی تھی اس کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا ۔۔۔
