Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 71)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 71)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“آپ ٹھیک ہیں نہ حیا صاحبہ “
جازب کے لہجے میں خوف و فکر دونوں تھے
“کوئی یہاں سے نہیں ہلے گا”
ماسک پہنے ایک شخص گولی چھت کی جانب چلاتا وہاں پر کسی کو ڈھونڈنے کے لیے آگے ہوا
صفا پر نظر پڑتے ہی وہ اس کی جانب بڑھا
“صفا ۔۔۔۔!!” حیا چیخی
“حدید صفا کو ۔۔۔” حیا کی آواز پھٹ گئی
وہ ماسک والا شخص گن کا رخ حدید پر تانے صفا کو بازو سے کھنچنے لگا
اور صفا کا بازو حدید کی گرفت میں تھا جبکہ صفا کے حواس اچانک ہوئے حملے پر جھنجھنا گئے
ماسک والے شخص کی گرفت سخت تھی صفا کا ہاتھ حدید کی گرفت سے چھوٹتا چلا گیا ۔۔۔
حیا نے بے یقینی سے اس منظر کو دیکھا دل جیسے بند ہونے کے در پر تھا وہ لوگ صفا کو کھینچ رہے تھے جب جازب نے گن کی پرواہ کیے بغیر صفا پر قابض شخص پر حملہ کیا
گولی کی آواز گونجی ساتھ ہی کہیں نسوانی چیخیں بھی حدید فوراً صفا کو حصار میں لے کر سائیڈ پر ہوا
پولیس کے سائرن کی آواز پر وہ نامعلوم افراد جازب کو چھوڑ کر وہاں سے بھاگنے کو لپکے چھوڑ اسے اور نکل دوسرا ساتھی پہلے کو ڈپٹ کر نکلا
“جازب ۔۔۔ ” حیا بھاگتے ہوئے جازب کے قریب آئی جس کے بازو سے نکلتا خ۔ون دیکھ کر حدید کے حصار میں شل سی کھڑی صفا بھی اپنا آپ حدید سے چھڑواتی اس کی جانب لپکی
“میں ٹھیک ہوں حیا صاحبہ”
جازب نے حیا کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹا کر اٹھتے ہوئے کہا نظروں کے سامنے بار بار حیا اور حدید کے آمنے سامنے بیٹھنا یاد آرہا تھا
حیا اتنی حواس باختہ ہوئی پڑی تھی وہ جازب کا سپاٹ لہجہ ہی نہیں محسوس کر پائی ۔۔۔
“ٹھیک ۔۔۔ ٹھیک نہیں ہیں ہاسپٹل چلیں آپ۔۔۔”
حیا نے اسے سہارا دیا تو وہی دوسری جانب صفا بھی اس کے دوسرے بازو کو تھام گئی
“پلیز انکل ۔۔۔ “
حدید خالی خالی نظروں سے اپنی بیوی اور بیٹی کو اس شخص کے ساتھ نکلتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔۔
———
“یہ تو کوئی پروفیشنل بیہویئر نہیں ہے آپ کی میم کا ہم پچھلے گھنٹے سے انتظار کر رہے ہیں اور وہ غائب ہیں “
“چپ کرو ۔۔۔!!”
زیاد لغاری نے بیوی کو ڈپٹا ۔۔۔
“کیا چپ کروں زیاد میری حالت دیکھ رہے ہو تم آٹھواں مہینہ ہے میرا اور اس حالت میں اس نان سیریس عورت کا انتظار کر رہی ہوں میں “
“تم اپنی زبان بند کرلو اس کمال اعوان سے اگر کوئی کیس جیتنے کے قابل ہے تو وہ ہی عورت ہے ، تمہاری زبان کی وجہ سے میں یہ کیس ہارنے کا رسک نہیں لے سکتا تو مہربانی فرما کر چپ ہو جاؤ “
وہ ہنہہ کہہ کر کرسی کی پشت پر بنی دیوار کے ساتھ کمر اور سر لگا کر آنکھیں موند گئی ۔۔۔
———
“میں ٹھیک تھا آپ لوگوں نے یوں ہی پریشانی اٹھائی خیر حیا صاحبہ آپ کی بریک کا وقت غالباً آدھے گھنٹے پہلے ختم ہوچکا ہے آپ جائیں”
جازب نے بے بسی کے مارے کہا درد اور پھر تھوڑی دیر پہلے کا منظر وہ چڑچڑا سا ہورہا تھا ۔۔۔
اور حیا اور صفا دونوں ہی اس کی چڑچڑاپن محسوس کرکے سمجھتے ہوئے خاموش تھیں ۔۔۔۔
“اچھا سر آپ کو گھر ڈراپ کرکے میں اور مما چلی جاتی ہیں”
صفا نے ماں کے بدلتے تاثرات دیکھ کر کہا
“کوئی نہیں بچے میں چلا جاؤں گا”
جازب نے صفا سے بات کرتے ہوئے لہجے کو قدرے نرم کر لیا تھا ۔۔۔
تبھی صفا کا فون بج اٹھا بالاج کی کال تھی وہ معذرت کرتی کمرے سے نکلی
“آپ زیادتی ہی کرتے ہیں اپنی طرف سے ہمیشہ جازب صاحب کیوں چاہتے ہیں میں آپ کی مقروض رہوں ؟ “
حیا نے اپنی سبز آنکھوں کو جازب کی جازب مرکوز کیا
بیک وقت جازب کے دل نے کہیں بیٹ مس کی اس نے بے ساختہ دل پر ہاتھ رکھا
“میں چاہتا ہوں آپ ساری زندگی میری مقروض رہیں تاکہ ہمارا تعلق جڑا رہے ۔۔۔”
وہ کہنا چاہتا تھا وہ کہہ رہا تھا مگر آواز دب گئی کہیں حلق میں کہ وہ سرگوشی کی صورت میں بھی نہ نکل سکی ۔۔۔
“آپ ٹھیک ہیں جازب ؟”
کیونکہ گولی بائیں بازو کو چھو کر گزری تھی اور اس وقت جازب کا ہاتھ بھی دل پر تھا رہی سہی کسر چہرے پر گھبرائے تاثرات نے پوری کردی ۔۔۔
حیا پریشان ہوئی
———
بالاج خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا ساتھ والی سیٹ پر صفا بھی قدرے خاموش خاموش سی بیٹھی ہوئی تھی
دونوں ہی جازب کو ہی سوچ رہے تھے ۔۔۔۔
جازب انکل کو ان کے گھر چھوڑ کر بالاج اب گھر صفا کو گھر لے جارہا تھا کیونکہ جازب تو آفس میں تھا نہیں تو صفا کا وہاں اکیلے کیا کام باقی حیا بالاج کے آتے ہی کوٹ کے لیے نکل چکی تھی اسے مسلسل باسط کی کالز آرہی تھیں ۔۔۔
———
“آج جلدی آگئے ۔۔۔کہاں سے آرہے ہو جازب ؟”
وہ بیٹے کے تھکے تھکے تاثرات دیکھ کر لان میں پڑی اپنی چئیر سے اٹھے
“آفس سے ہی آرہا ہوں ڈیڈ اور کہاں سے آنا ہے میں نے ۔۔۔؟ “
وہ ساتھ پڑی چئیر پر ٹک گیا
” ایک کپ کافی کا کہہ دیں سر میں بہت درد ہورہی ہے “
وہ آنکھیں موندے بڑبڑایا
کمال اعوان سر ہلاتے اٹھے
———-
وہ غصے میں آفس میں آکر بیٹھی تھی شک کہیں نہ کہیں خرم داد پر جارہا تھا مگر وہ صفا پر حملہ کیوں کرے گا؟ حیا سے بدلہ لینے کے لیے ۔۔۔؟ میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں خرم داد
تبھی اس کا فون بجا تھا
“حیات میری بات مکمل نہیں ہوئی تھی نشاء نے مجھے دھوکہ دیا تھا اس نے شادی بدلے کے لیے ۔۔۔۔”
“فار گاڈ سیک حدید شاہ تم کتنے خود غرض ہو ادھر میری آنکھوں کے سامنے کوئی میری بیٹی کو یر۔غمال بناکے لے جانے لگا تھا اور تمہیں اپنی سوکالڈ سٹوپڈ سٹوری کی پڑی ہے گزر گئی زندگی جو ہونا تھا ہوچکا ہے تم سیدھی طرح طلاق کے کاغزات پر دستخط کرو اور جان چھوڑ دو میری اور میرے بچوں کی زندگی میں پہلے ہی بہت سے اور مسئلے ہیں”
وہ پھٹ پڑی تھی ۔۔۔۔
دوسری جانب مکمل خاموشی تھی ایسے خاموشی جس میں صرف حدید کی سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی حیات بھی اپنا غصہ نکال لینے کے بعد سر اپنے آگے پڑی ٹیبل پر ٹکا گئی ۔۔۔
“وہ کبھی ماں بن ہی نہیں سکتی تھی اس ایکسیڈنٹ سے پہلے بھی وہ ماں نہیں بن سکتی تھی” حدید کی دھیمی سی سرگوشی ابھری تھی حیات کی آنکھیں ایک پل کو چونک کر کھل چکی تھی
“میری زندگی تو برباد ہوگئی نہ تمہارے خدا بننے کے چکر میں حدید تمہارے مجھے سزا دینے کے جنون میں۔۔”
وہ چیخنا چاہتی تھی مگر اس کی غائب دماغی سے کی بڑبڑاہٹ حدید کو دگنی تکلیف میں مبتلا کرگئی
دروازہ ناک ہوا
حیا نے فون کاٹ دیا میم وہ زیاد لغاری اور ان کی مسز ڈیڑھ گھنٹے سے باہر ہیں باسط نے فائل حیا کے آگے رکھتے ہوئے اطلاع دی
“اچھا انہیں اندر بھیج دو باسط “
وہ تھکی تھکی سی تھی
“میم اگر آپ تھکی ہوئی ہیں تو رہنے دیتا ہوں “
“نہیں تم انہیں بھیج دو اور کپ کافی کا بھیج دو اور ساتھ بلیک کافی بھی بھیجنا “
وہ پیشانی سہلا کر فائل پڑھنے لگی دو دن پہلے یہ کیس اس کے پاس آیا تھا پھر صفا کی منگنی اور دوسری مصروفیات کے چکر میں وہ فائل پڑھ ہی نہ سکی
فائل پر نظر دہراتے اس کی نگاہیں پلاٹ پر اٹک گئیں پلاٹ نمر 465 اے اس نے بے یقینی سے دوبارہ پلاٹ نمر دہرایا
تبھی دروازہ کھول کر دو نفوس اندر آئے
“ہم کافی دیر سے آپ کا انتظار کر رہے تھے مس حیا خان صاحبہ “
یہ آواز یہ لہجہ اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔۔
سامنے کھڑا وجود بھی ششدر سا کھڑا پتھر بن چکا تھا ۔۔۔۔
———-
فیصل جاوید، آبدہ شاہ کے یہاں شفٹ ہونے کے بعد سے کم ہی کمرے سے باہر نکلتے تھے تبھی آج حدیقہ خود ہی ان کے کمرے میں ناشتے کی ٹرے تھامے آگئی
“ارے میرا بچہ” وہ مسکرا کر حدیقہ کو سینے سے لگاتے اپنے پاس بٹھا گئے
“آج میرے بچے کو یاد کیسے آگئی”
وہ مسکرا کر اپنے لیے چائے بناتی حدیقہ کو دیکھ کر شرارت سے بولے
“آپ لوگوں کو تو حدیقہ بھول چکی ہے نہ بابا میں تو اپنی جان لگا رہی ہو سب کو جوڑنے کے لیے مگر سب بکھر گیا ہوش سنبھالنے کے بعد کبھی ماں باپ کو اکٹھا نہیں دیکھا ۔۔۔اب ماں بستر مرگ پر ہے تب بابا نے بھی کمرے سے نکلنا چھوڑ دیا اپنے سگے بھائی سے اتنا عرصہ دور رہی جب وہ ملا تو صرف غم اور سرد شخص جس کا خاندان اسے دیکھنا نہیں چاہتا ، میرا بچہ میری ہی بھتجی کے عشق میں کتنے کتنے دن کمرے میں قید ہوکر رہتا ہے اور میں کچھ نہیں کرسکتی باخدا اتنی بہادر نہیں ہے آپ کی حدیقہ بابا بالکل بھی بہادر نہیں ہے اگر میری زندگی میں ابراہیم نہ ہوتا تو میں کب کی مرجاتی”
وہ چہرہ ہاتھوں میں بھر کر رونے لگی دروازے پر کھڑے ابراہیم نے مٹھیاں بھینج لیں
“چلو یہاں سے حدیقہ ان لوگوں کے آگے رونے کا کوئی فائدہ نہیں یہ لوگ خود غرض ہیں سب کو اپنی پڑی ہے”
وہ حدیقہ کو اپنے حصار میں لیے فیصل جاوید کے کمرے سے نکل گئے ۔۔۔
حدیقہ نے آنسو پونچھے
“ابراہیم کب سب ٹھیک ہوگا ؟”
“جلد ٹھیک ہوگا میں سب ٹھیک کردوں گا میرا تم سے وعدہ ہے “
وہ حدیقہ کے آنسو پونچھ کر انہیں اپنے ساتھ لگا کر ان کے بال سہلانے لگے ۔۔۔
“سب جلدی ٹھیک کردیں ابراہیم نہیں تو آپ کی حدیقہ ہار جائے گی “
وہ سسکی بھرتے بڑبڑائی ۔۔۔
———-
“صفا کی سیکیورٹی کا انتظام کرو کرم”
بالاج نے کرم بخش کو حکم دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
تبھی ان نون نمبر سے اسے کچھ تصاویریں موصول ہوئی
بالاج کتنے ہی لمحے غائب دماغی سے انہیں تکتا رہا کانوں میں بس ایک ہی آواز کی بازگشت گونج رہی تھی دھوکہ۔۔۔
——–
“ہم کافی دیر سے آپ کا انتظار کر رہے تھے مس حیا خان صاحبہ “
یہ آواز یہ لہجہ اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا
سامنے کھڑا وجود بھی ششدر سا کھڑا پتھر بن چکا تھا ۔۔۔۔
نشاء پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے سامنے بیٹھی حیات کو دیکھ رہی تھی
“نشاء زیاد لغاری آپ بیٹھ سکتی ہیں “
بلاشبہ کچھ منٹ لگے تھے حیا کو کمپوز کرنے میں سامنے کھڑی ہستی اور پھر اس کے بھاری وجود کو ہضم کر پانا آسان نہیں تھا مگر وہ حیا تھی کتنے ہی ناقابلِ یقین حادثوں سے گزر کر یہاں پر پہنچی تھی
نشاء نے اس کے پکارنے پر اپنا ہاتھ بے ساختہ اپنے وجود پر رکھا
کیس جیتنے کی امیدیں تو مٹی ہوئی ہی اس عورت کو سامنے دیکھ کر جو جھٹکا اسے لگا تھا وہ زیاد کے ہلانے پر بھی ہوش میں نہیں آ سکی ۔۔۔
“مسٹر زیاد آپ کی بیوی مراقبے پر چلی گئیں ہیں کیا ابھی تو آپ لوگ اتنے اتوالے ہوئے پڑے تھے “
حیا نے آئی برو اُچکا کر زیاد لغاری کو دیکھا وہ شرمسار ہوکر نشاء کو ہلانے لگے
اس عورت نے مجھے ہر جگہ رسوا کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے
حیا نے نشاء کی غائب دماغی جانچ کر پانی کا گلاس آگے بڑھایا
نشاء نے پانی کے گلاس کو یوں دیکھا جیسے اس میں زہر ہو
“مجھے لگتا ہے آپ لوگ کیس میں انٹرسٹڈ نہیں ہے “
“نہیں نہیں ایسی بات نہیں ہے بس اس کی حالت کچھ خراب رہتی ہے میں اس کی جانب سے معزرت کرتا ہوں ہمارے لیے وہ گھر بہت ضروری ہے میڈم “
زیاد لغاری ترلوں منتوں پر اتر آیا تھا
نشاء کو اس لمحے اہانت کا ایسا احساس محسوس ہوا اس کا دل کیا یاں تو حیات یہاں سے غائب ہو جائے یاں پھر وہ ۔۔۔۔
وہ نظریں چراتی کیس کی ڈیٹیلز دینے لگی ۔۔۔
———
“حدید شاہ ۔۔۔۔” ابراہیم کی کرخت آواز پر فون کو ماتھے پر رکھ کر بیٹھے حدید نے سر اٹھایا
“اپنی ماں کو لو اور یہاں سے چلے جاؤ تم لوگوں کی وجہ سے میری بیوی زہنی مریضہ بن جائے گی “
ابراہیم کی پھنکار پر حدید مسکرا اٹھا
“تمہاری بیوی ہمارے جانے پر خوش ہوگی تو میں چلا جاتا ہوں “
حدید نے اٹھتے ہوئے اپنے کپڑے درست کیئے
ابراہیم نے سخت نظریں اس پر ڈالیں بہت سکون میں تھے
” ہم میں ،میری بیوی، ماموں اور پھر ہماری دنیا پوری ہوگئی عون کے آنے کے بعد ۔۔۔ مگر پھر تم آئے ہماری زندگی میں اور اب تمہاری ماں سب بکھیر دیا تم لوگوں نے رہی سہی کسر تمہاری بیٹی نے پوری کردی مجھے افسوس ہے عون کو صفا سے ہی کیوں محبت ہوئی یاں صفا تمہاری ہی کیوں بیٹی
ہے “
“مجھے بھی افسوس ہے میں اس کا باپ کیوں ہوں میں اسے ڈیزرو نہیں کرتا مگر میرا آپ سے وعدہ ہے آپ کا گھر پھر سے سمیٹ دوں گا مجھے کچھ دن دیں ابراہیم بھائی پھر آپ کو اپنی شکل نہیں دکھاؤں گا ۔۔۔”
اس نے شاید زندگی میں پہلی بار ابراہیم کو ایسے مخاطب کیا تھا پھر وہ ان کے پاس سے ہوتا گزر گیا
ابراہیم کو افسوس ہوا مگر اب سب کچھ اگر کوئی ٹھیک کرسکتا تھا تو وہ حدید ہی تھا ۔۔۔
———–
فلاور شوپ کے باہر گاڑی کھڑی کرکے وہ اندر سے بکے خرید کر گاڑی میں آکر بیٹھی ۔۔۔
وہ کبھی ماں بن ہی نہیں سکتی تھی اس ایکسیڈنٹ سے پہلے بھی نہیں وہ ماں نہیں بن سکتی تھی
حدید کی آواز کانوں میں گونجی ایک اور جھوٹ ۔۔۔ وہ عورت آٹھ ماہ کی پریگننٹ اس کے سامنے آئی تھی
وہ ڈیٹلیز لکھ چکی تھی
حیات میری بات ۔۔۔ نشاء کچھ کہتی حیا نے ہاتھ کھڑا کیا
پہلی بات مسز لغاری میرا نام حیا خان ہے دوسرا میں اپنے آفس میں ذاتی معاملات ڈسکس کرنے کی قائل نہیں ہوں ۔۔۔۔
وہ جس انداز میں بولی تھی وہ دونوں میاں بیوی اٹھ کر وہاں سے چلے گئے ۔۔۔
“یہ گھر تمہارے شوہر نے مجھے دیا ہے احمد کے پیدا ہونے کے بعد مطلب اتنی مشکلیں تم نے اٹھائیں اس کی نسل کو آگے بڑھایا اور عنایتیں وہ مجھ پر کر رہا ہے “
نشاء آج پھر حیات کے سامنے تھی یہ کوئی ایک دفعہ نہیں تھا اکثر و بیشتر وہ حیات کو حدید کا نام لے کر نیچا دکھاتی رہتی تھی اور یہ سلسلہ احمد کی پیدائش کے بعد سے شروع ہوا تھا جس کا زکر حیات نے حدید سے نہیں کیا تھا اس کی وجہ حیات کی ساس کا نشاء کے ہمہ وقت صدقے واری ہونا اور حدید کا بھی اس کا دھیان رکھنا
یہ گھر بلکے ایسے کتنے گھر مجھے دولت جائیداد کی تمنا نہیں ہے نشاء باجی میرے لیے یہ کافی ہے میرے شوہر میرا دھیان رکھتے ہیں میری خواہشات کو پورا کرتے ہیں جس پر میرا حق ہے
ویسے آپ کو خود نہیں عجیب لگتا اپنے کزن سے یہ سب لیتے ہوئے مطلب بس ایک کزن ہی تو آپ ۔۔۔ !! “
حیات نے استہزایہ انداز میں کہا تھا نشاء نے دانت پیسے اس رات اس نے آبدہ شاہ سے اسے بغیر کسی وجہ سے باتیں سنوائی تھیں۔۔۔
حیات کو وہ بری لگنے لگی تھی ہر وقت حدید کے ساتھ رہنا اور پھر حیات نے نشاء کو اکثر فون پر کسی سے واحیات گفتگو کرتے بھی سنا تھا ایسی گفتگو کہ شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی وہ شرمندہ ہو جایا کرتی تھی
اس رات گھر چھوڑتے ہوئے بھی سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی تھی نشاء کی وہ حرکتیں بے مقصد نہیں تھی جب حیات اسے مان سے کہتی تھی کہ میں بیوی ہوں اور تم ایک کزن وہ کتنا ہنستی ہوگی اس پر اس کی بے و قوفی پر اس چیز نے حیات کو اس رات مار ہی تو دیا تھا
گاڑی اعوان ہاؤس کے سامنے آکر رکی تھی حیا گہری سانس بھر کر گاڑی سے نکلی
“اللہ مجھے اس شخص کی بے تکی باتوں کا جواب دینے کا حوصلہ دئییں ٫
حیا بچے کمال اعوان حیا کو اپنے گھر میں دیکھ کر کِھل اٹھے
“السلام علیکم سر جی کیسے آپ “؟ وہ آگے بڑھ کر عقیدت سر ان کے آگے جھکا کر بیٹھی
“جازب صاحب کیسے ہیں ؟ “
جازب ۔۔۔ کمال اعوان نے ایک نظر بکے پر ڈالی جازب اوپر ہے میں بلاتا ہوں وہ اٹھنے لگے جب حیا نے منع کردیا
“میں دیکھ لیتی ہوں انہیں “
وہ اس کے زخم کی غرض سے خود جانا چاہتی تھی حیا اٹھ کھڑی ہوئی اور کمال اعوان کے لیے بکے دیکھنے کے بعد یہ دوسرا جھٹکا تھا
“ہاں ہاں کیوں نہیں میں لے چلتا ہوں “
وہ اس کے ساتھ ہی چلنے لگے دماغ میں مختلف سوالات تھے
انہوں نے بغیر کھٹکھٹائے ہے دروازہ کھول دیا
وہ بغیر کسی شرٹ یاں بنین کے اپنی پٹی میں مقید بائسیپ پر کندھے زخم کو دیکھ رہے تھے
دروازے کے یوں کھل جانے پر سٹپٹائے
ہڑبڑاہٹ کے مارے حیا کے ہاتھ سے بھی بکے چھٹ گیا وہ شرمندہ سی چہرہ موڑ گئی
“تم کیا ٹارزن بنے پھر رہے ہو شرم کرو “
اور کمال اعوان بوکھلاہٹ کا شکار اس سچویشن میں بیٹے کو ڈپٹ کر دروازہ بند کر گئے انہوں نے شاید جازب کا زخم نہیں دیکھا تھا
“وہ حیا بیٹا معذرت “
“آپ کیوں معذرت کر رہے ہیں سر جی مجھے انتظار کرنا چاہیے تھا”
وہ شرمندہ ہوئی
“اچھا تم بیٹھو۔۔۔”
وہ ملازمہ کو لوازمات کا کہہ کر اٹھے جب انہیں جازب نظر آیا
“دروازہ لوک نہیں کرسکتے !! ؟”
وہ تپ کر بولے
“ڈیڈ آپ دروازہ ناک کرکے نہیں آسکتے اتنے بڑے جج ہیں کوئی اٹیکیٹس ہوتے ہیں “
“ہنہہ۔۔ تم تو جیسے شادی شدہ بیوی والے ہو”
انہیں اچھے سے معلوم تھا بیٹے کی دکھتی رگ کا
ویسے معصومانہ سا سوال ہے یہ تم نے انیل کپور سے شرط لگا کر جنگل اگایا ہوا ہے ؟
ڈیڈ وہ سٹپٹایا
وہ لوگ لاونج تک پہنچ چکے تھے
ڈاکٹر نے زخم چھیرنے سے منع کیا تھا
جازب کو دیکھتے ہی وہ جیسے لفظوں کی بندوق اس پر تان گئی
“زخم ؟” کمال صاحب نے آنکھوں سے اشارہ کرکے پوچھا
“نہیں میں بس دیکھ رہا تھا” وہ منمنائے
“حد ہے کچھ دیر پہلے فرصت سے دیکھ نہیں لیا تھا جو پٹی کھول کر تصدیق کی جارہی تھی انداز بیویوں والا ہی تھا “
مگر کمال صاحب تو زخم پر اٹک چکے تھے نہیں تو حیا کے برتاؤ پر بیٹے کا ضرور اچھا خاصا ریکارڈ لگاتے ۔۔۔
کچھ دیر بیٹھنے کے بعد حیا وہاں سے چلی گئی اب پیچھے کمال اعوان کی گھوریاں تھیں اور جازب کی دلیلیں۔۔۔
———-
اگلی صبح صفا کا ارادہ جازب کی عیادت کرنے کے لیے ادھر جانے کا تھا بکے خرید کر وہ گاڑی میں آکر بیٹھی جب اسے بالاج کی کال آئی
“گڑیا کہاں ہو بیٹا ؟
“بھائی میں جازب انکل کی طرف۔۔۔۔ “
“صفا آپ بتائے بغیر کیوں نکلی ہو گھر سے وہ بھی بغیر سیکیورٹی کے جانتی ہوں نہ آپ کا باہر نکلنا سیو نہیں ہے اب کہاں ہو ؟ “
بالاج نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا حیا بھی سیڑھیاں اترتے ہوئے بالاج کے قریب آئی
“بھائی میں آہ۔۔۔۔۔ “
وہ ابھی بالاج کو بتاتی گاڑی نے جھٹکا کھایا
صفا کی چیخ بے ساختہ تھی
“صفا ۔۔۔ صفا کیا ہوا ہے ؟”
صفا بالاج نے پریشانی سے کہا
انابیہ بھی پریشان سی حیا کے پاس آگئی
مرادنہ آوازوں میں دبی صفا کی چیخیں بالاج کو دہلا گئیں
وہ تیزی سے نکلا وہ جتنی عجلت میں مین گیٹ اوپن کرکے باہر جارہا تھا شجاع اسے دیکھتے اس کے پاس آیا
“بالاج کیا ہوا ہے ؟ بالاج کہاں جارہا ہے؟”
شجاع نے پریشانی سے کہا وہ اتنی صبح بالاج کے کہنے پر ہی خان ہاؤس آیا تھا اب اسے جاتا دیکھ اس کے پیچھے ہو لیا۔۔۔
———
سر صفا میم کڈنیپ ہوگئی ہیں
قاسم کے میسج پر حدید جھٹکا کھا کر اٹھا اتنی سیکیورٹی کے باوجود حدید نے اشتعال انگیز لہجے میں کہا ساتھ ساتھ قدم عون نے جمعے کی جانب اٹھ رہے تھے
“تم یہاں پر سوگ مناتے رہو عون ابراہیم اور وہاں پر تمہاری محبت اغواہ ہوچکی ہے”
حدید شاہ کی چنگارتی آواز پر اپنی راکنگ چئیر پر جھولتے عون نے جھٹکے سے آنکھ کھولی اور نہ صرف آنکھ کھولی وہ کھڑا بھی ہوگیا
“کی۔۔ کیا کہا آپ نے ؟ “
ماتھے پر بل ڈالے وہ بے یقینی سے حدید شاہ کو دیکھنے لگا
“وہ ہی جو تم نے سنا ہے عون ،صفا کو اغواہ کرلیا گیا ہے شاید حیات کا کوئی حریف تھا “
آپ کو کیسے پتا لگا ماموں ؟ وہ ہڑبڑا کر الماری سے شرٹ نکال کر پہنتے ہوئے بولا
“یہ ضروری نہیں ہے عون اس وقت اسے ڈھونڈنا
ضروری ہے”
حدید بالاج کا نمبر ملاتے ہوئے عون سے بولا
جو اپنی گاڑی کی چابی پکڑ کر آج دو دن اور تین راتوں بعد اپنے کمرے سے نکلا تھا اور اتنی تیزی سے نکلا تھا کہ حدید شاہ کے پورچ میں پہنچنے سے پہلے ہی وہ گاڑی لے کر نکل گیا۔۔۔
“ہیلو قاسم ۔۔۔ نمبر ٹریک کرو اور یاد رہے کسی کو شک نہ ہونے پائے
جس نے بھی یہ حرکت کی ہے اس کی خیر نہیں “
حدید نے قاسم کو حکم دے کر ایک اور جگہ فون ملایا ۔۔۔
