Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 69)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 69)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
بس ویکنس کی وجہ سے انہیں چکر آگیا خیال رکھیں اِن کا اور اِن کی ڈائٹ کا بھی ماں اور بچے دونوں کی ہیلتھ کے لیے اچھی ڈائٹ ضروری ہے ۔۔۔
شکر الحمدللہ حیا نے آنکھوں میں نمی لیے مسکراتے ہوئے بالاج کو دیکھا
ڈاکٹر منزہ آپ نے اتنی اچھی خبر سنائی ہے میں بتا نہیں سکتی مجھے کتنی خوشی ہورہی ہے
ارے اس میں میرا کیا کمال حیا یہ تو اللہ کا کرم ہوا ہے آپ کے گھر
بے شک بے شک تم آؤ نہ ۔۔۔۔
ان کے حیا کے ساتھ پروفنشل اور کیژول دونوں طرح کے ہی اچھے تعلقات تھے
نہیں بس اب نکلتی ہوں پھر کسی دن آؤں گی چائے پر
وہ حیا کا ہاتھ دبا کر مسکراتے ہوئے وہاں سے نکلی
ڈاکٹر منزہ کے وہاں سے جاتے حیا بالاج کے گلے لگی
جیتے رہو میری جان بہت بہت مبارک ہو
بالاج بھی ٹرانس کی کیفیت میں اپنے ہاتھ حیا کے گرد پھیلا گیا
عجیب سے احساسات ہورہے تھے جو اس کی سمجھ سے باہر تھے
میری جان جاؤ بیا کے پاس اسے اس وقت تمہاری ضرورت ہے
حیا نے اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر اس کا انابیہ کی طرف دھیان کروایا
آپ نہیں ملیں گی ؟ بالاج حیا کے ہاتھوں کو تھام کر پریشانی سے بولا
ارے میری جان کیوں نہیں مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہی اففف بالاج میں دادی ۔۔۔ میں حیا کی ایکسائٹمنٹ اس کے جزبات کی آنچ میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ بالاج انہیں پھر سے اپنی حصار میں لے گیا
ابھی میں جارہی ہوں شکرانے کے نفل ادا کرنے تم جاؤ بیا کے پاس اپنا مومنٹ انجوائے کرو اسے مبارک باد میں اور صفا صبح دے دیں گے ابھی اسے صرف تمہاری موجودگی کی ضرورت ہے ۔۔۔
حیا نے اس کا گال کھینچ کر مسکراتے ہوئے اپنے قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھا لیے اللہ کا شکر اس پر واجب تھا اس کے گھر میں خوشیاں اتری تھیں ۔۔۔۔
———
شجاع کے نمبر سے اسے چار پانچ مختلف ڈیزائن کی میکسیوں اور فینسی ڈریسز کی تصاویریں موصول ہوئی تھیں جہاں وہ اُس سے اس کی پسند کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔۔۔
دیکھ لیں جو آپ کو صحیح لگے ۔۔۔۔
اتنا سا میسج کرکے وہ فون بند کرگئی بستر پر بالکل سیدھا کمر کے بل لیٹے اوپر سیلنگ کو دیکھتے وہ ایک دم اٹھی تکیے کے پاس پڑا اپنا موبائل اٹھایا
بلاک لسٹ کھول کر اوپر موجود نمبر کو اَن بلاک کیا
شجاع کا نمبر اوپن کرکے ان پانچ ڈریسز کی تصاویریں پر کلک کرکے موبائل کے انٹرفیس پر اوپر نظر آتے تین ڈوٹ کو دبا کر فارورڈ پر جاکر وہ پانچوں تصاویریں اس اَن بلاک کیے نمبر پر سینڈ کردئیے۔۔۔
عون ابراہیم جلدی سے بتاؤ ان پانچوں میں سے کون سی ڈریس زیادہ پیاری ہے ؟اج ہی سلیکٹ کرنی ہے صبح میری منگنی ہے تمہیں یاد ہے نہ اکثر تم ڈریس سلیکٹ کرنے میں میری مدد کردیا کرتے تھے جب تم میرے دوست ہوا کرتے تھے ۔۔۔
ایک منٹ کہیں تم نے دوستی سے بھی تو دستبرداری نہیں دے دی ۔۔۔؟؟
ارے بتا دو اگر ایسا ہے کچھ کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔
———–
مخصوص رِنگ ٹون پر حدید شاہ کے سامنے بیٹھا عون چونک گیا ۔۔۔
سن رہے ہو تم عون
آخر مسئلہ کیا ہے تمہیں کیوں خود کو قید کیے بیٹھے ہو کمرے میں کیوں تکلیف دے رہے ہو خود کو مجھے اپنے ماں باپ کو مجھے جانے بھی نہیں دے رہے صفا کے پاس
عون غائب دماغی سے حدید کو سن رہا تھا جب وہ ہی رنگ ٹون ایک دفعہ پھر سے بھی ۔۔۔ پھر اور پھر عون نے اپنا فون تھام لیا
دھڑکتے دل کے ساتھ واٹس ایپ اوپن کیا
صفا کا نام جگمگا رہا تھا
میسج پڑھتے اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
وہ جیسے جیسے پڑھتا جارہا تھا اس کا قہقہ اونچا ہوتا جارہا تھا وہ پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا
یہاں تک کہ ہنس ہنس کر اس کی آنکھوں میں پانی سا آگیا
حدید اس کے قہقوں پر افسوس سے اسے دیکھ کر رہ گیا تکلیف بھی ہوئی اس کا ہنستا کھیلتا عون ایسا تو نہیں تھا آنکھوں کے نیچے حلقے بکھرے بال ، بے تکی حرکتیں ۔۔۔
———–
آنکھوں میں محبت ، عقیدت ، احترام لیے وہ اس وقت اپنی شریک حیات کو دیکھ رہا تھا جو اس کی روح من بھی تھی اور اس کا دل بھی
انابیہ، بالاج کی وارفتگی بھری نظروں سے اوجھل ہونے کے لیے پر تول رہی تھی مگر اس کے دونوں ہاتھ بالاج کی پرحدت گرفت میں تھے دوری ممکن کہاں تھی اب !!
تم نے مجھے ہر طرح سے مکمل کردیا ہے انا ۔۔۔ وہ اس کے ہاتھوں کو لبوں کے قریب لے گیا
مگر ۔۔۔۔ معاً بات ادھوری چھوڑی
مگر کیا ؟؟ مگر کیا لاج ؟ انابیہ کا دل انجانے خوف سے دھڑکا
کیا بالاج خوش نہیں۔۔۔؟
مگر ڈاکٹر نے کہا تم بہت ویک ہو
افف آپ کے مگر نے تو میری جان نکال دی تھی بالاج کی بات پر دل پرسکون ہوا تو اس نے بالاج کو گھورا
وہ مسکرا کر رہ گیا
تو آپ کس لیے ہیں مسٹر لاج رکھیں ہم دونوں کا دھیان ۔۔۔۔ بتائیں اٹھائیں گے ہم دونوں کے لاڈ؟ اس کی سبز آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مان سے پوچھا ۔۔۔
میں تم دونوں کو اٹھا لوں لاڈ کیا چیز ہے ۔۔۔۔ دگنی محبت کے سنگ دونوں کو محفوظ حصار میں قید کیا انابیہ آسودگی سے آنکھیں موند گئی ۔۔۔۔
———-
اگلی صبح کسی کے لیے روشنیوں کی نوید لائی تھی تو کوئی تاریکیوں کو اپنا مقدر مانے ابھرتے سورج سے نظریں چرا رہا
تھا۔۔۔
ناشتے کی ٹیبل پر انابیہ اپنے سامنے پڑے لوازمات پر منہ بنا کر کبھی حیا کو دیکھ رہی تھی تو کبھی بالاج کو جو مسکراہٹ دبائے اپنی پلیٹ میں پڑے آملیٹ کو کانٹے میں پھنسا کر اس کی جانب بڑھایا انابیہ منہ بنا کر آخری امید کے ساتھ خود کے ساتھ لگی صفا کو دیکھنے لگی
آپی بچائیں صفا کے کان میں روہانسی ہوکر سرگوشی کی
میری چندہ یہ سب تمہارے اور ہمارے مہمان کے لیے بہت ضروری ہیں ۔۔۔
آپی مجھے دیسی گھی کی سمیل نہیں اچھی لگ رہی وہ ابھی بھی صفا کے کان میں گھسی ہوئی تھی جب ملازمہ نے آکر حیا کو ایونٹ آرگنائزر اور بیوٹیشن کے آنے کی اطلاع دی
صفا بچے آپ نے ناشتہ کرلیا ہے تو بیوٹیشن اور پروفیشنل سروسز کے لیے لڑکیاں آئی ہیں انہیں لے جائیں کمرے میں اور بیا آپ پہلے میرے سامنے ٹھیک سے ناشتہ کرو پھر آپ نے اگر کوئی سروس لینی ہے تو لے لینا اور بالاج بیٹے آپ ماموں سے فون کرکے پوچھو کب تک آرہے ہیں وہ لوگ میں زرا ایونٹ مینجر سے مل لوں
حیا سب کو ان کا کام بتاتی اپنے فون پر سے نظریں ہٹا کر انابیہ کو دیکھنے لگی جو صفا کو اٹھتا دیکھ کر آخری امید کھوتی گھبراتے دل کے سمیت سامنے پڑا دیسی گھی ڈرائے فروٹوں سے بھرا پیٹھے کا حلوہ دیکھنے لگی خاص حیا نے خود اس کے لیے بنایا تھا اس کے دائیں جانب تازہ پھلوں سے بھرا باؤل تھا دودھ کا گلاس بھی یوں ہی پورا کا پورا پڑا تھا ۔۔۔
ماں آپ کام دیکھیں اسے میں کھلا دیتا ہوں
بالاج کو بلآخر اپنی انا پر ترس سا آیا تبھی حیا کا ہاتھ دبا کر انابیہ کی جناب مڑا
حیا کو اٹھتا دیکھ کر انابیہ کو جیسے چھوٹ ملی بالاج کو بلیک میل کرنا اس کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا ۔۔۔
اب وہاں صرف بالاج اور انابیہ ہی تھے ۔۔۔
بالاج پلیز یہ سب بہت زیادہ ہے میری طبیعت خراب ہوگئی نہ تو ۔۔۔ وہ بولتے بولتے چپ ہوئی
بالاج نے اس کے آگے پڑا دودھ کا گلاس اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا آدھا پی کر انابیہ کی جانب بڑھا دیا
جسے بنا کسی تردید کہ وہ تھام گئی
یوں ہی بالاج نے اسے آدھے سے زیادہ پھل کھلائے مگر حلوہ وہ پھر بھی تین سے چار چمچ سے زیادہ نہیں کھا سکی
بہت برے ہیں آپ لاج یہ کوئی طریقہ نہ ہوا اپنی بات منوانے کا وہ خفگی سے اس کے پرسکون چہرے کو دیکھ کر کہہ گئی
تم بن کہے میری بات مان جاتی ہو یہ والا عزاز میرا ہی رہنا چاہیے انابیہ بالاج خان ۔۔۔ بڑے پیار سے اس کا پورا نام پکارا تو وہ بھی مسکرا دی
مہندی بھی لگوانا ہماری شادی کے بعد سے تم نے ایک بار بھی نہیں لگوائی
اس کے دونوں ہاتھوں کو دبا کر وہ اٹھا کیونکہ اس کے فون پر حمزہ کی کال آرہی تھی
انابیہ بے ساختہ مہندی والا سین یاد کرکے مسکرائی پھر اٹھ گئی اب بالاج نے کہا تھا تو وہ کچھ اور کرتی نہ کرتی مہندی ضرور لگواتی ۔۔۔
———–
وہی شجاع کے گھر بھی تیاریاں زور و شور سے چل رہی تھی
شبانہ خاور کبھی کسی ملازمہ پر بھڑک رہی تھیں تو کبھی کسی پر
وہی شجاع جس کے لیے آج کا دن مرادوں کا دن ہونا چاہیے تھا وہ اتنا خوش نظر نہیں آرہا تھا جانے کیسی سنجیدگی تھی اس کے چہرے پر
وہ اپنے بابا کے کمرے کی جانب بڑھا جب اندر آتی آوازوں پر اس کے قدم تھمے
مگر فائزہ بیٹا آپ گھر کے ہوتے ہوئے کیوں رہیں گی ہاسٹل میں
ماموں پلیز میری خواہش مان لیں یا التجا میں نے بہت محنت کی ہے اپنے بل بوتے پر اس یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی ہاسٹل یونیورسٹی کے قریب پڑرہا ہے رہائش کا انتظام مناسب پیسوں میں ہو جائے گا آپ اجازت دے دیں دو دن بعد میں وہاں شفٹ ہوجاؤں تھی پیر سے میری کلاسز شروع ہیں
پیسوں کی بات نہیں ہے فائزہ بیٹا مگر میں کیسے تمہیں تن تنہا بھیج دو تم ہمارے زمہ داری ہو
پلیز ماموں یقین کیجیے یہ زمہ داری لفظ میری ماں کے مرنے کے بعد سے بہت بھاری ہوگیا ہے میں نے بہت بڑی قیمت اٹھائی ہے اس لفظ کے پیچھے اسے اور میرے پیروں کی بیڑیاں نہ بنائیں وہ ہاتھ جوڑ گئی ۔۔۔
شجاع ۔۔۔۔ کیا شجاع سے پوچھا تم نے انہوں نے آخری سی کوشش کی نہیں تو فائزہ کی التجا انہیں نظریں جھکانے پر مجبور کرگئی تھی ۔۔۔
ان کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ماموں جان ہم دونوں کا رشتہ اصول و شرائط پر قائم کیا ہوا ہے ایسے رشتوں میں اجازتیں معنی نہیں رکھتی ۔۔۔۔
السلام علیکم سر ابھی خبر ملی ہے جازب کمال سے آج ملاقات ممکن نہیں آپ کی کیونکہ ان کی اسسٹنٹ جو کہ ان کی کولیگ کی بیٹی بھی ہے اس کی منگنی ہے
اچھا ۔۔۔ حدید نے سر جھٹکا
احمد اور صفا کی کیا خبر ہے ؟؟
سر ۔۔۔ جازب کمال کی کولیگ حیات صاحبہ ہیں یعنی آج صفا میڈم کی منگنی ہے
کس کی منگنی ؟؟
حدید ایک جھٹکے سے اٹھا
صفا کی منگنی
مطلب کل جن میسجز کو دیکھ کر عون پاگلوں کی طرح ہنسا تھا وہ یقیناً صفا کی جانب سے اسے موصول ہوئے تھے اس کی منگنی کی اطلاع کے
غلط ۔۔۔ غلط کر رہی ہو حیا میرے کیے کی سزا ان دو بچوں نہیں دے سکتی تم ۔۔۔
حدید شاہ تیزی سے اپنے کمرے سے نکلا اور پیچھے ہی قاسم بھی ۔۔۔
———
منگنی کی رسم زور و شور سے جاری تھی
خان ہاؤس کے وسیع لان میں آنکھیں چندھیا دینے والی سجاوٹ نے اس جگہ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیئے تھے
پستہ رنگ کی پیروں کو چھوتی میکسی میں خوبصورت سا میک اپ کیے شجاع خاور کے پہلو میں کھڑی صفا اپنے سامنے لش پش کرتے سفید پینٹ کوٹ میں ملبوس شجاع کے آگے اپنا بایاں ہاتھ کرگئی
جب سب کی بھرپور تالیوں اور بیک گراؤنڈ میں چلتے ڈِم سے میوزک سنگ شجاع نے صفا کے ہاتھ میں انگوٹھی پہنا دی
انگوٹھی پہنانے کے بعد جہاں شجاع کی نظر بے ساختہ فائزہ کی جانب اٹھی ہوئی صفا ایک پل کو شدت سے آنکھیں مینچ کر دل میں اپنی آنے والی زندگی کے لیے دعا کرگئی ۔۔۔
جبکہ بالاج کے پہلو میں کھڑی انابیہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا مہندی سے سجے ہاتھوں کو اٹھا کر وہ تالیاں بجاتی اپنی خوشی کا اظہار بھی کر رہی تھی
بالاج نے بے ساختہ ہی ہاتھ میں تھامے کہیں نوٹ اس پر سے وار دیے کہ انابیہ وہی ساکت سی ہوئی پھر شرما کر آنکھیں نیچے کرگئی ۔۔۔
“حمزہ کیا ہوا آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں ؟ ” پریہان اور حمزہ کا ابھی چند دن پہلے ہی نکاح ہوا تھا حیا کے گھر والوں میں سے علی ماموں حمزہ اور پریہان یہاں موجود تھے باقی حاجرہ بیگم کو ڈاکٹر نے سفر کرنے سے منع کردیا تھا تبھی مامی بھی ساس کی وجہ سے آ نہیں سکی باقی وشمہ کس منہ سے آتی عدنان بھائی بھی بہن سے نظریں چراتے ماں کا بہانہ کرکے نہیں آئے
“نہیں کچھ نہیں “حمزہ دور سے ہی صفا کے دھیمی مسکراہٹ سے سجے چہرے کو دیکھ کر پہچان گیا تھا کہ اس کے پہلو میں بیٹھا شخص وہ نہیں تھا جس کے لیے اس نے صفا کو بزدل کہا تھا مگر وہ کیا کرسکتا تھا سوائے افسوس کرنے کے صفا اسے بہت عزیز ہوگئی تھی بلکہ وہ اپنے اور پریہان کے ایک ہونے کی وجہ صفا کو ہی مانتا تھا اس پل حمزہ کو سمجھ نہ آئی وہ صفا کی کیسے مدد کرے
آپ کا بہت بہت شکریہ سر آپ یہاں پر آئے اور جازب صاحب آپ کا بھی
حیا سب مہمانوں سے ملتی ان کے پاس آئی خیر مہمان تھے ہی کتنے ؟ شجاع کی فیملی شجاع کی فیملی میں سے چند بہت ہی قریبی اور حیا کی طرف سے اس کی فیملی بھائی اور دو بچے اور جازب کمال اور کمال اعوان
ارے شکریہ کی کیسی بات ہے حیا بچے بلکہ آپ کا شکریہ آپ ہمیں اپنا قریبی جانتی ہیں اور ہمیں ہماری بیٹی کی خوشی میں شریک ہونے دیا
کمال اعوان نے سٹیج پر بیٹھی صفا پر نظر ڈال کر محبت اور احترام سے کہا
حیا نے مشکور نظروں سے دونوں کو دیکھا ۔۔۔
اچھا آپ دونوں باتیں کرو میں صفا بیٹی سے مل کر آیا
کمال اعوان بیٹے کو اشارہ کرکے وہاں سے نکل گئے پیچھے جازب ہمیشہ کی طرح کنفیوژ سا ہوا اوپر سے آج حیا لگ بھی کچھ بہت مختلف رہی تھی کہ نظریں نا چاہ کر بھی اس پر ٹھہر سی رہی تھیں وہ بری طرح خود کو ڈپٹ کر نظریں یہاں وہاں کر گئے
اور چہرے پر مسکراہٹ لائے کانفیڈینس شو کرنے لگے
آپ بتائیں جازب صاحب کیا کر رہے ہیں اج کل ؟
م۔۔مطلب
حیا کا انداز بڑا دوستانہ تھا
جازب کمال کا سارا کانفیڈینس ہوا ہوگیا
لاہور والے گھر کا کیا چکر ہے ؟ آپ کے اوپونینٹ کیس ملا ہے مجھے
بڑے آرام سے ان پر بم گراتی انہیں کھانسنے پر مجبور کرگئی
جازب کے ہاتھ میں موجود سوفٹ ڈرنگ پوری طرح ان کے گلے کو لگی تھی ۔۔۔
وہ کھانس کر نارمل ہوئے
وہ آپ تک پہنچ گئے ؟
افکورس آئی ایم لائیر مجھ تک نہیں آئیں گے تو آپ کے خلاف کیس آپ کو ہی ہائیر کرکے لڑیں گے
حیا نے آئی برو اُچکائی سبز آنکھوں پر ہلکا سا ہوا میک اپ انہیں اور دلکش بنا رہا تھا
تو آپ میرے خلاف لڑنے لگی ہیں حیا صاحبہ ؟
انداز بڑا دلشکن سا تھا
کیس انٹرسٹنگ لگ رہا ہے کوئی برائی نہیں ہے آپ کے خلاف لڑنے میں
دیکھ لیجیے کہیں لگا تار کیس جیتنے والا ریکارڈ خراب نہ ہوجائے
جازب نے مسکرا نظریں اپنے گلاس پر ٹکا لیں۔۔۔۔
دیکھ لیں گے ۔۔۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں بولی
———
لاج کیا ہوا بالاج کو کب سے جازب کمال اور ان کے پاس کھڑی حیا کو تکتے دیکھ کر انابیہ نے پکارا
وہ دونوں ساتھ اچھے لگتے ہیں نہ ؟
بالاج جانے کس لے میں بول گیا
انابیہ نے چونکتے ہوئے بالاج کو دیکھا
کون دونوں لاج ؟؟
ماما اور جازب انکل ! بالاج کی نظریں ابھی بھی جازب کمال پر ہی تھیں جو نظریں حیا پر ڈالے بغیر حیا کی باتوں کا جواب دے رہا تھا
کیا مطلب میں سمجھی نہیں ؟ وہ ناسمجھی سے بالاج کو دیکھ رہی تھی یاں سمجھ کر بھی انجان بن رہی تھی
بالاج نے جو اتنے دنوں سے بات دل میں رکھی ہوئی تھی انابیہ سے شئیر کی
واقع ؟؟ جبکہ انابیہ اس کی سوچ کے برعکس اس کی بات سن کر بہت خوش ہوئی
میں نے بھی ایک دفعہ ایسا سوچا تھا لاج مگر پھر چپ کرگئی کہیں آپ کو میری بات بری نہ لگ جائے
انابیہ مزے سے بولی
تمہاری بات مجھے بری لگ سکتی ہے کیا انا ۔۔۔۔ اس لیے سوچا نہ کرو جو دل میں ہو بول دیا کرو
وہ شخص کب کب اسے مان نہیں بخشتا تھا ۔۔۔۔
