Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 49)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 49)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
دونوں گاڑیاں ہسپتال کے باہر آکر روکی تھی
وہ پانچوں جیسے ہی گاڑی سے نکلے وہاں موجود میڈیا کے لوگوں نے جمگٹھا سا بنا لیا تھا
سکیورٹی فورس فوراً ایکٹیو ہوئی
“یہ سب ۔۔۔؟”انابیہ نے حیرانگی سے دیکھا
صفا ، حیا اور جازب کے ساتھ کھڑی تھی صفا کی نظریں ماں کےچہرے پر تھیں جو بہت پروفیشنلی ان لوگوں سے ہٹنے کا کہہ رہی تھی
تبھی جازب کمال کسی ڈھال کی طرح دونوں کے سامنے آئے تھے
پھر حیا کے اشارے پر بالاج فوراً انابیہ اور صفا کے گرد ہاتھ جما کر انھیں اندر لے گیا تھا ۔۔۔۔
“یہ سب کیا ہے بھائی ؟ “
صفا نے بالاج سے پوچھا جو خود انجان تھا
ابھی وہ کچھ کہتا حیا اور جازب کے اندر آتے ہی ہاسپٹل کا سٹاف اکٹھا ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔
________
“اے۔جے خان کارڈیو ہسپتال جو گزشتہ تین مہینوں سے اپنے مریضوں کے لیے مفت خدمات سر انجام دے رہا صرف اور صرف آپ دونوں کی وجہ سے میڈم حیا اینڈ مسٹر جازب اعوان “
سینئیر ڈاکٹر محمد اقبال نے دونوں کے لیے تالیاں بجائیں تھی
“ڈاکٹر صاحب یہ ہسپتال میرے بھائی اور بھابھی کا خواب تھا جسا پورا کرنا مجھ پر فرض تھا “
حیا نے مسکرا کر کہا پھر جازب کمال کی جانب دیکھا ….
“میں جازب صاحب کی بہت شکر گزار ہوں انھوں نے ہمیشہ کی طرح میرا ساتھ دیا”
بدلے میں جازب کمال نے دھیرے سے سر خم کیا تھا
” اب زیادہ بات نا بڑھاتے ہوئے میں اس ہسپتال کی اصل مالکن کو بلانا چاہوں گی “
حیا نے مسکرا کر ایک نرس کو پلیٹ میں قینچی لاتے دیکھ کر کہا
“بیا میری جان آگے آؤ “
حیا کے اسے پکارنے پر ایک لمحے کو وہ گڑبڑا ہی گئی
پھر بے یقینی سے حیا کے چہرے پر دیکھنے لگی
“مما۔۔؟” وہ بے یقین تھی
“اپنے مما بابا کا خواب پورا نہیں کرو گی میری جان ۔۔”
“اریبہ جہانگیر خان کارڈیو ہسپتال کی اصل مالکن انابیہ جہانگیر خان ہے”
قینچی انابیہ کے ہاتھ میں تھمائی وہ گیلی آنکھوں سے حیا کو تکنے لگی
اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے بالاج نے نامحسوس انداز میں اس کے قریب ہوکر اسے حوصلہ دیا تھا
جو فرط جذبات میں حیا کے سینے سے لگ گئی
“میں بہت خوش نصیب ہوں مما” اس نے سرگوشی میں کہا
پھر اپنے ساتھ حیا اور صفا کا بھی ہاتھ تھام لیا تھا بالاج نے تینوں کے ہاتھوں کے اوپر اپنی کشادہ ہتھیلی رکھی جس سے تینوں کے ہاتھ چھپ گئے
“جازب انکل ۔۔۔۔ ” بالاج نے مسکرا کر اشارہ کیا اس کا بھی حق تھا جازب نے بہت ہلکی گرفت بالاج کے ہاتھ پر رکھی تھی ان کی پوری کوشش تھی ان کا ہاتھ بالاج کے علاؤہ کسے کے ہاتھ سے ٹچ نہ ہو ۔۔۔۔
بھر پور تالیوں کے ساتھ ان پانچوں کے ہاتھوں افتتاح ہوا تھا
تبھی حیا کا فوج بجا
ان کے چہرے کے تاثرات بدلے
“مجھے جانا ہے ۔۔۔۔”حیا نے مضطرب لہجے میں کہا
“مما سب ٹھیک ہے ؟” بالاج نے فکرمندی سے ماں کے چہرے کی طرف دیکھا
“ماں ایڈمٹ ہیں یہاں پر بالاج” حیا نے دھیرے سے شکست خوردہ لہجے میں کہا ۔۔۔
“نانو ۔۔۔!!”
مما جائیں نہ پھر انتظار کس چیز کا ہے
بالاج نے ماں کو ساتھ لگا کر کہا
“وہ پتا نہیں مجھے اپنائیں گی یاں نہیں ؟”
حیا نے سسکی بھری اتنے سال دور تھی تو برداشت کرلیا اب جب ایک چھت کے نیچے آئے تو برداشت سے باہر ہورہا تھا سب ۔۔۔
________
“اب مجھے نکلنا چاہیے ؟” جازب کمال حیا کے پاس آئے
“آپ کا بہت بہت شکریہ جازب ہمیشہ مجھے سپورٹ کرنے کے لیے ابھی بھی اگر آپ اور سر جی نہ ہوتے تو میں کبھی اتنی ہمت نہ دیکھا پاتی”
حیا نے تشکر بھرے لہجے میں کہا آج اس نے جازب کے ساتھ صاحب نہیں لگایا تھا
جازب کمال مسکرا دیئے
“آپ کو جب کبھی بھی میری ضرورت محسوس ہو حیا جی تو بس ایک دفعہ پکارئیے گا آپ ہمیشہ مجھے اپنی مدد کے لیے اپنا منتظر پائیں گی “
جازب ایک دفعہ پھر اپنے لہجے کے بہت سارے مان سونپ گیا تھا
حیا مشتعل سی کچھ کہہ بھی نہ پائی
جازب مسکرا کر وہاں سے نکل گئے انہیں لاہور ایک دو کام تھے مگر سب سے پہلے حیا کے ساتھ یہاں آنا ضروری تھا بہت سے مریضوں کی زندگی کا سوال تھا ۔۔۔۔
________
حیا حمزہ کے بتائے ہوئے ڈیپارٹمنٹ میں آئی تھی دوسری منزل کی سیڑھیاں چڑھتے ہی بائیں جانب کی راہ داری میں اضطراب کی حالت میں چکر کاٹتا وہ حمزہ ہی تھا
وہ کتنا بڑا ہوگیا تھا ۔۔۔۔
وہ کتنا خوبرو ہوگیا تھا ۔۔۔۔
اس پر فریم لیس نظر کے چشمے بہت سوٹ کر رہے تھے
مگر ایک تھکان تھی اس کی آنکھوں میں جو دور سے حیا نے دیکھ لی تھی
وہ اتی کی جان تھا وہ حیاتی کا پارا بیٹا تھا
حیا جوں جوں قدم بڑھا رہی تھی دھڑکنیں کانوں میں رقص کر رہی تھی
حمزہ نے کسی احساس کے تحت سر اٹھایا
سامنے اس کی اتی تھی جو جانے اتنے سالوں سے کہاں کھو گئی تھی
وہ جوان مرد اپنے پھوپھو کو اپنے سامنے دیکھ کر ٹوٹ گیا وہ حیا کے گلے لگ کر بلک بلک کر رویا
آنسو حیا کی آنکھوں میں بھی تھے مگر اس نے بلکنا چھوڑ دیا تھا وہ ضبط کرلیا کرتی تھی
“اتی مجھے چھوڑ کر کہاں چلی گئی تھی آپ ۔۔۔؟”
٫آپ کو ہماری یاد نہیں آتی تھی؟” وہ حیا کا چہرہ ہاتھوں میں بھرے شکوے کر رہا تھا
حیا بس مسکرا رہی تھی گیلی آنکھوں اور بھیگے گالوں سے وہ مسکرا رہی تھی حمزہ پھر اس کے گلے لگ گیا
حیا نے دھیرے دھیرے سے اسے تھپکی دی جیسے بچپن میں دیتی تھی
“اتی کی جان اتنا سارا رؤ گے تو اتی کو تکلیف ہوگی “
حیا نے اس کے آنسو صاف کیئے
“میرا شہزادہ تو واقعی شہزادہ بن گیا ہے”
“ماشاءاللہ اللہ نظرِ بد سے بچائے “حیا نے نظریں ہٹائی تھی اس کے چہرے سے
“دادو ۔۔۔دادو سے مل لیں ان کو ہوش آگیا ہوگا اتی وہ آپ کو بہت یاد کرتی ہیں “
حمزہ نے اپنے بازو سے آنکھیں پونچھتے ہوئے اپنی دادی کے دل کا حال بتایا ۔۔۔
حیا مزید نہ صبر کرتے حاجرہ بیگم کے کمرے میں آئی
دوائی کے زیر اثر وہ نیم غنودگی میں تھی ۔۔۔۔ مگر ان کے لب مسلسل ہل رہے تھے ۔۔۔۔
حیا نے ماں کا ہاتھ ہونٹوں سے لگایا
چوبیس سال سات مہینے ۔۔۔۔ وہ دھارے مار کر رونے لگی
“حیات ۔۔۔”
ماں کی نقاہت سے بھرپور آواز سنی تو وہ سیدھی ہوئی
“امی ۔۔۔”
حیا نے ماں کا ہاتھ چوما وہ دیوانہ وار ماں کے چہرے کو تک رہی تھی کبھی ہاتھوں کو چھوتی کبھی چہرے کو کبھی بازوؤں کو
تبھی دروازہ کھلا
“دادو دیکھیں میں آپ کے لیے کیا لائی بابا تو آنے نہیں دے رہے تھے مگر آپ کو پتا ہے میرا آپ کے بغیر گزارا۔۔۔۔” وہ جو کوئی بھی تھی بے دھیانی میں بغیر دیکھے بولتی آرہی تھی
سمعیہ سامنے دیکھتی ایک دم سے چپ ہوئی
“آپ کون ؟” وہ حیرانگی سے حیا کو دیکھ رہی تھی
“آپ پریہان ۔۔۔۔۔ آپی جیسی ہو بس ان کے ہونٹ کے اوپر تل ہے آپ کے نہیں “
“سمعیہ ایک دم اشتیاق سے بولی
آپ کی تو آنکھیں بھی پریہان آپی جیسی ہیں آپ کہیں فیوچر سے تو نہیں آئی پریہان آپی تو نہیں “
اس کی معصومیت پر حیا بے ساختہ ہنس دی
“آپ کا پورا نام کیا ہے “
“سمعیہ علی ۔۔۔”ایک منٹ۔۔۔!”
“آپ کو میرا پورا نام نہیں معلوم تو آپ پریہان آپی کا فیوچر نہیں ہیں کون ہیں آپ ۔۔۔؟”
سمعیہ ماتھے پر بل ڈالے بولی
جبکہ حیا تو سمعیہ کو ہی دیکھ رہی تھی اس کے علی بھائی کی بھی ایک بیٹی تھی انہیں بیٹی کا بہت شوق تھا ۔۔۔
حیا نے آگے بھر کر سمعیہ کو گلے لگا لیا
سمعیہ حیران سی خود کو گلے سے لگائے غیر شناسا سی عورت کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
تبھی دروازہ کھلا تھا
“علی بھائی ” حیا کی دھیمی سی آواز کمرے میں پھیل گئی
______
“ماما کہاں گئی ہیں بھائی ؟ “
صفا بالاج کے قریب آتے بولی
“ماما ادھر ضروری کام سے گئی ہیں آجاتی ہیں ابھی تم تب تک ہسپتال دیکھ لو بالاج شجاع کی آتی کال پر صفا سے کہتا فون کان سے لگا کر سائیڈ پر گیا
“آپی آپ جا کر دیکھ لیں مجھے لاج سے کچھ بات کرنی ہے !”
انابیہ مسکرا کر بولی
“بے شرم لڑکی کس طرح نند کو نکال رہی شوہر سے بات کرنے کے لیے “
صفا نے اس کے گال کھینچے
آپ دونوں میرے گالوں کا کچھ نہ رہنے دینا وہ غصے میں بولی
“اچھااا جی “
صفا ہنس کر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔
واقع وہ بہت خوش تھی اس کی ایبا ماما کی خواہش پوری ہوگئی
“اریبہ ماما آئی مس یو!” وہ دوسری منزل کی سیڑھیاں عبور کرتے جیسے ہی ڈیپارٹمنٹ کی طرف آئی وہاں عجیب گہما گہمی لگی ہوئی تھی ۔۔
وہ گھبرا کر مڑی جب اس کی نظر عون پر پڑی
صفا کو وہ کوئی گمان سا لگا
وہی دوسری جانب رات بھر جاگا آنکھوں میں سرخی لئیے عون کی نظر صفا پر پڑی تو وہ حیران رہ گیا
یہ سب اسے خواب سا لگا وہ یہاں کیا کر رہی تھی
“صفا آپ۔۔۔؟؟”
وہ ہنوز بے یقینی کی کیفیت میں اپنے سامنے کھڑی صفا کو
دیکھ رہا تھا
“عون ۔۔!!”
صفا اس سے بھی زیادہ حیران تھی
“میں بتا نہیں سکتا اس درد بھرے لمحے میں مجھے سب سے زیادہ آپ کی ہی ضرورت تھی صفا”
وہ خود کو یقین دلانے کو اس کے قریب آگیا
ہاں وہ ابھی بھی اسے اپنا خیال سمجھ رہا تھا
صفا عون کے ہاتھ تھامنے پر ہوش میں آئی
“ہاتھ چھوڑ دو عون “
صفا کی آواز نے اس کے خواب میں خلش سی ڈالی تھی
پلیز ابھی نہیں صفا مجھے یقین کرلیتے دیجئیے کہ ابھی میں بہت تکلی۔۔۔۔
“میرا رشتہ پکا ہوگیا ہے عون ابراہیم میں اب میں کسی اور کی امانت ہوں ” اس نے درشت لہجے میں کہا
عون ساکت نظروں سے صفا کو دیکھنے لگا
تو کبھی اس کا اپنی گرفت سے آزاد کروایا ہاتھ ۔۔
اسے لگا اس کا دل تھم جائے گا
صفا نے اپنے دل کا بوجھ اس تک پہنچا دیا تھا اتنے دنوں کے
آنسو جو تھمے ہوئے تھے وہ نکل پڑے۔۔۔
وہ کتنی ظالم تھی نہ
“بہت اچھی جگہ چن کر یہ جگر پاش خبر سنائی ہے صفا خان کہ اگر برداشت نہ کرتے دل کا دورہ پڑ گیا تو ڈاکٹر ہاتھوں ہاتھ دیکھ لیں گے”
ایک آنسو عون کی آنکھ سے پھسل کر گال تک آکر اس کی ہلکی داڑھی میں جذب ہوگیا
صفا نے بے ساختہ اپنا دل مسلہ وہ چہرہ موڑ گئی پھر رخ بھی موڑ گئی دل میں درد سا اٹھا تھا مگر وہ بغیر اسے دیکھے گیلی آنکھوں سے چلتی گئی
کہ اگر پیچھے مڑ جاتی تو پتھر کی ہوجاتی
پیچھے عون خالی خالی نظروں سے صفا کی پشت دیکھ رہا تھا وہ تو بالکل خالی ہوگیا
ایک طرف جان عزیز ماموں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے تو دوسری کا دل اس کے دل کے دھڑکنے کی وجہ ۔۔۔
اس لمحے اس جوان مرد کا دل کیا پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔
________
“ابراہیم بھائی کی طبیعت کیسی ہے ؟”
حدیقہ نے بھرائی آواز میں پوچھا
“وہ ٹھیک ہے اب حدیقہ ۔۔۔۔” ابراہیم نے کب بھینچ کر کہا حدیقہ کی بھیگی آواز ان سے برداشت نہیں ہورہی تھی
“میری بات کروا دیں ابراہیم” حدیقہ نے دھیرے سے کہا بابا ابھی سوئے تھے وہ کمرے سے باہر نکل کر بات کر رہی تھی ابراہیم سے
“ابھی۔۔۔ ابھی نہیں حدیقہ ابھی وہ بے ہوش ہے “
ب”ے ہوش ۔۔۔۔؟ بے ہوش کیوں ابراہیم ؟” وہ پھر سے رونے لگی
حدیقہ رونا بند کرو یار وہ بےبس ہوئے
٫وہ دوائی کے زیرِ اثر بے ہوش ہے” ابراہیم نے ایمرجنسی روم کے باہر جلتی سرخ لائٹ کو دیکھ کر آنکھیں مینچی ۔۔۔
“پلیز ابراہیم میرے دل کو کچھ ہورہا ہے آپ بھائی کے ہوش میں آتے ہی مجھ سے بات کروائیں پلیز۔۔۔۔”
حدیقہ نے التجائیہ لہجے میں کہا
“اچھا تم فون رکھو میں کروا دوں گا اپنا اور بابا کا دھیان رکھنا حدی ۔۔۔۔”
ابراہیم نے کال ڈسکنیکٹ کرکے فون کی نکر پیشانی کے ساتھ ٹکا لی ۔۔۔”سالے ٹھیک ہوجا اب” ابراہیم نے کرب سے کہا ۔۔۔
______
بالاج شجاع سے بات کرکے واپس آیا تو انابیہ وہی پر اس کے انتظار میں کھڑی تھی
“تم گئی نہیں صفا کے ساتھ ؟”
بالاج اس کے پاس آکر بولا
“نہیں ۔۔۔” بدلے میں اس نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا
“کیوں ؟” بالاج اب اسے ساتھ لئیے چلنے لگا تھا
“کیونکہ میرا دل کر رہا تھا اپنے لاج کا انتظار کرنے کو “
انابیہ نے مسکرا کر کہا
بالاج نے چہرا موڑ کر اس کی طرف دیکھا جو آنکھیں جھپک جھپک کر اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو اندر دھکیل رہی تھی
“تمہیں معلوم ہے انا تمہاری یہ سیاہ آنکھیں مجھ سے ہمکلام ہوتی ہیں”
بالاج نے اس لمحے اپنی چھوٹی انگلی سے ان بائیں آنکھ میں جمع نمی کو جذب کرلیا
“ماما ۔۔بابا کی یاد آرہی ہے “
بالاج سوال کر رہا تھا یاں بتا رہا تھا
انابیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا
“میری جِند” بالاج نے اس کے قریب شانے پر ہاتھ رکھا
لاج ہم ہاسپٹل میں ہیں انابیہ نے سرخ چہرے سے اس کے ہاتھ سے حصار سے نکلنا چاہا
“تو تم میری بیوی ہو “
“آپ اتنے بے شرم تو نہیں تھے” انابیہ نے آنکھیں چھوٹی کرکے کہا
“ہاں تو تب ہماری رخصتی نہیں ہوئی تھی نہ “
بالاج نے شرارت سے کہا انابیہ ابھی گھورتی جب بالاج کی نظر سامنے ریسیپشن میں کھڑے شناسا چہرے پر پڑی ۔۔
وہ انابیہ کو لئیے اس طرف بڑھا
________
“دیکھیں میں خود سے ری فنڈ نہیں کر سکتی ابھی اس پر باقاعدہ کمیٹی بیٹھے گی پھر دستخط ہوں گے “
“آپ سمجھیں بیٹا میری والدہ یہاں ایڈمٹ ہیں انہیں ڈسچارج کروانا ہے “
“اچھا اس پر آپ مس خان کے دستخط کروا لیں پھر ہی ہم کچھ کر سکیں گے ۔۔”
“مس خان کہاں ہوتی ہیں وہ ؟ “
عدنان صاحب نے اپنے ہاتھ میں پکڑے پانچ لاکھ کے بل کو دیکھ کر کہا
“وہ اسلام آباد میں ہوتی ہیں “
ری سیپشنسٹ کے جواب پر ان کے چہرے میں مکمل مایوسی چھا گئی
“مگر خوش قسمتی سے وہ آج یہاں اپنی فیملی کے ساتھ آئی ہوئی ہیں “
ری سیپشنسٹ کی اگلی بات پر ان کے چہرے میں موہم سی امید کافی تھی
“ابھی وہ کہاں ہوں گی بیٹا ؟”
“ابھی تو وہ شاید میٹینگ میں ہیں آپ چار بجے مل لیجئے گا۔۔۔”
“مگر ابھی تو بس بارہ بجے ہیں چار گھنٹے اتنی دیر ۔۔!”
عدنان صاحب نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے
“جائیں انکل اور بھی لوگ انتظار میں کھڑے ہیں”
بلآخر ری سیپشنسٹ نے بے زار ہوکر سخت لہجے میں کہا
تبھی بالاج وہاں آگیا
“کیا مسئلہ ہے؟ “
بالاج نے آئی برو اچکائی اسے ری سیپشنسٹ کا لہجہ بالکل بھی نہیں پسند آیا تھا ۔۔۔
“ن۔نہیں کچھ نہیں سر وہ دراصل انہیں ری فنڈ چاہیے میں نے بتایا بھی ہے ابھی نہیں مل سکتا مس خان کے دستخط ضروری ہیں “
“ادھر دیکھائیں انکل ۔۔۔” بالاج نے عدنان صاحب سے بل پکڑا
“بیٹا میری والدہ ایڈمٹ ہیں ۔۔۔” عدنان صاحب نے اپنا چشمہ اتارتے ہوئے کہا
“انا اس پر دستخط کردو”
بالاج نے انابیہ کی طرف بل بڑھایا
انابیہ نے سر ہلاتے جلدی سے دستخط کئیے
بالاج نے بل ری سیپشنسٹ کو تھمایا
“فوراً ان کو ری فنڈ کریں “
“ان کے علاؤہ بھی اگر کوئی آتا ہے تو آپ بجائے ان کے ساتھ سختی کرنے کے انہیں گائیڈ کریں یہ آپ کا کام ہے باقی میں ماما سے اس مسئلے کے بارے میں بات کرتی ہوں “
انابیہ نے خود اعتمادی کے ساتھ ری سیپشنسٹ کو کہا
“س۔۔سوری میم آپ پلیز مس خان سے مت کہیے گا ۔۔۔”
ری سیپشنسٹ نے سن رکھا تھا حیا خان بہت سخت قسم کی عورت ہے تبھی وہ گھبرا گئی
“شکریہ بیٹا میں آپ لوگوں کا احسان ۔۔۔۔”
“کچھ نہیں ہوتا انکل آپ بس ہمارے لیے دعا کردیجیے گا “
انابیہ نے مسکرا کر کہا تو انھوں نے انابیہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیا
انابیہ بدلے میں مسکرا دی
“میڈیم آپ تو بہت چالاک نکلی میرے ماموں کی دعائیں لے لی “عدنان صاحب کے جانے کے بعد بالاج نے اس کے کان میں سرگوشی کی
“کیا یہ ۔۔۔ یہ ماموں تھے کونسے والے ؟ اور آپ نے انھیں بتایا کیوں نہیں ؟”
انابیہ حیرانگی سے بولی
“یہ عدنان ماموں دوسرے نمبر والے اور رہی بات اپنا نہ بتانے کی تو یہ تو مما ہی انھیں بتائیں گی “
آجاؤ تمہیں ملواؤں تمہارے سسرالیوں سے بالاج اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے مطلوبہ وارڈ کی جانب لے جانے لگا ۔۔۔
