Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 55)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 55)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
ابھی ابراہیم صاحب نے اسے آبدہ شاہ کی طبیعت سے آگاہ کیا تھا عون نے انہیں تسلی کروا کر واپس جانے کا کہہ دیا تھا کیونکہ ایسی حالت میں حدیقہ کو صرف ابراہیم شاہ ہی ہینڈل کر سکتے تھے
ابراہیم کا ایسے حدید کو اس حال میں چھوڑنے کا دل تو نہیں تھا مگر پھر وہاں بھی تو حدیقہ اکیلی تھی اور جاوید شاہ کی بھی طبیعت کچھ خاص ٹھیک نہیں تھی کہ وہ بھاگ دوڑ کر سکتے ۔۔۔
ابراہیم صبح آٹھ بجے واپسی کے لیے نکلے تھے عون واپس کمرے میں آیا تو حدید کی آنکھیں بند تھیں وہ یقیناً دوائی کے زیر اثر سو رہے تھے
عون بھی کمرے میں موجود صوفے پر اڑا ترچھا ہوکر لیٹ گیا
دماغ میں بس اس لیڈی ڈاکٹر کی باتیں چل رہی تھیں رات کو کتنے لمحے ایک دوسرے کا منہ تکنے کے بعد حدید نے بولنا شروع کیا تھا عون بالکل سن سا اپنے ماموں کو
سنتا رہا
رات کو سوچتا ہوا وہ جانے کس لمحے نیند کی وادی میں اترا اس کو یاد نہیں
آنکھ اس کی تب کھلی جب اس نے عجیب سا شور سنا تھا
حدید نرس سے ڈرپ نہ لگانے کی بحث کر رہا تھا
“کیا مسئلہ ہے ماموں بچے مت بنیں سسٹر آپ لگائیں ڈرپ”
عون نے غصے سے حدید کو گھورا تھا
حدید نے بھی خاموشی سے ڈرپ لگوا لی وہ جانتا تھا عون کو غصہ رات والی باتوں کی وجہ سے تھا مگر وہ اب پرسکون تھا سب جاننے کے بعد بھی عون ابراہیم شاہ اگر اس کے پاس تھا تو وہ اسے کھونے کا خوف اب حدید شاہ کو نہیں ہونا چاہیے “
_______
حدید کو ڈرپ لگوا کر وہ کمرے سے باہر نکل آیا دوپہر کا وقت تھا تقریباً جب اس نے موبائل اون کرکے ڈائیلر پر انگلیوں میں حفظ ہندسے دبائے کال پر کلک کرتے ہی سامنے ہی صفا کا نام جگمگانے لگا “صفو” ساتھ دل کا ایموجی تھا
اسے یاد آیا ایک دفعہ صفا نے اس کے فون پر اپنا سیو نام دیکھ کر اسے کتنی سنائی تھی
“تمہیں شرم نہیں آتی اپنے سینئر سے فلرٹ کرتے اور ان کے نام کے آگے دل لگاتے”
“نہیں شرم مجھ تک آتی ہی نہیں ہے شرما جاتی ہے نہ اس لیے “
“تم سے ایسے ہی جواب کی امید تھی “
“دیکھ لیں کسی کی امید پر پورا اتروں نہ اتروں آپ کو کبھی لیٹ ڈاؤن نہیں ہونے دوں گا “
“خیر ہے عون ابراہیم!” وہ مشکوک نظروں سے اسے گھورنے لگی
“ارے یار دل تو میں اپنے بہت سے دوستوں کے نام کے آگے لگاتا ہوں اس کا مطلب یہ تو نہیں میں فلرٹی ہوں “وہ منہ بنا کر بولا
“اچھا مجھے بھی تو دیکھاؤ کتنے لوگوں کے نام کے آگے دل لگایا ہے ۔۔۔”
وہ صفا کے فون کھینچنے پر ایک دم سٹپٹایا
“میری کلاس ہے واپس آکر ضرور دیکھاوں گا یہی میرا انتظار کریئے گا صفو “
“افف اس نام سے مت بلایا کرو شدید زہر لگتا ہے مجھے یہ نام “
اس کی جھنجھلاہٹ سے بھرپور آواز جیسے اس نے ہاسپٹل کے حبض زدہ ماحول میں بھی محسوس کی
فون اٹینڈ ہوچکا تھا
کالر آئی ڈی پر ایک منٹ تیس سیکنڈ شو ہورہے تھے مطلب کال ایک منٹ اور تیس سیکنڈ پہلے ہی اٹینڈ کی جا چکی تھی
“صفا ” عون کی آواز میں درد تھا
عجیب سی تڑپ
خوف بھی
مگر کال کٹ گئی یاں کاٹ دی گئی ۔۔۔۔
_______
حیا نے وشمہ بھابھی کی طرف دیکھا یہ عورت حد سے زیادہ بڑھ رہی تھی
حیا نے مٹھی بھینجی
“پریہان پھوپھو کے لیے کیک بیک کرو نہ بچے حیا کو بہت پسند ہے کیک جاؤ میری جان ” ماں کے کہنے پر پریہان فورا وہاں سے چلی گئی
اب وہاں صرف کوثر بھابھی وشمہ اور حیات موجود تھے اماں آرام کرنے اپنے کمرے میں گئی تھیں
کوثر بھابھی نے بھی تاسف سے اپنی دیورانی کو دیکھا تھا
“بھابھی مجھے پریہان اپنی بچیوں جتنی ہی عزیز ہے اللہ اس کے نصیب بہت اچھے کرے بلکہ بالاج سے بھی اچھا شخص اس کے نصیب میں ہو مگر ایسا ممکن نہیں ہے بالاج کی شادی ہوچکی ہے”
حیات نے سنجیدگی سے وشمہ کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھا تھا
“جھوٹ تو مت بولو حیات اب میں نے خود تمہارے بیٹے کو اس غیر لڑکی سے آنکھوں آنکھوں میں اشارے کرتے دیکھا ہے “
وشمہ بھابھی ترخ کر بولیں
“پہلی بات انابیہ غیر نہیں ہے دوسرا وہ بالاج کی بیوی ہے دونوں ایک دوسرے کے نکاح میں ہیں مجھے آپ کو مزید کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے آپ یہ خیال اپنے دل سے نکال دیں بھابھی ، پریہان کو بھی کیک کے لیے منع کردیں اب مجھے کیک پسند نہیں ہیں “
حیات اٹھ کھڑی ہوئی مزید وہاں بیٹھتی تو اپنے ساتھ کی زیادتی کہیں غصے میں دہرا نہ دیں
کوثر بھابھی کے چہرے پر بلاشبہ مسکراہٹ آئی تھی وہ طنزیہ ہنستی وہاں سے اٹھ گئی
وشمہ بھی بیج و تاب کھاتی کچن میں آئی
“کیا کر رہی ہو ؟ ” پریہان کو انڈے بیٹ کرتے دیکھ کر وہ
بے دھیانی میں بولیں
“پھوپھو کے لیے کیک !” پریہان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا
“کوئی ضرورت نہیں ہے وہ نہیں کھاتی اب کیک تم جاؤ جا کر کوئی اور کام کرو “
انہوں نے لہجے کی کاٹ پر ضبط کیئے پریہان کے ہاتھ سے بیٹر لے کر سنک میں پھینکا
پریہان کندھے اُچکا کر کمرے میں چلی گئی جہاں سارے بچے بیٹھے تھے
_______
انابیہ غصے میں کمرے کی جانب آئی تھی ابھی وہ بیٹھی ہی تھی کہ سمعیہ زید بھی اسی کمرے میں آگئے پھر صفا اور اب پریہان بھی وہی پر آگئی
پریہان کو دیکھ کر انابیہ نے دانت کچکائے اس کا بس نہیں چل رہا تھا اُس حسین چڑیل کا منہ نوچ لے
“آپی آپ کی تو میرے کرش سے شادی ہو جائے گی “
سمعیہ نے پریہان کو کمرے میں آتے دیکھ پرجوشی سے کہا
پھر ایک دم چپ ہوئی
” مگر وہ تو میرے کرش ہیں “
“کرش کی بچی ابھی زمین سے تو نکل آؤ ” انابیہ مٹھیاں بھینچ کر بڑبڑائی
صفا نے مسکراہٹ دبائی شش چندہ بچی ہے وہ
صفا نے اس کی طرف جھکتے ہوئے اسے خاموش کروایا
“لیکن کوئی بات نہیں اس طرح پھوپھو ہمارے گھر آجائیں گی کتنا مزہ آئے گا نہ “
“ویسے صفا آپی آپ کا کوئی کرش ہے ؟ ” سمعیہ نے اب صفا کی طرف چہرہ موڑا
“کرش۔۔!” صفا نے چونک کر اسے دیکھا یکلخت وہ کہیں پیچھے چلی گئی
“آپ کا کوئی کرش ہے صفا؟” عون نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر زرا گلا کھنکار کر کہا
رجسٹر پر جھکی صفا نے چونک کر سر اٹھایا
“ہم۔۔۔۔ ویسے تو نہیں لیکن ہاں ایک ہے” وہ پرجوش ہوئی
“اچھا کون ؟ “
عون نے سرسری سا پوچھا
“مگر ایج گیپ بہت ہے “
صفا کا لہجہ تھوڑا دھیما ہوا
” اچھا کون ” اب کہ عون جی جان سے متوجہ ہوا تھا دل عجیب انداز میں دھڑکا تھا
“براق ڈینیز”
“ایسا کیا ہے اس میں جو اسے کرش مٹیریل کہا جائے “
عون نے منہ بنا کر بیزاری سے کہا
“اچھا تو کیا کیا خوبی ہوتی ہے کرش مٹیریل بندے کی ؟ “
صفا نے باقاعدہ عون کے تاثرات سے حظ اٹھاتے کہا
” جیسے کہ وہ ہینڈسم ہو “
“وہ ہے “صفا نے فوراً کہا
“گڈ لکنگ ہو “
“کوئی شک اوپر سے اُف اس کے گھنگرالے بال “
صفا نے بال پوائنٹ ہونٹوں پر رکھ کر آنکھیں موند کر کہا
عون نے منہ پھلا کر اپنے سلکی بالوں کو پیشانی پر پھیلایا
“اس کو دیکھتے رہنے کا جی چاہے “
“اسے سنتے رہنے کا دل کرے “
“جیسے کہ میں ، میں ہوں جیتا جاگتا کرش مٹیریل آپ کو مجھ پر کرش نہیں آیا کبھی “
اب وہ صفا کو بولنے کا موقع دیئے بغیر ایک سانس میں بولا
“نہ ۔۔” صفا کی صاف گوئی پر عون نے اپنی سنہری آنکھیں گھمائی
“کیونکہ میرے حساب سے کرش کی ڈیفینیشن یعنی ایسا شخص جو پہنچ سے دور کی بات ہو “
صفا نے اپنی منطق بتائی
“تو کیا میں آپ کی پہنچ میں ہوں ؟”
عون کا لہجہ یک دم بھاری سا ہوا
“بچو دو ہاتھ کی دوری پر ہو اور میرے سمجھائے ٹاپک پر دھیان بھی نہیں دے رہے یہ ہی رجسٹر تمہارے سر پر مارنے تک کا حق رکھتی ہوں اور تم پوچھ رہے ہو پہنچ میں ہوں کہ نہیں”
صفا نے رجسٹر ہؤا میں لہرایا
“حق “
“صفا آپی “وہ جیسے ہوش میں آئی
“ویسے کتنا مزہ آئے پری آپی کی بالاج بھائی کے ساتھ اور آپ کی حمزہ بھائی سے شادی ہو جائے “
“چپ کرو سمی بہت فضول بولتی ہو تم “
پریہان نے سمعیہ کو ڈانٹا
تو وہ منہ پھلا کر بیٹھ گئی
انابیہ صفا پر شکوہ کناں نظر ڈال کر اٹھ گئی تھی
_______
“ماما ” بالاج گراج میں کھڑی حیا کے قریب آیا
“جی میرے بچے “وہ فون بند کرتی بالاج کی طرف متوجہ ہوئی
“آپ نے اندر مامی کی غلط فہمی نہیں دور کی ، انا بہت اپ سیٹ ہوگئی تھی “
بالاج کو انابیہ کا شکوہ کناں انداز یاد آیا
“میری جان کا ٹکڑا ہے بیا تمہیں لگتا ہے میں اس کا حق کسی کو لینے دوں گی میں نے بچوں کے سامنے بھابھی کے منہ پر اس لیے نہیں ٹوکا وہاں پری بھی تھی، اس عمر میں لڑکیاں بہت سینسٹیو ہوجاتی ہیں صاف انکار کو ریجیکشن سمجھ لیتی ہیں اس لیے اس کے سامنے مجھے مناسب نہیں لگا “
“باقی دوسری اور بڑی وجہ میں چاہ رہی تھی انابیہ کو وہاں سے ہٹا کر بات کروں ، بھابھی کی نیچر سے اچھے سے واقف ہوں میں انہوں نے انابیہ اور تمہارے رشتے کو جہانگیر بھائی اور اریبہ بھابھی کے کیے احسانوں کے بدلے میں گردان لینا تھا بے شک ایسا کچھ نہیں ہے مگر بیا کو بھی تم جانتے ہو کتنی حساس ہے میں نہیں چاہتی کبھی بھی وہ اس رشتے کے بارے میں ایسا کچھ سوچے یاں ایسی کوئی سوچ اس کے دماغ میں آئے”
اپنی ماں کی اعلیٰ ظرفی پر بالاج کو بے ساختہ پیار ہے
مگر وہ جانتی نہیں تھی بالاج حیا کے رشتے داروں کی ساری حقیقت پہلے ہی انابیہ کو بتا چکا ہے
مگر پھر بھی اسے اپنی ماں کے فیصلے پر فخر ہوا
“آئی ایم پراؤڈ آف یو پراسیکیوٹر صاحبہ” وہ عقیدت سے حیا کی پیشانی چوم کر انہیں خود سے لگا گیا
“می ٹو میرا بچہ “
“آپ کہیں جا رہی ہیں ؟ میں لے چلوں ” وہ متفکر ہوا
“ارے نہیں میری جان اس وقت تم اپنی انا کے پاس جاؤ اس سے پہلے اس کا آتش فشاں پھٹے اور فکر مت کرنا گھر والوں کے کان میں چلی گئی ہے یہ خبر کہ وہ بیوی ہے تمہاری “
حیا ہنستے ہوئے بولی
“ہاں یاد آیا شجاع سے بات ہوئی تمہاری بالاج، اسلام آباد جا کر میں چاہتی ہوں باقاعدہ رسم کرلیں بچوں کی تم کیا کہتے ہو ؟”
حیا نے واپس مڑتے بالاج سے کہا ساتھ اس کی رائے بھی مانگ لی
“جو آپ کا حکم ویسے کل بات ہوئی تھی میری اس کی پھوپھو کا انتقال ہوگیا ہے “
“اوو اللہ پاک مغفرت فرمائے میں خاور بھائی اور بھابھی سے افسوس کرلوں گی ابھی میں چلتی ہوں دیر ہوجائے گی “
“اپنی لوکیشن بھیج دیجیے گا مما “
وہ۔ متفکر لہجے میں بولا
“اوکے والد صاحب اور کوئی حکم “حیا ہنس کر سر ہلاتی وہاں سے نکل گئی
پیچھے بالاج انابیہ کے خفا تاثرات کو سوچ کر ہی مسکرا دیا
_______
“چندہ میری جان رو تو نہیں بھائی نے دیکھ لیا تو ڈانٹ پڑے گی “
” ادھر میرا شوہر دوسری منگنی کی تیاریوں میں مشغول ہے اور میں رو بھی نہیں سکتی “
“چندہ سوری میں بہت بری ہوں نہ !….مگر میں مجبور تھی “
ہوسکتا ہے مما نے کچھ سوچ کر نہیں بتایا سب کو
اسےاوندھے منہ لیٹے دیکھ اس کے شانے پر ہاتھ رکھا مگر انابیہ کندہ جھٹک کر اپنا چہرہ اور چھپا کر گھٹی گھٹی سسکی لینے لگی ۔۔۔
جب دروازہ ناک ہونے کے بعد دروازہ کھلا تھا مما سمجھ کر انابیہ یوں ہی لیٹی رہی
جب اندر آنے والے نے بہن کو اشارے سے باہر جانے کو کہا اور خود دروازہ بند کردیا
خاموشی سے بیڈ کی جانب بڑھ کر گیا
مخصوص کلون کی خوشبو اپنے بے حد قریب محسوس کرکے انابیہ ساکت ہوئی
ابھی وہ کچھ محسوس کرپاتی یاں بول پاتی کہ کسی نے بازو سے تھام کر قریب کیا
“انا۔ااا۔۔۔!!!”
ایک پکار پر اس کی سسکیاں ہچکیوں میں بدل گئی
انا
انابیہ نے مزاحمت شروع کی مگر مقابل نے بھی گرفت مضبوط کردی
اس بار واقع ” انا ” کا بری طرح دل ٹوٹا تھا
“رونا بند کرو” !!۔۔۔
بالاج نے دھیرے سے سرگوشی کی تھی مگر اس سرگوشی میں بھی بلا کی سردی تھی ۔۔۔
“کیا ۔۔۔ میرے پاس اتنا بھی حق نہیں ہے کہ میرے مرنے سے پہلے ہی میرا شوہر اپنی دوسری منگنی کی تیاریوں میں مشغول ہے اور میں کھل رو بھی نہیں سکتی “
لہجے میں چبن تھی سانس گھٹا گھٹا سا تھا مگر آواز دھیمی
“رونا جس دن تمہارا شوہر مر جائے گا “
انابیہ تڑپی
“اور آپ بھی اسی دن منگنی کرنا جس دن آپ کی بیوی مر جائے گی “
ایک دم ہی آنکھوں میں جنونی رمک آئی تھی کہ ہر لحاظ بلائے تاک رکھے کالر تک ہاتھ لے گئی
“My innocent cat I like your wild look”
بالاج گہری سرد نظر اس کے ہاتھوں پر ڈال کر اسے لرزنے پر مجبور کرگیا ….
وہ فوراً سے پہلے اس کا کالر چھوڑ گئی آج اتنے عرصے بعد پہلے والے سرد بالاج کی جھلک نظر آئی لہجے میں بالکل ویسی ہی سردی تھی جب اس کے دو سال بعد پاکستان آنے کے اوائل دونوں میں تھی
“آنسو صاف کرو انابیہ “
مگر وہ سن کہاں رہی تھی
“آپ مذاق کر رہے تھے سب جھوٹ ہے نہ آپ نہیں کریں گے دوسری شادی !!”
“نہیں کریں گے نہ۔۔۔ بالاج ؟”
گیلی آنکھیں اور ہونٹوں میں مسکراہٹ سجائے وہ اس کی
جانب دیکھ کر بولی جیسے پورا یقین ہو
سیاہ مقناطیسی آنکھوں میں چمکتی نمی دیکھ کر بالاج کا دل تڑپا
”اس لمحے بالاج کا دل کیا ہر چیز کو بھاڑ میں جھونک کر اپنی
دیوانی کو دل میں چھپالے۔۔“
اور وہ حق بھی رکھتا تھا
“تمہارا ہونے کے بعد کسی قابل رہا ہی نہیں بالاج خان “
بالاج نے انگوٹھے سے اس کے آنسوؤں کو اپنے پوروں میں جذب کیا
تو انابیہ کو جیسے سانس آیا
“مجھ میں ،میں کہاں رہ گیا ہوں انا مجھ میں تو تم قابض ہوگئی ہو پوری طرح “
بالاج نے اپنے مرہم لفظوں سے اس کے دل سے تمام وہموں کو ختم کیا
“پھر ۔۔۔۔ ” ابھی وہ بولتی بالاج نے آنسو چنتے انگوٹھے کو ہونٹ پر رکھ دیا
“کیا میرا کہہ دینا کافی نہیں ؟”
“ہاں کافی ہے۔۔۔۔” وہ زور و شور سے سر ہلانے لگی
“آپ تو صرف میرے ہیں نہ؟۔۔۔ آپ صرف میرے ہیں “
وہ خود ہی سوال کرتی اور اگلے لمحے خود ہی جواب دیتے بولی
بالاج مسکرا دیا اس نے خود سے اس لمحے وعدہ کیا تھا وہ کبھی مزاق میں بھی انابیہ کو یہ دکھ نہیں دے گا اس کی ویران آنکھیں بالاج کا دل دہلا دینے کے لیے کافی تھیں
“آئی ایم سوری میری جان آئندہ یہ بات کوئی مزاق میں بھی نہیں کرے گا “
“بالاج صرف انابیہ کا ہی ہے “
_______
فون تیسری دفعہ رنگ ہوا تھا
جازب جلدی سے واشروم سے باہر آئے اپنے گلے بالوں میں ہاتھ پھیر کر فون اٹھایا
ان نون نمبر تھا
“بڑی دیر کردی اعوان صاحب سنا ہے اپنی محبوبہ کو دوسرے شہر چھوڑ کر آئے ہیں “
خرم داد جازب کے وجود میں کرنٹ کی لہر سی دور گئی وہ ایک دم سے الرٹ ہوئے
کالی چمکتی گاڑی سے بہتا خون صاف نظر نہیں آئے گا
سفید اوڈی ہوتی تو مزہ بھی آتا خون کا قطرہ قطرہ نظر آتا
