212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 11)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

حیا کی کال پر گہری سانس بھر کر کال پک کر گئے ۔۔۔۔

اسلام علیکم حیا جی ۔۔۔۔!!

وعلیکم السلام جازب صاحب سر جی کی طبیعت کیسی ہے اب اگر کوئی زیادہ پرابلم ہے تو آپ ان کے پاس ہی رکیں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں

ان کے پاس رکا تو وہ ضرور مسئلہ کھڑا کر دیں گے جازب صاحب نے دل ہی دل میں سوچا

نہیں حیا جی وہ ٹھیک ہیں بلکہ ان کے دوست بھی اِدھر ہی آرہے ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں

چلیں بہتر میں بھی اب گھر ہی جا رہی ہوں آپ ادھر سے ہی جوئن کرلیجئے گا ہمیں میں نے صفا کو پِک کرنا ہے

_______

آپی ماشاءاللہ آپ بیت پیاری لگ رہی ہیں

نیوی بلو کلر کی لانگ فراک جس کے دائیں شانے پر تھوڑا سا موتی کا کام ہوا ہوا تھا باقی وہ پلین تھی جبکہ ڈوبٹہ فلحال سائیڈ شانے پر رکھا تھا بھورے سٹریٹ بال کمر سے نیچے تک کسی آبشار کی طرح پھیلے ہوئے تھے چہرے پر بہت ہی ہلکا پھلکا سا میک اپ شگر فی لبوں پر لائٹ پنک گلوز کی چمک نے انھیں اور پنک کردیا وہ بہت ہلکا سا تیار ہوئی تھی مگر یہ تیاری بھی اس پر بہت جچ رہی تھی

صفا نے اپنا ڈوبٹہ کھول کر سر پر سیٹ کیا

مما بھی آرہی ہیں اپنا بہت خیال رکھنا چندہ انابیہ کے گال پر لب رکھ کر وہ اپنی شال پکڑ کر باہر کی طرف بڑھی اسے نیچے سے گاڑی کے ہورن کی آواز آرہی تھی

صفا کے جانے کے بعد انابیہ نے گہری سانس بھر کر کمرے میں پھیلے ہوئے سامان کو سمیٹنا شروع کیا

اسے فنکشن سے کوئی غرض نہیں تھی اور یہ بھی جانتی تھی اسے نا لے جانے کے پیچھے یقیناً بہت بڑی وجہ ہوگی مگر اِس دل کا کیا کرے جو بالاج کے نا بتانے پر تڑپ رہا تھا وہ کیوں اس سے باتیں چھپاتا ہے وہ کیوں ہمیشہ عین وقت میں اس کا امتحان لیتا ہے

کل وہ جس طرح اس کے ساتھ ٹائم سپینڈ کر رہا تھا اور آج وہ پھر اس سے بیگانہ ہوگیا

کبھی کبھی تو انابیہ کو لگتا تھا وہ پاگل ہو جائے گی بالاج کے دھوپ چھاؤں سے انداز پر

________

ابراہیم کیا کر رہے ہیں مجھے تنگ مت کریں عون کے لیے کھانا بنانا ہے مجھے لنچ بھی نہیں کیا آج میرے بچے نے

حدیقہ شاہ ابراہیم صاحب کے تنگ کرنے پر جھنجھلائی

ارے یار میں کیا کر رہا ہوں اپنی بیوی کی مدد ہی تو کر رہا ہوں کھانا پکانے میں ابراہیم شاہ مصروف انداز میں بولے

مدد کر رہے ہیں یاں کام بڑھا رہے ہیں

ٹماٹر کو ٹیڑھا میڑھا چوپ کرتے دیکھ تاسف سے کہا

اچھا جی میڈم شادی میں شروع شروع تو بڑا آپ کو شکوہ ہوتا تھا ہم آپ کی مدد نہیں کرتے ان کے کندھے سے کندھا ٹکرا کر شریر لہجے میں کہا

ہاں تو تب کرنی تھی نہ

اچھا یار اب طعنے دو گی اب کر رہا ہوں نہ اپنی پیاری سی بیگم کی مدد تم بس بیٹھو

وہ حدیقہ شاہ کو کندھوں سے تھام کر کیچن کے باہر موجود ٹیبل کے ساتھ اٹیچ شئیر پر بٹھاتے محبت سے بولے

عون اپنے کمرے میں ہے ؟؟؟

حدید شاہ چھاپے والی پولیس کی طرح وہاں حاظر ہوکر سنجیدگی سے بولے

ابراہیم اور حدیقہ شاہ ہونقوں کی طرح سر ہلا گئے

حدید شاہ سر ہلا کر عون کے کمرے کی طرف بڑھے

پیچھے وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے

_______

اٹھ جا چیتے

یہ کوئی سونے کا وقت نہیں ہے اٹھو اور جلدی سے تیار ہو جاؤ حدید شاہ نے عون کو بستر میں دبکے دیکھ کر

مجھے کہی نہیں جانا مامو عون نے بے زاری سے اپنا منہ کمبل میں چھپایا

عون تم ابھی اٹھ رہے ہو اور تیار ہوکر میرے ساتھ چل رہے ہو

جانا کہاں ہے؟؟

میں نے تمہیں پہلے ہی بتایا تھا عون ابراہیم اب مجھے غصہ مت دلاو

نہیں مامو مجھے کسی بزنس سرمنی میں جانے میں کوئی انٹرسٹ نہیں

جائے گا تو تمہارا باپ بھی پانچ منٹ ہے تمہارے پاس اس سے ایک منٹ بھی اوپر نہیں

تو یار پھر میرے باپ کو ہی لے جائیں اوکے گڈ نائٹ ۔۔۔۔

عون ۔۔۔۔سرد آواز پر عون نے سر پٹخا وہ واقع اس کا باپ نہیں تھا جسے وہ گولی کرواتا

یہ نانو نے آخر کیا کھا کر پیدا کیا ہے آپ کو

وہی جو میری بہن تمہاری باری میں کھانا بھول گئی تھی

اففف عون کا دل کیا اپنا سر دیوار پر دے مارے

یو آر ایمپوسیبل مامو

you are impossible Mamu

same to you bhanje

_______

تمہارا بھائی انتہائی بے شرم ہے ہمیشہ غلط ٹائم میں اینٹری مارتا ہے سن لو بیگم یہ جو آج عون کی کوئی بہن نہیں ہے نا یہ صرف اور صرف تمہارے بھائی کی وجہ سے اگر عون سے پہلے تم اس سے ناراضگی نہ ختم کرتی جلدی تو آج ہماری ایک بیٹی بھی ہوتی

ابراہیم شاہ غم و غصے سے رہے بیٹھے تھے

شرم تو نہیں آتی ابراہیم اپ کو ایسی بات کرتے ہوئے اپنی عمر کا ہی لحاظ کر لیں بڑے بھائی ہیں وہ میرے

ابراہیم کی پہلی بات پر سٹپٹانے کے ساتھ دوسری بات پر تاسف سے انہیں دیکھا

چھوٹا ہے وہ مجھ سے کبھی اس نے میری عمر کا لحاظ کیا

ایک اور غصہ ۔۔۔۔

ایک تو سنبھالو پہلے بہنوئی صاحب پھر شکوے کرلینا

حدید شاہ تپانے والی مسکراہٹ کے ساتھ وہاں سے گزرے پیچھے عون بھی اپنی ماں کو فلائنگ کس دیتا حدید شاہ کے پیچھے ہولیا۔۔۔۔

اففف خدایا آپ تینوں کے بھیچ میں ، میں پاگل ہوجاؤ گی حدیقہ شاہ سر پیٹ گئی

اللّٰہ بابا جلدی واپس آئیں عمرہ سے وہ ہی سیدھا کریں گے سب کو لائن میں کھڑا کرکے

اوو بابا۔۔۔۔۔ ابراہیم صاحب کچھ یاد آنے پر اپنا فون اٹھا کر وہاں سے نکلے

________

خان ہاؤس کے باہر آکر جازب صاحب نے اپنی ٹائی ایک دفعہ پھر سے درست کی بیک مرر سے اپنے بالوں پر نظر ڈالی پھر گاڑی سے نکلے ابھی وہ فون نکالتے انہیں صفا اور حیا ایک ساتھ گیٹ سے باہر نکلتی نظر آئیں

لائٹ بلو رنگ کی نفیس سی شلوار قمیض کے ساتھ ڈارک وائلٹ رنگ کی شال اپنے متناسب وجود کے گرد سیٹ کئیے وہ جازب کمال کو ایک جگہ ساکت ہی کر گئی تھی گلے میں عجیب سے کانٹے اگنے لگے

اسلام علیکم انکل صفا کی آواز پر خفت زدہ ہو کر خود کو دل میں ملامت کرتے نظریں پھیر گئے

صد شکر حیا اور صفا نے یہ بات نوٹ نہیں کی تھی

چلیں بالاج کی کال آرہی ہے ۔۔۔

صفا حیا اور جازب کمال مخصوص نشست پر براجمان ہوئے

بالاج کے بالکل ساتھ بیٹھے شجاع کی نگاہیں ایک پل کو صفا کی جانب اٹھی اور پھر پلٹنا ہی بھول گئی

وہ سادے سے حلیے میں سر جھاڑ منہ پھاڑ رہنے والی لڑکی زرا سی تیاری پر دل دھڑکانے سے دل تھمانے کا ہنر جانتی تھی

ان سے کچھ پیچھے بائیں جانب عون اور حدید شاہ بھی موجود تھے عون کا رخ بالکل صفا کی جانب تھا

________

یار آپ کو کوئی اوارڈ شوارڈ ملنا ہے کیا لہجے میں بے زاری تھی

نہیں یہ ینگسٹر بزنس مین اف دا ایر کا اوارڈ ہے

اگر تم میری سن کے یہ وکالت کی ڈگری کے پیچھے خوار نہ ہورہے ہوتے تو یہ اوارڈ تمہیں ملنا تھا

مامو میری وکالت کو کچھ مت کہیے گا آپ کی بہو بھی مجھے وہیں سے ہی ملی ہے عون برا منا گیا

اپنے باپ کے بعد لگتا ہے یہ زن مریدی کے ریکارڈ تم نے ہی توڑنے ہیں بھانجے

ہائے مامو ایک دفعہ وہ مل تو جائیں پھر دیکھیے گا اپنے بھانجے کو کون کون سے ریکارڈ توڑتا ہے

فخر سے اپنا کالر اُٹھاتے ہوئے بولا

شک تو مجھے ہرگز بھی نہیں تمہارے اِس سنکی دماغ پر

بس کبھی غرور نہیں کیا

______

تبھی آڈیٹوریم تالیوں کی گونج سے تھر تھرا اٹھا۔۔۔۔۔

اپنے نام کے اناؤنس ہونے پر بالاج خان اپنی مغرورانہ چال چلتا ہوا مخصوص انداز میں پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ فخر سے گردن اکڑائے سٹیج کی طرف بڑھا جہاں اب سکرین پر اسکی کامیابیوں کی شارٹ فلم چل رہی تھی۔۔۔۔۔

صفا مارے خوشی کے تالیاں بجانے لگی

Honoured to have you here. Mr Khan

Would you like to say something

I don’t wanna say much but yess well deserved award

And if I am here today, it is only because of my mother, my family my love

بالاج خان کے لہجے میں اپنی کی فیملی کے لیے محبت بول رہی تھی حدید شاہ جو سنجیدہ نظروں سے سٹیج کی جانب دیکھ رہے تھے وہ متجسس سے بالاج کی نظروں کے تعاقب اپنی نظریں موڑ گئے

ٹھیک اسی وقت صفا حیا کے آگے کی طرف کھڑی ہوئی جازب کمال بھی مسکرا کر بالاج کی جانب ہی دیکھ رہے تھے

عون اور حدید شاہ کی نظر صفا پر پڑی

صفا ۔۔۔۔

حیات۔۔۔۔

بیک وقت دونوں کے منہ سے نکلا تھا

حدید شاہ نے بُری طرح چونک کر عون کو دیکھا تھا مگر عون کا دھیان تو سارا صفا ہی کھینچ چکی تھی

حدید شاہ کا تجسس اب عجیب سے احساس میں ڈھلنے لگا

یک دم ہوا میں آکسیجن کی کمی محسوس ہونے لگی انہوں نے اپنی ٹائی ڈھیلی کرکے گہری سانس لی

مامو میں ابھی آیا ضروری کام کال کرنی ہے

صفا کو وہاں سے ہلتے دیکھ عون نے فوراً فون اپنی پینٹ کی پاکٹ سے نکال کر حدید سے ایکسکیوز کرتا وہاں سے ہٹا

جبکہ حدید شاہ اپنی لاکھ کوششوں کے باوجود اپنے سے دو رو آگے بیٹھے کپل کی شکل نہیں دیکھ پا رہے تھے ۔۔۔۔

______

بہت بہت مبارک ہو حیا صاحبہ بالاج کو اس کی کامیابی اور آپ کو آپ کی قربانیوں کا سِلہ مل ہی گیا

جازب اعوان نے صدق دل سے مبارک باد دی

بہت بہت شکریہ جازب صاحب حیا کے چہرے کی خوشی جیسے برسوں پرانی کھوئی ہوئی شادابی کو واپس لے آئی تھی

جازب کمال نے نظروں کا زاویہ واپس سٹیج کی جانب کر دیا

_______

نو بجے تک انابیہ اپنا سارا یونیورسٹی کا کام مکمل کر چکی تھی

مسکان ( ملازمہ ) دو دفعہ اس سے کھانے کا پوچھ چکی تھی

مگر اس کا دل ہی نہیں کر رہا تھا کھانا کھانے کو اِس لیے تیاری بار بھی انابیہ نے منع کردیا

ابھی وہ چال لے کر لان میں ٹہل رہی تھی ہوا میں سردی کے باعث خنکی پھیلی ہوئی تھی جو ہڈیوں میں گھس کر ہڈیوں کو منجمد کرنے کی طاقت رکھتی تھی مگر انابیہ تو سدا کی سردیوں کی شوقین لڑکی

اگر گھر میں صفا اور حیا ہوتے یاں شاید بالاج بھی تو وہ کبھی یوں اتنی سردی میں اس وقت چہل قدمی نہ کر رہی ہوتی

بی بی جی اندر آجائیں بہت ٹھنڈ ہے مسکان نے سردی سے کانپتے ہوئے کہا

اچھا تھوڑی سی وآلہ کروں پھر آتی ہوں

بی بی جی آپ نے صبح کا ناشتہ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ مسکان نے پھر سے فکرمندی سے کہا

ہاں ۔۔۔۔ابھی بھوک نہیں ہے مسکان جب دل کرے میں کھا لوں گی

جی ٹھیک ہے بی بی جی مسکان کچھ پریشان سی سر ہلا کر وہاں سے جانے لگی

مگر انابیہ نے اسے روک لیا

مسکان کوئی مسئلہ ہے ؟؟؟ تم مجھے پریشان لگ رہی ہو انابیہ نے استفسار کیا

وہ ۔۔بی بی جی میرا بچہ اسے سردی لگ گئی ہے اور اب بخار بھی ہے میں چاہ رہی تھی اس کے پاس سے ہو آؤں

مسکان بھرائی آواز میں اپنا مسئلہ بتانے لگی

ہاں تو جاؤ نہ مسکان پھر ادھر کیا کر رہی ہوں جاو جا کر دیکھو اگر زیادہ بخار ہے تو اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ مین ڈرائیور سے کہ دیتی ہوں بلکہ گاڑی تو ہے نہیں میں کیب کروا دیتی ہوں

نہیں بی بی جی میں اسے دوائی دوں گی اور پٹیاں کروں گی تو وہ ہوجائے گا ٹھیک

اچھا تم ٹھہرو ذرا ادھر انابیہ گھر کے اندر بڑھی

پیچھے مسکان پریشانی سے کھڑی ہاتھ مسلنے لگی

یہ لو پیسے اور تم جاؤ اپنے بچے کا دھیان رکھو میں ٹھیک ہوں کچھ چائیے ہوا تو کال کرلوں گی تمہیں

انابیہ نے کچھ نوٹ مسکان کی جانب بڑھائے جس کی آنکھیں بھیگ گئیں

شکریہ بی بی جی اللّٰہ آپ کو سدا خوش اور آباد رکھے آمین

ملازمہ اسے دعائیں دیتی وہاں سے چلی گئی انابیہ بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی

________

صفا اپنے کپڑوں پر چھلکنے والے جوس پر شدید جھنجھلائی انہیں صاف کرنے کی غرض سے سائیڈ ائیریا کی طرف ہی جارہی تھی جب یک دم اپنی کلائی کو جکڑنے والی گرفت کے بعد اپنے وجود کو ملنے والے جھٹکے سے اس کا جسم جھنجھنا اٹھا تھا

صفا کو سائیڈ ایریا میں جاتے دیکھ عون اس کے پیچھے ہی پولیا تھا ارد گرد کم رش محسوس کئیے

عون نے اسے بازو سے تھام کر دیوار کے ساتھ لگایا اندازا قدرے جارحانہ تھا کہ صفا کہ پیچھے باندھے ٹسلز اس کی قمر پر لگے عون۔۔؟؟ وہ درد سے بلبلائی ۔۔ آپ یہاں پر کیا کر ہی ہیں کیا کام ہے آپ کا یہاں اور یہ ڈریسنگ۔۔ تند نظروں سے اس کے چہرے کے نقوش کو واضح کرتے میک اپ کو دیکھا اسے صاف کریں عون غیر متوقع بات پر صفا شاکی نظروں سے اسے دیکھنے لگی

کس کے ساتھ آپ یہاں موجود ہیں صفا خان ؟؟؟عون سلگتے لہجے میں اس کے کان کے پاس پھنکارا

شجاع کی صفا پر شوخ نظریں ہنوز اس کے دماغ میں ہتھوڑے برسا رہے تھے

صفا سانس روکے عون کی آگ برساتی آنکھوں میں دیکھنے لگی

چھوڑو مجھے عون کوئی دیکھ لے گا بد تمیز انسان اپنی کلائی زبردستی اس کی گرفت سے آزاد کرواتی صفا دبا دبا چلائی

کھینچا تانی میں وہ اپنے ہاتھ کی مٹھی اس کی شرٹ کے پس پردہ سینے پر موجود تازہ زخم پر مار چکی تھی

سفید شرٹ پر سے خون کے دھبے دھیرے دھیرے واضح ہونے لگے ۔۔۔۔

خ۔۔خون خوف سے صفا کی آنکھیں بڑی ہوئی ۔۔۔

عون نے ایک نظر اپنے سینے سے بہتے خون کے سبب سرخ ہوتی شرٹ کو دیکھ پھر ہاتھ ڈال کر کورٹ میں سے رومال نکالا

اسے صاف کرلیں صفا خان ایک نظر پنک رنگ سے مزین لبوں پر ڈالی

وہ چاہ کر بھی خود یہ جسارت نہیں کرسکتا تھا کیونکہ وہ کوئی حق نہیں رکھتا تھا مگر اپنے جنون اُس پر اُس کا کوئی بس نہیں تھا

تمہارے۔۔۔۔ خون۔۔۔۔۔ نکل رہا ہے ۔۔۔ عون گھٹی گھٹی آواز میں وہ بولی

یہ زخم اور بھی گہرا ہو سکتا ہے صفا اگر آپ نے منٹ سے پہلے اپنے چہرے پر لگی یہ فضول چیز صاف نہیں کی

عون نے اس کی خوفزدہ آواز کو ان سنا کیئے اپنی بات مکمل کی

صفا۔۔۔۔

______

مسکان کو واپس بھیجنے کے بعد انابیہ ٹی وی لاونج میں آئی جانے اس کے دل میں کیا سمائی تھی اس کے قدم بے ساختہ بالاج کے کمرے کی جانب بڑھے

کمرے کا دروازہ بند تھا اور شاید لاک بھی وہ واپس مڑنے لگی تھی مگر پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا

ایک ہی پش پر دروازہ کھلتا چلا گیا

کمرے میں داخل ہوتے ہی خوشبو سے مزین تیز ہوا کے جھونکے نے اُس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لیا

اس نے ہاتھ بڑھا کر لائس اون کی

وہ کچھ قدم لیتی بالکل۔کمرے کے وسط میں آئی کمرے کی ہر ایک شے سے اس کے مالک کی خوشبو محسوس ہو رہی تھی وہ شخص دو سال اس کمرے سے دور رہا ہے اس کی غیر موجودگی میں حیا نے اسے بہت دفعہ اپنی نگرانی میں صفائی وغیرہ کروانے کا کہا تھا تب بھی اس کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی دھڑکنیں سست پڑ جاتی تھی مگر جو احساس آج ہوا وہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا محض ایک ہی ہفتے میں دوبارہ کمرہ میں اس ظالم شخص کی خوشبو رچ بس گئی تھی ۔۔۔۔

بیڈ کے پیچھے والی دیوار پر پورٹریٹ سائز کی بالاج کی بڑی سی تصویر موجود تھی تصویر میں بھی کھڑوس شخص نے مسکرانے کی زحمت نہیں کی بس دائیں جانب گال پر پڑتا گڑھا نظر آرہا تھا

انابیہ نے گہری سانس لی وہ کسی چیز کو چھیڑے بغیر واپس مڑنے لگی کہ ہر طرف اندھیرا چھا گیا

انابیہ کا رنگ اڑا اندھیرے سے تو ویسے ہی اسے بہت خوف آتا تھا

….اوپر سے گھر میں کوئی بھی نہیں یہ سوچ کر پیروں سے جان نکلنے لگی