Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 30)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 30)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
” بابا بالاج کی کال آئی تھی “
شجاع نے لاونج میں موجود بانس کی کرسی پر بیٹھے خاور صاحب کو اپنی جانب متوجہ کیا
خاور صاحب نے چہرہ اٹھا کر شجاع کو دیکھا
“وہ افسوس کر رہا تھا “
وہ مزید بولا
“جو اللہ کو منظور “
خاور صاحب نے آنکھیں موند کر کہا
“بابا آج ہم اسلام آباد کے لیے نکل رہے ہیں “
شجاع نے تھوڑا جھجھک کر کہا
“ہمم۔۔۔” خاور صاحب نے سر ہلایا
شجاع تھوڑا حیران بھی ہوا وہ جھجھک بھی اسی لیے رہا تھا کہ کہیں خاور صاحب منع نہ کردیں
“آپ کو کوئی مسئلہ نہیں بابا ؟؟”
“نہیں یہاں پر رہ کر کیا کریں گے جس سے منسوب تھی یہ جگہ وہ تو رہی نہیں اس دنیا میں تو یہاں رہنے کا جواز کیا ہے “
شجاع نے اسبات میں سر ہلا دیا
________
‘جی ناظرین خرم داد کیس کی کاروائی ہو چکی ہے سپریم کورٹ سے بھی فیصلہ آچکا ہے “
دادی کو روم میں شفٹ کردیا گیا تھا ان کے چہرے پر نبلائزر ہنوز موجود تھا ٹرانسپیرنٹ تھیلے میں موجود مہلول قطرہ قطرہ ڈرپ کی مدد سے ان کے رگوں میں اتر رہا تھا جب حمزہ جو دادو کو دیکھنے آیا تھا دادو کے جھریوں زدہ ہاتھ پر ہاتھ پھیرتا آنکھوں میں جمع ہوتی نمی صاف کرگیا
آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں دادو
تبھی موبائل پر ہوتی بیپ پر وہ کرسی چھوڑتا فون کان سے لگائے کمرے سے باہر نکلا
“ہیلو بابا دادو کو روم میں شفٹ کردیا گ۔۔۔”
بولتے بولتے حمزہ کی نظر ویٹنگ ایریا میں سامنے موجود بڑی سی ایل سی ڈی پر گئی جہاں خرم داد کیس کے حوالے سے بڑی بڑی ہیڈ لائینز چل رہی تھی اور ساتھ ہی حیا اور جازب کے انٹرویو کی جھلکیاں بھی دیکھائی جا رہی تھی
حمزہ نے متحیر ہوکر اس پروقار اور خوبصورت نظر آتی عورت کو دیکھا
“پھوپھو !!”
فقط ایک لفظ اس کے منہ سے نکلا
علی صاحب جو حمزہ کے بولتے بولتے خاموش ہونے پر پریشان ہوئے تھے اس کے اگلے غیر متوقع لفظ پر گنگ ہوگئے
________
“فائزہ بچے اپنا ضروری سامان پکڑ لوں آپ ہمارے ساتھ جا رہی ہو
اسلام آباد”
خاور صاحب نے کمرے میں آتے فائزہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا
“نہیں ماموں میں ادھر سے کہیں نہیں جاؤں گی یہاں سے ماں کی خوشبو آتی ہے “
فائزہ نے خوفزدہ ہو کر ماں کا تھاما دوبٹہ سینے سے لگایا
“بچے باجی کی بھی یہ ہی خواہش تھی اور ہم تمہیں یہاں چھوڑ کر کیسے جاسکتے ہیں “
“نہیں ماموں آپ فکر مت کریں میں سنبھال لوں گی میں یہاں نوکری کرتی ہوں “
‘کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ !! کیا آپ نہیں جانتی اکیلی جوان لڑکی کو معاشرہ کیسی نگاہوں سے دیکھتا ہے ؟؟
‘ارد گرد کے لوگ اس کی طاق میں رہتے ہیں “
شجاع اس کی مسلسل نہیں جانا کی رٹ پر جھنجھلایا
فائزہ ایک دم سے خاموش ہوگئی
‘بیٹا شجاع صحیح کہہ رہا ہے یہ ہی حقیقت ہے اس معاشرے کی جوان لڑکی کو جینے نہیں دیا جاتا “
بلآخر ماموں کی بات پر اس نے حامی بھر دی ۔۔۔
_______
“ماموں “
عون حدید کے مقابل ان کے ہاتھ تھام کر بیٹھ گیا
حدید شاہ نے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا جو
مضطرب سا لگ رہا تھا یاں اپنے ماضی کا حصّہ
وہ بھی تو نہیں جھکے تھےسوائے سالوں پہلے اس ایک دفعہ کے جب وہ بھی یوں ہی گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنی محبت کی بھیک مانگ رہے تھے مگر تب اسے بے مراد لٹایا گیا تھا
اسے بے مراد لٹانے والی اس کی اپنی ماں تھی
“تو کیا عون ابراہیم شاہ کو بے مردا لٹانے والا اس کا ماماں ہوگا ؟؟”
_______
ایک اور دن یوں ہی گزر گیا صفا یونیورسٹی میں لاشعوری طور پر عون کا انتظار کرتی رہی مگر اس نے کہاں آنا تھا
اپنے پاس ہونے کی مبارک باد بھی اس نے با دقت مسکراتے ہوئے قبول کی تھی
پڑھاتے ہوئے بھی اس کا سارا دھیان عون کی جانب ہی تھا
یہاں تک کہ اس سے سٹوڈنٹس نے اس کی طبیعت اور غیر توجہی کے حوالے سے بھی پوچھا تھا
_______
بالاج مجھے تم سے یہ امید نہ تھی
جازب اعوان بالاج کو سامنے پا کر اس پر بھڑک اٹھے تھے
“”انکل “
“واٹ انکل کیا واقف نہیں ہو اپنے دشمنوں سے کیسے اتنی بڑی
لاپرواہی دیکھا سکتے ہو تم بالاج کیسے “
“اپنی ماں بہن اور بیوی کی جان خطرے میں ڈال سکتے ہو ؟؟”
“انکل میں نے یوکے سے لوٹنے کے بعد ہی نیا گھر خرید لیا تھا “
جازب اعوان ابھی اور کچھ کہتے بالاج ایک دم بول پڑا
“ماما کا مشورہ ہے ہم وہاں سے شفٹ کرلیں کیونکہ یہ گھر کافی دشمنوں کی نظر میں ہے ان کا دھیان اِسی گھر کی طرف ہوگا اور ہم یہاں سے اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو جائیں گے “
“بہتر۔۔۔۔۔ مگر اپنے گھر والوں کی سیکورٹی سخت کردو جنید بغدادی
خاموش نہییں بیٹھے گا نہ ہی خرم داد “
“جی “
_______
“ڈیڈ آپ نے ابھی تک عون کے فادر سے نہیں بات کی ہمارے رشتے کی ؟؟”
رومیسہ بے دھڑک اپنے ماما بابا کے کمرے کا دروازہ کھولے اندر آتی غصے سے بولی
“رومی یہ کیا طریقہ ہے “
مسز ثرمد کے ماتھے پر بل پڑے
“پلیز موم اس وقت نہیں “
وہ ماں کو ٹوک گئی
“ڈیڈ آپ کیوں نہیں بات کر رہے ہیں ابراہیم انکل سے ۔۔!!”
“میں چاہتی ہوں ہماری منگنی جلد از جلد ہو جائے”
ہمارا آخری سمسٹر ہے پھر اس کے بعد ہماری پریکٹیکل لائف سٹارٹ ہوجائے گی ڈیڈ “
رومیسہ ثرمد کا ہاتھ تھامے روہانسا ہوگئی
وہ جانتی تھی یہ واحد طریقہ ہے بغیر کسی انکار کے اپنے بابا سے بات منوانے کا
“میری جان تم فکر مت کرو میں آج ہی ابراہیم سے بات کرتا ہوں ہم اسی منتھ میں تم دونوں کی منگنی کا فنکشن رکھوا لیتے ہیں”
“منتھ نہیں ڈیڈ ویک اسی ویک میں پلیز ڈیڈ میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں وہ مجھے نہ ملا تو میں اپنے آپ کو کچھ کرلوں گی “
“یہ کیا کہہ کر گئی ہے ثرمد اس لڑکی کا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا”
مسز ثرمد پریشانی سے بولی
مگر ثرمد صاحب گہری سوچ میں مبتلا خاموش رہے
_______
تیاریاں مکمل ہوچکی تھی آج کا دن بہت اہم تھا آج تو ملاقات ہونی تھی
“دشمنوں سے “
آج تو حساب کا دن تھا
‘بالاج ٹائی میں باندھوں ؟!!”
بالاج کو ٹائی باندھتا دیکھ انابیہ کمرے میں آتی اشتیاق سے بولی
بالاج کے ہاتھ تھمے
” تمہیں ٹائی باندھنا آتی ہے “
وہ ٹائی اس کے ہاتھ میں پکڑا چکا تھا
“ایک منٹ”
وہ جلدی سے ڈریسنگ میرر کے سامنے پڑا گول سیٹر اٹھا کر لے آئی بالاج کو ہاتھ تھما کر اب اس پر کھڑی ہوتی وہ اس سے قد میں قدرے لمبی لگ رہی تھی
بالاج نے مسکراہٹ دبائی
اب وہ انہماک سے ٹائی کی ناٹ باندھ رہی تھی
بالاج اس کے چہرے کی جانب دیکھنے میں محو تھا
باندھ دی
انابیہ اپنی کامیابی پر مسکرائی
تم تیار نہیں ہوئی
بالاج نے ٹائی پر موجود اس کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
“جی صرف دس منٹ لگے گیں “
انابیہ نے ہاتھ نکالنا چاہا مگر وہ تو جیسے بھول گیا تھا
“کیا ہوا کیا دیکھ رہے ہیں ؟!۔۔”
انابیہ نے نظریں چراتے ہوئے پوچھا
“تمہارا مجھ سے نظریں چرانا “
بالاج نے صاف گوئی سے کہا
“انابیہ “
اپنے نام کے پکارے جانے پر وہ جی جان سے متوجہ ہوئی
“آپ ۔۔۔۔ بہت پیارے لگ رہے ہیں لاج ڈر ہے اگر آپ کو دیکھوں گی تو نظر لگ جائے گی “
وہ ٹرانس سی کیفیت میں بولی
“تمہاری تو نہیں لگے گی مگر پارٹی میں موجود لڑکیوں کا پتا نہیں “
بالاج نے شرارت سے کہا
“اللہ نہ کرے آپ کو کسی کی نظر لگے “
“تو میری نظر اتار دو بیوی تم کس لیے ہو “
انابیہ کو وہ باتوں میں الجھا چکا تھا کہ وہ یہ تک بھول گئی کہ وہ ابھی بھی گول سٹول پر کھڑی ہے اور اس کے ہاتھ ابھی بھی بالاج کی ٹائی کے اوپر اس کے ہاتھوں کے نیچے ہیں
‘نظر کیسے اتارتے ہیں۔۔؟!”
انابیہ نے غائب دماغی سے کہا
آنکھیں ان سبز آنکھوں میں مدغم سی ہورہی تھی
“دل سے لگا کر “
“پرحدت سی سرگوشی!! “
“معنی خیز سی خاموشی “
“وہ ہوش میں آئی “
“ہاتھ چھڑوایا”
“میں ماما سے پوچھ کر آتی ہوں نظر اتارنے کا طریقہ “
“اور بھاگ گئی “
________
چوبیس سال سات ماہ ۔۔۔!!
ایک طویل عرصہ
کتنے شب و روز گزرے
کتنے موسم آئے اور گزر گئے
کتنے دکھ
کتنی خوشیاں
کیا کچھ پایا
کیا کچھ کھویا
حیا نے آخری نظر خود پر ڈالی تو آج
“ملاقات ہرجائی کا وقت ہوجاتا ہے “
“کیا کہوں گی ؟؟”
“کیا کچھ پوچھوں گی ؟؟”
“یاں رخ موڑ لوں گی جیسے چوبیس سال سات ماہ موڑ کر رکھا!!”
کیا اس سے بھی سوال ہوگا !!
اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی کوئی سوال ہوگا
________
“مما آپ تیار نہیں ہوئی آپ جانتی ہیں نہ آج بالاج کے گھر پر پارٹی ہے “
شجاع بار بار گھڑی کی جانب دیکھ رہا تھا
کہاں ہورہا تھا اس سے انتظار وہ تو بس صفا کو دیکھنا چاہتا تھا اب
اب کہاں تھا وقت اب تو بس صفا کا نام اپنے ساتھ جڑا ہوا دیکھنے کی بے تابی تھی
“نہیں شجاع تم اور تمہارے ڈیڈ چلے جائیں میں گھر پر ہی ہوں “
مسز خاور نے ایک نظر اپنے پاس نظریں جھکائے بیٹھی فائزہ کو دیکھ کر کہا
“مگر موم آپ نے حیا آنٹی سے بات بھی تو کرنی ہے صفا اور میری”
شجاع کے لہجے میں بے تابی تھی
شجاع کے بے تاب لہجے میں کی بات پر سر جھکائے بیٹھی فائزہ ایک لمحے کو ساکت ہوئی تھی
سر میں عجیب سے درد کی ٹیس اٹھی
‘تیرے لیے میرا پتر ہے نہ شجاع وہ آئے گا تجھے لینے دیکھی تیری ساری خواہشات کا مان رکھے گا میرا پتر “
“بہت چنگا ہے وہ “
فائزہ نے سر اٹھایا
“آپ چلی جائیں ممانی جان “
“اگر آپ میری وجہ سے یہاں ٹھہریں گی تو مجھے اپنے یہاں آنے پر افسوس ہوگا “
فائزہ کی دھیمی آواز پر مسز خاور نے فائزہ کی جانب دیکھا
“میں دوائی کھا کر سو جاؤ گی تو آنکھ صبح ہی کھلے گی
آپ پریشان مت ہوں “
وہ مزید کہہ کر وہاں سے اٹھ کر اندر بڑھ گئی
فائزہ نے اٹھ کر جانے کے بعد شجاع کو اپنا آپ مطلبی سا لگا تھا مگر بس لمحہ بھر کو بالاج اس کا صرف دوست نہیں ساتھی بھی تھا جس کی کامیابی اس کی کامیابی تھی
_________
تقریب اپنے عروج پر تھی
جشن جن دو لوگوں کے اعزاز میں رکھا گیا تھا ان میں سے ایک وہاں ہر ہی موجود تھا
بالاج اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ وہاں سے موجود تھا آج کے فنکشن میں اس کے ریسپشن کی دعوت کا بھی علان کیا جانا تھا
حیا صفا اور انابیہ تینوں اپنے مخصوص حلیے میں پوری تقریب میں سب سے پروقار اور نمایاں تھیں
ابھی تک حدید شاہ کی موجودگی کا کوئی آتا پتا نہیں تھا
ارے بالاج صاحب آپ کے پاٹنر نظر نہیں آرہے
بالاج کے حریف میٹھی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے پاس آئے
ارے عزیم صاحب آپ کو اتنا بے چینی سے کیوں انتظار ہے میرے بزنس پاٹنر کا
میں تو یوں ہی پوچھ رہا تھا کافی دیر ہوگئی پارٹی شروع ہوئے
آپ فکر مت کریں آپ کو کھانا کھلائے بغیر نہیں بھیجنے والا آخر آپ کی مخالفت کی وجہ سے یہ کامیابی ہمیں ملی ہے
بالاج نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا
عزیم نریز ضبط کے گھونٹ بھرتے وہاں سے گئے
یہ ہی جشن ماتم میں بدلے گا بالاج خان تم ابھی بچے ہو
وہ دل ہی دل میں کہتے وہاں سے چلے گئے
________
“صفا “
کچن میں کھڑی صفا اپنے پیچھے سے آتی عون کی آواز پر لمحے بھر کو چونکی
مگر اپنا خیال سمجھ کر نظر انداز کر گئی
صفا اس بار آواز اور قریب تھی
صفا چونک کر مری
“عون ۔۔!”
_______
حیا صاحبہ گیسٹ سے مل کر ہاتھ میں موجود بکے تھامے گارڈن سائیڈ کی جانب بڑھی
ان کا فون مسلسل بج رہا تھا مگر اتنے شور میں فون سننا بہت مشکل
وہ فون کان سے لگائے قدرے خاموش اور کھالی جگہ پر آئی
“چوبیس سال “
“چوبیس سال حیا خان “
یہ آواز حیا کے ہاتھ سے فون پر گرفت کمزور ہوئی فون ہاتھ سے پھسل کر گر گیا
“اتنا بڑا دھوکا “
“تمہارا رات کے اندھیرے میں مجھے چھوڑنا غلطی تھا ‘
“مگر ۔۔۔۔۔ دوسری شادی !!!”
“غلطی نہیں گناہ کیا ہے میرے نکاح میں ہونے کے باوجود دوسری شادی کی ہے تم نے نکاح پر نکاح کیا ہے تم نے جس سے ہونے والی ناجائز اولاد کو پیدا کیا “
اپنی گرفت حد درجہ مقابل کے نازک کمزور کاندھوں پر سخت کیکہ وہ خود کو سسکنے سے روک نہ سکی
“نفرت ہورہی ہے مجھے اپنے وجود سے بھی کہ کبھی تم میری دسترس میں تھی میرے ماہ و سال برباد کرکے بھی تم یہاں اتنی پرسکون کیسے ہو ۔۔؟؟ “
“کیسے ۔۔۔؟؟؟؟” غصے کی شدت سے وہ دھاڑے تم۔۔۔۔
“آہ۔۔۔۔۔ “اپنی جوان اولاد کے ہاتھوں پڑنے والے مکے پر وہ چار قدم لڑکھڑا کر دور ہوئے۔۔۔۔۔
“ماں ۔۔۔۔ “
وہ بھاگ کر اپنی ماں کے پاس آیا جو ساکت نگاہوں سے اپنا درد فراموش کئیے سامنے دیکھ رہی تھی بالکل سامنے ۔۔۔۔
