Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 19) Part - 2
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 19) Part - 2
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
مین گراؤنڈ سے نکلتے ہوئے وہ ایکزٹ گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی جب ایک دفعہ اپنے نام پر متوجہ ہوئی
“ویسے یہ عون اور رومیسہ نے اچھا کیا ڈین کو مس صفا کا کہہ کر ہمارے لاسٹ ڈیز ضائع نہیں ہوں گے وہ اپنا ایکسپیرینس بھی ہمارے ساتھ شئیر کریں گی “
صفا نے دانت پیسے یہ لڑکا
“السلام علیکم مس صفا کیسی ہیں آپ” وہ بچے صفا کو دیکھ کر احتراماً کھڑے ہوگئے
“وعلیکم السلام!!. میں ٹھیک الحمدللہ “
صفا دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ سلام کا جواب دیتی ڈرایور کے مسیج پر گیٹ سے نکل گئی
_______
انابیہ نماز ادا کرکے جیسے ہی نیچے لابی میں آئی تو اسے میڈ سے معلوم ہوا کہ حیا ابھی دو منٹ پہلے ہی اپنے آفس کے لیے نکل چکی ہیں انابیہ کو افسوس ہوا کہ وہ اپنی ڈریس حیا کو دیکھا نہیں سکی خیر رات کو یاں صبح دیکھا دوں گی وہ سر جھٹک کر
لاونج میں موجود بڑی سی ایل سی ڈی کے سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گئی
جب میڈ کے ساتھ ایک درمیانے قد کی خوبصورت سی لڑکی اُس کے پاس آئی اس نے بلیک کلر کی پینٹ اور بلیک شرٹ جس پر کسی سلون کا نام لکھا ہوا تھا زیب تن کر رکھی تھی
“ہیلو میم آپ انابیہ بالاج ہیں ؟؟”
وہ مجھے سر بالاج نے بھیجا ہے آپ کو مہندی لگانے کے لیے
“لاج “
انابیہ کے لبوں پر مسکراہٹ کھلی
‘جی میں ہی ‘انابیہ بالاج’ “
پورے جذب کے ساتھ اس نے اپنا مکمل نام دہرایا
‘گڈ۔۔۔ !!’
“میم میں آپ کو مہندی لگاتی ہوں آپ کے ہاتھ خوبصورت ہیں آئی ایم شیور آپ پر مہندی کا رنگ بہت کِھلے گا “
انابیہ سر ہلا کر مہندی لگوانے کے لیے اسے اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے جانے لگی
“آپ ڈیزائن میں نام چھپا کر لکھ سکتی ہیں اردو میں؟؟” انابیہ نے اشتیاق سے مہندی لگواتے ہوئے پوچھا
“جی میم ۔۔۔”
سیلون والی لڑکی انابیہ کی آنکھوں میں بڑھتا اشتیاق اور چمک دیکھ کر مسکرا دی
_______
عون مسلسل اسے کال کر رہا تھا
مگر صفا کال اٹھانے کو تیار نہیں تھی ابھی فل وقت وہ بالکل بھی عون کی بات نہیں سننا چاہتی تھی
ایک دفعہ پھر سے رومیسہ کا تفاخر بھرا انداز یاد آیا تو صفا دانت پیس کر رہ گئی۔۔
پھر خود ہی اپنی حرکت پر جھنجھلا کر اپنا فون سائیلیٹ پر لگاتی کار مرر سے باہر کی سڑک پر نظریں مرکوز کر گئی ۔۔۔
_______
صفا کے گھر آنے پر انابیہ نے پرجوش ہو کر اسے پکارا
“آپی میں مہندی لگا رہی ہوں “
“آپ بھی لگوا لیں “
انابیہ کی میٹھی سی آواز پر صفا چونکی
“نہیں چندہ تمہیں معلوم ہے مجھے مہندی پسند نہیں تم لگاؤ “
اچھا آپی آکر دیکھیں تو ۔۔۔
“ماشاءاللہ چندہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے دیکھنا دھونے کے بعد اور بھی پیاری لگے گی “
صفا اس کی گال کھینچ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔
_______
“فائزہ فائزہ یہ کیسی لگ رہی ہے ؟”
مہندی والی مہندی لگا کر جا چکی تھی جبکہ انابیہ کی بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ ہی چکی تھی مگر اشتیاق کا جزبہ تھکان پر غالب تھا
انابیہ نے میڈ کو پکڑ کر پوچھا
“ماشاءاللہ بی بی جی بہت خوبصورت اتنی خوبصورت کے میری نظریں نہیں ہٹ رہی ویسے بی بی جی ہمارے گاؤں میں کہتے ہیں جس لڑکی کے ہاتھ پر مہندی کا رنگ کھلتا ہے اور گہرا آتا ہے اس کا گھر والا اس سے بہت پیار کرتا ہے ۔۔۔”
انابیہ لب دانتوں تلے دبائے جھینپ گئی
“واقع ؟؟”
“جی بی بی جی بلکہ وہاں ہم عورتیں تو ٹوٹکے بھی کرتی ہیں جس سے مہندی کا رنگ زیادہ کِھلا کِھلا آتا ہے “
فائزہ اب رازداری سے بولی
“اچھا کیا کرتے ہیں اچھے رنگ کے لیے ؟؟!!”
انابیہ نے اپنی بھر بھر مہندی لگی کلائیوں کو دیکھا
“ہم سرسوں کا تیل لگاتے ہیں اور لونگ کو توے پر ساڑ کر اس کا دھواں بھی دیتے اِس سے رنگ بہت پیارا آتا ہے “
اچھا تم ایسا کرو تم لونگ کو گرم کرو میں آتی ہوں
انابیہ نے اپنے شانے سے اپنے چہرے پر بکھری زلفوں کو ہٹا کر کہا
“جی ٹھیک ہے بی بی جی “
_______
صفا فریش ہوکر آئی تو اس کا فون پڑا پڑا بلنک ہونے لگا
عون کی کال تھی
“ایک تو یہ ڈھیٹ انسان “صفا نے لب بھینج کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا
مگر میسج کی ٹون پر چار و ناچار صفا نے میسج کھولا
“صفا میں نیچے کھڑا ہوں”
“کیاااا؟؟’ صفا چیخ اٹھی
وہ فون تھامے ٹیرس کا سلائڈنگ گلاس وال کھول کر ریلنگ کے پاس آئی
نیچے اپنی سیاہ سیوک پر صبح والے براؤن پینٹ اور سیاہ ہڈی میں عون ابراہیم نیچے کھڑا تھا
صفا کے ہاتھ میں تھاما فون پھر سے بجا
“صفا میری بات سنیں”
صفا کے کال اٹینڈ کرتے ہی عون بے تابی سے بولا
عون ابراہیم تم نے جان بوجھ کر یہ سب کیا ہے نہ ؟؟
تمہاری سازش تھی نہ یہ ؟
وہ غصے سے بلبلائی
“وہ۔۔نہیں” عون نے سر کھجایا اس نے انٹینشنلی ڈین کو صفا کا نہیں کہا تھا
“عون !!۔۔”
“تم مجھے وہاں بدنام کرنا چاہتے ہو “
صفا کی آواز رندھ گئی
“نہیں صفا آپ نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا “
“میں نے آپ کی عزت آپ سے محبت کرنے سے پہلے کی ہے”
وہ تڑپ کر بولا
“عزت کا اتنا ہی احساس ہے تو تم اِس وقت گاڑی لے کر میرے گھر کے باہر نہ کھڑے ہوتے “
صفا نے جس لہجے میں کہا تھا وہ دور سے ہی عون کا سفید پڑتا چہرہ دیکھ سکتی تھی
“ایک بات یاد رکھئے گا صفا خان عون ابراہیم شاہ کے لیے آپ کی عزت اپنی محبت سے بھی زیادہ عزیز ہے “
اب کہ لہجے میں شدت تھی
کیا تھا وہ شخص محبت نرمی غصہ تڑپ اور شدت کتنے انداز تھے اس کے
عون فون کاٹ کر وہاں سے نکل گیا
وہ آیا تو بریسلٹ والے واقعے کی صفائی دینے تھا مگر ایک دفعہ صفا کے لفظوں کے تیر کھائے زخمی دل سمیت لوٹ گیا
_______
“گفٹ لے لیا تھا آپ نے حدیقہ؟؟”
ابرہیم شاہ نے اپنی تیار شیار بیوی پر ایک گہری نظر ڈال کر پوچھا
“جی ابراہیم لے لیا تھا آپ پہلے ہی لیٹ ہیں جلدی کریں “
اپنے کلچ میں چند ایک ضروری چیز ڈال کر وہ ابراہیم شاہ کی طرف متوجہ ہوتے بولی جو فرصت سے کھڑے انہیں نہارنے میں مصروف تھے
“ابراہیم “
حدیقہ شاہ نے لفظوں کو خاصا دبا کر ان کا نام پکارا
“ہم ۔۔۔ میں تو تیار ہوں بس سوچ رہا ہوں جانے سے پہلے آپ کی نظر اتار لوں”
ابراہیم شاہ نے محبت سے حدیقہ شاہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا تو وہ چونک گئی حالانکہ یہ الفاظ نئے نہیں تھے ان کے لیے
ابرہیم شاہ یوں ہی ان کی نظر اتارتے تھے
مگر ہر بار اُن کا لہجہ پہلے سے مختلف کچھ زیادہ پر اثر زیادہ تاثیر لئیے ہوئے ہوتا ہے
حدیقہ نظر اٹھا کر اپنے محبوب شوہر کو نہ دیکھ سکی جو بے ساختہ ہی ان کا دل دھڑکا دیتے تھے جو اِس عمر میں بھی انہیں شرم سے منہ چھپانے والی بنا دیتے تھے
_______
شجاع اپنے آفس میں موجود بالاج کا انتظار کررہا تھا جو بہت ضروری میٹینگ سے دو گھنٹے پہلے کا نکلا ہوا تھا
“شجاع تم نے کیوں ہمیں روک رکھا ہے بچے کیا کوئی مسئلہ ہے ؟؟”
شجاع کی والدہ نے پریشانی سے استفسار کیا
“نہیں مما مسئلہ تو کوئی نہیں ہے مگر مجھے تھوڑی کنفیوزن ہے۔۔!” اگر بالاج کو یہ بات بری لگی گئی کہ میں اس کی بہن سے محبت یاں وہ یہ سوچنے لگ جائے کہ میں نے دوستی کی آڑ میں
اس کا مان نہ توڑ دیا “
” آپ تو جانتی ہیں نہ بالاج سے میری دوستی کو ۔۔۔”
“میرا دوست کتنا ٹوٹا ہوا ہے اس کے دل میں کتنے زخم ہیں ایسے میں اگر وہ مجھ سے خفا ہوگیا ؟”
“کیسی باتیں کر رہے ہو شجاع محبت کرنا کوئی گناہ تھوڑی ہے تم ویسے بھی صفا کی طرف کوئی غلط ارادے سے نہیں بڑ رہے بلکہ تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو دیکھنا بالاج کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ خوشی خوشی صفا کے لیے تمہیں ہامی بھر دے گا آخر میرے بیٹے میں کوئی کمی ہے کیا “
شجاع کی مما نے اپنی گود میں سر رکھ کر لیتے شجاع کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے اس کے دل میں موجود وسوسوں کو نکالا
“لیکن مما اگر اس نے پھر بھی انکار کردیا یاں صفا خود نہ مانی یہ تو میں جانتا بالاج اور حیا آنٹی اس کی زندگی کا فیصلہ اس کی اجازت کے بغیر نہیں کریں گے “
“بیٹا اچھا سوچو صفا بچی بہت معصوم ہے وہ اپنے بڑوں کو منع نہیں کرے گی لیکن پھر بھی اگر ایسا کچھ ہوا تو بیٹا اس بات کو قبول کرنا “
مما کی باتوں پر وہ آنکھیں موند گیا اسے اچھا اچھا سوچنا تھا صفا سے دستبرداری اس کے لیے ممکن نہیں تھی
اس کی بچپن کی محبت تھی صفا خان
شجاع بالاج کے بلانے پر وہ ہوش میں آیا
“تو کب آیا ؟؟ “شجاع چئیر سے اٹھتے ہوئے بولا
“جب تو میری بھابھی کی سوچوں میں گم تھا بالاج کے کہنے پر ہو ہڑبڑا گیا “
بالاج سنجیدگی سے بولا
“نہیں ۔۔ایسا تو کچھ نہیں “
ارے پریشان کیوں ہو رہا ہے مزاق کر رہا تھا بالاج نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے ہنس کر کہا
وہ بہت کم لوگوں کے سامنے کُھلتا تھا جس میں سے ایک شجاع خاور بھی شامل تھا
“اچھا یہ بتا کل کی تیاریاں کیسی ہیں ؟؟”
شجاع نے لنچ کا آرڈر دے کر بالاج سے پوچھا
“کیسا دوست ہے تجھے شرم نہیں آتی دلہے سے پوچھتے ہوئے کہ تیاری کیسی ہے “
بالاج نے نظریں چھوٹی کرکے گھورتے ہوئے کہا
تو بدلے میں شجاع نے بھی دانتوں کی نمائش کی
“ارے یار یہ بندہ تجھ سے زیادہ تیری شادی کے لیے ایکسائٹڈ ہے تو فکر نہ کر تو گھر جا تھوڑا منہ شو سنوار کل میری بہن کے برابر تو لگے کم از کم “
شجاع نے بھی لب دباتے بالاج کو تپایا
“فکر مت کر میری بیوی کو میں ایسے ہی قبول ہوں تو اپنی خیر منا “
“میری خیر منانے کو تو ہے نہ سالے” شجاع نے بالاج کی گردن قبضے میں لی
پھر دونوں ہی ہنس دئیے
“اچھا یہ بتا حدید شاہ کے ساتھ پاٹنر شپ میں جو کنسائٹمنٹ تھی اس کا کیا بنا ؟؟”
______
“آپ کا کیا خیال ہے یہ ثبوت کافی ہوں گے خرم داد کو سزا دینے کے لیے ؟”
جازب اعوان نے فائل کر انہماک سے سٹڈی کرتی حیا کی جانب دیکھ کر پر سوچ انداز میں دیکھا ۔۔
“چور جتنا مرضی شاطر ہی کیوں نہ ہو اپنے گلے میں ڈھول ڈلوانے کے لیے اپنا کوئی نہ کوئی ثبوت سراغ لازمی چھوڑ جاتا ہے
اور خرم داد ایک واحد ہمارا دشمن نہیں ہے بہت سے لوگوں کا حساب دینا ہے اُس نے “
حیا نے فائل بند کرتے ہوئے کہا
“لیکن اس کے پیچھے بہت سے پس پردہ بڑے لوگوں کا ہاتھ ہے “
جاذب کمال تھوڑے متفکر تھے کیونکہ اِس کیس کا براہِ راست حیا سے تعلق تھا اگر صرف ان سے تعلق ہوتا تو جاذب اعوان کو اتنی پریشانی نہ ہوتی مگر یہ حیا کے لیے کافی خطر ناک ثابت ہو سکتا تھا
وہ گھٹیا مکار شخص حیا کے عورت ہونے کا فائدہ اٹھا سکتا تھا
“جاذب صاحب کچی خبریں ہم نے بھی نہیں رکھیں “
“پر آپ کا تعلق براہِ راست ہے کچھ اونچ نیچ ہونے پر آپ کا نام منظر عام پر پہلے آئے گا “
جاذب کے متفکر ہونے پر حیا نے پہلو بدلہ
“جازب ٹھیک کہہ رہا ہے حیا بچے جلد بازی اچھی چیز نہیں “
کمال اعوان نے بھی جازب کی بات پر متفق ہوتے کہا
“فکر مت کریں سر جی پانچ سال اس پر کام کیا بہت سے اہم سراغ میرے پاس بھی موجود ہیں جن کے بے پردہ ہونے پر وہ پردہ نشین لوگ بھی منہ چھپاتے تلملا جائیں گے ۔۔۔”
“اب میں چلتی ہوں ان شاءاللہ پرسو اِس کیس کو اس کے انجام تک پہنچا دیں گے “
‘ان شاءاللہ ” تینوں نے ایک ساتھ کہا
“اللہ تم دونوں کا حامی و ناصر ہے “
“میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں “
جازب اعوان اٹھتے ہوئے بولے
“دیکھیں جاذب صاحب میرے بچوں اور میری حفاظت کو “اللہ ” موجود ہے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے جانتی ہوں میں خود غرض لگوں گی مگر یقین جانے آپ لوگوں کے احسانوں کو بھولی نہیں ہوں اور نہ ہی مرتے دم تک بھولوں گی “
“مگر یہ ہی حقیقت ہے اسے تسلیم کریں آپ ایک باشعور میچیور مرد ہیں “
“کل آپ سر جی کو ضرور لے کر آئیے گے مجھے اور بالاج کو خوشی ہو گی “
حیا وہاں سے جا چکی تھی مگر جاذب اعوان کتنی دیر اسی راستے کو دیکھتے رہ گئے ۔۔۔۔
________
انابیہ کچن میں دھواں اڑاتے توئے سے زرا فاصلے پر اپنی دونوں مہندی لگی کلائیوں کو آگے کئیے کھڑی تھی
سیک بڑھ رہا تھا مگر گہرے رنگ کا جنون سر چڑھ کر بول رہا تھا
اپنی بے دھیانی میں انابیہ کی کلائی گرم توئے سے ٹچ ہوئی
“آہ۔۔۔”بے ساختہ اس کی چیخ پر فائزہ ہڑبڑا گئی
اس نے فورا آگے بڑھ کر چولا بند کیا
“بی بی جی آپ کی کلائی جل گئی ہے پلیز اسے پانی کے نیچے کریں میں دوائی لے کر آتی ہوں “
فائزہ گڑبڑائی سی بولی اگر کسی کو پتا لگ جاتا یہ نسخہ اس نے دیا ہے اپنی چھوٹی بی بی جی کو تو اس کی خیر نہیں تھی
“نہیں فائزہ میں نہیں دھو سکتی مہندی رنگ نہیں آئے گا “
“بی بی جی پلیز “
“نہیں فائزہ۔۔۔۔!!” انابیہ درد برداشت کرتی مہندی نہ دھونے پر با ضد تھی
“چلیں پھر یہاں سے بی بی جی پلیز نہیں تو میں بڑی بیگم صاحبہ کو بتا دوں گی “
فائزہ نے اب حیا کے نام کی دھمکی دی جو کار آمد ثابت ہوئی تھی
_______
حیا گھر آتے ساتھ ہی اپنے کمرے کی طرف بڑھی سب سے پہلے تو اس فائل کو کسی محفوظ جگہ رکھنا تھا پھر کل کی تیاریوں پر نظر ثانی کرنی تھی
“بالاج بچے “حیا نے اپنے میں بیڈ پر لیٹے بالاج کو دیکھ اسے پکارا
“مما ” بالاج کے لہجے میں تڑپ تھی
حیا تڑپ کر اس کے پاس آئی
“میری جان کیا ہوا؟!!۔۔۔” حیا نے بیڈ پر بیٹھتے اس کے بالوں کو سہلانا شروع کردیا
“مما کل بہت بڑی زمہ داری پڑ جائے گی مجھ پر “
حیا کی گود میں چہرا چھپائے وہ چھوٹے بچے کی طرح سہما ہوا بولا
“میری جان اللہ پر بھروسہ رکھو “
“اللہ پر بھروسہ ہے مما تبھی آج اِس مقام پر ہوں خود کو دھوکا دینے والوں کو ایک ہی جھٹکے میں گھٹنوں میں گڑا سکتا ہوں “
چھوڑ دو میری جان خود کو دھوکا دینے والوں کو بھی اور رسوا کرنے والوں کو بھی اللہ پر چھوڑ دو
میں نے بھی سب اللہ پر چھوڑ دیا میں نے اب اس شخص سے ڈرنا چھپنا چھوڑ دیا ہے اب میرے بچے اس قابل ہیں کہ کوئی انہیں مجھ سے چھین نہیں سکتا
حیا نے بالاج کی تپتی پیشانی پر بوسہ دیا
بالاج نے لب کاٹے
“مجھ میں اتنا طرف نہیں ماں کہ میں اس شخص کو معاف کردو مگر میں اس کے راستے میں تب تک نہیں آؤں گا جب تک وہ ہمارے معاملے میں ٹانگ نہیں اڑائیں گے “
بالاج حیا نے دونوں ہاتھوں کو اپنی آنکھوں پر رکھ کر سکون سے آنکھیں موند لیں ۔۔۔
_______
صفا نے نماز ادا کرنے کے بعد فریش ہوکر کپڑے چینج کرنے کی غرض سے کبرڈ کھولا سامنے ہی ہلکے پستہ رنگ کا خوبصورت فراک دیکھ کر اس کی آنکھیں بڑی ہوئی
اففف بھائی آئی لو یو صفا کی خوشی دیدنی تھی
_________
رات کے پہر دروازہ بجنے پر انابیہ سوئی جاگی کیفیت میں اٹھی
وہ ابھی بھی مہندی لگے ہونے کی وجہ سے ٹھیک سے سو نہیں پارہی تھی
حالانکہ مہندی سوکھ گئی تھی مگر فائزہ کی بات تو اس کے دماغ پر چپک کر رہ گئی تھی
بالاج آپ اِس ۔۔۔وقت یہاں”
انابیہ نے حیرانگی سے گھڑی کی سوئیوں کو دیکھا جو دو کی بار پھلانگ کر تین پر آنے کو تھی
“جس کے نام کی مہندی لگائی ہے اس کے کھلتے رنگ کو سب سے پہلے دیکھنے کا حق بھی تو اسی کا ہے”
انابیہ کے گال ایک دم سے ہی سرخ انار مانند ٹمٹمانے لگے
بالاج نے نیم اندھیرے کمرے میں ہی اس کا ہاتھ تھام کر مہندی کے نقش نگاروں پر انگلیاں چلانی شروع کردی
“آپ ۔۔آپ کا نام بھی لکھوایا ہے “انابیہ جھجھکی سی ایک دم یاد آنے پر پرجوشی سے بولی
“صرف میرا نام ۔۔۔” “بالاج کا نام بھی اپنی انا کے بغیر ادھورا لگتا ہے”
انابیہ سمجھ نہ سکی وہ شخص اسے اِس وقت پیارا لگ رہا ہے یاں وہ ہمیشہ سے ہی یوں ہی اس کا دل دھڑکانے کی حد تک پیارا تھا
یہ کیا ہوا ہے ایک دم ہی بالاج کی نظر سرخ نشان پر پڑی تو یک بعد دوسری تیوڑی اس کے ماتھے پر آئی
انابیہ آنکھیں مینچ گئی ۔۔۔
