212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 26)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“السلام علیکم سر جی کیسے ہیں آپ ؟”

“وعلیکم السلام الحمدللہ میں بالکل ٹھیک بہت بہت مبارک ہو حیا بچے سپریم کورٹ کی طرف سے بھی فیصلہ آگیا ہے “

کمال اعوان کے لہجے میں خوشی اور محبت ملی جلی کیفیت کا عنصر تھا

“آپ کی مدد اور رہنمائی کی بدولت ہی یہ کامیابی ملی ہے سر جی میں ہمیشہ آپ کی ممنعون رہو گی “

“مجھے فخر ہے میری شاگردہ بہت نام کمائے گی

بیٹا ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہے مقابل تمہارا اپنا خون کیوں نہ ہو “

“جی سر جی آپ ہمیشہ مجھے ثابت قدم پائیں گے “

“ان شاءاللہ”

“اچھا اب دعائیں تو ملتی رہیں گی تم نے اور جازب نے کوئی پارٹی نہیں دینی “

“جازب تو ہے ہی کنجوس تم سے یہ امید نہیں تھی “

کمال اعوان نے پاس بیٹھے بظاہر کام میں مصروف مگر اپنی جانب کان لگائی بیٹے کی طرف کن نظروں سے مسکراہٹ دبا کر حیا کو شریر لہجے میں کہا

حیا کی ہنسی غیر متوقع تھی جسے کمال اعوان نے سپیکر اون کرکے

اپنے بقول ان کے کنجوس بیٹے کو بھی سنائی تھی

“سر جی آپ جب مرضی آئیں آپ کو یہاں آنے کے لیے کسی دعوت یاں پارٹی کی ضرورت نہیں ہے “

حیا کے مان بھرے لہجے ہر دونوں باپ بیٹا مسکرائے تھے

ا”ن شاءاللہ بہت جلد بالاج کی کامیابی کے عزاز میں دی جانے والی دعوت کا دعوت نامہ بھی آپ کو دینے آئیں گے “

“ماشاءاللہ اللہ پاک کامیاب کرے بالاج کو یوں کامیاب دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے “

“آمین “

_________

“بالاج میں آج اتنی بلکے اتنی زیادہ خوش ہوں”

انابیہ کمرے میں آتی پہلے ہاتھوں کو پھیلا کر پھر نفی میں سر ہلاتی اپنی بانہوں کو پھیلا کر بولی

“اچھا اس خوشی میں تھوڑا سا پانی ڈالو کتابیں نکال کر پڑھو مجھے تمہاری یونیورسٹی سے کال آئی ہے کل تمہارا پہلا فائنل پیپر ہے “

“کیااااا؟۔۔۔پیپیر!!”

انابیہ کی ساری خوشی ہوا ہوئی

“جی ۔۔۔۔پیپر!!!”

بالاج نے بھی اسی کی طرح جی کو لمبا کرکے کہا

“لاج نہیں نہ میں سمسٹر فریز کروا لیتی ہوں “

انابیہ نے اپنا نچلا ہونٹ باہر نکال کر پریشانی سے کہا

“نو “

صاف منع کیا

“سمجھیں نہ میری بالکل تیاری نہیں ہے مجھے ایک لفظ بھی نہیں آیا “

“تم کتابیں نکالو تمہاری تیاری میں کرواتا ہوں “

حل پیش کیا

“لاج اپنے آفس نہیں جانا “

اپنا بیگ بیڈ پر رکھتے انابیہ نے یاد آنے پر جلدی سے کہا

انداز پوچھنے سے زیادہ بتانے والا تھا

“تم کیا چاہتی ہو میں شادی کے دوسرے دن ہی آفس چلا جاؤ!! “

“تو آپ کیا چاہتے ہیں لاج میں شادی کے دوسری دن کتابیں پکڑ بیٹھ جاؤں !!”

اسے دوبدو جواب دیتی بالاج کو مسکراہٹ دبانے پر مجبور کر گئی ۔۔۔

“اچھا نکالو میں سمجھاتا ہوں “

تقریباً پانچ منٹ بعد ہی انابیہ جمائیاں لینے لگی

بالاج نے اپنے ہاتھ میں اس کا پن تھاما ہاتھ لے کر لکھنا شروع کیا

انابیہ سانس روکے سارے کاروائی دیکھتی رہی

بالاج نے اپنے ہاتھ میں اس کا پین تھاما ہاتھ لے کر لکھنا شروع کیا

انابیہ سانس روکے ساری کاروائی دیکھتی رہی

سانس تو لو لڑکی یاں پیپروں سے بچنے کی سازش کرر رہی ہو

بالاج کی سرگوشی پر انابیہ نے گہری سانس چھوڑی اچھا میں کرتی ہوں تھوڑا فاصلہ جما کر وہ لکھنے میں پھر سے مصروف ہوئی

اس نے تھک کر ایک نظر خود کو دیکھنے میں محو بالاج پر ڈالی جو اب کتابیں ہٹاتا اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا

“باہر تو کوئی بڑی پرجوشی سے کہہ رہا تھا کہ کاش میں بھی وکیل بن جاتی یہاں میڈیم سے سمپل کامرس کے پیپر کی تیاری نہیں ہورہی ہے “

اس کے بائیں ہاتھ کی انگلی میں پہنی نازک سی انگوٹھی سے چھیڑ چھاڑ کرتا اسے بیک وقت شرم اور غصے کی ملی جلی کیفیت سے روشناس کروا گیا

“لاج آپ مجھے یعنی “اپنی انا” کو طعنے دیں گے “

انابیہ کی آواز میں حیرت ہی حیرت تھی

جبکہ اس کے منہ سے” اپنی انا “

لفظ پر وہ جیسے مسرور ہوگیا تھا

________

پورے گھر میں اس وقت سناٹا سا چھایا ہوا تھا علی اور عدنان صاحب ابھی بھی ہسپتال میں ہی موجود تھے دادو کو ہارٹ اٹیک آیا تھا

دونوں بہوؤں کے بھی سانس سوکھے ہوئے تھے گھر میں عجیب سا خوف و ہراس سا پھیل گیا بچے بھی سارے خاموش سے لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے جب حمزہ تھکا سا گھر آیا

حمزہ کیا ہوا سب ٹھیک ہے نہ امی ٹھیک ہیں ؟؟

کوثر بیگم نے پریشانی سے پوچھا

“ہاں دادو اب خطرے سے باہر ہیں بابا نے کہا ہے آپ سے کچھ پیسے لے کر دوائی لے کر آؤ وہ جلدی میں پیسے نہیں پکڑ سکے “

“ہاں اچھا میں دیتی ہوں “کوثر بیگم جلدی سے کمرے میں گئی

“حمزہ دادو ٹھیک ہیں نہ ؟؟”

پریہان اٹھ کر حمزہ کے پاس آئی اس کی سبز آنکھیں سوجی ہوئی تھی

“فکر مت کرو وہ ٹھیک ہیں انڈر آبزرویشن رکھا گیا ہے دعا کرو “

حمزہ نے اس کے ستے ہوئے گلابی چہرے پر نظر ڈال کر کوثر بیگم کو دیکھا جو پیسے لے کر باہر آئی تھی

“اچھا امی میں جا رہا ہوں آپ لوگ دھیان رکھنا ‘

“آپی دادو ٹھیک ہو جائیں گی نہ ؟”

سمعیہ جو بچوں میں سب سے زیادہ حساس او ر دادو کے قریب تھی وہ پریہان کے گلے سے لگی ہچکیاں بھرنے لگی

“ان شاءاللہ سمی ہمیں دادو کے لیے دعا کرنی چائیے ۔۔۔”

________

“ڈاکٹر صاحب اب کیسی ہیں امی ؟!!۔۔۔”

“دیکھے علی صاحب آپ کی والدہ اب خطرے سے باہر ہیں مگر ان کے لیے زرا سا بھی سٹریس جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے آپ کو دھیان رکھنا پڑے گا “

“مگر ڈاکٹر صاحب یوں اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ امی کی دوائیاں ہم باقاعدگی سے دیتے ہیں بچے بھی ان کے ساتھ اٹیچ ہیں ان کو اکیلا نہیں چھوڑتے پھر یہ ؟؟”

“ان کا بلڈ پریشر بھی کافی ہائی تھا مجھے لگتا ہے انہیں کوئی دھچکا لگا ہے ابھی تو نہیں میں کہوں گا مگر آپ خود ان کے ٹھیک ہونے کے بعد ان سے پوچھئے گا “

“جی ڈاکٹر صاحب”

علی صاحب اسبات میں سر ہلا کر دوبارہ کرسی میں بیٹھ گئے ۔۔

“بھائی آخر امی کو دھچکا کس بات کا لگا؟؟”

“مجھے نہیں معلوم عدنان اس وقت امی کے پاس کون تھا؟”

“سمعیہ تھی بابا ۔۔!!”

حمزہ دوائیوں کا تھیلا تھام کر وہاں آتا بولا

“ہمم ۔۔۔ سمی سے پوچھیں گے “

“حمزہ پیسے لے آئے ہو ۔۔۔۔”علی صاحب لفافے میں سے دوائیاں دیکھتے بولے

“جی بابا مگر دادو کی دوائی بہت مہنگی آئی ہے صرف تین ہزار روپے ہی بچے ہیں “

“ایکسکیوز می کلثوم بی بی کے ساتھ کون ہے” تبھی وہاں نرس آئی تھی

“جی ہم ہیں “عدنان صاحب اٹھ کھڑے ہوئے

“جی یہ ہاسپٹل کی ایڈمٹ فیس ہے اسے جمع کروادیں مریض کو کل روم میں شفٹ کردیا جائے گا “

نرس ان کے ہاتھ میں بل پکرائے وہاں سے جا چکی تھی

“بھائی اتنے پیسے کہاں سے لائیں گے ابھی فیکٹری کو صحیح کرنے میں اور لوگوں کے پیسے چکانے میں ساری سیونگس

لگ گئی “

“اگر ابھی ہم کرائے کا بھی سوچیں تو سب کرنے میں ہفتہ لگ ہی جائے گا بھائی”

عدنان صاحب نے ان کے بولنے سے پہلے ہی کہا

ہمم۔۔۔ بھائی ہم وہ پلاٹ بیچ دیتے ہیں امی کی زندگی سے زیادہ اہم نہیں ہے وہ گھر

عدنان صاحب کا لہجہ مضبوط تھا

علی صاحب نے پر سوچ نظر چھوٹے بھائی پر ڈالی جو خود ماں کی بیماری پر نڈھال ہوگیا تھا

مگر ہم نہیں بیچ سکتے اسے عدنان تینوں مالکان کے دستخط ضروری ہیں

علی صاحب نے سر ہاتھوں میں دے کر کہا

پھر پری کے لیے کچھ زیور بنایا تھا میں نے اسے بیچ دیتے ہیں

بلآخر عدنان صاحب نے آخری حل سامنے کیا

نہیں عدنان وہ ہماری بچی کا زیور ہے اسے کیسے ہم استعمال کرسکتے ہیں اس کی امانت ہے

علی صاحب نے تڑپ کر کہا

“بھائی زندگی رہی تو پریہان کے لیے اور زیور بن جائے گا ابھی ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے “

________

گھر آنے بعد ایک پل کو بھی صفا کو سکون نصیب نہیں ہوا تھا

عون کی باتیں ہتھوڑے کی طرح اس کے سر پر ضرب لگا رہی تھی

“تم عزاب ہو عون “

“کیا آپ کی زندگی کا فتنہ بن سکتا ہوں “

“میں تمہیں اپنے حواسوں پر چھانے نہیں دوں گی عون یہ بہت غلط ہے “

وہ سر دباتی شدید بے زار ہوئی تھی

________

“جازب میں چاہ رہا ہوں اب کی بار میں حیا سے بات کرلو “

کمال اعوان نے اپنے کام میں مصروف جازب کو پکار کر کہا

“کس بارے میں ؟؟”

“اپنے بوڑھے سپوت کے بارے میں “

کمال اعوان نے دانت پیس کر کہا

جازب اعوان نے ایک نظر ان پر ڈال کر دوبارہ کام کی جانب دھیان لگایا

“جازب تم سیریس نہیں ہو ؟؟”

“ڈیڈ حیا نہیں مانیں گی میں جانتا ہوں میں نہیں چاہتا اس بات کے بعد وہ بالکل ہی مجھ سے بات نہ کریں “

“لیکن کوشش کرنے میں کیا جاتا ہے جازب میں تمہیں بستا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں جازب باپ ہوں تمہارا”

“لیکن وہ نہیں مانیں گی”

‘میں جانتا ہوں وہ پہلے نہیں مانے گی مگر ہم کسی کے دل کا حال تو نہیں بتا سکتے ہیں نہ “

“بابا وہ ۔۔۔”

“کیا حیا نے تم سے کچھ کہا ہے جازب ؟؟”

“نہیں ” جازب نے لب بھینج کر کہا

_______

“حدیقہ یار بس کر جاؤ “

“کب سے روئی جا رہی ہو”

“کیسے چپ کروں میں ابراہیم میں نے عون پر ہاتھ اٹھایا

اپنے بچے کے “

“ابراہیم وہ کتنے غصے میں تھا اگر اسے کچھ ہوگیا تو میں بھی مر جاؤں گی ابراہیم”

حدیقہ شاہ سسکیوں میں میں بولی

“آپ پتا تو کریں کہا گیا ہے عون رات ہوگئی ہے ابراہیم “

ملازم نے بتایا ہے میری گاڑی پر گیا ہے ٹریکر سے پتا کیا ہے میں نے لاہور کی طرف گیا ہے ‘

کیا لاہور اکیلا گیا ہے وہ ابراہیم اور وہ مجھے اب بتا رہے ہیں “

“بچہ نہیں ہے وہ حدیقہ “

“بچے آپ بھی نہیں ہیں ابراہیم کیا ضرورت تھی اسے ضد دلانے کی

تو تم نے اس کی باتیں سنی تھی “

“آپ اپنا ٹائم بھول گئے ہیں ابراہیم آپ بھی ایسے ہی تھے “

حدیقہ شاہ نا چاہتے ہوئے بھی کہہ گئی

ابراہیم شاہ نے متحیر ہو کر انھیں دیکھا

“تم مجھ پر طنز کر ہی ہو حدیقہ ؟؟ “

حدیقہ شاہ نے چونک کر ان کے لہجے پر اپنی بات پر غور کیا

“آئ ایم سوری ابراہیم میرا وہ مطلب نہیں تھا “

“تمہارا جو بھی مطلب ہے حدیقہ مگر میرا معاملہ عون سے مختلف تھا میں نے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی تھی “

ابراہیم شاہ ان پر ایک ناراض نظر ڈال کر کمرے سے باہر چلے گئے

“ابراہیم سنیں تو “

“اُف خدایا!!”

________

“عون تم یہاں اس وقت “

حدید شاہ نے حیرانگی سے اپنے کمرے میں کھڑے عون کو دیکھا

وہ اس وقت شرٹ لیس ہی کھڑے تھے

جب عون ضبط کی تمام کڑیوں کو توڑ کر حدید شاہ کے گلے لگ گیا

“مامو میں اس سے محبت کرتا ہوں اگر وہ مجھے نہ ملی تو خود کو کچھ کرو لو گا”

“مامو میں مر جاؤں گا “

عون کی بے بس آواز اور اس کے آنسو سے اپنے بھیگتے سینے پر وہ تڑپ اٹھے وہ مردہ زخم جیسے ان آنسوؤں کی حدت سے جل اٹھا تھا ۔۔۔

عون میری جان کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ

حدید شاہ نے اسے سامنے کرکے فکرمندی سے کہا

“مامو صفا کی منگنی ہونے والی ہے مامو میں مر جاؤ گا اگر وہ مجھے نہ ملی”

میں نہیں رہ سکتا اس کے بغیر میرے لیے یہ بات نا قابلِ برداشت ہے کہ وہ کسی اور کے نام سے جانی جائے گی “

“تم فکر مت کرو میں حدیقہ سے بات کرتا ہوں “

“نہیں مانیں گی ماں بابا نے صاف انکار کردیا ہے وہ بابا کے خلاف جا کر کچھ نہیں کریں گی “

میں انھیں مناؤ گا عون حدید شاہ نے سمجھانا چاہا

عون نے ان کے ہاتھ جھٹکے

” کوئی ضرورت نہیں ہے ان کو منانے کی آپ بتائیں آپ چل رہے ہیں کہ نہیں۔ “

“عون “

“ہاں یاں نہیں ماموں ؟!!۔۔۔”

“نہیں تو اپنی محبت پانے کو میں اکیلا ہی کافی ہوں “

عون کے لہجے کی شدت نے انھیں ماضی کے دن یاد دلائے تھے وہ خوفزدہ ہوئے تھے وہ پہلی بار عون کے اپنے جیسے ہونے پر خوفزدہ ہوئے تھے ۔۔۔

_______

حدید شاہ عجلت کے ساتھ نیچے اترے پیچھے ان کے عون بھی تھا جب ماں جی کی نظر دونوں پر پڑی

حدید ان کی کمزور آواز پر وہ دونوں تھمے تھے

عون نے چونک کر دیکھا

وہ اس کی دادو تھی ان کی ملاقات نہیں ہوتی تھی وہ یہاں آج زندگی میں دوسری دفعہ آیا تھا

حدیقہ کے بیٹے ہو نہ ؟؟؟

وہ پیار دینا چاہتی تھی مگر ہاتھ نہیں اٹھ پا رہے تھے

عون نے خود ہی اپنا سر جھکایا

جیتے رہو

“عون کدھر جارہے ہو بیٹا؟؟ “

“ضروری کام ہے شگفتہ ان کا دھیان رکھنا “

حدید شاہ ملازمہ کو ہدایت دیتے باہر کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔

_______

“ہاں بولو صابر ؟؟”

“سر میں نے آپ کو تصویریں بھیجی تھی “

ہمم صابر میں چیک کرتا ہوں تم بتاؤ جو کام کہا تھا ہوگیا ؟؟

سر اسی کام کے متعلق آپ کو دو چیزیں بھیجی ہیں میں نے

صابر کے لہجے میں کچھ تو تھا جو گاڑی چلاتے ہوئے حدید شاہ نے فون اون کرکے صابر کے میسجز دیکھے

تصویر پر نظر پڑتے ہی انھوں نے ایک جھٹکے سے بریک پر پاؤں رکھا

“سائیڈ پر باہر کی جانب دیکھتے عون کا سر سامنے لگتے لگتے بجا

کیا ہوا ہے مامو ؟؟”