212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 28)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“یہ لیں علی صاحب کچھ زیور میرا بھی پڑا ہوا ہے “

وشمہ بیگم کے پھینکنے کے سے انداز میں سامان رکھنے کے بعد کوثر بیگم بھی ہاتھ میں تھاما کچھ جیولری کا سامان کے آئی دونوں بھائیوں نے گہری بے بس سی سانس ہوا میں سپرد کی

“حمزہ ادھر ہی کوئی سامان چائیے تو بچوں سے کہہ کر منگوا لینا “

“تایا امی سمعیہ کو بخار ہوگیا ہے “

پریہان دھیمے لہجے میں کہتی اپنی ماں کا چہرہ تکنے لگی

“میں دوائی دیتی ہوں پری تم سمی کو کھلا کر سلا دو “

کوثر بیگم پریہان کو اشارہ کرتی وہاں سے چلی گئی پیچھے وشمہ بیگم نے ابھی آنکھوں میں جمع نمی کو صاف کیا

“بات یہاں اپنی بیٹی پر تھی تو آنکھیں بھر آئی”

اپنی ہی آواز قریب سے سنائی دی تو انھوں نے گھبرا کر ارد گرد دیکھا جہاں کوئی بھی نہیں تھا

_______

“افف میں کیا بتاؤں جو سارے سوال آپ نے کروائے تھے تقریباً وہ ہی آئے میں نے پیپر دیکھا اور پھر ایسے ایسے لکھنا شروع کردیا پتا ہی نہیں لگا “

انابیہ ہاتھ کے اشارے بنا بنا کر اسے آج کے واقعات سنا رہی تھی جس پر کبھی بالاج ہنس دیتا کبھی انابیہ کے ایکسپریشن کے مطابق سنجیدہ ہوجاتا

باتیں طویل ہوئی بالاج نے موبائل نکال کر کوئی مسیج پڑھنا شروع کیا مگر اس کا سارا دھیان انابیہ کی طرف تھا

“مگر اسے کہاں قبول تھا اس کی موجودگی میں بالاج کی آنکھیں بھی کہیں اور ہو “

“افف لاج میرے آگے بیٹھا باسم مجھے بار بار ڈسٹرب کر رہا تھا کہ اس کی پیپر میں ہیلپ کروں میں نے ایک سوال بتایا بھی مگر انوجیلیٹر نے دیکھ لیا اس بد تمیز کی وجہ سے مجھے ڈانٹ پٹی”

انابیہ نے چور نظروں سے بالاج کے بدلتے تاثرات پر نظر ڈال کر مزے سے کہا

“کوئی ضرورت نہیں ہے آئندہ کسی کی بھی ایسی مدد کرنے کی خاص طور پر کسی لڑکے ‘

بالاج نے فون کی سکرین سے آنکھیں اٹھا کر اسے سخت نظروں سے گھورا

انابیہ نے مسکراہٹ دبائی وہ کامیاب ہوئی تھی لیکن ابھی بھی بالاج فون میں مصروف تھا

“کوئی بات نہیں لاج مدد کرتے رہنا چاہیے وہ باسم میرا دوست۔۔۔۔”

اس بار بالاج کی گھوری تنبیہہ والی تھی

انابیہ لفظ میں ردوبدل کرگئی

“میرا مطلب کلاس فیلو ہے “

“تمہیں ایک بات سمجھ نہیں آتی انابیہ بالاج خان میں نے منع کردیا تو مطلب نو ارگیومنٹس “

“مگر ۔۔۔”

“مار کھاؤ گی مجھ سے انا “

آپ مجھے شادی کے ۔۔۔۔

انگلیاں واہ کرتی

“لاج فوٹی ایٹ میں بارہ ڈالو تو کتنے ہوتے ہیں”

سدا کی میتھس میں نکمی انابیہ بات روک کر سنجیدگی سے بولی

“ساٹھ” بالاج نے نچلے لب کا کونہ دانتوں میں پھسا کر مسکراہٹ روکے کہا

“ہاں آپ مجھے شادی کے ساٹھ گھنٹے بعد مار کھاؤ گی جیسی سخت دھمکی دے رہے ہیں “

اس بار بالاج اپنی ہنسی روک نہیں پایا تھا

“تم چاہتی ہو تمہیں کھا جاؤ “

بالاج کے اتنے سے جملے نے اس کے گال سرخ کردئیے تھے

“نہیں میں چاہتی ہوں آپ مجھے کچھ کھلا دیں نہیں تو میں اپنی ساس پلس موم سے کہوں گی آپ کا بیٹا مجھے کچھ کھلاتا پلاتا نہیں ہے “

وہ نوٹنکیوں سے باز نہ آئی

بالاج نے گاڑی کا رخ اپنے اور اس کے پسندیدہ ریستوران جی جانب موڑ لی

________

“بیٹا کیا ہوا ہے ؟”

حمزہ سر ہاتھوں میں تھامے ویٹنگ ایریا میں بیٹھا ہوا تھا جب تقریباً عدنان صاحب کی عمر کے شخص نے اسے ہلا کر پوچھا

نہیں کچھ نہیں حمزہ سر اٹھا کر ان کی جانب دیکھ کر دوبارہ سر جھکا گیا

“بتاؤ ہوسکتا میں کچھ مدد کردوں “

اس آدمی نے گہرے لہجے میں کہا

دادو بیمار ہیں میری ہارٹ اٹیک ہوا ہے انہیں دوائیوں کے لیے اتنا مہنگا علاج ہے اور پیسے نہیں ہیں

حمزہ سر جھکائے کہتا چلا گیا

تو اس میں پریشان ہونے والی کون سی بات ہے میری بیوی کے بھی سٹنٹ ڈلے ہیں

تم ایک درخواست جمع کرواؤ ریسیپشن پر ہسپتال والے تھوڑی سی تحقیق کے بعد علاج مفت کردیں گے

وہ شخص حمزہ کو در دکھاتا وہاں سے چلا گیا پیچھے حمزہ اٹھ کھڑا ہوا کوشش کرنے میں کیا مسئلہ ہے ۔۔۔

_______

اسلام آباد تک کا راستہ عون نے ہی گاڑی چلا کر مکمل کیا تھا حدید کی طرف ایک دم سے ہوئی خاموشی نے عون کو ضرور پریشان کردیا تھا

عون اور حدید شاہ اس وقت حدید کے اسلام آباد والے گھر میں موجود تھے ۔۔۔

“ماموں آپ ادھر کیوں آگئے ہیں آپ نے جانا نہیں ہے میرے ساتھ صفا کے گھر ؟۔۔۔”

عون نے حدید شاہ کو پیشانی مسلتے دیکھ کر بے چینی سے کہا

“خاموش ہوجاؤ چھوٹے شاہ تھوڑی دیر کے لیے “

حدید شاہ نے تنگ آکر کہا

کیوں ماموں کہی آپ بھی مما بابا کی طرح مجھے ٹال رہے ہیں

عون کا لہجہ بلند ہوا

“میرا دماغ مت خراب کرو عون جاؤ یہاں سے “

حدید شاہ نے اس سے بھی زیادہ بپھرے ہوئے لہجے میں کہا

“جارہا ہوں آپ بھی میرے ساتھ ایسا کریں گے مجھے امید نہیں تھی “

عون کرسی پر لات مار کر وہاں سے جانے لگا جب حدید شاہ نے اس کی جذباتی طبعیت کے باعث اسے روکا

“ٹھہرو عون “

عون نہ چاہتے ہوئے بھی رک گیا کیونکہ اگر کوئی اس کا مسئلہ حل کر سکتا تھا تو وہ حدید شاہ تھے

“آپ جائیں گے ماموں ؟؟”

“نہیں عون وہ لڑکی تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے وہ اچھی لڑکی نہیں ہے “

“یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں وہ میرے لیے ٹھیک ہے یاں نہیں “

“اور مجھے آپ کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے “

عون کا تو دماغ ہی پھر گیا صفا کے لیے ایسے الفاظ سن کر

‘تم ایک غیر لڑکی کے لیے اپنے ماموں پر چیخ رہے عون !!۔۔۔”

حدید شاہ کی غصے سے تھے تنی

دل جلنے لگا

“غیر نہیں ہے وہ محبت ہے میری اور میں ان کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا چاہے میرے سامنے کوئی بھی ہو “

“ناجائز ہے وہ لڑکی “

الفاظ تھے یاں کھنجر عون کو دل کے مقام پر درد ہوا اور وہ بلبلا اٹھا

_______

“اور بھائی صاحب شادی کروا کر بھول گئے کیا ؟؟”

شجاع نے بالاج کو کال کرکے میٹھا سا طنز کیا

بالاج ہنس دیا

“بھول تو تو گیا ہے اپنی پھوپھو کے گھر جا کر”

بالاج کہاں پیچھے رہنے والا تھا

ہاں یار بس پھوپھو کی طبیعت خراب تھی بہت اب اللہ کا شکر ہے بہتر ہے کل تک آجائیں گے ہم اسلام آباد واپس

ان شاءاللہ میری طرف سے سلام کہنا

بالاج نے ڈریسنگ روم سے نکلتی انابیہ کو دیکھ کر آخری کلمات کہہ کر فون رکھا

لاج میں کیسی لگ رہی ہوں

دونوں ہاتھوں پر مہندی ہنوز کھلی ہوئی تھی مہرون ویلویٹ کی لونگ چاک والی قمیض سکن کلر کا دوبٹے گلے میں ڈالے وہ اس کے سامنے کھڑی تھی

بہت پیاری بالاج نے اس کے ہاتھ تھام لیے اچھا آپ مجھے بریلسٹ پہنا دیں مجھ سے بند نہیں ہوتا وہ ہاتھ چھڑوا کر جلدی سے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا نازک سا بریسلٹ پکڑ کر اس کے پاس لے آئی

بالاج نے اس کی دائیں کلائی پر بریلسٹ پہنا کر اسے دیکھا جو چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی

کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں انابیہ اس کے مسلسل دیکھنے پر کچھ جھینپ سی گئی

میں دیکھ رہا ہوں انا تم شادی کے بعد خوبصورت ہوگئی ہو یاں پہلے سے ہی خوبصورت تھی

بالاج کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنسی

“میں تو پہلے سے ہی بہت خوبصورت تھی”

اس بار انابیہ نے اس کے گال کھینچ کر بدلہ پورا کرکے بھاگی

پھر باہر آکر اپنی خود کی حرکت پر حیران سی ہوتی شرما گئی

“اف انابیہ اف۔۔۔!! کیا کرتی ہو تم بھی”

_______

علی اور عدنان صاحب ابھی سنار کی دکان کے باہر ہی کھڑے تھے جب علی صاحب کے فون پر حمزہ کی کال موصول ہوئی

بابا دادو کے علاج کا انتظام ہوگیا ہے آپ لوگ ہسپتال آجائیں

حمزہ کی کال ان دونوں بھائیوں کے لیے اب حیات ثابت ہوئی تھی

علی صاحب نے ایک شکرانہ نظر آسمان پر ڈالی

اللہ نے انھیں اپنی بچیوں کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچا لیا

ان کی امانت میں آنچ نہ آئی ۔۔۔۔

وہ دونوں بھائی اللہ کا شکر ادا کرتے ہسپتال کے راستے پر نکل گئے ۔۔۔

_______

صفا جلدی ہی یونیورسٹی سے واپس آگئی وہاں اسے عجیب سی گھٹن ہورہی تھی

گھر میں داخل ہوتے انواں اقسام کے کھانوں کی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی

دل نہیں کر رہا تھا مگر صبح سے بھوکی رہنے کی وجہ سے انتڑیاں سکھڑ سی گئی تھی

ابھی وہ اندر لاونج میں ہی داخل ہوئی تھی ایک دم سے پارٹی پوپڑ سے نکلنے والے چمکیلے کی بارش نے اسے چونکا دیا

‘کانگریچولیشنز آپی “

انابیہ اس کے گلے لگ گئی ۔۔۔۔

صفا نے حیرانگی سے انابیہ اور اس کے پیچھے آتی حیا کو دیکھا

“تمہارا ٹیسٹ کلیئر ہوگیا ہے میری جان “

حیا نے اسے پیار سے اپنے حصار میں لیا

“میرا۔۔۔ٹیسٹ” صفا بے یقینی سے حیا کو دیکھنے لگی

“جی “

مبارک ہو بچے کمال اعوان جو حیا کی دعوت پر یہاں موجود تھے انھوں نے صفا کے سر پر ہاتھ رکھا جو ہنوز بے یقین تھی

بالاج جب کیک لے کر اس کے پاس آیا تو اسے ہوش آیا

کیک کاٹنے کے بعد کھانے کا دور چلا

“تو اب بیٹا آگے آپ کا کیا پلین ہے ؟؟”

جازب کمال نے چائے کا کپ تھامے ہوئے صفا سے پوچھا

“میں مما کو اسسٹ کروں گی انکل مجھے ان کی طرح ایک دیانتدار اور کامیاب وکیل بننا ہے “

صفا کے لہجے میں اپنی ماں کے لیے احترام اور محبت بھی

“ان شاءاللہ ویسے میں بتا دوں آپ کی مما بہت سٹرکٹ سنئیر

ہیں “

جازب کمال نے رازداری سے کہا تو صفا ہنس دی

“مما ہیں میری “

صفا نے ہنس کر کہا

“بھول ہے آپ کی آپ کو اس بات کا فیور ملے گا “

حیا نے صفا کی خوش فہمی دور کی

انکل آپ کو اسسٹنٹ کی ضرورت نہیں ہے کیا

صفا نے ڈرنے کی اداکارہ کرتے ہوئے ماں کو متوجہ کرتے جازب کو کہا

“ہاں ہاں کیوں نہیں “

جازب کمال نے مسکراہٹ دبا کر کھلی آفر دی

کمال اعوان نے حیا سے کچھ کہا جو اسبات میں سر ہلاتی ان کے ساتھ اٹھی تھی صفا اب جازب کمال سے باتوں میں مصروف تھی انابیہ بھی کبھی اشتیاق سے دونوں کی گفتگو کو سن لیتی کبھی خود کو دیکھتے بالاج پر نظر ڈال لیتی

________

حمزہ نے درخواست جمع کروا دی

اب ویری فیکیشن ہورہی تھی

“ویسے یہ سب پہلے تو نہیں تھا ہسپتال میں اب اچانک ؟؟”

حمزہ کو ہضم نہ ہوا اتنی بڑی رقم کا معاف ہوجانا وہ حیران تھا ایک ہی درخواست میں ان کی فیس معاف کردی گئی

اس نے وارڈ بوائے سے پوچھا

“ہاں یہ سب ابھی ہوا ہے کل ہی آرڈر آئے ہیں اس لیے کام جلدی جلدی ہورہا ہے ابھی سب نیا نیا ہے نہ دراصل ہسپتال کا اونر خرم داد مختلف کیسوں میں پکڑا گیا ہے اور جن دو وکیلوں نے پکڑوایا ہے انھوں نے اس ہسپتال میں مہنگا علاج فری کرنے کی غرضی دے تھی جو ساتھ ہی قبول کر لی گئی “

“اللہ بھلا کرے دونوں کا اس ہفتے اس ہسپتال کا پھر سے افتتاح ہے جس میں ان دونوں نے آنا ہے غریبوں نے اتنی دعائیں دی ہیں انہیں “

وارڈ بوائے کی بات کر حمزہ کے دل سے بھی بے ساختہ دعا نکلی تھی ان دو وکیلوں کے لیے جنہیں اللہ نے وسیلہ بنایا تھا ۔۔۔۔

_______

“خاور میری طبیعت کا کوئی بھروسہ نہیں اگر مجھے کچھ ہوا تو میری فائزہ کو ساتھ لے جانا میری بچی تجھے تنگ نہیں کرے گی بہت صابر ہے “

“باجی کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ؟؟”

“خاور صاحب نے بے چینی سے اپنی ماں جائی کی باتوں پر کہا

ہاں خاور تجھے رب سوہنے دا واسطہ یہ معاشرہ اکیلی جوان عورت کو جینے نہیں دیتا “

انسانی بھیڑیے چیڑ کھاتے ہیں

“باجی آپ فکر مت کریں فائزہ میری بچی ہے بلکہ آپ بھی چلیں میرے ساتھ ہم وہاں اچھے ڈاکٹر کے پاس جاتے آہ جلدی ٹھیک ہو جائیں گی “

خاور صاحب نے ان کا جھریوں سے بھرا ہاتھ تھاما

“نہیں خاور میں اپنی آخری سانسیں اپنے گھر میں لینا چاہتی

ہوں “

شجاع کو خبر ہوئی تھی صفا ٹیسٹ پاس کر گئی ہے وہ میسج میں اسے مبارک باد دیتا موبائل ہاتھ میں پکڑے باہر آیا

جب صحن میں اسے ہیولہ سا نظر آیا

سیاہ لمبے بال شانوں میں بکھیرے وہ گھٹنے میں سر رکھے بیٹھی ہوئی تھی

“اس وقت بالوں کو کھلا چھوڑ کر بے خبر بیٹھنے سے چڑیلیں چمٹ جاتی ہیں “

شجاع کی آواز پر فائزہ نے چونک کر اسے دیکھا اور اپنے سر پر دوبٹہ لیا

“مجھے پتا نہیں لگا “

“اتنے آنسو کہاں سے آجاتے ہیں آپ لڑکیوں کے پاس “

شجاع نے حیرانگی سے کہا

مگر وہ کچھ بھی کہے بغیر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی

شجاع نے حیرانگی سے اس خاکی جگہ کو دیکھا

“روڈ”

________

رات کو صفا کمرے میں آئی تو اس کا فون رنگ ہوا

میسج کی آواز تھی

اس نے جلدی سے فون اون کرکے میسج والا فولڈر اوپن کیا

اسے مبارک باد دی گئی تھی

صفا کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی

بے شک جتنا مرضی ناراض صحیح عون اس سے بے خبر نہیں تھا ابھی وہ میسج پورا پڑھ رہی تھی آخر میں لکھے شجاع کے نام نے اس کی مسکراہٹ چھین لی ۔۔۔۔۔