212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 47)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

فجر کی اذانوں کا وقت تھا سیاہ رنگ گی گاڑی اسلام آباد کے راستوں پر گامزن تھی گاڑی کے اندر کا منظر بھی باہر ہی کی طرح خاموش سا تھا جہانگیر خان نے فرنٹ مرر کو صحیح کرکے شیشے سے ہی گاڑی میں پچھلی سیٹ پر آنکھیں موندی بیٹھی حیات کی جانب دیکھا

اس کے سر اور ہاتھ پر سفید پٹی بندھی ہوئی تھی اس کا سفید پٹی والا ہاتھ پیٹ پر جبکہ دوسرا ہاتھ ریگزین کی سیٹ پر دھرا ہوا تھا جب جہانگیر نے نظریں ہٹا کر اپنے بائیں جانب بیٹھی اریبہ کو دیکھا جو اس ننھے سے بچے کو گود میں لئیے مسکراتی نظروں سے دیکھ رہی تھی

ابھی تھوڑی دیر پہلے حیات کی بے ہوشی میں دونوں میاں بیوی میں بحث ہوچکی تھی اریبہ حیات کو ساتھ لے جانے پر با ضد تھی مگر جہانگیر کو وہ مشکوک لگی وہ کیسے کسی ایسی عورت کو گھر لے جا سکتے ہیں جس کے نام سے بھی وہ لوگ واقف نہیں کون ہے کہاں سے آئی کس سے بھاگ رہی تھی

رات کے اس پہر ہاتھ میں بچہ اور زیور اٹھائے وہ کیا کر رہی تھی وہ پولیس والا تھا ہر چیز کو مشکوک نظروں سے دیکھتا تھا

مگر اریبہ بچے کو تھام کر سب بھولے بیٹھی تھی جہانگیر پلیز اس نے ہاتھ جوڑ دئیے تھے اور یہاں جہانگیر خان بے بس ہوگئے

گاڑی کے رکنے کر حیات نے آنکھیں واہ کی

اریبہ نے اسے بازو سے تھام کر باہر نکالا

یہ پانچ مرلے کا صاف ستھرا اور خوبصورت سا گھر تھا جو ان دونوں میاں بیوی کے لیے کافی تھا

اریبہ اور جہانگیر رشتے میں ایک دوسرے کے کزن لگتے تھے اریبہ کی ماں کے انتقال کے بعد بابا نے دوسری شادی کرلی اور تب جہانگیر کی ماں سے بہن کی اکلوتی اولاد رلتی برداشت نہ ہوئی تو اسے اپنے ہی گھر لے آئی اریبہ نے خالہ کے ہی گھر پرورش پائی وہاں ہی جوان ہوئی وقت کے ساتھ اریبہ اور جہانگیر میں کافی گہری دوستی ہوگئی تھی دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہتے تھے اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جہانگیر کی والدہ نے دونوں کا چھوٹی عمر میں ہی نکاح کردیا تھا جہانگیر اپنے پولیس امتحان کی تیاری کر رہا تھا جبکہ اریبہ نے انٹر کرکے گھر سنبھالنے کی طرف دھیان دیا کہ اچانک جہانگیر کے والد کی طبیعت بگڑی اور وہ دار فانی سے کوچ کر گئے اریبہ کے لیے تو اپنے خالو خالہ ہی ماں باپ تھے اس نے اس بات کو دل سے لگا لیا

اریبہ کی خراب ہوتی حالت دیکھ کر جہانگیر کی والدہ نے دونوں کی رخصتی طے کردی تاکہ جہانگیر اسے سہارا دے جبکہ وہ خود اپنے شوہر کے جانے کا غم دل دبائے بیٹھی تھی

دونوں کی رخصتی کے بعد وہ بھی پرسکون ہوتی اپنی آخرت کے سفر پر گامزن ہوگئی

اب جہانگیر اور اریبہ ہی ایک دوسرے کا سہارا تھے جہانگیر انسپکٹر بن چکا تھا جبکہ اریبہ نے اپنے سلیقہ شعار طبیعت کے باعث چھوٹی عمر میں ہی گھر بار سنبھال لیا تھا مگر ان دونوں کی خوشحال زندگی میں ایک کمی تھی

اولاد کی کمی جو جہانگیر سے زیادہ اریبہ محسوس کرتی تھی وہ دن با دن حساس ہورہی تھی جس کی وجہ سے آج جہانگیر اسے لاہور کے کلینک لے آیا جہاں کا بہت سن رکھا تھا ۔۔۔۔

________

اریبہ نے حیات کے آگے کھانا رکھا جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی جہانگیر لے کر آیا تھا

مگر حیات خاموش سی بیڈ پر بیٹھی سامنے آف وائٹ رنگ کی دیوار کو دیکھ رہی تھی

“کھانا کھا لو” اریبہ نے دھیرے سے اسے ہلایا مگر جواب ندارد

وہ مایوس ہوتی واپس کمرے سے نکل کر لاونج میں آگئی جہاں صوفے پر ٹیک لگا کر بیٹھے جہانگیر اپنے آگے رکھے سامان کو دیکھ رہے تھے

یہ حیات کا سامان تھا جو کل رات کو اس کے بے ہوش ہونے کے بعد جہانگیر نے گاڑی میں رکھ لیا تھا

خان نے اس کے سامان کے ساتھ بندھی ہوئی فائلز دیکھی اسے کھول کر پڑھنا شروع کیا حیات “حیات حفیظ ” وہ اونچا بولے

جہانگیر جیسے جیسے پڑھتے جارہے تھے ان کے چہرے کے تاثرات بھی بدلتے جا رہے تھے

“کیا ہوا ہے جہانگیر؟” اریبہ نے ان کے شانے پر ہاتھ در کر پوچھا

“حیات حفیظ نام ہے اس کا کافی پڑھیں لکھی ہے اس کے تعلیمی سرٹیفیکیٹ اور یہ اس کی پریگننسی رپورٹ “

جہانگیر نے دونوں فائلز اریبہ کے سامنے کی جب اریبہ کو اندر سے رونے کی آواز آئی یقیناً وہ بچہ رو رہا تھا

دونوں میاں بیوی اندر گئے تو بیڈ پر لیٹا وہ گل گتھنا رو رہا تھا مگر حیات حفیظ اس کی جانب دھیان دئیے بغیر ہنوز دیوار کر دیکھ رہی تھی

اریبہ سے رہا نہیں گیا تو اس نے وہ بچہ اپنی گود میں بھر لیا

“حیات بچے کیا ہوا ہے ؟”جہانگیر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے پوچھا

حیات نے چونک کر سر اٹھایا اس کی سبز آنکھیں بھیگنے لگی

“علی بھائی” وہ جہانگیر کے سینے سے لگ گئی

“علی بھائی وہ میرا بچہ چھین لے گا علی بھائی میں ۔۔۔میں نہیں دوں گی اسے اپنا بچہ” وہ روتے ہوئے ہانپ گئی

جب اس کا دھیان اپنے ہاتھوں پر گیا

“میرا بچہ۔۔!!” اس نے درشتگی سے اریبہ کے بازوؤں میں سے احمد کو کھینچا

یک دم سے اریبہ کو اپنا آپ کھالی سا لگنے لگا

جہانگیر نے روتی ہوئی حیات کو دیکھ کر ایک نظر اریبہ کو دیکھا پھر حیات کے سر پر ہاتھ رکھ کر کچھ فاصلہ قائم کیا

حیات ا حمد کو دیوانہ وار چومنے لگی تھی وہ اتنے جارحانہ پیار پر رونے لگا

احمد کے رونے پر اس نے احمد کو خود میں بھینج لیا

“میرا بچہ ” حیات نے بے ساختہ اپنا ہاتھ وہاں رکھا جہاں سے اس کے ساتھ دوسری سانسیں جڑی تھی

اس نے خوفزدہ نظروں سے اریبہ کی جانب دیکھا

جو یقیناً اس کی آنکھوں کا اشارہ سمجھ چکی تھی تبھی اثبات میں سر ہلایا

“ٹھیک ہیں تمہارے دونوں بچے حیات “

اریبہ نے نرمی سے کہا

“روتے نہیں ہیں حیات بچے” جہانگیر نے نرمی سے کہا تو حیات کو ہوش آنا شروع ہوا خود کو ایک غیر شخص کے قریب دیکھ کر وہ اچھل کر دور ہوئی تھی

اس نے غیر شناسا نظروں سے اریبہ اور جہانگیر کو دیکھا تھا

دل میں خوف کی لہر ابھری

مگر اریبہ نے نرمی سے اس کے قریب ہوکر اسے رات کے ایکسیڈنٹ سے لے کر ہاسپٹل تک کا سب کچھ بتایا

حیات روتے ہوئے ان کے آگے ہاتھ جوڑ گئی

” آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ” وہ روتے ہوئے بولی

“پلیز مت رو بچے ہمارا تو فرض تھا ” جہانگیر اس کی آنکھوں سے چھلکتا کرب محسوس کئیے بولا ۔۔۔

اریبہ نے اسے گلے لگا لیا

“اچھا روتے نہیں ہیں دیکھو بے بی بھی کب سے رو رہا ہے ایسے تو تم دونوں بیمار پر جاؤ گے “

حیات نے تشکر سے دونوں کو دیکھا

جہانگیر اریبہ کو اشارہ کرکے باہر نکل گئے

“تم بیٹھو میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتی ہوں حیات “

اریبہ نے نرمی سے اسے بیڈ پر بٹھا کر کہا

حیات احمد کو دیکھنے لگی پھر نرمی سے اس کے دونوں گال چومے

“جہانگیر ؟ ” کیا سوچا ہے پھر تم نے اریبہ

“کیا مطلب جہانگیر آپ نے اس کی کنڈیشن نہیں دیکھی وہ “کس حال میں ہے اس کا چھوٹا سا بچہ ہے اور وہ پھر سے امید سے ہے اور ابھی وہ جس طرح رو رہی تھی اپنا بچہ پکڑ کر میں اس حال میں اسے نہیں جانے دوں گی جہانگیر میں عورت ہوں اولاد کا دکھ جانتی ہوں “

“آپ سمجھ رہے ہیں نہ جہانگیر ..”

“ہم ۔۔۔”

________

اریبہ حیات کے منہ سے سب سن کر رونے والی ہوگئی تھی اسے حدید جیسے شخص سے اسے شدید نفرت سی ہوئی جبکہ جہانگیر نے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرتے حدید کے بارے میں پتا کروایا تھا اسے خطرہ محسوس ہوا تھا حدید شاہ کافی اثرورسوخ والا شخص تھا اگر اسے خبر ہوتی کہ اس کی بیوی اس کے بچے کے ساتھ یہاں ہے تو وہ ان دونوں کو بھی نقصان پہنچانے میں کوئی عار محسوس نہ کرتا

مگر اریبہ کے آنسو دیکھ کر وہ بے بس ہوگیا تھا اس کا اکلوتا رشتہ اس کی تمام تر محبت کی اکلوتی وارث تھی اریبہ وہ کیسے اسے روتا برداشت کر سکتا تھا ۔۔۔۔

جہانگیر نے سب سے پہلے اس ہاسپٹل میں جا کر حیات کے نام کی ری انٹری کروائی اور حیا خان لکھوایا تھا وہ پولیس والا تھا جانتا تھا چھوٹی سی چھوٹی چیز بھی نظر میں آسکتی ہے

________

اریبہ نے نو ماہ حیات کا ہر طرح سے خیال رکھا احمد کی تمام زمہ داریاں اس کر اوپر آچکی تھی حیات بہت کم اب احمد کو پکڑتی تھی خود کا دھیان رکھنا بھی وہ چھوڑ ہی چکی تھی اب بس اریبہ ہی تھی جو اس کے پاس بیٹھی رہتی یاں اس کی دلجوئی کرتی ۔۔۔۔

ہر مہینے باقاعدگی سے اس کا چیک اپ ہوتا تھا اب وہ “حیات٫ نہیں “حیا خان” تھی ۔۔۔۔

جہانگیر تھکا ہوا اپنی لیٹ نائٹ ڈیوٹی سر انجام دے کر صبح گھر آیا تو اریبہ کمرے میں نہیں تھی جہانگیر کے ماتھے پر سلوٹیں پڑی وہ جب گھر آتا تھا اریبہ یاں تو حیا کے کمرے میں ہوتی یاں اس بچے کو گود میں لئیے ٹہلتی رہتی

ان سب میں وہ خود کے ساتھ ساتھ جہانگیر کو بھی برہ طرح اگنور کر رہی تھی

جہانگیر سخت تاثرات لیے باہر لاونج میں آیا جب اس کی نظر صوفے پر لیٹے احمد پر پڑی وہ رونے کو تیار تھا

جہانگیر کے دل میں کیا سمائی اس نے احمد کو گود میں اٹھا لیا

وہ بلا کا خوبصورت اور پرکشش بچہ تھا اوپر سے اس کی بڑی بڑی سبز آنکھیں اپنی جانب متوجہ کرنے کی حیثیت رکھتی تھی

جہانگیر کو اسے اٹھائے ایک اچھوتے سے احساس نے اپنی لپیٹ میں لیا وہ بچہ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں کو اس کے چہرے پر پھیرے اسے اپنا اسیر کر رہا تھا

جہانگیر نے بے ساختہ اس نے ننھی مٹھی کو ہاتھ میں بھر کر چوم لیا ۔۔۔۔

ارے ابھی انی اپنے بچے کو فیڈی دیتی ہے

احمد کے کھلکھلانے پر اریبہ ہنستے ہوئے ہاتھ میں فیڈرل تھامے باہر آئی

“آپ ۔۔۔آپ کب آئے جہانگیر “

اریبہ نے چونک کر جہانگیر کو دیکھ

“جب تم اس کا فیڈر بنانے میں بزی تھی” جہانگیر نے خفا لہجے میں کہا

“مجھے لگا آپ لیٹ ہو جائیں گے” وہ شرمندہ ہوئی واقع وہ جہانگیر کو صحیح سے وقت نہیں دے پارہی تھی

“اچھا دیں میں اسے فیڈر پلا لوں آپ بتائیں آپ ناشتہ کریں گے یاں پہلے آرام میں آرہی ہوں آپ کے پاس “

اریبہ نے احمد کو لینا چاہا مگر جہانگیر نے اس کے ہاتھ سے فیڈر لے لیا

“تم ہم دونوں کو ناشتہ لے کر کمرے میں ہی آجاؤ “

“احمد کو فیڈر ماموں پیلا دیں گے جہانگیر نے اس کے منہ کے ساتھ فیڈر لگایا “

اریبہ مسکرا دی

اس دن کے بعد سے اریبہ کے ساتھ ساتھ جہانگیر بھی احمد کا دھیان رکھنے لگا تھا ۔۔۔۔

_______

بلآخر آج وہ دن آہی گیا جب حیا نے ایک پیاری سے بچی کو جنم دیا بچی کو گود میں لے کر اس کے چہرے پر نظر ڈالتے ہی حیات بلک بلک کر روئی حدید جیسے نین نقش والی بچی حیات کے دل کو غم سے بھر گئی اس بچی کو ایک دفعہ دیکھنے کے بعد حیات نے دوبارہ ہاتھ نہیں لگایا وہ جیسے خود سے ہی ضد لگا کر بیٹھ گئی تھی اریبہ نے بہت کوشش کی مگر حیات ضد پکڑ چکی تھی اسے اس بچی میں حدید نظر آتا تھا ویسی ہی ہوبہو آنکھیں ہونٹ اسے وحشت ہونے لگتی تھی اریبہ نے ہی اس بچی کا نام صفا رکھا جہانگیر خان نے ہاسپٹل سے دونوں بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ جاری کروائے جس میں احمد کا نام بالاج خان اور اور بچی کا نام صفا خان درج کروایا تھا وہ اتنے مہینوں بعد بھی رسک نہیں لینا چاہتا تھا ۔۔۔۔

صفا کا زیادہ وقت اریبہ کے پاس ہی گزرتا وہ اریبہ کی چندہ تھی جس سے اریبہ بالاج سے بھی زیادہ محبت کرتی تھی اس کے تمام چھوٹے بڑے کام اریبہ کے اوپر ہوتے ایسے میں حیا کی طبیعت درست ہونے پر جہانگیر نے اسے آگے پڑھنے کا مشورہ دیا

حیا جہانگیر کے مشورے پر چونک گئی

“مگر میں بھائی ۔۔۔۔؟!” وہ تعاجب سے اسے دیکھنے لگی

“میں صحیح کہہ رہا ہوں حیا بچے اپنی پریکٹس مکمل کریں یہ شعبہ آپ کی اگلی زندگی میں بہت کام آئے گا آپ کے بچوں کے لیے اگر کل کو خدا نخواستہ حدید شاہ آپ کو ڈھونڈ لیتا ہے تو آپ اس قابل ہوں گی آپ اپنی جنگ لڑی سکیں بہادر بنیں حیا اب فیصلہ لے ہی لیا ہے تو اس پر اٹل رہیں “

جہانگیر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس پر نئے در کھولے تھے ۔۔۔۔

جہانگیر یہ کتنی پیاری ہے اریبہ نے صفا کے گال چومے وہ بالاج کی نسبت صفا شرارتی سی تھی بالاج ڈھیر سال کا اب رینگنے اور چھوٹے چھوٹے لفظ بولنے شروع ہوچکا تھا

پورے گھر میں کبھی گھٹنوں پر تو کبھی لڑکھڑاتے ہوئے پیروں کے ساتھ بھاگتا پھرتا جہانگیر اور اریبہ کے احساسات کو سکون بہنچا رہا تھا دونوں نے ہی تسلیم کرلیا تھا شاید اللّٰہ نے حیات کے بچوں کے ہی ذریعے ان کے احساسات کو تسکین دینی تھی

دونوں خوش تھے مطمئن تھے ۔۔۔۔

_______

جہانگیر کی باتوں نے حیا پر مثبت اثرات مرتب کیے تھے اس نے اپنی پریکٹس کے لیے اپلائی کردیا اس طرح اس کی ملاقات کمال اعوان سے ہوئی تھی جو انقریب اس کے محسن بننے والے تھے ۔۔۔۔