Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 37)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 37)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“یہ اب بہتر ہیں مگر زیادہ ہلنے سے پرہیز کریں “
نرس عدنان صاحب کو پین کلر کر لگا کر جا چکی تھی حیات کرسی میں ان کے پاس بیٹھی الٹی سیدھی باتوں میں لگائے ہوئی تھی جب دروازہ بجا تھا اور حدید کا سیکرٹری ہاتھ میں پھول تھامے اندر آیا
“ارے امجد صاحب ۔۔!!”
عدنان نے اٹھنے کی کوشش کی جسے حیات نے “بھائی” کہہ کر روک دیا تھا
“لیٹے رہئے عدنان صاحب دراصل باس آپ سے ملنے آئے ہیں “
“باس ۔۔۔۔؟؟”
عدنان کو شدید حیرت ہوئی تقریبا ایک سال کا عرصہ ہونے والا تھا انھیں اس فیکٹری میں مینیجر کی سیٹ سنبھالتے ہوئے مگر ہمیشہ کوئی بھی آرڈر باس کی جانب سے آنا ہوتا وہ امجد صاحب ہی دیتے تھے مگر آج باس خود آئے ہیں
تبھی حدید شاہ اپنا کوٹ درست کرتا ہوا اندر داخل ہوا
حیات نے چونک کر اس شخص کو دیکھا جو جانا پہچانا لگا تھا پھر ایک دم سے اپنی ٹانگ پر اٹھتے درد نے اسے یاد کروا دیا کہ مقابل کون تھا
حدید شاہ کو پہچان تو عدنان بھائی بھی چکے تھے ابھی کل پرسو کی بات تھی جب وہ حادثہ جو درحقیقت حادثہ ہوتے ہوتے بچا تھا
مگر وہ اس شخص سے زندگی میں دوسری بار مل رہے تھے
“کیسے ہیں آپ عدنان صاحب ۔۔؟ مجھے اسجد سے معلوم ہوا دوسرے ملازموں کو نکالتے ہوئے آپ کچھ زیادہ زخمی ہوئے ہیں “
حدید شاہ ہاتھ باندھے فقط ایک نگاہ حیات پر ڈال کر عدنان کی خبر گیری کرنے لگے
حیات بھی عدنان بھائی کے اشارے پر کمرے سے نکل گئی ویسے بھی علی بھیا اسے لینے آنے والے تھے ۔۔۔۔
_______
عدنان صاحب کو ہاسپٹل سے چھوٹی مل چکی تھی اب وہ پہلے سے قدرے بہتر بھی تھے ۔۔۔
عدنان بھائی کے زیادہ چلنے پھرنے سے منع ہونے کی وجہ سے زیادہ تر سب ان کے پاس جمع ہو جاتے
ابھی بھی حیات حمزہ کو گود میں اٹھائے عدنان بھائی کے کمرے میں موجود تھی علی صاحب بھی چھوٹے بھائی کے پاس بیٹھے آنے والے نئے پی ایس ایل میچ کی ٹیموں کو ڈسکس کر رہے تھے
وشمہ بیگم سب کے لیے چاہے بنا رہی تھی جبکہ کوثر صاحبہ حیات کی گود میں اچھل کود کرتے حمزہ کو زبردستی سیری لیک کھلاتے ہوئے ہلکان ہورہی تھی
جب عدنان صاحب کا فون بجا تھا
“السلام علیکم جی اسجد صاحب!!”
جی باس سے ؟؟
“ٹھیک ہے “
“بھائی آپ نے اپنے باس کو بتایا نہیں تھا کہ آپ جوب چھوڑ رہے ہیں ؟؟”
حیات نے خفگی سے عدنان بھائی کی طرف دیکھا
“علی بھیا دیکھیں “
حیات نے فوراً بڑے بھائی کو بات میں شامل کیا
“ہاں عدنان حیاتی صحیح کہہ رہی ہے تم اب کوئی جاب نہیں کر رہے جتنا ایکسپیرینس لینا تھا لے لیا اپنا کام کب سنبھالو گے “
بڑے بھائی نے رعب ڈال کر کہا تو عدنان صاحب ہنس دئیے
“اللہ کی بندی بات سن لیا کرو بھیا کی چمچی “
عدنان بھائی نے حیات کے سر پر چپت لگاتے بھتیجے کو اس سے تھام کر گود میں بٹھایا جس میں جیکی چین کی روح آئی لگتی تھی وہ اچھل اچھل کر بیٹھ رہا تھا جو عدنان صاحب کے لیے فلفور صحیح نہیں تھا
آتو ۔۔۔۔(چاچو) آتو آتی پاش
“بھائی باس ادھر آنا چاہتے ہیں یہ ہی بتانے کے لیے اسجد صاحب نے فون کیا تھا اب میں نے نوکری چھوڑی ہے اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ گھر ہی نہ آنے دوں میں ان کو ؟؟”
عدنان بھائی ایک دم ہی مست مگن ہوتے شیطان بھتیجے کو پھر سے چھوٹی بہن کو تھما گئے جو اب حیات کے گالوں کے بوسے لیتا شرارتی ہنسی ہنس رہا تھا
“آتی”
“جی آتی کی جان صدقے “
“آتی شدے “(صدقے) وہ حیات کے صدقے لفظ کو اپنی زبان میں کاپی کرتا حفیظ صاحب اور حاجرہ بیگم سمیت دونوں بھائیوں اور بڑی بھابھی کو ہنسے پر مجبور کرگیا
کمرے میں چاہے لاتی وشمہ اس منظر پر مسکرا نہ سکی تھی
_______
آبدہ شاہ اور نشاء تیار ہورہی تھی ابھی کچھ دیر پہلے ہی حدید نے انھیں اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے لڑکی کا بھی بتا دیا جس سے وہ شادی کرنے کو راضی ہوا ہے
“شکر ہے حدید مان گیا خالہ “
نشاء آبدہ شاہ کے کمرے میں آتی ان کے پیچھے کھڑی ہوگئی
شیشے سے نظر آتی اپنی جان عزیز بھانجی کے عکس کو دیکھ کر آبدہ شاہ نے اسے گلے لگا لیا
“میری جان سب تمہاری وجہ سے ممکن ہوا ہے ایک تمہاری ہی تو سنتا ہے وہ “
تبھی نشاء کا فون رنگ ہوا وہ کال اٹینڈ کرتی آبدہ شاہ کے کمرے سے نکلی
“کیسے ہو ؟؟”
دوسری جانب سے خاموشی محسوس کئیے نشاء نے خود ہی پہل کی
“تمہارے بغیر کیسے ہو سکتا ہوں نشاء “
مقابل کی جزبات سے لبریز آواز پر نشاء مسکرائی
“بہت جلد تمہارے پاس ہوں گی میری جان تم فکر مت کرو”
“ایک تمہاری ہی تو فکر ہے “
” ابھی تو حدید کے لیے لڑکی دیکھنے جارہے ہیں “
وہ چہرے پر آئی بالوں کو پیچھے کئیے ادا سے بولی
“اور مجھے اس دن کا شدت سے انتظار ہے نشاء بہت صبر ہوگیا “
مقابل فون میں اس پر سحر پھونکتا فون کاٹ چکا تھا
_______
حدید شاہ اپنی چھوٹی سی فیملی سمیت عدنان کے گھر پر موجود تھے
حفیظ صاحب اور حاجرہ بیگم نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا تھا
وہ ان کے چھوٹے بیٹے کے باس تھے اور اس کی عیادت کے لیے آئے تھے
“افف بھابھی اس شخص کی خاطر مدارت یوں ہورہی ہے جیسے عیادت کے لیے نہیں اپنا رشتہ لے کر آیا ہے “
وشمہ کوثر بھابھی کے ہاتھ سے لوازمات کی ٹرے تھامتی جھنجھلائی تھی صبح اس کی فیملی آئی تھی پھر تھوڑی دیر بعد عدنان کے کولیگ آگئے تھے وہ تو صبح سے لگی ہوئی تھی کوثر بھابھی بھیچ بھیچ میں حمزہ کو دیکھنے چلی جاتی حیات بھی چھوٹا موٹا کام ڈائینگ میں بیٹھی کردیتی مگر وشمہ صبح سے ایک ٹانگ میں کھڑی تھی ۔۔۔
کمرے میں اس وقت دونوں بھائی اور حیات کے ماں باپ موجود تھے
آبدہ شاہ نے تہمید باندھی
“دیکھیں حفیظ صاحب یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے حدید اور یہ میری بھانجی ہے میری آپا کے انتقال کے بعد سے یہ میرے پاس ہی ہے اتنی سی میری فیملی ہے “
“پچھلی دنوں ۔۔۔۔ یونیورسٹی میں فنڈز ورکنک کے کام سے میں گئی تھی جب میری نظر حیات پر پڑی بلاشبہ مجھے ایسا لگا میری تلاش ختم ہوئی اپنے بیٹے کے لیے ایک ایسی ہی ہمسفر کی تلاش تھی مجھے جو مجھے حیات میں نظر آئی “
“آپ کو بات عجیب لگے کہ ایک نظر کی ملاقات میں کون رشتہ لاتا ہے مگر شاید قدرت بھی یہ چاہتی ہے اس لیے اتفاق سے حدید کی بھی دو دفعہ حیات سے ملاقات ہوچکی ہے پہلی وہ ایکسیڈنٹ کے وقت اور دوسری ہاسپٹل میں اور حدید کو میری پسند پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے امید ہے آپ لوگوں کو ہماری درخواست بری نہیں لگی ہو گی “
آبدہ شاہ بولنے کے بعد خاموش ہوئی
عدنان اور علی صاحب اپنے اماں اور بابا کو تکنے لگے
“ایسی بات نہیں ہے بیٹیوں کے رشتے آنا کوئی معیوب بات تھوڑی ہے “
“دیکھیں شاہ صاحبہ ہم لوگ حیثیت میں آپ سے کہیں پیچھے ہیں ۔۔!”
“معاف کیجئے گا میں آپ کی بات کاٹ رہی ہوں حفیظ صاحب مگر حیثیت انسان کے پیسوں اور مال دولت سے نہیں اس کے اخلاق سے ماپی جاتی ہے اور آپ لوگوں کا اخلاق ہے کہ جب سے ہم آئے ہیں آپ لوگ بغیر ہمیں جانے پہچانے ہماری خاطر مدارت میں لگے ہوئے ہیں “
” ہمیشہ سوچنے سمجھنا کا وقت دیجیئے ابھی تو حیات پڑھ رہی ہے
علی بھائی نے اپنے بابا کی مشکل آسان کی
“جی بیشک حیات چاہے تو شادی کے بعد بھی پڑھ سکتی ہے نشاء بھی میرے ساتھ ڈیزائننگ لوج میں ہوتی ہے ہمیں بچیوں کے کام کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ حدید خود پڑھائی کو پریفر کرتا ہے مجھے یقین ہے شادی کے بعد بھی حدید حیات کی پڑھائی کو کنٹینیو رکھوائے گا “
“کیوں حدید بیٹا؟؟”
“جی موم!!”
اس پورے عرصے میں حدید شاہ پہلی دفعہ بولے تھے
وشمہ بھابھی ٹرے لئیے واپس آئی تو کھوئی ہوئی تھی
“کیا ہوا وشمہ ؟”
“کیا ہوا بھابھی “
وہ لوگ حیات کے لیے رشتہ لائے ہیں
سیب کھاتے حیات کے گلے میں ٹکڑا پھنسا اسے بری طرح پھندہ لگا
دونوں بھابھیاں ہڑبڑا کر اس کی پیٹھ سہلانے لگی
“مگر ابھی تو میں پڑھ رہی ہوں بھابھی”
وہ رونے کو ہوئی
“ارے بدھو ابھی کب ماما بابا نے ہاں کردی ظاہر ہے سوچ سمجھ کر ہی کریں گے “
کوثر بھابھی نے سر پیٹتے ہوئے اسے سمجھایا
“بھابھی نہیں کرنی مجھے شادی “
وہ سو سو کرنے لگی
“افف اللہ کی بندی اس طرح روؤں گی تو گھر والے بھی پریشان ہو جائیں گے “
“آنسو صاف کرو “
وشمہ نے اس کے آنسو صاف کئیے
“آپ جتنا مرضی ٹائم لیجئیے سوچنے کا چاہے جہاں مرضی سے پتا کروائیے گا مگر ہمیں نا امید مت کیجئے گا “
وہ کافی حد تک ان کو قائل کر چکے تھے
ح”یات کہاں جا رہی ہوں “
حیات کو کرسی سے اٹھتا دیکھ دونوں بھابھیاں پریشان ہوئی کہ کہی وہ اندر جاکر ان لوگوں کے سامنے ہی نہ انکار کردے
کہیں نہیں بھابھی میں آتی ہوں
حیات جلدی سے ڈرائینگ روم کے دروازے کی جانب بڑھی
دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا جس میں سے حدید بیٹھا صاف دیکھائی دے رہا تھا
حیات نے دیوار کی آؤٹ سے حدید کی جانب دیکھا تھا ٹھیک اسی لمحے حدید نے بھی اس کی جانب دیکھا تھا حیات ہڑبڑا کر پیچھے ہوئے
حدید کی نظر بے دھیانی میں اس جانب پڑی تھی حیات کو گڑبڑا کر سائیڈ پر ہٹتے دیکھ وہ مسکرا دیا
اب ہم چلتے ہیں آپ لوگ بھی آئیے گا
آبدہ شاہ اٹھی تھی باہر نکلتے ہوئے ان کی نظر حیات پر پڑی وہ آگے بھر کر اسے گلے لگا گئی
“جیتی رہو میری بچی “
حیات ہونک بنی آبدہ شاہ کو دیکھتی رہ گئی پھر نشاء آگے بھر کر اس کے گلے لگی تھی
حیات کے مزاحیہ ایکسپریشن پر حدید نے لب دبا کر مسکراہٹ دبائی
“بہت جلد آپ میرے پاس ہوں گی مس حیات حفیظ مس حیات حدید بن کر”
ایک نظر اس پر ڈال کر وہ دل میں سوچے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
شاہ فیملی کے جانے کے بعد حفیظ صاحب نے حیات کو کمرے میں بلا لیا حاجرہ بیگم مسکرا کر بہوؤں کے پاس کیچن میں چلی گئی گو کہ ایسی باتیں ماؤں کے کرنے والی ہوتی ہیں مگر وہ جس قدر اپنے بابا اور بھائیوں سے اٹیچ تھی اس کے لیے وہ تینوں ہی کافی تھے
________
“حیاتی “
علی بھائی نے بات شروع کی
“مجھے آپ سب کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانا “
وہ رونے کو بے تاب تھی باپ بھائیوں کے گلے لگی رونے لگی
علی بھائیا تو ادھر ہی بے بس ہوگئے
“میری گڑیا “اس کے بال سہلاتے وہ آگے نہ بول سکے
“حیاتی”
حفیظ صاحب بھی چھوٹی لاڈلی بیٹی کی جانب دیکھ کر بامشکل بول پائے
کتنا مشکل امر ہوتا ہے اپنی لاڈلی گڑیا کو محبت سے پال پوس کر کسی اور کے حوالے کردینا
“حیات بچے ہم ابھی آپ کی شادی نہیں کر رہے بھائی کی جان ابھی تو وہ لوگ بس آئے تھے یہ تو نیچرل ہے نہ آپ لڑکی ہو رشتے تو آتے ہی ہیں نہ بس ہم آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں آپ کو کوئی پسند ہے ؟؟”
علی بھیا نے اسے حصار میں لیتے پوچھا
“نہیں “وہ زور و شور سے نفی میں سر ہلانے لگی
“ابھی تو نہیں لیکن پھر بھی جب بھی ہم آپ کے لیے کوئی ایسا فیصلہ کریں گے آپ سے پوچھ کر کریں گے اگر آپ کی طرف سے انکار ہوگا تو آپ سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرے گا آپ ہماری جان ہیں حیاتی “
علی بھیا نے اسے محبت سے دیکھ کر کہا
بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں بچہ آپ کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں ہوگا
“حیاتی “
بابا کی آواز پر وہ بھیا کے حصار سے نکلتی باپ کی آغوش میں چھپی تھی
________
رات کے پہر حیات حدید شاہ کے بارے میں سوچتی رہی
بابا اور بھائیوں کے فیصلے نہ جہاں اسے پرسکون کیا تھا وہ شخص بار بار دماغ میں آکر اس کی سوچوں میں خلل ڈال رہا تھا
کیا مصیبت ہے آنکھیں بند کرتے اس کا چہرہ سامنے آنے پر وہ جھنجھلائی
دل عجیب سی لہہ میں دھڑک رہا تھا
“کیسی ہیں آپ اور کیسی ہے اب آپ کی چوٹ ؟؟”
میسج کے رنگ ہونے پر حیات نے حیرانگی سے میسج کو دیکھا
“کون ؟؟”
وہ مارے حیرت کے اس سے آگے سوچ نہ سکی کہ اس کا نمبر کس کے پاس ہے
“کس میں اتنی ہمت ہوسکتی ہے شاہوں کی ہونے والی عزت کو رات کے اس پہر میسج کرے ؟”
مقابل مٹھی ہونٹوں پر رکھے اس کے ایکسپریشن امیجن کرے ایک اور میسج لکھنے لگا
“منہ کھولنے سے مکھی اندر جا سکتی ہے “
حیات منہ کھولے بیٹھی تھی میسج پڑھتے منہ بند کرگئی
اس نے فوج تھام کر مسیج لکھنا چاہا مگر کچھ سوچتے اسے ایریز کیا
پھر لکھنے لگی مگر نفی میں سر ہلاتی اسے ریموو کر گئی
آ”پ بالا جھجھک جو چاہے پوچھ سکتی ہیں حیات “
پھر سے میسج آنے پر حیات نے ہمت کرتے میسج کیا
“آپ کے پاس میرا نمبر کیسے آیا ؟”
“میرے پاس آپ کے گھر کا ایڈریس آسکتا ہے مس حیات تو نمبر کیا چیز ہے “
ایک اور حیران کرنے والا میسج
“حیات “
ایک اور مسیج تھا صرف اس کا نام حیات کا دل بیٹ مس کرگیا
“آپ کو اس رشتے سے کوئی مسئلہ تو نہیں ہے ؟”
میں پڑھ رہی ہوں ابھی
حیات کو سمجھ نہ آیا وہ کیا کہے اس نے پڑھائی کے متعلق لکھ دیا
“یہ تو اچھی بات ہے آپ اپنی پڑھائی شادی کے بعد بھی جاری رکھ سکتی ہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا “
” صرف پڑھائی کا مسئلہ تھا ؟!”
“باقی میں اسے ہاں سمجھوں ؟؟”
حیات کا ماتھا پسینے سے تر ہوا
“جو میری فیملی کی مرضی”
وہ جلدی سے میسج کرتی نیٹ آف کرگئی
دوسری جانب بیٹھے حدید شاہ نے اسے آف لائن ہوتے دیکھ حدید شاہ نے ہنستے ہوئے اپنا فون بھی بند کردیا ۔۔۔
