Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 56)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 56)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“حمزہ کہاں کھوئے ہوئے ہو ؟”
عدنان کے دو دفعہ بلانے پر بھی جب حمزہ متوجہ نہیں ہوا تو علی صاحب نے اسے پکارا
“ج۔۔جی بابا ؟”
وہ ہنوز کھویا سا تھا
“کیا ہوا ہے حمزہ ، سب ٹھیک ہے نہ ؟ ” عدنان صاحب نے فکرمندی سے کہا
حمزہ نے لمحے بھر کر رک کر اپنے سامنے بیٹھے اپنے بابا اور چاچو کو دیکھا پھر وہ اپنی کرسی سے اٹھتا ان دونوں کے سامنے دو زانوں ہوکر بیٹھ گیا
“بابا اگر میں آپ لوگوں سے کچھ مانگوں تو آپ لوگ دیں گے ؟”
وہ لہجے میں بچوں جیسی معصومیت لیے بولا تھا
“کیا چاہتے ہو برخودار ؟”
عدنان چاچو کے نرمی سے استفسار کرنے پر حمزہ کو کچھ حوصلہ ہوا
“مجھے پریہان سے شادی کرنی ہے “وہ کہہ کر اپنے بابا کا چہرہ تکنے لگا جہاں تشویش تھی
جبکہ عدنان چاچو بھی خاموش بیٹھے تھے
اس کا دل دھڑکا
“بابا آپ نے بھی تو چاچو سے کہا تھا “
اس نے ہلکی سی آواز میں کہا اس نے صفا کو ثابت کرنا تھا وہ بزدل نہیں تھا اس نے اپنی محبت کو اپنے نام کروا کر اٹھنا تھا یہاں سے
“بابا آپ کچھ کہہ کیوں نہیں رہے “
“چاچو “
اس نے پریشانی سے باپ کے ہاتھوں کو تھام لیا
“بابا میں اس سے محبت کرتا ہوں اگر شادی ابھی حالات کے باعث ممکن نہیں تو آپ نکاح کردیجیے “
وہ انکار سننے کے ڈر سے جلدی جلدی خود ہی آگے کی پلینگ کرنے لگا
” بابا ، چاچو کچھ کہیے تو” وہ جھنجھلا گیا تھا اب ان کی خاموشی پر
“جب تم سب کچھ خود سے ہی طے کر چکے ہو تو پوچھ کیوں رہے ہو ؟ “
علی صاحب کی سپاٹ لہجے میں کہی بات پر وہ سر جھکا گیا
“آئی ایم سوری بابا آئی ایم سوری چاچو مگر میرا فیصلہ ابھی بھی یہ ہی ہے میں واقع اس معاملے میں سیریس ہوں”
وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا
وہ ابھی ان کے آفس سے باہر نکلتا اسے دونوں کے ہنسنے کی آواز آئی
حمزہ چونک کر مڑا تھا
“بتاؤ بھائی عدنان کیا فیصلہ ہے تمہارا میں اپنے اتنے سوبر بچے کو دیوداس بنتا ہوا نہیں دیکھ سکتا “
علی بھائی نے کھڑے ہوتے اپنی بانہیں پھیلائیں
حمزہ آنکھوں میں تیرتی نمی کو اپنے اندر اتارتے ہوئے اپنے باپ کے گلے لگ گیا
“ویسے بڑا ٹھنڈا پرپوزل تھا تمہارا ” علی صاحب نے بیٹے کے کان میں سرگوشی کی تو وہ جھینپ گیا
بھائی پری تو آپ کی ہی بیٹی ہے آپ بتائیں میرے بیٹے کو دیں گے وہ حمزہ کے شانے پر بازوؤں پھلا کر محبت سے بولے
“چاچو ” حمزہ مسرور سا ہوتا اپنے چاچو کے گلے لگ گیا ۔۔۔۔
________
“مگر ایک چیز تمہاری آنکھیں بھی کہتی ہیں بتاؤں ؟ “
” تم بھی اُسی پوزیشن میں ہو جہاں میں ہوں “
وہ کمرے میں بیٹھی اپنی اور حمزہ بھائی کے درمیان ہوئی گفتگو کے بارے میں سوچنے پر مجبور تھی کیونکہ اسے یہ آئینہ دیکھانے والا پہلا شخص بھی تو وہ ہی تھا
” کیا میری آنکھیں “وہ شیشے کے آگے کھڑی اپنی ہلکی بھوری آنکھوں میں دیکھنے لگی
راز فاش کرتی ہیں ماتھے پر بل پڑے
میں نے آخر کس چیز کو سر پر سوار کیا ہوا ہے
“کیا ہوا اگر وہ چھوٹا ہے دو سال ہی تو چھوٹا ہے “دل نے تھپکی دی
“نہیں وہ بدل جائے گا تم اپنا دوست کھو دوں گی “
دماغ نے ڈرایا
“کیوں اور کیسے کھو دو گی وہ تمہاری عزت تم سے محبت کرنے سے زیادہ کرتا ہے “
“حاصل ہونے کے بعد چاند بھی چاند نہیں رہتا صفا “
دماغ نے ایک اور حقیقت سامنے لا پھٹکی
“حقیقت یہ ہے کہ تم سٹینڈ ہی نہیں لے سکتی تم بزدل ہو “
دل نے ایموشنل بلیک میل کیا
“تم بزدل نہیں حقیقت پسند ہو اور اگر یہ ساری باتیں فراموش کر بھی دو تو تم بھول رہی ہو شجاع کو جو تمہارے آنے کے انتظار میں ہے “
اور دماغ نے جیسے کاری وار کیا دل تڑپ کر رہ گیا
صفا نے غصے سے جھنجھلا کر عون کو کوسا تھا کس مشکل میں لا کھڑا کیا ہے تم نے مجھے عون ابراہیم دل کرتا ہے ایک تمہیں اور دو خود کو لگاؤں وہ تپ گئی ۔۔
________
وہ گیراج میں کھڑا شجاع سے بات کر رہا تھا
“کب آرہے ہو تم لوگ واپس “
شجاع نے مسکراتے ہوئے بالاج سے کوئی تیسری دفعہ کیے جانے والا سوال پھر سے دہرایا
تو بدلے میں بالاج مسکراہٹ دبا گیا
یہ یار سے اتنی محبت کب سے امڈنے لگی بالاج نے گال سہلا کر شرارتاً کہا
تو شجاع کا قہقہہ قابلِ سماعت تھا
ایسے تو نہ کہہ تیرے دو سال کے ہجر کا راز دار ہوں اب میری باری آئی تو، تو شرارت پر اتر آیا سالے
شجاع کے لہجے سے چھلکتی مسروریت نے اس لمحے بالاج کو بھی پرسکون کیا تھا اسے یقین ہونے لگا تھا صفا کے حق میں ہونے والا یہ فیصلہ آگے جا کر بہترین ہوگا
آجائیں گے کل تک تو یہ بتا دن ہی گنتے رہا ہے یاں آفس بھی چکر لگائیں ہیں
شجاع ایک دم سے گڑبڑایا کیونکہ وہ تو گھر ہو یاں آفس اسے ہوش تو کہیں کی بھی نہیں رہی تھی
جاتا رہا ہوں آفس اب اتنا نکما سمجھ لیا ہے تو نے مجھے
تیری طرح نہیں ہوں جو شادی کے بعد سے دوست کے ہاتھ ہی نہیں آرہا
شجاع نے بھی اس کی بات کا بدلہ لیا تھا
بدلے میں بالاج ہنسا تھا تبھی انابیہ کافی کا مگ تھامے اس کے پاس آ کھڑی ہوئی تھی
اچھا میں تجھ سے بات کرتا ہوں شجاع دروازے کے کھٹکنے پر بالاج سے کہتا کال کاٹ گیا
“جی” وہ مڑا
________
فون تیسری دفعہ رنگ ہوا تھا
جازب جلدی سے واشروم سے باہر آئے اپنے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیر کر فون اٹھایا
ان نون نمبر تھا
“بڑی دیر کردی اعوان صاحب سنا ہے اپنی محبوبہ کو دوسرے شہر چھوڑ کر آئے ہیں “
خرم داد جازب کے وجود میں کرنٹ کی لہر سی دور گئی وہ ایک دم سے الرٹ ہوئے
کالی چمکتی گاڑی سے بہتا خون صاف نظر نہیں آئے گا
سفید اوڈی ہوتی تو مزہ بھی آتا خون کا قطرہ قطرہ نظر آتا ۔۔۔
جازب کے دماغ میں دھماکے سے ہونے لگے وہ اپنی گاڑی کی چابی تھامے بھاگتے ہوئے نکلے تھے
________
انابیہ نے کافی کا ابھی ایک ہی سپ لیا تھا
جب بالاج نے اس کے ہاتھ نے تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا
بدلے میں انابیہ نے اسے گھورا
“میری کافی واپس کریں” لٹھ مار انداز میں کہہ کر اس نے کافی کا بالاج سے لینا چاہا مگر بالاج نے ہاتھ ہوا میں بلند کرلیا
انابیہ لب بھینج کر بالاج کے بازو کو دیکھتی رہ گئی وہ اگر اچھل بھی لیتی تو مگ تک نہیں پہنچ سکتی تھی
“میری کافی واپس کریں اگر پینے کا اتنا شوق ہے تو اس پری سے بنوا لیں “
“میں کیوں کسی سے بنواوں تم جو ہو مائی وائلڈ کیٹ “
“مگر یہ میری ہے میں نے اپنے لیے بنائی ہے “
انابیہ نے دانت پیس اچھل کر مگ پکڑنے کی کوشش کی تھی مگر مگ کیا ہے اس کے ہاتھ آتا وہ کچھ اس کے قریب ہوگئی
“تم میری ہو تو یہ کافی بھی میری ہوئی نہ “
بالاج نے اس کے شانے پر بازو پھلا کر نہایت اطمینان سے ایک لمبا گھونٹ لیا تھا ۔۔
اتنی کریمی اور میٹھی کافی اس کے ٹیسٹ پیلیٹ کے لیے نہیں تھی مگر اسے اچھی لگ رہی تھی
ویسے اس میں تم نے چینی زیادہ ڈالی ہے یاں تمہارے پینے سے زیادہ میٹھی ہوگئی ہے بالاج نے مگ اس کی ناک کی ٹپ کے ساتھ ٹچ کرکے رازدارانہ انداز میں پوچھا
“مجھے نہیں پتا “وہ غصے سے چہرہ موڑ گئی مگر نہ تو اس نے ہاتھ جھٹکا تھا نہ دور ہوئی
انابیہ کی ایسی ناز برداریوں اور نخروں پر وہ فدا ہوا تھا
“یہ خفا ،خفا سا چہرہ کیوں میرے خیال سے میں ساری ناراضگیاں کافی اچھے سے دور کر چکا ہوں “
یک دم ہی انابیہ کا پورا چہرہ حیا کی تمازت سے سرخ گلاب ہوا تھا
بالاج کی نظریں اس منظر پر ساکت ہوئی وہ مبہوت ہوا
ہنہہ ۔۔۔ نسوانی ہنکارے پر وہ دونوں ٹرانس سی کیفیت سے باہر آئے تھے
وشمہ بھابھی ایک تند نظر دونوں پر ڈال کر وہاں سے چلی گئیں
انابیہ جھینپ کر تھوڑی دور ہوئی بالاج بھی اپنی تھوڑی کھجا کر رہ گیا
“لگتا ہے مما کو کہہ کر آج رات ہی اسلام آباد کے لیے نکلنا پڑے گا “
بالاج کی بڑبڑاہٹ پر انابیہ کھلکھلا کر ہنسی تو وہ بھی مسکرا دیا تبھی اس کا فون بجا
“کمال انکل کا فون ہے” وہ اس کی گال تھپتھپا کر وہ گھر سے باہر نکلا تھا
جبکہ وہ ابھی بھی بالاج سے اوپر اوپر سے خفا ہونے کا منصوبہ بنائے اپنے ہونٹوں پر مچلتی مسکراہٹ اور چہرے پر چمکتی رونق پر مسرور سی اندر بڑھ گئی
________
سلام پھیر کر جیسے ہی اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اس کا فون رنگ ہوا صفا محو ہوکر اپنی دعا مانگ رہی تھی جب فون بج کر بند ہوا دعا مانگ کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو ایک دفعہ پھر اس کا فون بجا جائے نماز کو تہہ لگا کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا تو اس کے فون کی سکرین پھر سے روشن ہوئی
عون کی کال تھی اس نے آنکھیں موند کر دو لمحے کو سوچا پھر کال اٹینڈ کر لی
“صفا ” ہسپتال کے کوریڈور میں کھڑے اس کی بے چین سی آواز پر صفا کو پکارنے پر اس کا دل موم ہوا تھا
“عون “
“صفا ایک موقع کا بھی حق نہیں رکھتا میں، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ صفا خان کیا حیثیت رکھتی ہے عون ابراہیم کی زندگی میں “
“اتنی بے یقینی کیوں؟۔۔۔۔ آپ کی آنکھوں سے جھانکتا خوف میرے دل کو کرلاتا ہے “
“کیا اتنا ہی بے یقین ہوگیا ہوں میں آپ کے لیے صرف اس لیے کہ میرے جزبات بدل گئے ہیں، میرا دل میرے بس میں نہیں رہا “
“صفا ۔۔۔ صفا یار تم یہاں ہو میں ڈھونڈ رہا تھا منوا لی ہے میں نے اپنی محبت ” حمزہ اس قدر خوش تھا کہ وہ محسوس ہی نہیں کر پایا کہ صفا فون پر مصروف ہے
“مبارک باد نہیں دو گی اچھا رکو میں پہلے میٹھائی لاتا ہوں” وہ حقیقتاً ہواؤں میں تھا آج
صفا مسکرائی تھی
فون سپییکر سے گونجتی عون کی بے چین آواز پر صفا کا دھیان عون کی جانب گیا مسکراہٹ سمٹی
“یہ کون تھا صفا ؟ آپ کہاں پر ہیں صفا میں ۔۔۔ آجاؤ ۔۔۔۔ میں آرہا ہوں آپ کے گھر “
وہ دیوانہ غیر شناسا آواز پر تڑپ اٹھا تھا اپنی تڑپ میں سب فراموش کر چکا تھا کہ صفا اسلام آباد والے میں گھر نہیں تھی وہ بھول گیا تھا ابھی پرسو ان دونوں کی لاہور کے ہسپتال میں ملاقات ہوئی تھی
یاد تھا تو بس یہ کہ اسے صفا تک پہنچنا ہے نہیں تو وہ کھو دے گا اسے
“ہر گز نہیں عون میں اسلام آباد میں نہیں ہوں ” صفا کا دھیان بھی عون کے اپنے گھر جانے والی بات پر گیا تھا تبھی فوراً بولی
وہ بھی دو دن پہلے والی ملاقات فراموش کئیے بیٹھی تھی
یک دم عون کے دماغ پر جھماکا سا ہوا تھا کوریڈور میں اسی جگہ کھڑی صفا پھر سے نظر آئی اس دن کی تلخ کلامی یاد آئی
“آپ پرسو ہسپتال میں کیا کر رہی تھی صفا ؟” عون نے بے چینی سے پوچھا
“تم ۔۔۔ تم بھی تو ہسپتال میں تھے ” اسے فکر ہوئی تبھی سوال کے بدلے سوال ہی کیا
“میں تو ابھی بھی ہسپتال میں ہی ہوں” وہ افسردگی سے بولا
“سب ٹھیک ہے نہ عون تم ابھی بھی ادھر کیا کر رہے ہو “صفا کا انجانے خوف سے دھڑکا
“آپ لاہور میں ہیں نہ آپ بتائیں آپ کدھر ہیں میں آپ کو لینے آجاتا ہوں پلیز صفا انکار مت کیجیے گا مجھے اس وقت سب سے زیادہ آپ کی ضرورت ہے” وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا
“صفا آپ نہیں آ رہیں ؟ “
وہ ڈرائینگ روم کے بند دروازے کے پاس آئی لکڑی کے بنے دروازے میں میں کہیں کہیں لگے شیشے سے جھانکتے اوپن کچن پر اس کی بے دھیانی میں نظر پڑی تھی حمزہ اور پریہان دونوں تھوڑے سے فاصلے میں کھڑے تھے اتنی دور سے بھی صفا حمزہ کے چہرے کی مسکراہٹ اور پریہان کے سرخی چھلکاتے چہرے کو دیکھ سکتی تھی
“دیکھو صفا حمزہ نے منوا لیا اپنا آپ تمہیں بھی زندگی ایک موقع دے رہی ہے یہ نہ ہو کل تم پچھتاؤ
“جگہ بتا دو میں خود آؤ گی تم سے ملنے “
“کیا آپ اسی ہسپتال آسکتی ہیں ؟” کچھ سوچتے ہوئے عون نے کہا تھا نظر اس کی حدید کے کمرے کے بند دروازے پر تھی
“آرہی ہوں مگر بس بیس منٹ عون “
ایک میسج چھوڑ کر وہ بالاج سے اجازت لینے کے لیے ڈرائینگ روم سے نکلی تھی وہاں سے گزرتے اس نے ایک مسکراتی نظر پریہان کی پشت اور اس کے قریب سامنے سے نظر آتے حمزہ کے چہرے پر ڈالی تھی
“چندہ بھائی کہاں پر ہیں ؟ “
انابیہ کو موبائل پر مصروف دیکھ کر صفا نے پوچھا
وہ تو آپی تھوڑی دیر پہلے نکلے ہیں آپ کہیں جارہی ہیں صفا نے اپنا بیگ کندھے پر لٹکایا ہوا تھا
“ہاں میری ایک یونیورسٹی فرینڈ ادھر لاہور میں موو ہوگئی ہے اس سے ملنے جارہی ہوں گھنٹے میں واپس آجاؤں گی مما اور بھائی کو بتا دینا “
“میں بھی چلو بور ہورہی ہوں” انابیہ نے بے چارگی سے کہا
‘آپی لڈو کھیلیں تبھی “زید اور سمعیہ لڈو اٹھا لائے
“ہاں چلو” انابیہ مسکرائی
جبکہ صفا بچو کے اندر آنے پر شکر کرتے وہاں سے نکلی
________
“شجاع۔۔!!”
“ہم دونوں نے ایک فیصلہ کیا ہے تمہارے لیے ہمیں امید ہے تم میں نا امید نہیں کرو گے “
شبانہ خاور نے سنجیدگی سے اپنے بیٹے کے چہرے پر نظر ڈال کر کہا جوان میچیور خوبرو بیٹا جو ایک لڑکی کی محبت میں کملا سا ہوگیا تھا
“ایک لڑکی ” ہاں کل تک انہیں وہی ایک لڑکی اپنی بیٹی لگتی تھی آج پھر وہ ان کے لیے ایک لڑکی بن گئی تھی ایک آنکھوں دیکھی مکھی مانند چند ادھورے جملے سننے کے بعد
“جی مما مجھے بھی یہ ہی امید آپ دونوں اپنے اکلوتے بیٹے پر اس کی سکت سے زیادہ امیدوں کا بوجھ نہیں ڈالیں گے
مقابل بھی پھر شجاع خاور تھا ہوں ہی تو وہ اتنی کم عمر میں کامیاب نہ تھا بس محبت انسان کو بہت خوار کرتی ہے
ہم تمہاری صفا سے شادی کرنے کو تیار ہیں مگر ہماری بھی ‘ایک شرط ہے۔۔۔ !! “
شرط اولاد اور والدین کے درمیان شرط آگئی تھی
مگر بات محبت کی تھی
“مجھے آپ کی ہر شرط قبول ہے ماں مگر آپ بس صفا کو میرے نام کروا دیجیئے “
“کل بالاج اور آنٹی واپس اسلام آباد آرہے ہیں آپ کل ہی جائیں گے ان کے گھر مگر اس بار منگنی نہیں نکاح کی تاریخ رکھنے “
شجاع نے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے کہا
بات کرتے ہوئے اس کی نظر ایک بار بھی اپنے ماں باپ کے کمرے میں صوفے پر بیٹھی فائزہ پر نظر نہیں گئی اگر چلی جاتی تو وہ ساکت اور جامد ہوجاتا
