Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 79) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 79) 2nd Last Episode
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
پاگل ہوگئے ہیں جازب صاحب ، سر جی سے بات کرنی پڑے گی
وہ جازب کو یاد کرکے کڑ رہی تھی ابھی تو گھر جا کر اسے نئی خبر ملنی تھی ۔۔۔
ماں آگئی ہیں وہ اشارا کرکے اپنی اپنی جگہ پر چلے گئے
ماں مجھے آسٹریلیا جانا ہے آنا کو ساتھ لے کر آپ تو جانتی ہیں پارٹنر شپ ختم ہونے کی وجہ سے کچھ مسائل چل رہے ہیں معلوم نہیں باہر کتنا وقت لگے چند مہینے یاں سال حیا ابھی لاونج میں آئی ہی تھی کہ بالاج بول اٹھا حیا نے آئی برو اچکائی نہ سلام نہ حال چال سیدھا اپنا مسئلہ یہ انداز تو نہیں تھا بالاج کا مگر وہ سر ہلا گئی
ہاں تو بیٹا صفا کی رخصتی
حیا نے بات ہی شروع کی کہ وہاں صفا آگئی
مجھے نہیں کروانی رخصتی بھائی اور چندہ باہر جارہے ہیں میں آپ کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جارہی
صفا نے قطع لہجے میں کہا
یہ کیا بچوں جیسی بات کی ہے صفا میں کوئی بچی ہوں جو اپنا دھیان نہیں رکھ سکتی
حیا نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا لہجے میں غصہ تھا
وہ اچھے سے سمجھ گئی تھی اپنے بچوں کا مقصد اسے جازب ہر پھر سے غصہ آیا انہوں نے اس کے بچوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا
صفا بچاری دھیمی پڑ گئی اور جہاں صفا اور بالاج کی بھی نہیں چلتی تھی وہاں انابیہ کی چلتی تھی
ٹھیک ہی تو کہہ رہیں ہیں آپی ،ماں وہ آپ کو کیسے اکیلا چھوڑ دے نہیں لیکن پھر بھی آپ چاہتی ہیں صفا آپی کی رخصتی ہو تو میں اور باسل یہاں رہ لیتے ہیں بالاج کے بغیر کچھ مہینے یاں سال ہی تو ہیں میرا باسل گزار لے گا اپنے بابا کے بغیر
انابیہ ۔۔۔!! حیا نے دہل کر کہا کیسا جملہ تھا یہ “اپنے بابا کے بغیر ” حیا نے اسے فوراً ٹوکا آواز بے شک سخت نہیں تھی مگر آنکھوں میں غصہ عود آیا
تم لوگوں نے مجھے بچہ سمجھ لیا ہے تم لوگوں کی ماں ہوں میں تم دونوں کو پیدا کیا ہے تو تمہیں پالا ہے انابیہ یہ جو حرکتیں تم لوگ کر رہے ہو نہ اچھے سے سمجھ رہی ہوں عزت کے ساتھ اپنی تیاریاں پوری کرو تم صفا میں حدیقہ باجی سے رخصتی کی ڈیٹ فائنل کر چکی ہوں اور تم انابیہ میڈم شادی کے بعد آپ کریں سامان پیک اپنا آسٹریلیا اتنا دور نہیں ہے مجھے جب اپنے پوتے کی یاد آئے گی تو میں ملنے آجاؤں گی اپنے باسل سے حیا نے اپنی طرف بانہیں کیے باسل کو دیکھ کر خود پر ضبط کیا اور وہاں سے چلی گئی جبکہ پیچھے انابیہ تو رونے والی ہوگئی
لاج مما ۔۔۔۔ وہ اتنی ہی ٹچی تھی حیا کے لیے یہ بھلا بندی ناٹک بھی نہیں صحیح سے کر سکتی
بالاج اور صفا نے سر پکڑ لیا ۔۔۔
———-
تھوڑی دیر بعد بالاج کمرے میں آیا
مما اس نے محبت و عقیدت سے ہمیشہ کی طرح اس کے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگایا
ماں آپ نے اتنے سال ہمارے لیے ہماری حفاظت کے لیے ضائع کیے اب آپ کی باری آئی زندگی میں خوشیاں دیکھنے کی تو آپ چہرہ موڑ رہی ہیں
تم لوگوں کی حفاظت مجھ پر فرض تھی بالاج اس ریاضت کو ضائع کا نام مت دو بالاج
حیا نے ایک ہی سطر میں بات ختم کردی ۔۔۔۔
شام کو صفا حیا کے کمرے میں آئی
ماں آپ ہی تو کہتی ہیں پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں صفا ایک تجربہ غلط ہو جانے سے زندگی روک لی نہیں جاتی زندگی کو موقع دیا جاتا ہے ۔۔
اچھا اب یہ ہی تم چاہ رہی ہوں اس عمر میں ، میں اپنے اوپر امپلیمنٹ کروں ایک پوتے کی دادی بن کر
حیا نے جس انداز میں کہا صفا کی کہاں آواز نکلتی تھی
میں تھکی ہوئی ہوں صفا مجھے آرام کرنا ہے حیا نے ہاتھ باندھ کر کہا مطلب صاف تھا کہ اب جاؤ
اگلی صبح انابیہ باسل کو گود میں لیے حیا کے سامنے موجود تھی
اس نے باسل کو حیا کی گود میں ڈالا آئی ایم سوری ماں آئی ایم سوری آپ مجھ سے زیادہ باسل پر حق رکھتی ہیں میں کون ہوتی ہوں اسے آپ سے دور کرنے والی وہ رونے ہی لگ گئی انابیہ حیا کے لیے کتنی حساس ہے حیا اچھے سے جانتی تھی تبھی ایک جانب سے باسل کو پکڑ کر دوسرے سے انابیہ کو اپنے ساتھ لگایا
اگر کوئی کہتا انابیہ حیا کو اپنے جنم دیے بچوں سے زیادہ عزیز تھی تو اس میں کچھ غلط نہ تھا
ماں قسم سے ہم تینوں آپ کی بھلائی چاہتے ہیں ہمیں آپ کو پرسکون دیکھنا ہے ہر مقام میں خوش دیکھنا ہے ہمارا مقصد غلط نہیں تھا
میں جانتی ہوں بچہ میں خوش ہوں میرے پاس میرے بچے ہیں میرا پوتا ہے اور کیا چاہیے ؟
پورا دن آپ خود کو کاموں میں ہم میں مصروف کر سکتی ہیں مگر اپنی طویل راتوں کو تو نہیں تنہایاں کہاں جینے دیتی ہیں
آپ کو بھی تو چاہیے اپنی ہر بات شئیر کرنے والا
ایک لڑکی ۔۔۔۔ وہ ہولے سے مسکرائی ایک عمر رسیدہ عورت کے لیے دوسری شادی کرنا مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک ہے زمانے کے باتیں خود کی لاتعداد سوچیں ہی اسے مار دیتی ہیں ۔۔۔
انابیہ خاموش ہوگئی وہ گنگ آنکھوں سے حیا کا چہرہ دیکھنے لگی
کیا ہوا ؟
میں سوچ رہی ہوں شکر ہے آپ نے پچیس سال پہلے زمانے کا نہیں سوچا تھا ماں نہیں تو آج میں اریبہ مما اور جہانگیر بابا کے دنیا سے جانے کے بعد اتنے سال یتیمی کی زندگی گزارتی میری زندگی میں کوئی پالنے والی ماں ، مہربان بہن اور ٹوٹ کر محبت کرنے والا بالاج نہ ہوتا آج میرے پاس باسل بھی نہ ہوتا
وہ غائب دماغی سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی پیچھے حیا کو بھی لاجواب کر گئی ۔۔۔۔
———
آج پھر وہ دونوں آمنے سامنے تھے مگر اس بار جازب کے گھر کے لون میں
اور وہ ہی بحث چل رہی تھی مطلب مرغی کی ایک ہی ٹانگ
مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ حیا صاحبہ میں تو جازب کمال اعوان سے مسٹر خان بھی بن سکتا ہوں آپ کا اور کیا چاہیے
تبھی ان کے کان میں لگے ائیر پوڈ سے ان کے والد صاحب کی آواز گونجی
مسٹر خان کیوں مسٹر رن مرید ہی رکھ لو ہمیں نہیں چاہیے اعوانوں میں اتنا رن مرید لونڈا
جازب لونڈا لفظ پر زیر لب استغفرُللہ کہ کر مسکراہٹ دبا گئے۔۔۔
اس بار کمال اعوان نے پوری تیاری کے ساتھ اپنے لونڈے اہم بیٹے کو بھیجا تھا
حیا نے نفی میں سر ہلایا اور مسکراہٹ کو بڑی مشکل سے کنڑول کیا تھا
جازب صاحب آپ سمجھ نہیں رہے میری بات زرا دماغ استعمال کریں
مرد اپنی پسندیدہ عورت کے سامنے اپنا دماغ نکال کر سائیڈ پر رکھ دیتا ہے حیا صاحبہ دل کی بات ہے تو کہیے میں سن سمجھ دونوں لوں گا
حیا کے ماتھے پر بل پڑے میں دو جوان بچوں کی ماں ہوں
مجھ سے شادی کرلیں میں بھی دو جوان بچوں کا باپ کہلاؤں گا سمپل
میرے احساسات مر چکے ہیں وہ سپاٹ ہوگئی
میرے بھی مر گئے مل کر جگا لیں گے
چل جھوٹا تمہارے اس سن انیس سو کے ریڈیو کے کوئی گانے سن لے اس کے بھی مردہ جزبات جاگ جائیں تبھی ائیرپوڈ سے بے ساختہ باپ کی تپی آواز کے ساتھ حیا کے “جی ” پر وہ گڑبڑایا
“جی “حیا کے ماتھے پر بل پڑے
میرا مطلب ہے احساس کرنے والا پاس ہو تو احساس زندہ ہو ہی جاتے ہیں اور اگر نہ بھی ہوں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں
میں آپ کو کچھ نہیں دے سکتی ایک بیوی والا سکون بھی نہیں مجھے نفرت ہوگئی ہے اس رشتے سے
پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی حیا ایک شخص کے لیے کی سزا آپ دوسرے کو کیسے دے سکتی ہیں سب سے بڑھ کر خود کو کیسے دے سکتی ہیں
ایسے شخص کی ٹینشن سے جان چھڑوانے کا ایک ہی طریقہ ہے موو آن
خالص اسی کے الفاظ تھے یہ بھی ۔۔۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی اس کے بچے کتنے بڑے دغا باز نکلے
اگر آپ زرا بھی رضا مند نہ ہوتی تو آج میں یہاں آپ کے سامنے نہ بیٹھا ہوتا حیا
میں اپنے بچوں کی وجہ سے یہاں موجود ہوں جازب حیا نے تڑخ کر کہا
دونوں ہی صاحب اور صاحبہ والا تکلف نکال چکے تھے اور دنوں کو ہی محسوس نہ ہوا
دیکھا یہ ہی تو یہ ہی تو میں چاہتا ہوں اپنا سوچیں اپنے لیے جینے کا سوچیں
حیا نے سر پکڑ لیا
کافی پیے گی میں نے کافی بنانا سیکھ لی ہے حیا
حیا نے سر اٹھایا آپ بہت ضدی ہیں
آپ بھی حیا صاحبہ دوبدو جواب آیا
اس بار کافی میں نمک مت ڈالیے گا جازب صاحب میں کرٹسی میں بھی بس دو دفعہ ہی نمک والی کافی پی سکتی ہوں وہ میں پی چکی ہوں
حیا نے ہاتھوں کو مسل کر چہرہ یہاں وہاں کیا
جازب ایک دم سے کھڑا ہوا
آپ حکم کریں مائی لیڈی میں کھانے میں بھی نمک ڈالنا چھوڑ دوں گا ۔۔۔
کچھ دیر میں وہ دو کپ کافی بنا کر لایا
حیا نے ابھی ایک گھونٹ کافی کا بھرا تھا جب جازب کی آواز آئی
اب آپ انکار نہیں کرسکتی شادی سے ۔۔۔
میں وہ گھر نہیں چھوڑوں گی
حیا وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی
جازب نے جلدی سے ائیرپوڈ اتار کر آف کیا
اپنے باپ کے الفاظ وہ بغیر سنے بھی دہرا سکتا تھا
واللہ اعلم اب میرا بیٹا رخصت ہوکر جائے گا ۔۔۔
اس کا انتظام ہو جائے گا
حیا نے کچھ بولنا چاہا پھر چپ ہوگئی
بولیں حیا کیا کہنا چاہتی ہیں آپ ؟
نکاح سادگی سے اور ریسیپشن
وہ میری مرضی سے ہوگا پلیز جازب نے التجا کی حیا اثبات میں سر ہلا کر باہر کی جانب بڑھ گئی
میں چھوڑ دیتا ہوں جازب نے پیچھے سے کہا
منالیں آزادی کے یہ دو دن آگے آپ نے ہی چھوڑنا لینا ہے
حیا نے بغیر مڑے ہی اونچی آواز میں کہا تو جازب کا دل کیا ہوا میں چھلانگ لگائے
وہ لگا بھی لیتا اگر کوئی ہڈی وڈی ٹرخنے کا ڈر نا ہوتا تو اس نے مسکرا کر اپنی بنائی کافی کا سپ لیا تو اس کے مسکراتے لب سکھڑے
نمکین کافی۔۔۔ اس نے پٹخ کے ساتھ سر پر ہاتھ مارا ۔۔۔
نمک اور چینی کی شیشیاں بدلنی پڑیں گی
———
ایک طرف حیا کے گھر میں یہ خبر خوشیاں لائی تھی تو دوسری جانب کمال اعوان صاحب بیٹے کی کلاس لے رہے تھے جو ان کی عزت ڈبونے میں کوئی کثر نہیں چھوڑ کر آیا تھا
———
اگلے دن حیا آفس جانے کے لیے گیٹ تک آئی تو باہر ایک بہت بڑا ٹرالا کھڑا تھا اس میں سے سامان اتر رہا تھا
ساتھ والے گھر نئے لوگ آئے ہیں کیا ؟ حیا نے مصروف سے انداز میں ڈرائیور سے پوچھا
جی مما تبھی اس کے ساتھ بیٹھی صفا نے پرجوش ہوکر کہا
حیا اس کی خوشی پر ناسمجھی سے کندھے اچکا کر رہ گئی
اگلے ہی دن کمال اعوان میٹھائی ، نکاح کے سوٹ کے سوٹ کے ساتھ تشریف لے آئے
اتنا سارا سامان دیکھ کر حیا کا دل ہی گھبرا گیا بچوں کے سامنے وہ آکورڈ سی ہوگئی
سر جی میری خواہش تھی نکاح سادگی سے ہو
بیٹا آپ کی خواہش کے عین مطابق نکاح سادگی سے ہی ہوگا یہ جازب کی والدہ کا کچھ زیور تھا جو انہوں نے اپنی بہو کے لیے بنوایا تھا باقی یہ سامان یہ تو ہماری طرف سے ہی آنا تھا کل نکاح ہے نہیں تو ابھی اور بھی بہت کچھ لینا تھا
کل۔۔۔ وہ بھونچکا سی رہ گئی مگر میں نے کہا تھا میں یہ گھر نہیں چھوڑ سکتی حیا نے پاس بیٹھے جازب کو دبے دبے لہجے میں کہا
تبھی تو میں نے ساتھ والا گھر خرید لیا آپ بے شک سارا دن یہاں گزاریں کوئی مسئلہ نہیں جازب نے بھی دھیمے سے لہجے میں جواب دیا تبھی حیا نے تیکھی نظر صفا پر ڈالی اسے صفا کی خوشی کی وجہ اب سمجھ آئی صفا حیا کی نظر خود پر محسوس کیے گڑبڑا کر اٹھی میں میٹھائی ڈال کر لائی ۔۔۔
ایسے نہ دیکھیں میری بیٹی کو بچاری ڈر جائے گی جازب نے پھر سے حیا کی جانب جھک کر سرگوشی کی
بدلے میں حیا نے اپنے ناخن اس کی ہتھیلی کی پشت پر گاڑھے ۔۔۔
باہر چلیں آپ کو میں بتاتی ہوں ۔۔۔
———
یہ راتوں رات گھر کیسے بدل لیا آپ سب لوگ ملے ہوئے ہیں نہ ؟ حیا نے ہاتھ آگے باندھ کر اپنی دائی آئی برو اوپر اٹھائی
دیکھیں اب آپ انکار نہیں کرسکتی شادی سے حیا
انگشت شہادت اٹھا کر آنکھوں کو بھی ساتھ اُٹھائے بولا
حیا کی نظریں اپنی انگلی پر دیکھ کر وہ انگلی مٹھی میں قید کرکے ہاتھ نیچے کرگیا
منع تو نہیں کریں گی نہ ؟ حیا مڑنے لگی تو جازب نے پھر سے پیچھے سے آواز دی ۔۔۔
———-
بالاج رات کو ہی تمام گھر والوں کو اسلام آباد لے آیا تھا علی اور عدنان بھائی بہت خوش تھے اپنی بہن کے لیے بھابھیاں بھی بڑھ چڑھ کر کام کر رہی تھیں بلکہ وشمہ بھابھی نے تو جیسے ساری زمہ داری ہی سنبھال لی تھی وہ ایک طرف سے ازالہ کرنا چاہ رہی تھی حیا جھنجھلائی سی اپنے کمرے میں یہاں وہاں چکر کاٹ رہی تھی جب اسے اپنے کمرے کے دروازے کی دوسری طرف سے ہلکی سرگوشیوں کی آواز آئی
میں نہیں جارہی چندہ پلیز تم چلی جاؤ
نہیں نہ آپی مما کی ایک گھوری پر ہی میں نے کوچ کر جانا ہے
پری تم جاؤ پلیز ساتھ بیوٹیشن کو بھی لے جاؤ یار پلیز
حیا نے غصے سے دروازہ کھولا وہ تینوں تو ہڑبڑائی ان کے پاس کھڑی بیوٹیشن بھی ایک پل کو سہم گئی حیا کے چہرے سے ہی لگ رہا تھا کہ وہ ابھی ہی کاٹ کھائے گی ۔۔۔
مما وہ یہ بیوٹیشن اور یہ آپ کے کپڑے میں
مجھے کپڑے بلا رہے تھے بالاج دینا ہے نہیں میں کپڑوں کو بلا رہی تھی بالاج کو چاہیے
وہ وہاں سے دوڑ لگا گئی
عون ۔۔۔عون کے گھر والے آگئے میں بھی جارہی ہوں
پری ان دونوں کے بھاگ جانے پر حیا کو دیکھنے لگی
وہ پھوپھو انہیں آپ سے کام تھا وہ بیوٹیشن کو حیا کے سامنے کرتی خود بھی بھاگ گئی
حیا نے نفی میں سر ہلا کر بیوٹیشن کو کمرے میں آنے کی جگہ دی
لائٹ سا میک اپ بالکل لائٹ سا تنبیہ کرتی وہ کرسی پر بیٹھ گئی
بیوٹیشن نے گہری سانس بھری ۔۔۔
———-
حیات افتخار ولد افتخار احمد آپ کا نکاح جازب کمال ولد کمال اعوان سے شرعی حق مہر کے عوض کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے
حیا کے ایک جانب صفا بیٹھی تھی تو دوسری جانب انابیہ انابیہ نے حیا کا ہاتھ سہلایا
قبول ہے ۔۔۔۔
حیا سے ایجاب و قبول کروا کر مولوی صاحب جازب کی جانب آئے نکاح نامے پر دستخط کرتے جازب نے گہری پرسکون سانس ہوا میں سپرد کی
کمال اعوان نے آگے بڑھ کر بیٹے کو زور سے گلے لگایا
مبارکباد کا شور اٹھا تھا بالاج نے آگے بڑھ کر ماں کو اپنے حصار میں لے کر ان کے سر پر لب رکھے ۔۔۔۔
خوش رہیں ماں
——–
میں صبح تم سے کہہ رہا تھا مجھے باسل سے ملنے جانا ہے اور تم نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ بالاج لاہور گیا ہوا ہے
یہ وجہ تھی مجھے وہاں جانے سے روکنے کی ؟
حدید نے گہری نظر اس کی تیاری پر ڈال کر کہا
ماموں میں بس آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا عون اس کے پاس آکر بیٹھا
وہ مان گئی نکاح کے لیے ؟ حدید نے غیر مرئی نقطے پر نظر جما کر پوچھا
ان کا بھی حق تھا زندگی کی خوشیوں میں ان کے بچوں نے انہیں منا لیا
ماموں آپ بھی شادی کرلیں عون نے بہت بے ساختہ کہا تھا
حدید نے چہرہ عون کی جانب کیا پھر وہ ہنستا چلا گیا جیسے عون کی بات سے بہت محظوظ ہوا تھا
میں صحیح کہہ رہا ہوں ماموں
تم اپنے مشورے اپنے پاس رکھو جلدی سے رخصتی کی ڈیٹ لو مجھے نانا بناؤ میں اتنے میں ہی بہت خوش ہوں
آپ ہوجائیں گے خوش ؟ عون نے بچوں کے سے انداز میں اس سے پوچھا
حدید نے ہنستے ہوئے اسے خود میں بھینج لیا تم ہمیشہ میرے لیے سب سے خاص رہو گے عون
جھوٹ بول رہے ہیں آپ باسل کے آگے آپ مجھے بھی بھول جاتے ہیں عون نے شکوہ کیا
حدید کا قہقہ پھر سے اداس لون میں گونجا
فیصل جاوید کے کمرے کے ٹیرس میں ان کے ساتھ کھڑی حدیقہ نے بڑے دل سے اس منظر کو دیکھا تھا ۔۔۔
———-
جازب کیا ہوا یہاں کیوں کھڑے ہو ؟ کمرے میں جاؤ حیا انتظار کر رہی ہوگی تمہارا
رات کو کمال اعوان چکر لگانے کی غرض سے اٹھے تھے نئی جگہ تھی تو انہیں نیند لینے میں تھوڑا سا مسئلہ پیش آرہا تھا مگر اپنے بیٹے کے لیے انہیں یہ بھی قبول تھا
آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں نہ ڈیڈ
جازب نے کمال صاحب کا ہاتھ تھاما
خیر ہے نہ بیوی نے کمرے سے تو نہیں نکال دیا
جازب جزباتی سا ہوکر باپ کے گلے لگنے لگا تھا کمال صاحب کے طنز پر بدمزہ ہوکر پیچھے ہوا
ڈیڈ آپ نہیں سدھر سکتے
آؤ جاؤ جاؤ کہہ کون رہا ہے چلے تھے مسٹر خان بننے ہنہہ ۔۔۔
اچھا ایسی بات ہے تو یہ راتوں کو اپنی مرحوم بیوی کی تصویر کو سینے سے لگا کر آپ تو بالکل نہیں سوتے نہ بیرسٹر صاحب
جازب میں نے ڈنڈا پکڑ لینا ہے اور پھر صبح ہی جانے دینا ہے تمہارے کمرے میں کمال صاحب نے یہاں وہاں اپنے لاٹھی کی تلاش میں نظر گھمائی جازب ان کا گال چوم کر وہاں سے بھاگ گیا
کھوتے کا بچہ ۔۔۔۔
پھر ہنس دئیے ۔۔۔
———-
جازب نے گہری سانس بھر کر دروازہ کھولا سامنے ہی سرخ رنگ کی نفیس سے کام والی شلوار قمیض میں ملبوس ہلکے پھلکے میک اپ کے ساتھ اس کے انتظار میں بیٹھی حیا اسے چاروں شانے چت کروا گئی
وہ کتنے لمحے دروازے پر ہی کھڑا رہا
جازب ۔۔۔۔ حیا کو ہی اسے پکارنا پڑا
جازب چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اس کے قریب آیا
پتا نہیں سمجھ نہیں آرہی کیسا بی ہیو کروں جازب نے دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلا پھر گہرا سانس لے کر حیا کے سامنے بیٹھ گیا
حیا کچھ سمٹ گئی دونوں ہی ایک دوسرے کی جانب دیکھنے سے کترا رہے تھے
نماز پڑھیں گیں میرے ساتھ
کچھ دیر وہ اسے ایسے ہی دیکھتے ہوئے بالآخر بول ہی پڑے
حیا نے اثبات میں سر ہلایا
حیا وضو کرکے باہر آئی تو جازب نے آگے بڑھ کر دوپٹہ اس کے چہرے کے گرد لپیٹا
وہ دونوں آگے پیچھے نماز بچھائے کھڑے تھے جازب امامت کروا رہا تھا اور حیا اس کے پیچھے پیچھے نماز ادا کر رہی تھی ۔۔۔
———
