212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 23)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

بالاج صفا کو یونیورسٹی چھوڑ کر جا چکا تھا ۔۔

صفا نے گہرا سانس بھرا اور قدم ڈین کے آفس کی طرف بڑھا لئیے سر سے ملنے کے بعد ہی اس نے اپنا پہلا لیکچر دینے جانا تھا ۔۔۔

فائنل سمسٹرز کے بچے ڈسکشن روم میں جمع ہونا شروع ہوگئے تھے

“عون تم میری برتھڈے میں کیوں نہیں آئے ؟”

رومیسہ نے اپنی کتاب میں جھکے مصروف سے عون کے پاس ٹک کر خفا لہجے میں کہا

عون نے چونک کر دیکھا

‘ہاں۔۔۔۔وہ میں مصروف تھا”

عون نے بے دھیانی میں ایک نظر اس کی کلائی میں چمکتے بریلسٹ پر ڈالی تھی

افسوس ایک دفعہ پھر سے جاگا

“ایسی بھی کیا مصروفیات۔۔۔۔جو میری سالگرہ سے بھی زیادہ اہم تھی “

عون نے ضبط سے دانت پیسے یہ تو سر پر ہی چڑھ گئی

ابھی وہ اسے صاف صاف کچھ کہتا صفا کی آواز پر اس کے دھیان کے سارے دھاگے کلاس میں داخل ہونے والی کے ساتھ جڑ گئے

“السلام علیکم کلاس “

“وعلیکم السلام کیسی ہیں مس “

“الحمدللہ آپ لوگ سنائیں “

“جی تو انٹروڈکشن کی میریے خیال سے ضرورت نہیں اور وقت بھی نہیں ہے تو ہم اپنی کلاس سٹارٹ کرتے ہیں “

صفا نے بس ایک نظر ایک ساتھ بیٹھے عون اور رومیسہ پر ڈالی تھی

پھر وہ پروجیکٹر کی جانب مڑ گئی

پیچھے بیٹھے تمام بچے محو ہو کر اسے سننے لگے سوائے عون ابراہیم کے جس کے لیے اِرد گِرد کی ہر آواز بند ہوگئی تھی

_______

“بالاج تیرے لیے ایک خوشخبری ہے “

گھر کی جانب گاڑی موڑتے ہوئے بالاج کا فون رنگ ہوا

شجاع کی کال دیکھ کر بالاج نے ائیر پوڈ کان سے لگا کر کال اٹینڈ کی

شجاع کی خوشی سے بھرپور آواز گونجی

“اچھا کیا ؟؟”

سٹریرنگ گھماتے ہوئے اس نے استفسار کیا

“تیرا جو ٹینڈر تھا حدید شاہ کے ساتھ وہ ان کو بے حد پسند آیا اور تم لوگوں کے ساتھ ایک اور ڈیل کرنا چاہتے ہیں

ایک اور بڑی کامیابی ملی ہے تجھے میرے شیر

اس ڈیل کے بعد کروڑوں نہیں عربوں کا فائدہ ہوا ہے خان کمپنی کو”

شجاع اور بھی اسے تفصیل بتا رہا تھا

بالاج نے گاڑی روک کر سر سٹیرنک پر ٹکا لیا

“کاش ۔۔۔۔ “ایک کاش تھا جو اس کے لبوں سے نکلا تھا

لالے کیا ہوا

بالاج کی خاموشی محسوس کئیے شجاع نے فکر مندی سے پوچھا

“نہیں کچھ نہیں” بالاج نے سر اٹھایا ابھی اس نے گھر جانے سے پہلے اپنی روٹھی بیوی کے لیے بھی کچھ لے کر جانا تھا

بالاج تو بتا یاں نہ بتا اپنے کو دوست تو ہر راہ میں اپنے ساتھ پائے گا

شجاع کی پر خلوص آواز نے اسے اپنے ہونے کا احساس دلایا

“میں سوچتا ہوں تو نہ ہوتا تو آج بالاج خان یہاں پر ہوتا۔۔۔!! “

بالاج نے بہت کم اپنے دل کا حال شجاع کے سامنے اعیاں کیا تھا

اب بھی شجاع کا دل کیا وہ اسے گلے لگا لے

“ابھی اگر میں گوجرانولہ کے راستے میں نہ ہوتا تو تیرے پاس آکر تجھے گلے لگا لیتا “

شجاع تھوڑا سینٹی ہوا

“ہٹ تو نے مجھے اپنی بیوی سمجھ رکھا ہے “

بالاج کی آواز پر شجاع کے چہرے پر مسکراہٹ آئی مگر وہ مصنوعی غصے سے بولا

“سالے تو رک “

شجاع نے دانت پیسے

تو بالاج کا قہقہہ بے ساختہ تھا

“اچھا یہ بتا گوجرانولہ کیا کرنے جارہا ہے ؟؟”

“پھوپھو کا یار آپریشن ہوا ہے ہارٹ کا انہیں کا پتا لینے “

“اچھا سہی !!”

“اچھا سہی نہیں تو پارٹی کی تیاری کر اتنی بڑی کامیابی ملی ہے خالی مبارکباد پر ٹرخا نے کا ارادہ ہے ؟!!”

“تجھ سے پارٹی عزیز ہے کیا “

“تو آجا گرینڈ پارٹی رکھنے کا ارادہ ہے اور ساتھ تیرے لیے ایک سرپرائز بھی ہے “

بالاج نے گروسری شاپ سے ڈھیر ساری چاکلیٹس پیک کروا کر کال ڈسکنیکٹ کی اور گاڑی کی طرف آیا ۔۔۔

صاب یہ پھول صاب

چھوٹے سے بچے نے بالاج کو اپنی جانب متوجہ کیا

_______

“سو کلاس کسی کا کوئی کوسچن ؟؟”

“نو مس ہمیں اچھے سے سمجھ آئی ہے “

سی آر کی آواز پر رومسیہ جو ہاتھ اٹھانے والی تھی آنکھیں گھما کر رہ گئی

“گڈ امید ہے آپ لوگ یونہی ساری کلاسس باقاعدگی سے اٹینڈ کریں گے باقی آپ میں سے جو گی اے ٹی کا ٹیسٹ دینا چاہتے ہیں ان سے بھی میں اپنا ایکسپیرینس شئیر کروں گی امید ہے وہ بھی آپ لوگوں کے کام آئے گا “

“جی مس صفا ضرور بتائیے گا آخر آپ نے تین دفعہ ٹیسٹ دیا ہےآپ کو تو رٹ گئے ہوں گے سوالات “

رومیسہ کی طنزیہ مسکراہٹ سمیت بولے گئے جملے پر وہ اور اس کی دوست قہقہ لگا گئی جبکہ اس کے پاس بیٹھے عون نے سختی سے رومسیہ کو گھورا تھا

“جی مس رومیسہ صحیح کہہ رہی ہیں آپ “

“لیکن پوزیٹو بات یہ ہے کہ میں نے آپ جیسے طعنہ کشی کرنے والوں کی بات پر کان نہ دھرتے ہوئے اپنے فیلئیر سے سیکھا ہمت ہارنے کی بجائے کوشش کی پھر کوشش کی اور ان شاءاللہ مجھے امید ہے اس بار میری کوشش رنگ لائے گی

آپ نے بچپن میں وہ کہاوت تو سنی ہی ہوگی “

“Try Try again until you

succeed “

کمال اعتمادی سے صفا نے اس کے طعنے کا جواب دیا

جس پر باقی سٹوڈنٹس صفا کے قائل ہونے کے ساتھ رومسیہ

کا منہ دیکھ کر مسکراہٹ دبا کر رہ گئے

جبکہ عون کی آنکھوں پر تو جیسے جگنو چمکنے لگے تھے

“اگلی کلاس میں پھر سے ملاقات ہوتی ہے “

“فی امان اللہ “

کلاس سے نکلتے ہوئے اسے صبح کا واقع یاد آیا

آفس کی جانب جاتے ہوئے اس نے جب دو

سٹوڈنٹس کو اپنے متعلق بات کرتے سنا تو وہ رک گئی تھی

“یار مس صفا پڑھا لیں گی ہمیں ؟؟ وہ کوئی ایکسپیرینزڈ ٹیچر بھی نہیں ہیں ہم آخری سمسٹر پر رسک کیسے لے سکتے ہیں “

“ہاں یار پتا نہیں آج دیکھتے ہیں “

صفا نے لب بھیجے آج اس نے صرف انہیں پڑھانا نہیں تھا خود کو پروف بھی کرنا تھا

حالانکہ صبح حیا اور بالاج کی باتوں نے اسے غائب دماغ اور ماؤف کردیا تھا

مگر اس نے سب پس پشت ڈال کر کلاس میں قدم رکھے تھے

اور وہ کامیاب بھی رہی تھی

_______

اپنے کمرے میں گہری نیند میں سوئے حدید شاہ کا فون وائریٹ ہوا تھا انھوں نے بغیر دیکھے ہی فون کان کے ساتھ لگایا

“سر بہت بہت مبارک ہو آپ کا خان انڈسٹری کے ساتھ مل کر کیا گیا پروجیکٹ نہ صرف کامیاب ہوا ہے بلکہ وہ لوگ پہلے سے بڑا ٹینڈر آپ لوگوں کے ساتھ مل کر کرنا چاہتے ہیں اور سر”

“ہمم۔۔۔” حدید شاہ نے پوری بات سنے بغیر فون کان سے ہٹا کر دوبارہ آنکھیں موند لیں

اسلام آباد سے واپس آنے بعد انہیں نیند کی شدید طلب ہورہی تھی اتنے سال بے آرام نیندوں نے انھیں کچھ نہیں کہا جتنا اس فنکشن میں ایک عورت کا سائیڈ لک دیکھ کر آنکھیں انجانا خوف ستا رہا تھا جس سے بھاگنے کے لیے حدید شاہ نے نیند کی گولیوں کا سہارا لیا وہ اٹھنے کو تیار نہ تھے جب آنکھ کھلتی نیند کی گولی کھا کر دوبارہ نیم غنودگی میں چلے جاتے

______

بالاج نے گھر میں قدم رکھا کافی خاموشی تھی اس ٹائم وہ گھر پر کم ہی پایا جاتا تھا

صفا یونیورسٹی گئی ہے حیا آفس انابیہ بھی پہلے اس ٹائم یونیورسٹی ہوتی تھی مگر حیا کی اجازت سے وہ مختصر چھٹیوں پر تھی جسے اس کی شرارتی بیوی مستقل سمجھ کر مزے کر رہی تھی

انابیہ کا ممنمنایہ سا لہجہ یاد کرکے بالاج پھر سے ہنسا

” انا “

بالاج نے پکارا مگر وہ شاید اوپر روم میں تھی اس لیے کوئی جواب نہیں آیا

بالاج نے اوپر قدم رکھے تو انابیہ کی جھنجھلائی سی آواز آئی

“افف کیا مصیبت ہے اسے “

بالاج نے سر جھٹکا

“اب اس کی انا کونسا معرکہ سر انجام دینے والی تھی “

“کیا ہوا انا ؟؟”

دونوں ہاتھوں کو پیچھے باندھے بالاج نے کمرے میں قدم رکھا وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹن سے رگڑ رہی تھی یاں شاید ناخنوں کو بالاج کو سمجھ نہ آئی

“کچھ نہیں” انا نے چہرہ موڑ کر ناراضگی کا اظہار کیا

“کچھ نہیں ؟؟!!”

“مجھ سے ناراض ہو؟ “

بالاج نے مسکراہٹ دبا کر پوچھا

“پتا نہیں !!”

“پھر سے خفا سی آواز آئی “

“اچھا نہیں معلوم تو ۔۔۔ اب میں ان چاکلیٹس اور پھولوں کا کیا کرو “

“پھول چاکلیٹس”

چاکلیٹس کا سن کر ہی انابیہ کے منہ میں پانی آگیا تھا

دیں پھر میری چاکلیٹس انابیہ ساری خفگی بھلائے اپنے ہاتھ آگے کئیے بولی

بالاج کو اس کے حناہی ہاتھ کس قدر اپیل کرتے تھے وہ انہیں تھام گیا تھا

“دیں نا میری چاکلیٹس”

“پہلے بتاؤ اب ناراض تو نہیں ہو “

بالاج نے اپنے بائیں ہاتھ کو آگے کرکے چاکلیٹ سے بھرا ہوا پیکٹ اس کی طرف بڑھایا

“پہلے میرے پھول بھی دیں۔۔”انابیہ نے آگے ہو کر اس کا دایاں ہاتھ دیکھنا چاہا

بالاج نے اسے کھینچ کر اور قریب کر لیا

“ناراضگی کی وجہ بتاؤ “

“لاج میں نے آگے نہیں پڑھنا ۔۔۔۔”

لاڈ سے کہتے خود ہی اس کے کوٹ کی اندرونی پاکٹ میں ہاتھ مارتی گلاب کا پھول نکال چکی تھی

“پڑھائی بہت ضروری ہے آنا اور آپ نے آگے پڑھنا ہے “

بالاج نے انگوٹھے اور انگلی سے اس کی سرخ ملائم گال کو کھینچا

“لاج ” وہ چیخی دونوں بہن بھائی اس کی گالوں کے پیچھے ہی پڑ گئے تھے

“اچھا اور دوسری وجہ بتاؤ ناراضگی کی ؟؟”بالاج نے اسے کے کندے سے بازو گزار کر پوچھا

“آپ نے ۔۔۔آپ نے مجھے کل منہ دیکھائی نہیں دی “

“منہ۔۔”

“پلیز اب ناول کے ہیرو کی طرح یہ مت کہیے گا اتنی دفعہ دیکھی شکل کی کیا منہ دیکھائی دوں “

بالاج کو بولتا دیکھ ٹوک کر اس کے کوٹ کے بٹن پر انگلیاں چلاتی خفگی سے بولی

“تمہیں کس نے کہا میں نے تمہارا چہرہ بہت بار دیکھا ہے

میں نے کبھی تمہارا چہرہ غور سے دیکھا ہی نہیں کبھی تمہاری معصوم آنکھیں مجھے جکڑ لیتی تھی تو کبھی خفگی سے پھولے گال مجھے آگے بڑھنے نہ دیتے تھے “

” کبھی فرصت سے دیکھنا ہی نہیں ہوا تمہارا پورا چہرہ “

بالاج کے لہجے میں کچھ تھا جس نے انابیہ کی دھڑکنیں روک دی تھی

اس نے لعاب نگلا

“منہ دیکھائی تو دینی بنتی ہے کیوں نہ وہ تحفہ ہمارے ریسیپشن پر دیا جائے”

بالاج نے اس کے بکھرے بال چہرے سے ہٹا کر شرارتی انداز میں کہا

_______

“یار مس صفا کا ڈین کو کہہ کر ہم نے اچھا ہی کیا ان کے سمجھانے کا طریقہ کتنے مزے کا تھا “

کینٹین کی جانب آتے اسے اپنی کلاس کے سٹوڈنٹس کے کامپلیمینٹس پر خوشی ہوئی

“الحمدللہ “

وہ کینٹین کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔

________

“رومیسہ چلو گھر نہیں جانا کیا تم نے آج ہم نے شاپنگ پر بھی جانا تھا “

مزنٰی نے کلاس میں بیٹھی رومیسہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا

کہیں نہیں جانا مجھے تمہارے ساتھ ہاتھ چھوڑو میرا

رومیسہ کیا ہوگیا ہے تمہیں دوست ہوں تمہاری میں مزنٰی نے اپنے جھٹکے ہاتھ کو دیکھا

کیا ہوگیا مجھ پر ہنستے ہوئے تمہیں یاد نہیں آیا تم دوست ہو میری

رومیسہ نے چیختے ہوئے کہا

“رومی ” آہستہ بولو

“صفا کو یونیورسٹی بولا کر تم نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری ہے”

“اب اگر اس نے تمہاری بات کا جواب دے دیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں تم اس بات کا غصہ مجھ پر نکالو گی “

مزنٰی نے بھی سختی سے رومیسہ کو جواب دیا

“اس کو تو میں دیکھ ہی لوں گی لیکن آج کے بعد یہ مت بھولنا میں صرف تمہاری دوست نہیں ہوں۔۔۔۔ تمہیں مشکل وقت پر میری ضرورت بھی ہوتی ہے “

رومیسہ انگلی اس کی طرف اٹھائے مزنیٰ کو بہت کچھ جتا کر بھی گئی تھی

رومیسہ کے جانے کے بعد مزنی نے ہاتھ اس خالی ڈیسک پر مارا

________

“ارے حیا صاحبہ اتنی محنت کرکے آپ عدالت کی دہلیز تک آئی ہیں”

“ابھی کل ہی تو آپ کے بیٹے کا نکاح ہوا ہے تھکی ہوئی ہوں گی آپ حیا صاحبہ ‘

“اتنی زحمت کیوں کی آپ ایک کال کرتی ہم ڈیٹ کوئی اور رکھوا لیتے “

“ویسے بھی اس کیس کا اختتام تو سب کو پہلے سے ہی معلوم ہے “

مخالف وکیل جنید بغدادی نے حیا کی طرف مسکراتی نظروں سے دیکھ کر کہا

حیا نے سپاٹ نظر جنید بغدادی پر ڈالی

“ویسے آپ کو یاد ہے میرے والد کا ہاسپٹل میں اپائنٹمنٹ کب ہے مجھے بھول گیا آپ نے ہماری اتنی خبر رکھی ہوئی ہے یہ تو یاد ہو ہوگا غداری میرا مطلب بغدادی صاحب “

جازب کمال اپنا کورٹ صحیح کرتے حیا اور جنید بغدادی کے بالکل درمیان میں آکھڑے ہوئے تھے

جازب کمال کو دیکھ کر جنید بغدادی کی مسکراہٹ سمٹی

“یاد تو مجھے واقع بہت کچھ ہے کمال صاحب”

“ملاقات ہوتی ہے پھر کمرہ عدالت میں واپسی پر آپ کو ضرور تاریخ یاد دلاؤں گا جازب صاحب “

جنید بغدادی اپنا کورٹ جھاڑ کر اندر بڑھ گئے۔۔۔۔