212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 25)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“بی بی جی بیٹھ جائیں “

ڈرائیور جو تین چار منٹ سے صفا کے سامنے ہی گاڑی کا دروازہ کھولے کھڑا تھا بلآخر بول ہی پڑا

آہ ۔۔۔ہاں صفا نے چونک کے ڈرائیور کو دیکھا

آپ کب آئے انکل

بی بی جی پانچ منٹ ہوگئے ہیں آپ کو ابھی کوئی کام ہے ادھر

نہیں

صفا نفی میں سر ہلاتی گاڑی میں بیٹھنے کے لیے بڑھی

“صفا “

جب عون کی آواز اپنے پیچھے سے سنائی دی صفا نے چونک کر گردن موڑی

مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔

_______

“وشمہ تم نے پھر دودھ نکال لیا میرے والی پتیلی سے حمزہ نے چائے پینی ہے میرا بیٹا تھک کر آیا ہے “

کوثر بھابھی نے ماتھے پر تیوڑیاں چڑھاتے ہوئے کہا

” کیا ہوگیا ہے بھابھی علی بھائی نے چائے کا کہا تھا ان کے لیے بنائی تھی میں نے اپنے لیے نہیں اور یہ پھر والی کیا بات کہی آپ نے کتنی بار نکالا ہے میں نے دودھ”

وشمہ نے بھی رخ ان کی طرف موڑ کر بھویں سمیٹ کر کہا

مما یار چائے بنی نہیں میرے سر میں درد ہے یار حمزہ کی آواز پر کوثر بیگم نے ایک تند نظر دیورانی پر ڈال کر پتیلی چولہے پر رکھ دی ۔۔۔

یہ کوئی بہت غریب گھر نہیں تھا بلکہ درمیانے طبقے کا گھر اچھے علاقے میں بنا ہوا تھا جہاں دو بھائی اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ان کی بوڑھی ماں رہائش پذیر تھے

گھر کا ماحول کبھی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے اتنا تنگ نہ ہوا تھا جتنا گزشتہ چار ماہ سے ہوتا چلا آرہا تھا

علی اور عدنان دونوں بھائیوں میں آپس میں پیار ہونے کے ساتھ ساتھ اتفاق بھی تھا دونوں کی بیویاں بھی خوش اسلوبی سے گھر کی دیکھ بھال کر رہی تھی علی اور کوثر کے تین بجے تھے حمزہ جو یونیورسٹی جاتا ہے پھر سمعیہ جو کالج کی طلبہ ہے اور آخر میں انس جو ابھی میٹرک میں تھا پھر دوسری فیملی عدنان اور وشمہ کی تھی جن کے دو ہی بچے تھے پریہان جو حال ہی میں یونیورسٹی سے فارغ ہوئی تھی اور چھوٹا زید سمعیہ کے ساتھ کالج میں تھا

گھر کا ماحول بھی گزشتہ چار ماہ سے عجیب سا ہوگیا تھا جب علی اور عدنان کی چمڑے کی فیکٹری میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی تھی آگ سے کوئی جانی تو نہیں مگر مالی کافی زیادہ نقصان ہوا مالی نقصان کے علاؤہ جن لوگوں سے پیسے لے کر مال دینا تھا ان کی کال اور دھمکیوں کی وجہ سے علی بھائی اور عدنان نے مل کر اپنا آبائی پلاٹ بیچنے کا ارادہ کیا لیکن سب سے بڑا دھچکا دونوں بھائیوں کو تب لگا جب پتا لگا کہ ان کے پلاٹ پر قبضہ ہوچکا ہے

لوگوں کے دھمکی آمیز فون پر بے حد پریشان بھائیوں نے بالآخر اپنے اپنے پاس جمع کر رکھی سیوینگس دے کر لوگوں کو خاموش کروایا گھر کا راشن جو پہلے کُھلا آتا تھا اب گن گن کر لایا جانے لگا بچوں کی تعلیم پر بھی اثر پڑا

_________

بابا دادو کی دوائی ختم ہوگئی ہے سمعیہ ہاتھ میں نسخہ پکڑے علی صاحب کے پاس آئی جو لاونج میں بیٹھے حساب کرنے میں مصروف تھے

“عدنان امی کی دوائی نہیں لائے تم؟”

مصروف سے انداز میں اپنے چھوٹے بھائی کے مخاطب کرتے وہ وہاں آئی کوثر بیگم کے ساتھ سے چائے تھام گئے

“بھائی امی کا انجیکشن بہت مہنگا ہوگیا ہے ایک ساتھ مہینے کی دوائی بہت مہنگی پڑ جاتی ہے “

عدنان صاحب نے پریشانی سے کہا

“عدنان میں سوچ رہا ہوں اوپر والا پورشن کرائے پر نہ دے دیں کرائے سے گھر کا خرچہ اور امی کی دوائیاں تو آئیں گی نہ “

علی صاحب پر سوچ انداز میں بولے

“کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ بھائی صاحب اوپر والا پورشن کرائے کر دیں گے تو ہم کدھر جائیں گے میرے بچے عدنان بولیں نہ آپ “

وشمہ پریشانی سے بولی

وشمہ خاموش ہوجاؤ بھائی نے کچھ سوچا ہی ہوگا

عدنان صاحب نے اپنی بیگم کو ڈپٹا

“ہمم۔۔” علی صاحب نے ہنکارا بڑھا

“بھائی ہم کوئی اچھا وکیل کر لیتے ہیں پلاٹ سے قبضہ ہٹوانے کے لیے “

“نہیں عدنان وکیل کا خرچہ عدالت کے چکر ایک اور جھنجھٹ “

علی صاحب نے نفی میں سر ہلایا

“بھائی وہ والا پلاٹ “

“نہیں عدنان” علی بھائی نے قطع لہجے میں بولا

تو وہ خاموش ہوگئے

________

حیا صاحبہ کے گھر میں داخل ہوتے ہی انابیہ بھاگ کے ان کے گلے لگ گئی

“بہت بہت مبارک ہو مما آپ نے تو کمال ہی کردیا “

“ابھی میں ٹی وی پر آپ کے کیس جیتنے کے بعد کا انٹرویو دیکھ رہی تھی “

“افف سچی مما میں تو آپ کی فین ہی ہوگئی “

“صفا آپی صحیح آپ کے کرئیر سے انسپائر ہیں ہائے کاش میں بھی ایل ایل بی کرتی “

وہ حیا کے گلے میں بانہوں کا حصار بنائے اس کا گال چوم کر بولی

حیا مسکرائی

بالاج نے بھی آگے پڑھ کر حیا کو گلے لگایا جس کی سب سے بڑی کامیابی تو اس کی اولاد تھی

یک دم ہی حیا کی آنکھیں بھیگ گئی جنہیں محسوس کیے بالاج نے اپنی ماں کے ڈھکے سر پر عقیدت سے لب رکھے جس پر حیا پرسکون سی ہوگئی

“آئی ایم پراوڈ آف یو مما “

“می ٹو ماما کی جان۔ “

اتنے میں صفا بھی گاڑی سے باہر نکلتی گھر کے اندر آئی

صفا آپی آپ نے مما کا انٹرویو دیکھا آپی مما کسی جیت گئی انابیہ حد سے زیادہ اکسائیٹڈ تھی

صفا نے چونک کر پہلے حیا کو دیکھا پھر بھاگ کر ان کے گلے لگ گئی

“آئی لو یو مما یو آر دی بیسٹ آپ ہمارا فخر ہو مجھے آپ جیسا بننا ہے “

صفا نے اپنی گرفت حیا کی طرف بڑھا کر کہا

“اور میرا فخر میرے تینوں بچے ہیں “

حیا نے پاس چمکتی مسکرائی انابیہ کو بھی اپنے حصار میں لیا اور ان تینوں کے گرد مضبوط سہارے کی طرح بالاج کے بازو حمائل تھے جن پر ایک نظر ڈالے انابیہ نے مسکرا کر بالاج کو دیکھا تھا۔۔۔۔

________

“السلام علیکم بابا کیسے ہیں آپ ؟؟”

ابراہیم شاہ سہ پہر کو ہی آفس سے سیدھا گھر کو آئے تھے

“وعلیکم السلام ارے آؤ ابراہیم آج جلدی آفس سے آگئے خیریت بچے “

جاوید شاہ نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ کر ان سے پوچھا

“جی بابا سب خیریت کوئی میٹینگ نہیں تھی تو آگیا میں

اچھا چائے پیو گے “

“نہیں بابا آپ پییں میں فریش ہوکر آتا ہوں “

ابراہیم شاہ ان سے پیار لے کر کمرے کی طرف بڑھ گئے

_______

“دعا کریں یہ دل مردہ ہوجائے صفا کیونکہ اب مجھ سے بھی نہیں دیکھا جاتا آپ کا میری وجہ سے پریشان ہونا”

صفا غائب دماغی سے کمرے میں آئی تھی جب ایک دفعہ پھر سے عون کے جگر پاش جملے کے یاد آنے پر صفا نے سست پڑتی دھڑکنوں پر ہاتھ رکھا

“یا اللہ!!”

عجیب سی دہشت کے زیر اثر وہ اٹھی

“نماز پڑھنے کے لیے “

“اللہ سے مدد مانگنے کے لیے “

“اپنے سکون کے لیے “

“جو بے شک اللہ کی یاد میں ہے اللہ کے زکر میں ہے “

_______

“ابراہیم آپ جلدی آگئے سب ٹھیک ہے نہ “

حدیقہ شاہ جو کسی کتاب کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھی ابرہیم شاہ کے آنے کر حیرانگی سے بولی

ہاں بس تھکاوٹ تھی کوئی میٹینگ بھی نہیں تھی اس لیے آگیا

آپ تھکے تھکے لگ رہے ہیں بیٹھیں میں آپ کے لیے چائے بنا کر لاتا ہوں

نہیں چائے نہیں تم بیٹھو میرے پاس ابراہیم نے شاہ نے انھیں ہاتھ سے تھام کر روکا

“کیا ہوا ہے زیادہ تھک گئے “

حدیقہ شاہ ان کے پاس ہی ٹک گئی

“ہمم اب عمر ہوگئی ہے کیا کریں بیگم” حدید شاہ نے آنکھیں موند کر سر بیڈ کی ٹیک سے لگا کر کہا

“عون کا آخری سمسٹر ہے میں اسے کہوں گی آپ کا ہاتھ بٹائے “

حدیقہ شاہ نے خود ہی احساس کرتے ان کا سر دبانا شروع کیا

اپنی پیشانی پر دھرے حدیقہ شاہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر انہیں روکا

“میری خواہش تھی عون ہمارا فیملی بزنس سنبھالے مگر اس کا رحجان دوسری جانب دیکھ کر میں زیادہ فورس نہ کر سکا اور نہ ہی کرنا چاہتا تھا “

مامو نے بھی مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا تھا اس معاملے میں

ابراہیم شاہ کے لہجے میں عون کے لیے محبت تھی

حدیقہ میں چاہ رہا ہوں عون کی منگنی کردیں ہم مدثر نے مجھ سے آج بھی باتوں باتوں میں زکر کیا تھا کہ وہ اب رومیسہ کی منگنی کرنا چاہتے ہیں

تم کیا کہتی ہو ابراہیم شاہ نے ان کا ہاتھ آنکھوں سے ہٹا کر اس کے چہرے کی جانب دیکھ کر پوچھا

ابراہیم مجھے آپ کو کچھ بتانا تھا عون کے بارے میں

حدیقہ شاہ ابھی کچھ بولتی ان کے کمرے کا دروازہ دھڑم سے کھلا

_______

صفا کسی اور کی ہو جائے گی اس سوچ نے جیسے عون کے جسم سے روح نکالنے کی حد تک ضرب لگائی تھی کہ وہ پھڑپھڑا کر رہ گیا تھا

جان ہوا ہوئی تھی

وہ گاڑی کو ہواؤں سے باتیں کرواتا گھر پہنچا اس نے ماں سے صفا کے بارے میں بات کرنی تھی آج کے آج

وہ چاہ رہا تھا آج ہی ابراہیم شاہ اور حدیقہ شاہ اس کا رشتہ صفا کے گھر لے کر جائیں اب وہ ایک سیکنڈ کی دیری برداشت نہیں کرسکتا تھا

_______

دھڑم سے دروازہ کھلنے پر دونوں چونک گئے

عون یہ کیا بدتمیزی ہے تم ساری تمیز ۔۔۔۔

بابا میں شادی کرنا چاہتا ہوں

ابراہیم شاہ جی بات کاٹ کر عون سختی سے بولا کہ ایک پل کو تو ابراہیم شاہ بھی حیران پریشان سے خاموش ہوگئے

تمہارا دماغ خراب ہے عون

نشہ کرکے آئے ہو کیا

ابراہیم شاہ کی آواز سخت تھی

حدیقہ شاہ ہڑبڑائی سی عون کے پاس آئی عون کیا ہوا ہے بچے

مما آپ آج ہی صفا کے گھر میدان رشتہ لے کر جائیں گی

مگر عون بچے ہوا کیا

“مما میں نے کہا ہے نہ آج ہی آپ اور بابا جائیں گے”

“کون صفا ؟؟۔۔۔عون ابراہیم کسے کسے شادی کا لاڑا لگایا ہوا ہے تم نے “

ابراہیم شاہ درشتگی سے بولے

“کسی کو لاڑا نہیں لگایا میں نے بابا میں صفا سے محبت کرتا ہوں آپ آج ہی اس ہے گھر رشتہ لے کر جائیں گے نہیں تو ان کے گھر والے ان کی منگنی کہیں اور کردیں گے “

عون حواس باختہ سا ابراہیم شاہ کا ہاتھ تھام کر بولا

کیا مطلب عون

اس کی شادی کیا اس کی مرضی کے بغیر ہورہی ہے ؟؟ حدیقہ شاہ نے تحمل سے عون سے پوچھا

جس کے لہجے میں خوف تھا

مجھے نہیں معلوم ماں مگر میری مرضی کے خلاف ہورہا ہے سب کچھ

تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے عون اور کچھ نہیں تم کیسے کسی کی زندگی میں اپنی مرضی چلا سکتے ہوں

ابراہیم شاہ ماتھے پر تیوڑیاں چڑھائے دانت پیس کر بولے

ہاں ہوگیا ہے میرا دماغ خراب مجھے نہیں پتا آپ اج ہی ماں کے ساتھ جائیں گے بس

وہ ہٹ دھرمی سے بولا

نہیں جائیں گے کیا کرلو گے ابراہیم شاہ نے بھی اسی کے لہجے کو لوٹایا

میں خود کو ختم کرلو گا

عون ابراہیم شاہ نے ہاتھ ہوا میں بلند کیا

حدیقہ شاہ نے دہل کر عون کو دیکھا

آپ کیسے ڈیڈ ہیں آپ سے میری خوشی برداشت کیوں نہیں ہوتی

عون حدیقہ شاہ نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا

عون نے سرخ آنکھیں زمیں پر گاڑھی

وہ اپنی ماں کو کیسے غصے سے دیکھ سکتا تھا

“عون “

حدیقہ شاہ نے تڑپ کر اسے تھامنہ چاہا مگر وہ غصے سے باہر نکل گیا

جاتے ہوئے دروازے کی بلند آواز پر حدیقہ نے بھیگی نگاہ ابراہیم شاہ پر ڈالی

________

مشہور معروف این جی او اونر خرم داد کیس کا فیصلہ

خرم داد کو سزا دلوانے کے پیچھے اسلام آباد کے مشہور ایڈوکیٹ ایکڈوکیٹ جازب کمال اور حیا خان سرخیوں میں

کیس کے بعد لئیے جانے والے شاندار انٹرویو کی چند جھلکیاں

“بابا چاچو ماما دادو کی طبیعت خراب ہوگئی ہے “

سمعیہ کی آواز پر گھر پر کہرام کا مچ گیا

________

آج جیسے حدید شاہ صدیوں کی نیند پوری کرکے جاگے تھے

فریش ہوکر اپنے کمرے میں آئے

بیڈ پر پڑے موبائل پر ڈھیر ساری کالز ای میلز ویڈیو اور نہ جانے کیا کچھ آیا ہوا تھا

جب ایک دفعہ پھر ان کا فون بلنک ہوا

ابھی وہ جھکتے ان کے کمرے کا دروازہ کھلا

“عون تم یہاں اس وقت “

حدید شاہ نے حیرانگی سے اپنے کمرے میں کھڑے عون کو دیکھا

وہ اس وقت شرٹ لیس ہی کھڑے تھے

جب عون ضبط کی تمام کڑیوں کو توڑ کر حدید شاہ کے گلے لگ گیا

“ماموں میں اس سے محبت کرتا ہوں اگر وہ مجھے نہ ملی تو خود کو کچھ کرو لو گا”

“مامو میں مر جاؤں گا “

عون کی بے بس آواز اور اس کے آنسو سے اپنے بھیگتے سینے پر وہ تڑپ اٹھے وہ مردہ زخم جیسے ان آنسوؤں کی حدت سے جل اٹھا تھا ۔۔۔