Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 43)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 43)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
نشاء تم کیا کہنے والی تھی حیات کے سامنے
نشاء کمرے میں اپنی الماری سے کپڑے نکال رہی تھی جب حدید نے اس کا بازو پکڑ کر اسے سامنے کرتے ہوئے کہا
کیا کہنے والی تھی میں اسے ہاں
کیا کہنے والی تھی
نشاء ۔۔۔حدید نے اسے تھاما جو اپنے ہاتھوں سے اسے جھٹک رہی تھی
نشاء کنڑول کرو یار
کیسے کنٹرول کرو حدید وہ قاتل ہے
میری آنکھوں کے سامنے ایک قاتل ہے
وہ چیخ اٹھی تھی۔۔۔۔۔
میرے دماغ کی شریانیں پھٹ جائیں گی میں قاتل کی اولاد پالوں گی
وہ میری اولاد ہوگی نشاء
حدید نے اسے بازوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر چھوڑا وہ ایک دم خاموش ہوئی اس کا وجود سٹک ہوگیا تھا
“نشاء ۔۔۔۔”
وہ میرا بچہ ہوگا
وہ ٹرانس سی کیفیت میں بولی
________
حدید کمرے میں آیا تو حیات کے واشروم سے کھانسنے کی آواز پر وہ پریشان ہوتا واشروم کے کُھلے دروازے سے واش بیسن میں جھکی حیات کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھا
حیات ۔۔۔۔۔ اسے روتے دیکھ کر حدید نے اس کا چہرہ تھپتھپایا
شاہ۔۔۔۔وہ دوبارہ واش بیسن میں جھک کر ابکائی کرنے لگی اور پھر بے جان سی ہوکر اس کے بازوؤں میں جھول گئی
حدید نے پریشان ہوتے اسے بیڈ پر لٹا کر لیڈی ڈاکٹر کو کال ملائی
لیڈی ڈاکٹر کو دیکھ کر نشاء پریشان سی حدید کے کمرے میں آئی
کیا ہوا ہے حیات کو ؟
ڈاکٹر بے بی تو ٹھیک ہے نہ ؟
یہ بہت ویک ہیں اِن کی ڈائیٹ کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے مسٹر شاہ اور دوسرا کوئی ٹینشن ان کے لیے صحیح نہیں ہے ان کا بلڈ پریشر ہائی کی طرف جاتا ہے اس حالت میں ان کا ٹینشن لینا بی پی شوٹ کرنا ماں اور بچہ دونوں کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے
“اوکے ڈاکٹر آپ جا سکتی ہیں “
آبدہ شاہ نے حیات پر نظریں جمائے ڈاکٹر سے کہا
حدید تم نے حیات سے کچھ کہا یاں نشاء ؟
آبدہ شاہ کے لہجے میں سختی در آئی
خالہ ۔۔۔۔۔ نشاء کی آنکھیں بھر آئیں تھیں وہ ان کے گلے لگ گئی
“شاہ ۔۔۔۔”
تبھی حیات کی سسکی پر سب اس کی جانب متوجہ ہوئے
اس کا خیال رکھو حدید
آبدہ شاہ نشاء کو لے کر کمرے سے باہر نکل گئی
حدید حیات کے پاس آیا ۔۔۔۔ طبیعت ٹھیک ہے حیات ؟
اس کے بالوں کو چہرے سے ہٹا کر حدید نے فکر مندی سے پوچھا
درد ہورہی ہے ۔۔۔۔ عجیب سی درد اسے اپنے جسم میں پھیلتی محسوس ہورہی تھی پاؤں بھی سوج گئے تھے
تم ریسٹ کرو باہر جانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے جو بھی چاہیے ہے تمہیں کمرے میں مل جائے گا
حدید نے اسے اٹھنے میں مدد کرتے ہوئے کہا
میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔۔۔ وہ نیم غنودگی میں جا رہی تھی
کچھ نہیں ہوتا میں ہوں نہ تمہارے پاس ۔۔۔۔
سو جاؤ ۔۔۔۔۔
________
جان تم رو رہی ہو ؟
مجھے نہیں رہنا یہاں مجھے یہاں سے لے جاؤ دم گھٹ رہا ہے میرا
دل کرتا ہے خود کو ختم کرلو
“بس تھوڑی دیر اور “
“صرف تمہاری وجہ سے میں سب برداشت کر رہی ہوں
نہیں تو کب کا سب کچھ ختم کر چکی ہوتی میں “وہ درشتگی سے بولی
جہاں اتنا صبر کیا ہے وہاں تھوڑا اور کرلو اب جب ہم سب کچھ پانے والے ہیں تم سب کچھ ختم کرنا چاہتی ہو
“ٹھیک ہے ” وہ سمجھتے ہوئے ہنکارا بھر گئی
_________
“حیات کیسی طبعیت ہے تمہاری ؟”
شام کو نشاء جوس لے کر حیات کے کمرے میں آئی
“جی۔۔۔آپی میں ٹھیک ہوں “
حیات اٹھتے ہوئے بولی
حدید بہت پریشان تھا صبح تمہارے بے ہوش ہونے پر اسے اتنا
فکر مند کبھی نہیں دیکھا میں نے
نشاء اس کی سبز آنکھوں سے چھلکتی شرم دیکھ کر اپنی گرفت ٹرے میں مضبوط کر گئی
یہ لو جوس پیؤ وہ خاص تاکید کرکے گیا ہے اس کی بیوی کا خیال رکھا جائے
حدید کے زکر پر وہ مسکا دی
حیات نے مسکرا کر گلاس تھاما
نشاء نے اس کی نازک انگلیوں میں تھام رکھا گلاس دیکھا
پھر حیات کا روشن چہرا
وہ خوبصورت تو پہلے ہی بلا کی تھی خوش خبری کے بعد سے اس کا چہرہ اور بھی چمکنے لگا تھا ہلکا ہلکا بھرتا جسم وہ کسی کو بھی اپنا اسیر بنا سکتی ہے
“اور پیو گی ۔۔۔۔”
خالی گلاس کو دیکھ کر نشاء نے آہستگی سے کہا
نہیں آپی شکریہ آپ کے اتنے پیار کی حیات نے آگے بڑھ کر نشاء کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
آپی ایک بات پوچھو
آپ کی فیملی ۔۔۔۔ حیات نشاء کے چہرے کا اڑتا رنگ دیکھ کر ایک دم خاموش ہوئی
یہ تو میری فیملی ہے جس میں تم آگئی
میرا مطلب ہے مما ،حدید ، اور یہ آنے والا بے بی اور تم بھی تو ہو
اچھا میں چلتی ہوں اپنا دھیان رکھنا
نشاء گلاس لے کر وہاں سے چلی گئی
“مجھے ان سے یہ سوال نہیں کرنا چاہیے تھا اف حیات کیا کرتی ہو ۔۔۔”
________
کچھ دیر عائشہ اور آصفہ سے فون پر بات کرنے کے بعد اس کا موڈ بہت فریش ہوگیا تھا ساتھ دو مہینے بعد آصفہ کی شادی کی خبر نے اسے اور بھی خوش کردیا تھا
وہ بسترے سے اٹھی جب عجیب سی درد اس کے معدے میں اٹھی تھی
اس نے خوفزدہ ہوکر ہاتھ رکھا دوبارہ بیڈ پر بیٹھی دھڑکنیں سست ہونے لگی اپنی حالت سے خوفزدہ ہورہی تھی وہ
اس نے فوراً حدید کو فون ملایا
شاہ میری طبیعت مجھے پتا نہیں کیا ہورہا ہے وہ رونے لگی دل بیٹھ رہا تھا
حدید میٹینگ کے لیے تیار تھا تبھی حیات کا وائس نوٹ سنتے وہ میٹینگ پوسٹ پونڈ کرتا وہاں سے بھاگنے والے انداز میں نکلا
مگر سر میٹینگ بہت ضروری
“جسٹ سٹ اپ یو ایڈیٹ۔۔۔۔۔”
وہ سیکریٹری کو جھڑک کر وہاں سے نکلا
وہ گھر آیا تو حیات بے حال سی بیڈ پر گڑی ہوئی تھی وہ فوراً اسے اٹھائے ہاسپٹل کے لیے نکلا
“ڈاکٹر “
ڈاکٹر کو بلاتے حدید کی زبان نے ساتھ نہیں دیا وہ کہیں سال پیچھے چلا گیا تھا
” میں کیک لے کر آرہا ہوں “
تم یہاں بیٹھو بس پانچ منٹ وہ گاڑی کا دروازہ بند کرکے نکلا
وہ ہاتھ میں کیک تھامے باہر نکلا جب دو گاڑیاں ایک ساتھ بڑی طرح رگڑتی ہوئی سامنے کھڑی اس کی گاڑی کے ساتھ ہٹ ہوئی تھی
آہ ۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ سے کیک گڑا وہ بھاگتا ہوا گاڑی کے پاس آیا
“ڈاکٹر “
“آئی ایم سوری “
“مسٹر شاہ “
مسٹر شاہ نرس کے دوسری دفعہ بلانے پر وہ ہوش میں آیا
جی ۔۔ی
حیات شاہ آپ کی وائف ہیں ؟
جی
ڈاکٹر آپ کو بلا رہی ہیں
جی
آپ کو نہیں معلوم اس حالت میں کونسی میڈیسن دینی چاہیے یاں نہیں ان کے معدے سے ہمیں ایسی میڈیسن کے سیمپل ملے ہیں جو اس کنڈیشن کے لیے نہایت خطرناک ہیں
نتیجہ آپ دیکھ چکے ہیں اگر حیات کو بروقت ہاسپٹل لے کر نہ آتے تو وہ اپنا بے بی کھو دیتی اور شاید خود بھی نہ بچتی
یہ تو بروقت ہاسپٹل لانے کی وجہ سے بچت ہوگئی ہے
حدید سپاٹ چہرے کے ساتھ ڈاکٹر کا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
_________
حیات کو لٹا کر وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا
حیات کی رنگ زرد پر چکی تھی ایک مارننگ سکنس اور دوسرا اس میڈیسن نے حیات کے چہرے کی شادابی نوچ ہی لی تھی
حدید نے اپنے ہاتھ کی پشت اس کے گال پر پھیری
تم اِسی قابل ہو !
کیا تم اس قابل ہو ؟
عجیب سے کشمکش میں پھنسا ہوا تھا وہ
وہ سر بیڈ کی ٹیک کے ساتھ لگا گیا
پھر ڈاکٹر کی بات یاد آتے وہ بیڈ سے اٹھا تھا
________
نیند میں سانس نے ملنے پر وہ ہاتھ پاؤں چلا رہی تھی
چھوڑ۔۔۔چھوڑو
حدید نے اپنے ہاتھ سے اس کے منہ پر گرفت بڑھائی تھی
نشاء نے حدید کا ہاتھ جھٹک کر اٹھ کر سانس ہموار کی
پاگل ہوگئے ہو حدید شاہ
نشاء چلائی
پاگل تم ہوگئی ہو نشاء تمہیں سب بتانے کا مقصد یہ نہیں تھا تم میرے بچے کی جان لینے کے در پر آجاؤ یاں حیات کو نقصان پہنچاؤ
تمہارا دماغ خراب ہے میں کیوں اسے نقصان پہنچاؤ گی
وہ بیڈ سے اتر کر لائٹ جلاتے بھڑکی
منہ پر ابھی بھی حدید کی گرفت محسوس ہورہی تھی
تم مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی نشاء
حدید نے اسے کہنی سے پکڑ کر جھنجھوڑا
تم اس لڑکی کے لیے مجھ پر چلا رہے ہو حدید اس لڑکی کے لیے
وہ میری اولاد کی ماں بننے والی ہے
اور اسی کی وجہ سے جو میں نے کھو دیا وہ کیا
نشاء کی آواز اونچا بولنے کی وجہ سے پھٹ چکی تھی
تبھی ان کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندہ شاہ اندر آئی
کیوں شور مچایا ہوا ہے تم دونوں نے حدید تم اس وقت یہاں ؟
ماں نشاء نے
بولو حدید کیا کیا ہے نشاء نے
بتاؤ حدید شاہ بتاؤ ماما کو نشاء نے کیا کیا
یہ مجھ پر الزام لگا رہا ہے حیات کی جو آج حالت بگڑی ہے میں زمہ دار ہوں
“میں ماما “
جس نے اپنا بچہ کھو دیا اس قاتل کی وجہ میں جس نے اپنا شوہر بانٹا وہ اب اپنے شوہر کی اولاد کو بھی مارے گی اور کوئی الزام لگانا چاہتے ہو حدید
نشاء کی بھیگتی آواز پر حدید نے تکلیف سے لب کاٹے
حدید اتنی بڑی بات چھپائی تم نے مجھ سے حیات کے بارے میں
آبدہ شاہ ماتھے پر تیوری سجائے حدید پر بھڑکی
ماں ۔۔۔۔
جاؤ یہاں سے حدید تم بھی اپنے باپ جیسے ہو
آبدہ شاہ نے سختی سے کہ کر چہرہ موڑ لیا
حدید تڑپ گیا نہیں ماں میں اس شخص جیسا دھوکے باز ہر گز نہیں ہوں
جاؤ حدید اس وقت یہاں سے چلے جاؤ
آبدہ شاہ نے سختی سے کہا وہ مٹھیاں بھینچ کر وہاں سے چلا گیا
ماں اپنے حدید کو کچھ کیوں نہیں کہا کیا آپ کو بھی بس اپنے وارث سے غرض ہے ؟
نشاء نے بھرائی آواز میں کہا
ہرگز نہیں نشاء تم سے میں نے حدید سے زیادہ محنت کی ہے تم مجھے ہر شہ سے زیادہ عزیز ہو
حیات کا حدید کی بیوی بننا ہی بہتر تھا جب بچے کے بعد حدید حیات کو چھوڑے گا تو اسے یہ یاد رہے گا وہ اس کی صرف بیوی نہیں قاتل بھی ہے جو تمہارے حق میں بہتر ہے
آبدہ شاہ اسے سینے سے لگائے دور اندیشی سے بولی ۔۔۔
_______
حدید کمرے میں آیا تو حیات ہوش میں آرہی تھی حدید کا دل کیا اسے بیڈ سے اٹھا دے مگر پھر ضبط کر گیا
شاہ ۔۔۔۔۔ حیات کے بلانے پر وہ اس کے قریب گیا
کیا ہوا تھا مجھے ۔۔؟
وہ ٹوٹتے جسم کے ساتھ بولی
کچھ نہیں ڈاکٹر نے کہا ہوتا ہے ایسی کنڈیشن میں تم اپنا خیال رکھو اور یہ بتاؤ طبیعت خراب ہونے سے پہلے کھایا پیا تھا
اسے بیڈ پر سہارے سے بٹھاتے وہ بولا
جی ۔۔۔۔ وہ دماغ میں زور دیتے بولی
نشاء آپی نے جوس پلایا تھا پھر کچھ کھانے کو دل ہی نہیں کیا اور پھر طبیعت خراب ہوگئی
وہ بھیگے لہجے میں بولی
اے کیا ہوا ہے تو کیوں رہی ہو۔
شاہ ۔۔۔ میں ڈر گئی تھی
شاہ کی بیوی اور اتنی ڈر پوک
حدید ہنستا ہوا شرارت سے بولا ۔۔۔۔
اب ایسی بھی بات نہیں ہے وہ منہ بنا گئی اچھا میں کھانا منگواتا ہوں کھا کر دوائی کھا کر سو جاؤ ۔۔۔۔۔
آپ نہیں کھائیں گے کھانا ؟
حیات نے اسے اٹھتے دیکھ جلدی سے کہا
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے اور تم کھا کر سوو گی وہ تنبیہہ کرتا اٹھا تھا ۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد نشاء نے حدید کو نہیں بلایا
حدید نے بہت کوشش کی وہ نشاء کو منا لے مگر وہ ضد کی پکی تھی
آج ہفتہ تھا حیات کو اس کے گھر چھوڑنے کے بعد حدید آفس جانے کی بجائے گھر آگیا
سیدھا وہ نشاء کے کمرے میں گیا
“حدید “
نشاء حدید کو دیکھ کر حیران ہوئی
میرا دل مجھ سے ناراض تھا تو میں کیسے جا سکتا تھا
جاؤ حدید تمہارے بچے کی ماں دیکھ لے گی پھر کیا کہو گے
نشاء نے اس کا ہاتھ ہٹاتے طنزیہ کہا
“نشاء ڈاکٹر نے کہاں تھا وہ دونوں مر سکتے تھے مجھے غصہ آگیا تھا “
“میں نے شادی تمہارے اور مما کے کہنے پر کی تھی “
ہاں جانتی ہوں حدید تمہیں ماں کی شرط بھی یاد ہوگی تم اولاد کے بعد اپنی دوسری بیوی کو چھوڑ دو گے
“جانتا ہوں” وہ دھیمے سے بولا
“حدید جس کی وجہ سے میں اور تم اولاد کی خوشی سے محروم ہیں اسے ہی میرے مقابل کھڑا کر دیا اس سے ہی دوسری شادی کرلی مجھے نہیں برداشت تم بدلے میں ہی صحیح اس کے قریب جاؤ جلد از جلد اس معاملے کو ختم کرو حدید ہماری اولاد لو اور اس کو چلتا کرو نہیں تو تمہاری نشاء ختم ہو جائے گی
نشاء آئندہ ایسی بات مت کرنا “
حدید نے اسے گرکا
جو حکم جناب وہ اپنا فون سوچ آف کرکے بیڈ پر پھینک کر حدید کے پاس بیٹھ گئی آج اتنے عرصے بعد اسے وقت ملا تھا وہ حدید سے باتیں کرنے کا
دوپہر کے وقت حیات نے ڈرائیور کو بلایا تھا آج حدید کی سالگرہ تھی تو وہ کیک اور چند ڈیکوریشن کا سامان لے کر گھر آگئی تھی
حدید کی گاڑی کو پورچ میں موجود دیکھ کر وہ سامان کمرے میں لے جانے کی بجائے کچن میں رکھ آئی
کیک فرج میں رکھ کر وہ کمرے میں آئی تو کمرہ وہ صبح جا حال میں چھوڑ کر گئی تھی ویسا ہی خالی تھا حیات نے واشروم ٹیرس ہر جگہ دیکھ لیا حدید کہیں بھی نہیں تھا
پھر کہاں ہیں شاہ گاڑی تو ان کی باہر کھڑی ہے
حیات نے حیران پریشان سی کچن سے سامان لے کر کمرے کو سجانے لگی پھول وغیرہ سیٹ کرکے اس نے کیک بیڈ سے کچھ فاصلے پر پڑے صوفوں کے درمیان رکھی شیشے کی ٹیبل سجایا اس کے اوپر خوبصورت سا ہیپی برتھڈے شاہ لکھا ہوا تھا ۔۔۔۔
اپنی تیاری سے مطمئن ہوکر وہ نشاء اور آنٹی کو بھی پلین میں شامل کرنے کے لیے ان کے کمرے میں بڑھی آبدہ شاہ تو کسی اورگنائیزیشن میں بطور چیف گیسٹ مدعو تھی وہاں گئی تھی
وہ حدید کو فون ملا کر نشاء کے کمرے کے پاس آئی
ابھی وہ دروازہ ناک کرتی
حدید کے فون کی بیل کی آواز اسے اندر سے سنائی تھی
حیات کے ماتھے پر بل پڑے تھے
اس نے دروازہ ناک کیا
تبھی دروازہ کھلا جسے حدید نے کھولا تھا وہ شاید حیات کا ہی فون اٹینڈ کرنے والا تھا
حیات حیران سی نشاء کے کمرے میں حدید کو دیکھ رہی تھی
“آپ ۔۔۔یہاں “
