212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 61)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“تو پھر بتائیں نہ ماں آج کُھل کر بتا دیں اپنے سارے غم بہا دیں آپ کی بیٹی سب اپنے دل میں چھپا لے گی “

صفا نے حیا کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

“میں کبھی نہیں چاہوں گی صفا تم اپنے باپ کے لیے دل میں نفرت رکھو “

حیا نے آنسو صاف کرکے سنجیدگی سے کہا

صفا ماں کا چہرہ دیکھنے لگی

دل دھڑکا آج پہلی دفعہ ماں کے منہ سے اپنے باپ کا ذکر سننے لگی تھی کچھ سال پہلے آخری دفعہ اس نے اپنے بابا کی تصویر دیکھی تھی اور آج سالوں بعد ماں نے ذکر چھیڑا تو وہ دھندلی تصویر ایک دم آنکھوں کے سامنے صاف اور واضح ہوگئی تھی

حیا نے بےبسی سے صفا کو دیکھا

“اگر آپ ابھی نہیں بتانا چاہتی مما تو کوئی مسئلہ نہیں آپ پریشان مت ہوں میں ہر گز نہیں چاہوں گی مجھے بتانے کے چکر میں آپ اپنے زخم ہرے کریں “

صفا نے سر اُٹھا کر حیا کی گال کو چوما تھا پھر حیا کے ہاتھوں کو چوما

حیا نے مشکور نظروں سے صفا کو دیکھ کر اسے خود سے لگا لیا

“میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے اللہ نے مجھے بہتریں اولاد سے نوازا ہے تم دونوں کو جب سینے سے لگاتی ہوں تو سارے غم بھول جاتے ہیں تمہارے اس وقت کو زیادہ طویل نہیں کروں گی میری جان ۔۔!!”حیا نے صفا کو اپنی آغوش میں بھر کر کہا

تو وہ مسکرا دی

“میں انتظار کرلوں گی ماں !” وہ حیا کے سینے پر سر رکھے سکون میں جاتی آنکھیں موند گئی

________

“جازب یہ کیا ہوا ہے تمہیں ؟ “

بیٹے کی ابتر حالت دیکھ کر کمال اعوان کا دل منہ کو آیا تھا

“جازب تم سے پوچھ رہا ہوں!”

خاموش خاموش سے جازب کو دیکھ کر ان کی آواز بلند ہوئی

“میں خرم داد کو نہیں چھوڑوں گا ڈیڈ “

وہ بولے تو لہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی

“ہوا کیا ہے جازب ؟ وہ متحیر ہوئے

“اس خبیث انسان نے حیا جی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ڈیڈ آئی سوئیر میں اس کی نسلوں کو تباہ کر دوں گا اس کی ہمت کیسے ہوئی حیا جی پر جان لیوا حملہ کرنے کی ڈیڈ “

“میں بتا نہیں سکتا میرا دل اس وقت کتنا جل رہا ہے میں اس حرام ۔۔۔۔ کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتا ہوں “

جازب کمال ہاتھ میں آتی ہر شہ کو دیوار پر مار کر زمین بوس کر رہے تھے جبکہ کمال صاحب ششدر سے اپنے بیٹے کی حرکات کو دیکھ رہے تھے وہ کب سے اتنا جنونی ہوگیا

“جازب۔۔!!” ان کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی

بابا مجھے وہ شخص جیل میں چاہیے ہر حال میں نہیں تو “میں اسے اس کے گھر میں جا کر مار آؤں گا “

وہ آؤٹ آف کنٹرول ہورہے تھے فرسٹریشن چیزوں پر نکال بھی رہے تھے بول بھی رہے تھے آدھے گھنٹے بعد جب تھک کر بیٹھے تو کمال اعوان نے پانی کا گلاس بیٹے کی جانب بڑھایا

جازب نے خاموش نظروں سے سنجیدہ سے باپ کو دیکھا

نکال لیا غصہ بالکل ٹین ایج لڑکوں والی حرکتیں کر رہے ہو

وہ ہنوز سنجیدہ تھے

جازب نے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور خود کو باپ کے طعنوں کے لیے تیار کیا مگر کمال اعوان کچھ نہیں بولے

“اب بتاؤ گے ہوا کیا ہے ؟ کیسا حملہ حیا ٹھیک ہے ؟ اور تم یہ پٹی میں قید کیسے واپس آرہے ہو ؟”

“چھوڑیں ڈیڈ فکر کی بات نہیں ہے اس وقت میرا سر بہت درد ہورہا ہے چائے مل سکتی ہے؟ ” جازب کمال نے ہاتھوں کو سٹریچ کرکے اپنی تھکاوٹ کو زائل کرنا چاہی

“حیا نے خلع کے کاغزات بنوائے تھے آج اسے بھجوا دیے تھے اگر وہ تمہارے ساتھ ہے واپس آئی ہے تو اب تک اسے وہ کاغزات موصول ہوچکے ہوں گے “

کمال اعوان کی بات پر جازب کو اپنی ساری تھکاوٹ جاتی محسوس ہوئی

جسم میں جان سی بھر گئی وہ فوراً اٹھے

“تو پھر کب جارہے ہیں ڈیڈ ؟ “

“کہاں؟ “وہ جان کر بھی انجان بنے

“افکورس میرا رشتہ لے کر ڈیڈ ” جازب نے مسکرا کر کہا

پوتے پوتیوں کے رشتے لے کے جانے کی عمر میں اپنے بڈھے بیٹے کا رشتہ لے جاتے ہوئے اچھا لگوں گا ؟”

“آپ یہ رشتہ ہو لینے دیں ایک پیاری بہو کے ساتھ ایک پوتا اور پوتی آپ کو فری سکیم میں مل جائیں گے پھر پورے کرتے رہیے گا اپنے ارمان ” جازب آنکھ دبا کر بولے

“ہمم بڑے فاسٹ چل رہے ہو بیٹے خیریت ہے نہ کیونکہ کچھ عرصے پہلے تو آپ اپنے پروں میں پانی بھی نہیں پڑنے دے رہے تھے اور اب کیسے ہتھیلی میں سرسو جمانے کا سوچے بیٹھے ہو “

کمال صاحب نے طنز کیا تو وہ بدلے میں پھر بھی مسکراتا ہی ملا

“بیرسٹر کا بیٹا ہوں” مزے سے کہتا باپ کے گال کو چوم کر اٹھا

‘تم نہ باز آنا جازب کمال ‘ وہ گال صاف کرنے مصنوعی ناگواری سے بولے

‘جو آپ کا حکم والد محترم” وہ سیلوٹ کرنے کے انداز میں دو انگلیوں سے ماتھے کو چھو کر مزے سے گھومتے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے جبکے کمال صاحب کی طرف سے دی جانے والی خبر سننے کے بعد اس کے ہر انداز سے واضح سرشاری جھلک رہی تھی

“چائے نہیں پیو گے اب ؟” کمال صاحب نے پیچھے سے آواز لگائی

“آپ کو لگتا ہے اس خبر کے بعد مجھے کسی کیفین کی ضرورت ہوگی ؟”

وہ مسرور سا بولا

کہاں کی تھکاوٹ کہاں کی چائے اسے کچھ یاد نہ تھا

________

حدیقہ فیصل جاوید سے بات کرنے کے بعد ابراہیم کے قریب آئی وہ مسلسل عون سے رابطے میں تھے

“ابراہیم” حدیقہ نے اسے شانے سے تھام کر اپنی جانب متوجہ کیا

ابراہیم شاہ حدیقہ کی جانب متوجہ ہوئے

“میں کچھ دن ماں کے ساتھ جانا چاہتی ہوں کیا میں چلی جاؤں ؟”

وہ آنکھوں میں امید لیے بولی

اس کی آنکھوں میں آس نہیں تھی امید تھی مان تھا جیسے اسے پورا یقین ہو ابراہیم کبھی انکار نہیں کرے گا مگر ابراہیم بے بس سا ہوا

“ہم انہیں اپنے ساتھ لے چلتے ہیں” ابراہیم نے جلدی سے حل نکالا

“بھائی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے ابراہیم اور وہ کبھی بھی ہمارے ساتھ نہیں چلیں گے مجھے ہی جانا پڑے گا میں چلی جاؤ ؟”

“میں اسے منا لوں گا حدیقہ وہ چلے گا” ابراہیم نے بے چینی سے کہا

“اگر وہ نا مانے ؟ اگر ڈاکٹر نے ہی ماں کو سفر کرنے سے منع کردیا تو ؟ “

حدیقہ نے پریشانی سے کہا کیونکہ وہ حدید بھائی کی نیچر کو اچھے سے جانتی تھی اس کے علاؤہ سب سے بڑی بات ڈاکٹر کی طرف سے بھی تو خدشہ تھا وہ اجازت دیں نہ دیں

“عون ۔۔۔عون منا لے گا اسے تم بس تیاری کرو ہم ان دونوں کو اپنے گھر لے کر چلیں گے ، باقی ڈاکٹر تو میں دیکھ لیتا ہوں میں ڈسچارج کا پتا کروا کر آتا ہوں تم پریشان نہ ہو”

وہ اس کی گال تھپتھپا کر کہتے وہاں سے نکلے پیچھے حدیقہ عون کا نمبر ملانے لگی

“ہیلو عون !”

“جی مما ” عون نے حدیقہ کی آواز سن کر آنکھیں موند لیں اس وقت اس کا شدت سے دل کر رہا تھا ماں کی گود میں سر چھپا کر رونے کو وہ اس کے بال سہلائیں اور وہ بچپن جیسے پوری طرح ہوش بھلائے سو جائے

“حدید بھائی کیسے ہیں ؟ “

“وہ ٹھیک ہیں اب مما “

“تم انہیں ہماری طرف لے جاؤ اگر نہ مانیں تو انہیں انسسٹ کرنا میں نانو کو بھی وہاں ہی لے جارہی ہوں اکیلے تم سے ان کا دھیان نہیں رکھا جانا میرے بچے “

“مما مجھے آپ سے ضروری بات بھی کرنی تھی” عون نے مخصوص انداز میں پیشانی مسلتے ہوئے حدیقہ سے کہا

“ہاں کہو میری جان سب ٹھیک ہے ؟”

عون حدیقہ سے صفا کے متعلق بات کرنا چاہ رہا تھا مگر تبھی ابراہیم کی آواز پر متوجہ ہوئیں

“اچھا عون بیٹا میں بات کرتی ہوں ابراہیم بلا رہے ہیں “وہ کال کاٹ گئیں تھیں

________

رات کا آخری پہر تھا جب بالاج کا فون بجا اس نے بند آنکھوں سے ہی ہاتھ بڑھا کر فون کی آواز بند کرنا چاہی جب اسے اپنا بازو کسی کی گرفت میں محسوس ہوا

بالاج نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو انابیہ اس کے دائیں بازو کے گرد اپنے دونوں ہاتھوں کو باندھے مزے سے سورہی تھی

بالاج نے ا سکی نیند نہ خراب ہونے کی غرض سے اپنے بائیں ہاتھ سے ہی فون اٹھا کر بغیر نمبر دیکھے کال اٹینڈ کی

“ہیلو سر !”

“علی بخش اس وقت کال کی خیریت ؟”

بالاج نے فون کان سے ہٹا کر اس پر وقت دیکھنے کے ساتھ کالر آئی ڈی کو بھی دیکھا

“سر معزرت آپ کو اس وقت تنگ کیا مگر آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے آپ سر ونٹ کوارٹر آسکتے ہیں ؟”

“سرونٹ کوارٹر؟” بالاج کے ماتھے پر تشویش سے بل پڑے اگر علی بخش اسے اس وقت بلا رہا ہے تو یقیناً بہت ضروری بات ہوگی

” اچھا میں آرہا ہوں” وہ کہتا کال کاٹ گیا

پھر احتیاط سے اپنی بازو انابیہ سے آزاد کرواتا چپل پہن کر کمرے سے نکل گیا

________

” ماموں آپ بات مانتے کیوں نہیں ہیں “عون نے بے چارگی سے حدید کو دیکھا جو واپس اپنے گھر جانے کی ضد کر رہے تھے

“تو تم چاہتے ہو میں بے شرموں کی طرح اپنی شادی شدہ بہن کے گھر میں پڑا رہوں “

حدید نے چڑ کر کہا

“ایسا آپ سوچتے ہیں ماموں نہیں تو وہ گھر نانو کا ہے یعنی آپ کے سگے بابا کا اور اگر مما کا بھی ہوتا تو بھی آپ کا چڑنا بنتا نہیں ہے اپنی آنا سے نکل آئیں ماموں اس سے پہلے دیر ہو جائے ہم سب آپ کے اپنے رشتے ہیں “

عون نے افسوس کرتے ہوئے کہا

حدید خاموش ہی رہے

“آپ صفا سے ملنا چاہتے ہیں تو آپ کو آنا ہی پڑے گا

اسلام آباد” عون نے آخری حربہ آزمایا تو حدید نے تکلیف سے آنکھیں موند لی یہ وہ بات تھی جس کے لیے وہ انکار نہیں کرسکتا تھا

جبکہ عون نے حدید کی نیم رضامندی پر شکر کا سانس بھرا مگر پریشانی ابھی ٹلی نہیں تھی ابھی تو اس نے حدید کو آبدہ شاہ کے فالج کے بارے میں بھی بتانا تھا

“یا اللہ ہم پر رحم کر !!”

________

“ہاں بولو علی بخش سب خیر ہے ؟ “

“سر کل شجاع صاحب آرہے ہیں اپنے گھر والوں کے ساتھ “

“مجھے پتا ہے یہ بات علی بخش!” بالاج نے دانت پیس کر کہا کیا علی بخش نے بس یہ بات بتانے کے لیے اس وقت اُسے فون کرکے یہاں بلایا تھا

“سر آپ نے ایک لڑکے کے بارے میں پتا کرنے کا کہا تھا یہ رہی اس کی تمام معلومات “

علی بخش نے نیلے رنگ کی فائل بالاج کی جانب بڑھائی

ا”چھااا لڑکا ہاں یہ تم مجھے صبح بھی دے سکتے تھے بالاج نے فائل کھول سامنے ہی پڑی عون کی تصویر کو دیکھا

عون ابراہیم بلاشبہ وہ وجیہہ مرد تھا

پھر دماغ میں کچھ گندھا تھا

بالاج کی پیشانی پر بل سے پڑنے لگے

تم جانتے تھے نہ کہ مجھے کل شجاع کے گھر والوں کی آمد کا معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے وہ کیوں آرہے ہیں تو پھر یہ بات دوبارہ دہرانے کا کیا مقصد تھا علی بخش ؟!!”

بالاج نے آئی برو اُچکاتے کہا

دل جس جانب اشارہ دے رہا تھا دماغ ٹوک رہا تھا “کیا اس کی بہن اس لڑکے میں انٹرسٹڈ تھی !!؟”

“علی بخش کھل کر بتاؤ مجھے تم صرف میرے خاص آدمی نہیں ہو میں اگر تم پر اپنی عزتوں کے معاملے میں بھروسہ کرتا ہوں تو تمہاری حیثیت اور تمہارا رتبہ ہمارے گھر میں ہر گز بھی چھوٹا نہیں ہے “

“سر اس لڑکے کا نام عون ابراہیم ہے اس دن وہ صفا بی بی سے ملنے آیا تھا صفا بی بی کا جونئیر ہے اور صفا بی بی کچھ عرصہ سے ان کی کلاس کو پڑھا بھی رہی ہیں

ان دونوں میں ۔۔۔ دوستی بھی ہے” وہ کچھ جھجھکا اور “شاید لڑکا بی بی کو پسند بھی کرتا ہے”

“سر اچھا لڑکا ہے زہین ہے اچھے گھر کا ہے باپ کا اپنا بزنس ہے

مگر ۔۔۔!!”

“مگر کیا ؟” بالاج کا چہرہ سپاٹ تھا مگر دماغ میں جنگ سی چھڑ چکی تھی شجاع کا چہرہ آرہا تھا پھر صفا کا چہرہ بھی نظروں کے سامنے آیا

عون کا تعلق شاہ خاندان سے ہے بلآخر بلی تھیلے سے نکل آئی

“شاہ خاندان؛” بالاج کے ماتھے پر بل پڑے

عون ابراہیم حدید شاہ کا بھانجا ہے سگی بہن کا بیٹا

بالاج کی رگیں تن گئیں

تو کیا یہ بدلہ لیا جارہا ہے ؟ اس کی آواز بہت آہستہ تھی مگر خاموشی کی سبب علی بخش نے سن لیا تھا

“مجھے نہیں لگتا سر یہ کسی کی سازش یاں بدلہ ہے

حدید شاہ کی اپنے باپ سے نہیں بنتی اور ان کی بہن اپنے باپ کے پاس رہتی ہے اور ان کی شادی اپنی پھوپھو کے بیٹے سے ہوئی ہے “

“مجھے نہیں جاننا ان لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں ان کے تعلقات کیسے ہیں ان کی کس سے بنتی ہے کس سے نہیں مجھے بس یہ جاننا ہے یہ عون ابراہیم کس طرح کے عزائم لے کر میری بہن کی زندگی میں آیا ہے اور یہ بھی کہ کیا صفا بھی اس میں انٹرسٹڈ ہے کہ نہیں مجھے کل تک یہ معلومات چاہیے “

“اوکے سر “

بالاج سر ہلا کر وہاں سے مڑنے لگا جب علی بخش نے اسے روکا

“سر !”

ہمم بولو

سر اگر آپ نے مجھے اپنی فیملی کا حصہ سمجھا ہے تو میں نے بھی صفا بی بی کو ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن بیٹی جیسے مانا ہے حیا بی بی کو ہمیشہ اپنی بڑی بہن کی جگہ رکھا ہے

ہمم بالاج نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا

اگر وہ لڑکا مطلب اگر بی بی کو لے کر اس لڑکے کی اٹینشن صحیح ہوئی تو آپ کیا کریں گے سر ؟ جبکہ کل شجاع صاحب بھی آرہے ہیں ؟ “

وہ جاننا چاہ رہا تھا در حقیقت وہ بالاج کو ادھورہ بات بتانے پر پشیمان تھا وہ اسے کیسے بتاتا کہ عون ابراہیم صفا کا اکلوتا واحد دوست بھی ہے

“وہ میری بہن سے بھر کر بیٹی ہے علی , تمہاری فکر جان کر بہت خوشی ہوئی”

وہ علی بخش کا شانہ تھپتھپا کر وہاں سے نکل گیا ۔۔۔

پیچھے علی بخش پر بہت کچھ واضح ہوگیا تھا وہ یک دم ہی پر سکون ہوا کیونکہ اس کا مالک چھوٹی سوچ رکھنے والا انسان نہیں تھا بلکہ بالاج خان تھا حیا خان کا بیٹا جسے اپنے فرض نبھانے آتے تھے