Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 36)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 36)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“کیا بکواس کر رہے ہو فیکٹری میں آگ کیسے لگی سکتی ہے “
اگلی صبح حدید آفس نکلنے کے لیے تیار ہورہا تھا جب اس کے سیکریٹری نے اسے فیکٹری میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی آگ کی خبر دی
حدید عجلت میں اپنا والٹ اور فون تھامے نکلا
حدید ناشتہ نشاء ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی حدید کو پیچھے سے آواز دیتی رہ گئی ۔۔۔۔۔
_______
“السلام علیکم۔۔۔!!ڈیڈ”
حدیقہ گھر میں داخل ہوتے ہی لاونج میں بیٹھے جاوید فیصل کے پاس آئی
“وعلیکم السلام۔۔۔!! میرا بچہ کیسا ہے۔۔؟؟ “
جاوید فیصل نے اسے اپنے پر شفقت حصار میں لیا
“میں ٹھیک ڈیڈ بس بہت بھوک لگ رہی ہے”
حدیقہ نے مؤدب سی کھڑی ملازمہ کے ہاتھ میں تھامی ٹرے میں سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے کہا
“چلو پھر فرش ہوکر آجاؤ لنچ کرتے ہیں میں نے بھی نہیں کیا لنچ ابھی تک “
جاوید فیصل نے اس کا سر سہلاتے ہوئے کہا
“اوکے ڈیڈ۔۔!!”
وہ اپنا بیگ تھام کر کھڑی ہوتی اپنے کمرے کی جانب بھر گئی ۔۔۔۔
_______
“حدیقہ بچے ابراہیم کہاں ہے ؟؟ اسے آپ نے روکا نہیں لنچ کا ٹائم ہے وہ بھی ہمارے ساتھ لنچ کر لیتا “
جاوید صاحب نے حدیقہ کے پلیٹ میں بریانی ڈالتے ہوئے کہا
“مجھے کیا پتا ڈیڈ اور پلیز ڈیڈ آئندہ آپ اسے مت بھیجئے گا مجھے لینے کے لیے “
حدیقہ منہ بناتے ہوئے بولی
“حدیقہ آپ اس بچے سے اتنا اریٹیٹ کیوں ہوتی ہو
“کیونکہ وہ ہے ہی اریٹیٹنگ ڈیڈ عجیب روبوٹک انسان “
حدیقہ ابراہیم کا سرد انداز تصور کرتی سر جھٹک کر بولی
“بچے وہ آپ کا کزن بھی لگتا ہے “
حدیقہ آنکھیں گھما گئی
“ڈرائیور کس لیے رکھا ہے آپ نے ڈیڈ “
” ڈرائیور آج چھٹی پر ہے اس کا بیٹا سیڑھیوں سے گڑا تھا اس لیے میں نے اسے چھٹی دے دی “
“اوو۔۔اچھا ۔۔۔” اس نے افسوس سے چہرا ہلایا
” آئندہ ڈیڈ اگر ڈرائیور نہ موجود ہوا تو بھی آپ اپنے چہیتے کو لانے کے لیے مت بھیجئے گا “
حدیقہ کی وہی بات پر جاوید صاحب نے تاسف سے اپنی لاڈلی کو دیکھا
“حدیقہ آپ کو ابراہیم سے مسئلہ کیا ہے اس کا ہمارے سوا ہے ہی کون عرصہ ہوا بھائی اور باجی کے انتقال کو اور اتنا قابل بچہ ہے ابراہیم محنت کرتا ہے اور تو اور میری ہر کام میں مدد کرتا ہے محنت کا ہی صلہ ہے جو آج اس بچے نے اپنی گاڑی اور اپارٹمنٹ بنا لیا ہے آج حبا باجی زندہ ہوتی تو ابراہیم کو یوں ترقی کرتا دیکھ بے حد خوش ہوتی “
“ڈیڈ مجھے اس کی تعریفیں نہیں سننی”
حدیقہ چمچ پلیٹ میں رکھتے سپاٹ لہجے میں بولی
“دس اس ناٹ گڈ حدیقہ !!”
“This is not good Hadeeqa”
جاوید صاحب نے بھی کھانا چھوڑ دیا تھا وہ ابراہیم اور حدیقہ کے لیے کیا کچھ سوچے بیٹھے تھے ادھر ان کی لاڈلی کے مزاج ہی نہیں مل رہے تھے ۔۔۔۔
“واٹ ڈیڈ آپ اس کے لیے مجھ سے ایسے بات کر رہے ہیں “
حدیقہ نے بے یقینی سے کہا
“وہ بھی میرا بیٹا ہے حدیقہ اور مجھے بہت عزیز ہے آپ میری اولاد ہیں اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں آپ کی تمام جائز ناجائز باتوں کو اہمیت ملے “
“یہ ہی تو مجھے مسئلہ ہے ڈیڈ آپ نے اسے اپنا بیٹا بنایا ہے اسے اپنا سارا کام سونپا ہوا جس کا اصل حقدار کوئی اور ہے ڈیڈ کسی پر اتنا اندھا یقین نہیں کرنا چاہیے”
حدیقہ کی آواز اونچی ہوئی
“حدیقہ “
جاوید شاہ کے لہجے میں تنبیہہ تھی
“السلام علیکم ماموں “
اتنے میں ابراہیم ہاتھ میں چند فائلز اور بیگ تھامے وہاں آیا
حدیقہ ایک نظر ابراہیم پر ڈال کر وہاں سے والی آؤٹ کر گئی
“او ابراہیم اکر لنچ کرو میرے ساتھ “
جاوید فیصل ابراہیم کو دیکھ کر نرم لہجے میں بولے
“نہیں ماموں مجھے بھوک نہیں ہے “
وہ یقیناً ساری نہیں تو چند باتیں تو سن ہی چکا تھا حدیقہ کی
اچھا تم سٹڈی میں بیٹھو میں آتا ہوں ۔۔۔۔
_______
“آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی تھی کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا مگر فیکٹری میں کام کرنے والے چند ملازم زخمی ہوئے تھے
سب کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے “
“سر ہمارے مینیجر عدنان حفیظ دوسرے ملازموں کو بچاتے کچھ زیادہ زخمی ہوئے ہیں ان کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے “
سیکریٹری نے حدید کو خبر دیتے سر جھکایا
“یہاں سے ہسپتال کا ایڈریس ناٹ کرو ہم آدھے گھنٹے میں ادھر جارہے ہیں “
حدید شاہ نے ایک نظر گھڑی پر ڈال کر دوسری نظر سامنے بنی سیاہ عمارت پر ڈالی جس میں سے سیاہ دھوئے کے مرغولوں اٹھ رہے تھے
سیکریٹری سر ہلا کر دوسرے لوگوں کے پاس جانے لگا
________
حیات تمہیں سکون نہیں ہے لڑکی تھوڑی دیر آرام کرلو
کوثر بھابھی نے اسے لڑکھڑا کر چلتے دیکھ کر ڈپٹا
بھابھی میں بور ہوگئی تھی اوپر سے ہونی سے بھی چھٹی کرلی آج میں نے وہ کنپٹی پر انگلی پھیرتی کھسیانہ سا ہنس دی
کوئی حال نہیں تمہارا لڑکی انجوائے کرو نیند پوری کرو آنکھیں دیکھی ہیں نیند سے بھری ہوتی ہیں تمہاری
وشمہ بھابھی بھی ہنستے ہوئے سر نفی میں ہلا گئی
نیند نہیں آرہی اوپر سے گولو مولو بھی سویا ہوا ہے وہ لاونج پر کورٹ میں سوئے ہوئے حمزہ پر محبت پاش نظر ڈال کر صوفے پر ٹک گئی
جب لینڈ لائن کے رنگ ہونے پر اٹھی
بیٹھی رہیں بھابھی میں دیکھتی ہوں حیات وشمہ یاں کوثر بھابھی کے اٹھنے سے پہلے ہی اٹھ گئی
“السلام علیکم عدنان حفیظ کے گھر سے بات کر رہے ہیں ؟؟”
فون اٹھاتے ہی دوسری جانب سے مردانہ آواز پر حیات نے تعاجب سے سر ہلاتے ہامی بھری
“کیا !!؟”
رسیور حیات کے ہاتھ سے چھوٹ کر گڑا تار کے ساتھ اٹیچ ہونے کی وجہ سے رسیور لٹکنے لگا
“حیات ۔۔۔حیات کیا ہوا !!!”
“عدنان بھائی۔۔!!!” حیات نے سرگوشی کی
کیا ہوا عدنان کو وشمہ بھابھی سبزی چھوڑ کر حیات کی طرف لپکی
“حیات کیا ہوا ہے عدنان کو ؟؟”
حیات کو سن کھڑی دیکھ کر وشمہ نے اسے جھنجھوڑا
تبھی علی صاحب بھی عجلت میں گھر آئے
“عدنان جس فیکٹری میں کام کرتا ہے ادھر آگ لگی ہے اسے ہاسپٹل پہنچایا گیا ہے “
“اللہ خیر “
حاجرہ بیگم دل پکڑ کر بیٹھی وشمہ کے قدم لڑکھڑائے
“اللہ۔۔۔۔ عدنان” وہ رونے لگی
“بھائی صاحب میں۔۔۔میں بھی جاؤں گی”
وشمہ صوفے پر پڑی چادر لپیٹے کھڑی ہوئی علی صاحب نے سر ہلایا
“بھیا پلیز میں نے بھی جانا ہے “
حیات ہوش میں آئی
“نہیں حیات “
“پلیز بھیا پلیز “وہ ہچکیاں لیتی بولی
“حیات” کوثر بیگم نے اسے تھاما بھیا پلیز بھیا
“میں تمہیں بعد میں لے جاؤ گا بچے تم دعا کرو ابھی تمہاری بھی ٹانگ پر چوٹ لگی ہے “
علی بھائی اسے پیار سے بہلا کر نکلے
پیچھے حیات روتی رہ گئی اسے اپنی ٹانگ پر چوٹ لگنے پر افسوس ہوا ۔۔۔
________
پوری رات انتظار کرنے کے بعد اب جا کر عدنان کو ہوش آیا تھا
علی صاحب نے بارہاں بابا کو واپس جانے کا کہا تھا مگر وہ اپنے بچے سے ملے بغیر واپس جانے کے لیے راضی نہ تھے حیات اور اماں کی بھی بیشتر کالز آچکی تھی
علی اور وشمہ صاحبہ عدنان کے کمرے میں داخل ہوئی
علی صاحب ان کے بیڈ کے ساتھ پڑی کرسی پر ٹک گئے
“عدنان “
علی چھوٹے بھائی کے پاس موجود تھے جن کا بایاں بازو آگ کی تپش سے کافی زیادہ زخمی ہوا تھا باقی اللہ کا شکر ہے زیادہ زخم نہیں آئے کہیں کہیں جلنے کے نشان تھے
بھائی
عدنان صاحب کو ہوش آچکا تھا وہ بڑے بھائی کو دیکھ کر تھوڑے حساس ہوئے
“کیسے ہو درد تو نہیں ہورہی؟؟”
علی نے چھوٹے بھائی کے ہاتھ کو تھام کر حوصلہ دیا
“ٹھیک ہوں بابا اماں کیسی ہیں “
عدنان کو ماں باپ کی فکر ہوئی
“وہ تھیک ہیں اماں پریشان ہے تمہارے لیے جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ”
بس تک چھوٹے بھائی کے سر پر ہاتھ پھیر کر وہ اٹھ کر باہر چلے گئے کیونکہ وشمہ سر جھکائے کافی دیر سے پیچھے کھڑی تھی
“وشمہ !!”
عدنان کی نقاہت آمیز لہجے کی پکار پر وشمہ سر اٹھائے روتے ہوئے ان کے پاس آئی
“یار میں ٹھیک ہوں اس طرح رو گی تو تکلیف میں آجاؤں گا “
وہ کراہ کر بولے
“آپ ۔۔۔آپ ہلیں نہیں تکلیف ہوگی آپ کو”
وشمہ کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ان کے زخم کو اوپر اوپر سے چھوتی خود بھی تکلیف میں آئی
“آپ آرام کریں میں نرس کو پین کلر کا کہتی ہوں “
______
“حدید نشاء پھسل گئی ہے”
فون سے آتی اپنی ماں کی آواز پر حدید نے گاڑی رکوائی
“تم یہ پھل اور پیسے وہاں موجود زخمی ملازموں میں بٹوا دینا “
“سر آپ نہیں چلیں گے “
سیکریٹری کے پوچھنے پر حدید نے جن نظروں سے اسے دیکھ وہ شرمندہ ہوگیا
” جتنا کہا ہے اتنا کرو “
“سوری سر “
________
“نشاء “
حدید تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا اوپر نشاء کے کمرے میں آیا جہاں وہ ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی اپنے میک اپ کو آخری ٹچ دے رہی تھی
“تم۔۔۔تم ٹھیک ہو !!”
حدید نے ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھا
“ہاں تو تمہیں خوشی نہیں ہوئی مجھے صحیح دیکھ کر حدید “
نشاء نے ناراضگی سے اسے دیکھا
“نہیں ماما نے کہا تم گڑ گئی ‘
“ہاں تو اسی نے کہا تھا مجھے یہ کہنے کو”
آبدہ شاہ کمرے میں آتی بولی
“ماں آپ بھی آپ کو معلوم ہے وائسرے روڈ والی ہماری فیکٹری میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی ہے “
میں ملازموں کو دیکھنے جانے والا تھا
“جانتی ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا حدید اور یہ بھی معلوم ہے وہ چھوٹی سی فیکٹری ہماری نشاء کی سالگرہ سے زیادہ اہم نہیں “
آبدہ شاہ
سنجیدگی سے حدید شاہ کا چہرہ دیکھ کر بولی
حدید نے گہری سانس بھری
“ہیپی برتھڈے نشاء “
“میرا گفٹ دو خالی وش سے کام نہیں چلے گا”
وہ اٹھلا کر بولی
“گفٹ !؟؟ ہممم۔۔۔ گفٹ تمہیں دوں گا جلد تمہاری زندگی کا بہترین گفٹ”
وہ اس کے چہرے پر آئے بال پیچھے کرتا مسکرا کر بولا
“مجھے انتظار رہے گا حدید “
بدلے میں وہ بھی مسکرائی
________
اگلے روز حیات بھی ضد کرکے عدنان سے ملنے ہاسپٹل آئی تھی
بھائی آپ ٹھیک ہیں نہ
حیات آنسوں ضبط کرتے ہوئے عدنان کے پاس بیٹھی تھی
جنہیں کچھ دیر پہلے ہی نرس نے پین کلر کا انجیکشن لگایا تھا
“میں ٹھیک ہوں بچے بس زرا سا زخم ہے تم سب ہو جلد بھر جائے گا “
“بس اب آپ کوئی جوب نہیں کریں گے آپ نے کرلی جوب لے لیا ایکسپیرینس اب بس !!”
حیات منہ پھلائے بولی
“اس حادثے کا جوب سے کیا تعلق ؟!!۔۔”
عدنان بھائی بھی بھرپور اس کی باتوں کا جواب دے رہے تھے
“اسی سے تعلق ہے آپ نہ ادھر جوب کرتے نہ ادھر زخمی پڑے
ہوتے “
“یہ کیا بات ہوئی حیاتی یہ تو قسمت میں تھا نہ “
عدنان بھائی نے اس کے سر پر بہت لگائی
“آہ ۔۔۔۔” ہاتھ کے ہلنے پر درد پورے جسم میں پھیلا
“آہ بھائی آرام سے یار کیا کرتے ہیں آپ “
میں نرس کو بلاتی ہوں وہ ہڑبڑا کر اٹھی میں ٹھیک۔۔۔۔ مگر حیات کی جلد بازیاں وہ وہاں سے نکل گئی
وہ ہڑبڑائی سی نرا کو بلانے کے لیے نکلی تھی جب پھول تھامے آتے حدید سے ٹکرائی حدید کے ہاتھ میں تھامے پھول زمین بوس ہوئے
“انہوں۔۔۔۔سوری!! ۔۔۔نرس !!”وہ بغیر اس کی جانب دیکھے نرس کی طرف لپکی
حدید پہچان تو اسے چکا تھا مگر اس کی جلد بازی دیکھ کر رہ گیا جو اوئے دیکھے نہ تاؤ دیکھے نرس کو تھامے اس کے پاس سے گزرتی اس کے مطلوبہ کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔
لگتا ہے نشاء اور مما کی بات مان لینی چاہیے وہ نیچے گڑے پھولوں پر نظر ڈالتا اسی روم کی جانب بھر گیا
