212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 17)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“بہت خوشی ہوئی سر جی آپ کو یہاں دیکھ کر “

حیا نے گرمجوشی سے جازب کمال اور کمال اعوان کا استقبال کیا

“یہ تو تمہارا پیار ہے بچے “۔۔۔۔ کمال اعوان نے حیا کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے کہا

“انابیہ کیسی ہے اب!!؟ ” جازب کمال نے بھی باتوں میں حصہ لیا

“جی اللہ کا شکر اب کافی بہتر ہے بلکہ میں صفا سے کہتی ہوں وہ لے کر آتی ہے انابیہ کو بھی ساتھ میں تب تک میں ری فریش منٹس کا انتظام کرواتی ہوں “

“نہیں حیا بچے کسی بھی تکلف کی ضرورت نہیں “

کمال اعوان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا

“جی حیا صاحبہ بابا ٹھیک کہہ رہے ہیں ہم بس انابیہ بچے کی عیادت کی غرض سے آئے ہیں “

“تکلف جیسی کوئی بات نہیں ہے سر جی آپ کا اپنا ہی گھر ہے اور

جازب صاحب بلیو می میں کافی بری نہیں بناتی “حیا نے جازب کو بلا واسطہ مخاطب کیا تھا

یوں بلا واسطہ مخاطب کئیے جانے پر جازب کمال جھینپ گئے تھے

حیا وہاں سے چلی گئی جبکہ پیچھے

کمال اعوان نے اپنے بیٹے کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ کر مسکراہٹ دبائی تھی

________

“او صفا بچے اچھا ہوا آپ مل گئی میں آپ کے پاس ہی آنے والی تھی “

حیا نے اوپن کیچن میں داخل ہوتے وہاں بیٹھ کر پانی پیتی صفا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

“جی مما بتائیں “

“صفا بچے دیکھو انابیہ کہاں ہے سر جی اور جازب کمال اس کی عیادت کے لیے آئے ہیں “

اچھا مما میں بلاتی ہوں اسے پھر آکر آپ کی ہیلپ کرتی ہوں آپ مجھے بتائیے گا کیا کرنا ہے

صفا قدرے پرسکون انداز میں بولی

ہاں ہاں جلدی جاؤ

حیا ملازمہ کی نگرانی میں سنیکس رکھواتے ہوئی صفا سے بولی

نسیمہ بالاج صاحب کہاں ہے ؟؟ انہیں کہو جا کر گیسٹس کو اٹینڈ کریں

حیا نے مصروف سے انداز میں دوسری ملازمہ کو کہا جو مؤدب انداز میں اثبات میں سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی تھی ۔۔۔

_______

صفا عجلت میں انابیہ کے کمرے میں آئی جو ہنوز سوگوار سا ماحول بنائے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی

بیا تم نے چینج کیا میری جان اور یہ چہرے پر ریڈ ریڈ کیوں ہورہا ہے

صفا نے ہاتھ کی پشت سے انابیہ کے نرم رخسار کو سہلا کر فکر مندی سے کہا

“پتا نہیں ” انابیہ نے چہرا رگڑا

چندہ اگر طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو مما کو کہوں وہ ڈاکٹر کو بلا دیں یا بھائی کو وہ تمہیں لے جائیں گے

مجھے نہیں جانا کہی بھی لاج کے ساتھ بلکہ میں انہیں فیس کیسے کروں گی آپی

میں ان سے نظریں کیسے ملاؤں گی

میں کس قدر نیگیٹو سوچنے لگی تھی ان کے خلاف

انابیہ پھر چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رونے لگی

چندہ تم ابھی بھی نیگیٹو ہی سوچ رہی ہو ایسا کچھ نہیں ہوتا بھائی تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔۔

نہیں آپی اس بار وہ واقعی ناراض ہو گئے ہیں

اچھا اگر ناراض ہو بھی گئی ہیں تو تم انہیں منا لینا صفا نے اس کا سر سہلاتے ہوئے کہا

میں کیسے منا سکتی ہوں انہیں

اس لڑکی اب یہ بھی میں ہی تمہیں بتاؤں صفا نے اس کا سر سہلاتے سہلاتے ہی چپت لگائی

او ہاں یاد آیا منانے روٹھنے کے سیشن کو بعد کے لیے رکھو ابھی تم جلدی سے فریش ہو کر آؤ نیچے جازب انکل وغیرہ آئے ہیں تمہارا پتا لینے

صفا نے اس کے آنسو صاف کر کے پیار سے اسے گلے لگاتے ہوئے سمجھایا

انابیہ اثبات میں سر ہلاتی فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔۔

________

السلام علیکم

بالاج نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی جازب اور کمال اعوان کو سلام کیا

جو دونوں ایک ساتھ کھڑے ہوئے

چھوٹے خان کیسے ہوں ؟ کمال اعوان نے بالاج کو گلے لگاتے ہوئے گرمجوشی سے کہا

الحمدللہ رب کا کرم آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟؟ جازب انکل نے بتایا تھا آپ کی طبیعت کا

ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بالاج نے فکر مندی سے کہا

ارے ہاں یار بس اب عمر ہوگئی ہے تبھی میں اس دن بھی آ نہیں سکا خیر بہت بہت مبارک ہو ینگ مین اللّٰہ پاک تمہیں ڈھیروں کامیابیوں سے نوازے

ان کے ہاتھوں میں پلا بچہ کتنا جوان اور کامیاب ہوگیا تھا آج انھیں دل سے خوشی ہوئی

آمین ۔۔۔آمین بالاج اور جازب کمال نے یک آواز کہا

تبھی صفا ہاتھ ٹرے تھامے اندر آئی پیچھے لوازمات کی ٹرالی تھامے ملازمہ اور ساتھ ہی انابیہ بھی اندر داخل ہوئی

بالاج کو دیکھ کر انابیہ ایک لمحے کو رکی نظریں چرائی

بالاج اپنے فون پر آتی کال پر جازب کمال سے ایکسکیوز کرتا وہاں سے اٹھا اور انابیہ کے پاس سے ہوتا بغیر اس کی جانب دیکھے وہاں سے نکلتا چلا گیا

بالاج کے کمرے سے نکلتے ہی انابیہ کو ہر شہ ویران لگنے لگی

وہ غائب دماغی سے کمال اعوان کی باتوں کا جواب دے رہی تھی

صفا نے کہنی مار کر انابیہ کو ہوش دلایا

مما ۔۔۔ بالاج حیا کو ڈھونڈتا ہوا اوپن کیچن میں آیا

ہاں بالاج میں ادھر ہوں آپ اندر نہیں گئے ابھی تک ؟؟

حیا نے اس کے کچھ بتانے سے پہلے ہی سوال کیا

جی مما میں اندر ہی تھا ابھی شجاع کی کال آئی تھی وہ اور اس کی فیملی آرہی ہے تو آپ انتظام دیکھ لیں تھوڑی دیر میں ہی پہنچتے ہوں گے وہ لوگ بھی میں تب تک جازب انکل وغیرہ کے پاس ہوں

بالاج حیا کو شجاع کے بارے میں آگاہ کرتا وہاں سے مڑا پیچھے انابیہ کھڑی تھی

بالاج ۔۔!! انابیہ نے پکارا

مگر وہ ان سنی کرکے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔

بیا بچے آپ یہاں کیا کر رہی میری جان جاکر اندر بیٹھو اور آپ کی شال کدھر ہے معلوم ہے نہ کتنی ٹھنڈ ہے

ملازمہ کو ہدایت دینے کے بعد حیا کیچن سے باہر نکلی جہاں ساکن کھڑی انابیہ کو دیکھ کر حیا نے ڈپٹا

جی ۔۔مما جا رہی ہوں

شکست خوردہ لہجے میں وہ دھیمی آواز میں کہتی وہاں سے مڑ گئی ۔۔۔

حیا نے اس کی نم آواز کو طبیعت خرابی سے وابستہ کیا۔۔۔

_______

تھوڑی دیر میں شجاع اور اس کی مما بابا بھی آگئے جن کا بھی حیا اور بالاج نے بے حد گرمجوشی کے ساتھ ویلکم کیا

آج تو بہت چمک رہے ہیں مسٹر شجاع لگتا ہے آج اپنے ارد گرد والوں پر احسان کرکے نہا کر آیا ہے

بالاج نے مسلسل مسکراتے شجاع کو دیکھ کر ٹونٹ مارا

جس کے جواب پر شجاع نے کچھ کہنے کی بجائے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا

بالاج نے مکا بنا کر اس کے پیٹ میں رسید کیا تجھے پتا ہے نہ مجھے سخت نفرت ہے نشے سے اور تو نشہ کرکے آیا ہے

اہ سالے میں کیوں کرنے لگا نشہ شجاع اپنے پیٹ میں بالاج کے بھاری ہاتھ کا مکا کھانے کے بعد اٹھتے درد پر کراہ کر بولا

تو بہکی بہکی حرکتیں کیوں کر رہا ہے

بالاج نے ایک اور مکا اسی جگہ پر مارا اس بار شجاع نے بھی لحاظ کئیے بغیر اسے منہ پر مکا دے مارا

سس۔۔۔ بالاج نے دھیرے سے کراہ کر اپنے گال پر ہاتھ رکھا

کمینے منہ پر تو نہ مار پرسو کس منہ سے اپنی شادی پر جاؤں گا !!

آہ کیا کونسی شادی؟ شجاع نے چونک کر بالاج کو دیکھا

جو اپنا گال سہلا رہا تھا

بالاج مسکرایا پراسرار سا

اوئے تو میری بہن کو کوئی دھو ۔۔۔

اب تو مجھے یقین ہوگیا ہے شجاع خاور تم نے واقع نشہ کیا ہے نہیں تو تم یہ بکواس نہ کرتے

بالاج نے گھور کر کہا

تو شجاع کھسیا سا گیا

ہاں تو یہ کونسی شادی ہے جس کی تیاری راتوں رات ہوگی ؟؟ شجاع نے اب کہ سیریس ہوکر بالاج کو دیکھا

ہو جائے گا تم فکر میں مت گھلو تم بس تیار ہوکر یار کی شادی کی روٹی کھانے پہنچ جانا

بالاج نے آنکھ دبا کر شریر لہجے میں کہا

بتائیں گے تو تمہارے اچھے بھی شجاع نے اس کے گلے میں بازو ڈال کر دباؤ بڑھایا ۔۔۔

_______

نہایت خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا ۔۔۔

بہت مزہ کا کھانا تھا حیا بچے کمال اعوان نے چائے پیتے ہوئے کھانے کی تعریف کی

جی اس میں کوئی شک نہیں حیا بہت ذائقہ ہے آپ کے ہاتھ میں مسز خاور بھی مسکراتے ہوئے بولی

شکریہ بھابھی حیا نے مسکرا کر تعریف وصول کی

مجھے آپ لوگوں سے ضروری بات کرنی ہے حیا نے سب کو متوجہ کیا

کمرے میں اس وقت مسٹر مسسز خاور ان کے پاس بیٹھا شجاع تھا اور دوسری طرف جازب اور کمال اعوان تھے بالاج ابھی ضروری کام سے گیا تھا جبکہ بچیاں کب کی اوپر جا چکی تھی

آپ لوگ کافی عرصے سے جانتے ہیں ہمیں بلکہ یہ کہنا درست ہے ہماری زندگیوں سے وابستہ مختصر رشتوں میں آپ لوگ ہی شامل ہیں ۔۔ اس جمعے والے دن ہم نے ایک چھوٹا سا فنکشن رکھا ہے

وہ کام جو دس سال پہلے نہایت ہڑبڑی میں ہوا وہ مکمل کرنے کا وقت آگیا ہے اس جمعے کو بالاج اور انابیہ کی رخصتی کا چھوٹا سا فنکشن ہوگا کیونکہ اس وقت بچوں کی عمر نہیں تھی تو بالاج کی خواہش ہے نکاح دوبارہ سے ہو اور ہماری اس خوشی میں میں چاہتی ہوں آپ سب لوگ شرکت کریں

ارے کیسی بات کر رہی ہیں حیا صاحبہ ہم ضرور آئیں گے بلکہ ہم اس فیصلے پر بہت خوش ہیں

جازب صاحب ٹھیک کہ رہے ہیں حیا بیٹا بالاج ہمارا اپنا بیٹا اور انابیہ بھی ہماری بچیوں جیسی ہے بھلا ہم اپنے بچوں کی خوشی میں شرکت نہیں کریں گے

خاور صاحب نے جازب کمال کی بات پر متفق ہوتے ہوئے کہا

بلکہ مجھے کچھ ۔۔۔ خاور صاحب ابھی اپنے مؤقف کی طرف آتے ان کے پاس بیٹھے شجاع نے ان کا ہاتھ تھام کر نفی میں سر ہلایا

بلکہ ہمیں بتانا بیٹا کسی بھی جگہ ہماری ضرورت پڑی تو

خاور صاحب بات بدلتے ہوئے بولے

آپ سب کا بہت بہت شکریہ

حیا کی آنکھیں بھیگ گئی شکریہ خاور بھائی سر جی جازب سر

جہانگیر بھائی کے جانے کے بعد لگا تھا ایک دفعہ پھر سے یتیم ہوگئی ہوں مگر جس طرح آپ سب لوگوں نے میرا اور میرے بچوں کا ساتھ دیا میں لاجواب ہوں

حیا کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر جازب کمال بے چین ہوئے

یہ محبت ہے بچے جو آپ ڈیزرو بھی کرتی ہیں کمال اعوان نے آٹھ کر حیا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

اچھا اب ہمیں اجازت دیں بچے

جی بہت بہت شکریہ سر جی حیا انہیں باہر تک چھوڑنے آئی ساتھ ایک دفعہ پھر سے شکریہ ادا کرنے لگی

ارے شکریہ تو مجھے کہنا چائیے بچے بہت مزہ آیا بلکہ عرصے بعد ہوں سیر ہو کر لزیز کھانا کھایا

سیر ہو کر یاں بد پرہیز ہو کر ڈیڈ جازب کمال نے کمال اعوان کی تصحیح کی

بیٹی ہوتی میری کوئی تو طعنے نہ دیتی کمال اعوان نے منہ بنایا

حیا ہنس دی ۔۔۔

_______

شجاع تم نے مجھے حیا سے اپنے اور صفا کے رشتے کے بارے میں بات کیوں نہیں کرنے دی ؟؟

خاور صاحب نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے شجاع کو دیکھ کر پوچھا

وہ ہی خاور صاحب میں سوچ رہی تھی ابھی تک آپ نے حیا سے بات نہیں کی جبکہ ہمارے آج یہاں آنے کا مقصد ہی یہ موضوع تھا

مسز خاور نے بھی بات میں حصہ ڈالا

ڈیڈ ابھی مجھے مناسب نہیں لگا حیا آنٹی نے ابھی تو انابیہ اور بالاج کی شادی کا کہا اور اوپر سے جازب اور کمال انکل بھی یہاں پر ہی موجود تھے ایسے میں ایک دم سے ان کے آگے پرپوزل رکھ دینا ۔۔۔۔

ہممم۔۔۔ خاور صاحب شجاع ٹھیک کہہ رہا ہے بیٹیوں کے معاملے میں مائیں ویسے ہی حساس ہوتی ہیں

میں پہلے اشارتاً حیا سے بات کروں گی صفا کے بارے میں ویسے بچی تو ماشاءاللہ بہت پیاری ہے اور سلجھی ہوئی ملنسار بھی لگی

مسز خاور نے شجاع کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

جسے کچھ دن پہلے کی کیچن میں ہوئی اس دشمن جاں سے کوئی ٹکر یاد آگئی

موٹا بھینس کہی کا ۔۔۔

شجاع نے اپنے بالکل سامنے دیوار پر نسب قد آور شیشے میں نظر آتے اپنے عکس پر نظر ڈالتے ہوئے سوچا

وہ کہیں سے بھی اوور ویٹ نہیں تھا ہاں کچھ سال پہلے تھوڑا سا گول مٹول تھا مگر موٹا بھینس

اس نے جھر جھری لی ۔۔

دروازے کے باہر کھڑی اندر ہوتی گفتگو پر کانپ گئی

رنگ پھیکا پڑا تھا

وہ تو سمجھی تھی کہ سب جا چکے ہیں اسی لیے وہ نیچے آئی تھی مگر ڈرائنگ روم میں بیٹھی شجاع کی فیملی اور ان کے خیالات سن کر صفا کے دل بیٹھ سا گیا

وہ سمجھ نہیں پارہی تھی اس کی حالت اتنی متغیر کیوں ہورہی تھی یہ کوئی انہونی بات تو نہیں تھی

وہ لڑکی تھی جوان تھی رشتہ آنا ہرگز بھی کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی

پھر بھی اس کی ہتھیلیاں سرد پر گئیں اور آنکھیں عجیب سے خوف سے بڑی ہوگئیں

وہ بغیر اندر گئے وہاں سے مڑنے لگی تھی جب حیا اور بالاج کے اپنے پاس آنے پر وہ مجبوراً خود کو کمپوز کرتی ان کے ساتھ ہی اندر چلی گئی

_______

اچھا حیا بیٹا اب ہمیں بھی اجازت دو بہت دیر ہوگئی ہے اور ہاں کسی بھی چیز کی ضرورت پڑے تو ہم حاظر ہیں آپ شجاع کو فون کردیجیے گا

خاور صاحب نے اپنے بیٹے کے شانے پر ہاتھ رکھتے مان سے کہا

جی بہت شکریہ بھائی صاحب شجاع بہت اچھا بچہ ہے بالاج کی غیر موجودگی میں بھی اس نے یہاں کی چیزوں کا بہت خیال رکھا

جی میرا شجاع ہے تو بہت فرما بردار مگر ہر وقت کام ہی سوجھتا ہے اسے اب میری کوئی بیٹی بھی نہیں ہے حیا خاور صاحب اور شجاع آفس چلے جاتے ہیں اور حاشر اپنی کوچنگ مین گھر میں بلائی پھرتی ہوں

مسز خاور نے اپنے دن بھر کی روٹین بتاتے ہوئے کہا

اب بس اس کی شادی کرنی ہے

جی اللہ پاک بچوں کے نصیب اچھے کرے حیا نے مسکراتے ہوئے دعا دی

جی آمین اب بس بالاج کے فنکشن سے فری ہوتے ہی شجاع کا سوچتے ہیں کیوں شجاع خاور صاحب نے مسکراہٹ دبا کر اپنے بیٹے کو کہا جو وقتاً فوقتاً سمٹ کر بیٹھی صفا پر نظر ڈالتا بالاج سے باتوں میں مصروف ہوجاتا

صفا جہاں بالاج کے فنکشن پر چونک گئی وہی دوسری طرف خاور صاحب کی زومعنی جملے کو سمجھتی اپنے سن ہوتے دماغ سے اپنے پیروں کو گھورنے لگی ۔۔۔

جی چلیں اب ہم چلتے ہیں ان شاءاللہ پرسو ملاقات ہوتی ہے مسز خاور حیا اور صفا کو گلے لگا کر بولی

اپنا خیال رکھنا بچے پیار سے صفا کی تھوڑی چھوتی وہ شجاع اور مسٹر خاور کے پیچھے چل دی ۔۔۔

_______

گاڑی خان ہاؤس سے واپس موڑتے ہوئے حدید شاہ نے گاڑی لاہور جانے والی سڑکوں کی طرف موڑ لی

جانے کیسا خوف تھا کہ وہ چاہ کر بھی اندر نہیں جا سکا تھا

خرم بولو

حدید شاہ نے بجتے فون پر خرم کا نام شو ہونے پر کال اٹینڈ کی

سر وہ جو گاڑی کا نمبر آپ نے سینڈ کیا تھا وہ ایڈوکیٹ کمال اعوان کے نام کر رجسٹرڈ ہے

کمال اعوان !!

بالاج نے سر گوشی کی

جی سر کمال اعوان کسی زمانے میں وہ بڑی بیگم صاحبہ کے لیگل ایڈوائزر بھی ہوا کرتے تھے

اچھا بالاج نے ماتھا مسلا اور وہ شخص ان کے ساتھ ؟؟

سر وہ ان کے اکلوتے بیٹے جازب کمال ان کا بہت آنا جانا ہے بالاج خان کے گھر میں اور بالاج خان کی والدہ ایڈوکیٹ حیا خان ان کی کولیگ بھی ہیں مگر ان کا بظاہر تعلق کولیگ سے زیادہ کا لگتا ہے جتنا ان کا آنا جانا ہے خان ہاؤس میں خرم نے بات کو طول دیتے کہا

حدید شاہ نے فون کاٹ کر گاڑی کو بریک لگائی

اور سر سٹریرنگ پر ٹکا لیا

اگر !؟؟

نہیں وہ اگر سے آگے کچھ سوچ نہیں سکتے تھے

کچھ سوچتے تو ان کے دماغ کی شریانیں پھٹ جاتی ۔۔۔۔

_______

آج تو خاصے اچھے موڈ میں ہیں جناب

حدیقہ شاہ نے اپنے ہاتھوں کو موئسچرائزر لگاتے ہوئے ابراہیم شاہ کو خوشگوار موڈ میں دیکھتے ہوئے کہا

جی جناب کی جناب عالیہ موڈ تو آپ کو دیکھ کر ہی کافی فریش ہوجاتا ہے میرا

ابراہیم شاہ نے ان کے پاس ٹکتے ہوئے دلفریب انداز میں۔ کہا

خیر تو ہے کہ ابراہیم ؟؟ کچھ کیا ہے کیا آپ نے حدیقہ شاہ نے مشکوک نظروں سے ابراہیم شاہ کو دیکھتے ہوئے کہا

وللہ الہی تم عورتوں کا کیا ہوگا شوہر کے اچھے موڈ کا دو منٹ میں ستیا ناس کردیتی ہو

میں نے کیا کیا شاہ آپ ایسے کیوں بول رہے ہیں

ابراہیم شاہ کے تھوڑے اونچے بولنے پر حدیقہ شاہ سیدھی ہوتی پریشانی سے بولی

خوب آتا ہے بیگم تمہیں میرا غصہ ختم کرنا ابراہیم شاہ نے ان کے نم لہجے پر چوٹ کی

ہاں جی تو ستائیس سال ہوگئے ہیں ہمارے ساتھ کو حدیقہ شاہ نے نزاکت سے اپنے کو لہرایا

جسے ابراہیم شاہ نے تھام لیا

واقع ستائیس سال ہوگئے ہمارے ساتھ کو حدیقہ تئیس سال ہمارا ایک جوان بیٹا ہے

وقت تمہاری سنگت میں یوں گزر گیا پتا ہی نہیں لگا

ابراہیم نے خواب ناک لہجے میں کہا

حدیقہ شاہ نے اپنے شوہر کی خود سے محبت پر نظر اتاری

اچھا بتائیں خوش ہونے کی وجہ ؟؟

میرا دوست یاد ہے ثرمد اس کی بیٹی رومیسہ عون کی کلاس فیلو ہے اور مجھے بتا رہا تھا بچوں کی آپس میں کافی اچھی دوستی ہے بس یہ آخری سمسٹر ہے عون گریجویٹ ہوجائے گا پھر اس کی شادی کردینی ہے میں نے کریئر وغیرہ بنتا رہے گا اپنا خود کا بزنس بھی ہے جو چائے کرے

میں تو جلد اپنے پوتا پوتی کو کھلانا چاہتا ہوں میری بیٹی کی خواہش بھی پوری ہوگی

آخر میں ابراہیم شاہ نے منہ بنا کر کہا تو حدیقہ شاہ بے اختیار ہنسی آپ کے جلے دل کے پھپھولے

وہ قہقہ لگاتے ہوئے اٹھنے لگی جسے ابراہیم شاہ نے ہاتھ سے تھام کر اپنے پاس بٹھا کر اپنے پلین بتانے لگے