212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 18)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

حیا اور بالاج کے ان کو سی آف کرکے اندر آنے پر صفا ان کے سامنے آئی

” مما یہ انکل آنٹی بالاج بھیا کے کونسے فنکشن کی بات کر رہی تھے ؟؟؟”

صفا نے نا سمجھی سے پوچھا

“پرسو رخصتی ہے تمہاری چندہ کی اس کا چھوٹا سا فنکشن ہے جس میں بس یہ دو فیملی اور کچھ لوگ شامل ہوں گے”

حیا نے صفا کے تجسس کو ختم کرتے ہوئے کہا

“کیا واقعی بھیا اور چندہ اسے نہیں معلوم کیا ؟؟”

صفا نے خوشی سے اچھلتے ہوئی بالاج کے گلے لگتے پوچھا

“نہیں اسے معلوم نہیں ہے اور ابھی بتانے کی ضرورت بھی نہیں ہے گڑیا اسے میں خود ہی بتاؤ گا “

بالاج نے صفا کے سر کو سہلاتے ہوئے کہا

“اوکے بھیا ۔۔۔!!”

“مگر مما پرسو اتنی تیاریاں ہیں کیسے ہوگی اتنی جلدی “

صفا جاتے جاتے مڑی

“ہو جائے گی آپ فکر مت کرو آپ بس اپنی شاپنگ کی تیاری کرو جو آپ نے کل کرنی ہے “

حیا سے پہلے ہی بالاج نے اس کی پریشانی دور کی

“یس ۔۔۔!!!”

_______

“مما آپ انابیہ کے لیے گرم دودھ کا گلاس لے کر اسی کے کمرے میں آجائیں کچھ ضروری بات کرنی ہے”

” جو میں چاہتا ہوں آپ کے سامنے ہوجائے ۔۔۔”

صفا کے جاتے ہی بالاج نے حیا کی طرف سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا

“اس وقت بالاج رات بہت ہوگئی ہے وہ سو گئی ہو گی صبح بات کرلیں گے بچے “

حیا نے انابیہ کی فکر کرتے ہوئے کہا

‘نہیں مما وہ نہیں سوئی ہو گی بالاج نے پر یقین لہجے میں کہا

حیا اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔”

_______

انابیہ اپنی سیاہ گرم شال اپنے گرد باندھے کھلی کھڑکی کے سامنے کرسی ڈھائے آسمان میں بادلوں کی اوٹھ میں چھپتے ظاہر ہوتے چاند کو دیکھ رہی تھی ۔۔

جب اس کے کمرے کا دروازہ کھل کر بند ہوا تھا دروازے کی آواز سے تو نہیں البتہ کمرے میں سیکنڈز میں پھیلنے والی خوشبو نے اسے ضرور چونکا دیا تھا

نہ صرف چونکا دیا تھا اس کے وجود میں حرکت بھی ہوئی تھی

وہ گردن موڑے بغیر اُٹھ کھڑی ہوئی

“رخ موڑنے کی ہمت نہ کر سکی تھی ..”

بالاج خود ہی اپنے اور اس کے درمیان کا فاصلہ سمیٹتا اس کے قریب چلا آیا

اس کا ایک ایک قدم انابیہ کے دل پر بھاری پر رہا تھا ۔۔۔۔

بالاج نے اس کی شال سے ڈھکی بازو کو نرم گرفت میں لیتے اس کا رخ اپنی جانب موڑا

اپنے بازو کو اس کی گرفت میں محسوس کئیے وہ “آنکھیں مینچ” گئی ۔۔۔۔

بند آنکھوں سمیت ہی وہ مڑتی چلی گئی

بالاج نے لرزتی پلکوں کی بار میں چھپی بند آنکھوں پر نظر ڈالی

وہ دھیرے سے مسکرایا

وہ تو آج بھی معصوم ہی تھی جس غرض سے وہ اس سے دور گیا تھا وہ کامیاب ہوگیا تھا

“آنکھیں کھولو ۔۔!!”

انابیہ نے نفی میں سر ہلایا

“انابیہ آنکھیں کھولو “

بالاج کی بھاری گھمبیر آواز پر انابیہ نے چارو ناچار اسے آنکھیں کھولنی پڑی

اس کی آنکھیں کھلنے سے پہلے ہی بالاج اپنی مسکراہٹ سمیٹ چکا تھا

“یہ لو !!” خاکی رنگ کا لفافہ اس نے انابیہ کی طرف بڑھایا

“یہ۔۔یہ کیا ہے ؟؟ “انابیہ نے کانپتے ہاتھوں سے بالاج کے ہاتھوں سے وہ خاکے رنگ کے لفافے کو تھاما

‘یہ۔۔یہ کیا ہے لاج ؟؟”

وہ لفافہ کھولنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی

“کھول کر خود ہی دیکھ لو”

بالاج نے سپاٹ لہجے میں کہا

اس سے پہلے وہ لفافہ کھولتی حیا نے دروازے پر دستک دی

‘اندر آ جائے میں چاہتا ہوں آپ کے سامنے یہ کام ہو جائے”

بیا کا رنگ متغیر ہوا

“یہ کیا کہہ رہے ہیں بالاج ماما؟؟”

“کونسا کام ؟؟”

پسینے سے تر ماتھے کو صاف کرتے ہوئے وہ بولی

“بیا کھول کر تو دیکھو کیا ہے اس لفافے میں”

حیا نے پسینے سے تر ہوتی انابیہ کی پیشانی دیکھ کر کہا

انابیہ نے جیسے ہی وہ خاکی رنگ کا لفافہ کھولا اس کے اندر سے نکاح نامہ نکلا

“نکاح نامہ ؟؟”

بیا نے ناسمجھی سے بالاج کی طرف دیکھا

“یہ” نکاح نامہ “میں نے نیا بنوایا ہے اور میں چاہتا ہوں اس کی وہ “تمام شقیں” جو ایک لڑکی کا شرعی حق ہوتی ہیں وہ تم مما کی نگرانی میں دیکھ بھال کر پُر کرو”

‘بالکل بے فکر اور بے خوف ہو کر!!”

“تاکہ آج کے بعد تمہارا یہ موقف کہ نکاح عورت کے لیے محض اُس کو دوسرے پر مسلط کردینے جیسا رشتہ ہے یہ بدل جائے ۔۔۔”

“ن۔نہیں با۔۔بالاج ایسا نہی۔۔۔’

انابیہ نے نفی میں سر ہلایا

‘نکاح کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ عورت اپنے محافظ کے حصار میں آکر قلعہ بند ہو جاتی ہے “

“باقی حقوق کی بات تو میرا نہیں خیال ہمارے مذہب سے زیادہ بھی کوئی عورتوں کو ان کے حقوق دیتا ہوگا “

“اور اپنے نکاح نامے کو پڑھنا اس پر غور کرنا ہر عورت کا شرعی حق ہے اور میں نے تمہیں وہ ہی دیا ہے “

بالاج نے تفصیل سے اسے بتایا

‘نہیں مما مجھے ۔۔۔کچھ نہیں چائیے !!”

وہ گھبرائی سی بولی

بالاج تھوڑی دیر کے لیے ان کو اکیلا چھوڑ کر چلا گیا

“بیا میری بچی” حیا نے اس کا چہرہ ہاتھ کے پیالے میں بھرا

“گھبرانے والی تو کوئی بات نہیں ہے چندہ اس میں یہ تو آپ کا حق ہے نہ حیا نے سمجھانا چاہا “

“نہیں مما آپ ۔۔آپ نہیں جانتی لاج یہ سب غصے میں۔ کر رہے ہیں وہ مجھ سے ناراض ہیں انھوں نے میری اور آپی کی باتیں سن لیں تھیں وہ تبھی یہ سب کر رہے ہیں”

“نہیں سونے ایسا کیوں سوچ رہی ہو میرا بچہ یہ آپ کا حق ہے بالاج کی کیا مجال جو ان سب معاملوں میں غصہ یاں غیر پسندگی ظاہر کرے جس وقت آپ کا نکاح ہوا تھا اس وقت آپ چھوٹی تھی ان سب چیزوں سے بے خبر تھی اور جن حالات میں نکاح ہوا میرا اس چیز پر دھیان نہیں گیا”

“یہ تو بالاج نے خود مجھے یاد دلوایا اور مجھے بالاج کی اس خواہش پر فخر ہے اور رہی بات بالاج کے ناراض ہونے کی تو یہ تو آپ کا اور بالاج کا ذاتی میٹر ہے میاں بیوی میں محبت ناراضگی تو چلتی رہتی ہے اب یہ آپ پر ہے آپ کیسے مناتی ہیں اپنے شوہر کو “

حیا نے اس کے دماغ سے تمام وسوسوں کو نکالتے ہوئے اسے ان دیکھے بوجھ سے آزاد کیا

“اچھا اب میں آپ کو ان شقوں کا بتاتی ہوں آپ سوچ سمجھ کر تسلی سے اسے پُر کریں حیا نے پیار سے اسے گائیڈ کیا “

انابیہ نے بھیگی آنکھوں سے حیا کو دیکھا اس کے پاس اس کے سگے ماں باپ نہیں تھے مگر اس کے پاس دوسری بہترین ماں تھی ایک پیاری بڑی بہن اور اس کا بے شمار خیال رکھنے والا شوہر

انابیہ کا دل سجدہ شکر بجا لایا اسے آج اپنا آپ معتبر لگا

وہ حیا کے گلے لگ گئی

تقریباً آدھے گھنٹے بعد بالاج بھی اندر آگیا

حیا نکاح نامہ لے کر مسکراہٹ دباتے ہوئے وہاں سے نکل گئی

انابیہ مٹھیاں بھینچے اپنی جگہ پر سمٹ کر بیٹھ گئی

بالاج دروازہ بند کرتا اس کے پاس آیا

“انا”

کیسا گھمبیر لہجہ تھا انابیہ کی ہتھیلیاں تر ہوگئی

بالاج اس کے پاس ہی بیڈ پر ٹک گیا

اپنے قریب بالاج کو محسوس کئیے انابیہ نے سلک کی بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں بھینچ لیا

بالاج نے ہاتھ بڑھا کر اس کے دائیں ہاتھ سے شیٹ کو جدا کرکے اسے تھام لیا

“کوئی شکوہ کوئی بدگمانی کوئی بات کچھ بھی جو تمہارے دل میں ہو ؟”

“میں تمہیں ایک دفعہ پھر سے اپنے نکاح میں لینے سے پہلے تمہارے دل سے موجود ہر بدگمانی کو مٹا دینا چاہتا ہوں “

اس کے ہاتھ کی پشت کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں بولا

“انابیہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنا سر اس کے شانے سے ٹکا دیا” وہ خوب زیادہ رونا چاہتی تھی بہت زیادہ اتنا کہ سارے آنسو ایک ساتھ ہی بہا دینا چاہتی تھی

“بالاج نے بھی اسے رونے دیا شال اس کے کندھوں پر آچکی تھی سیاہ ریشمی بالوں سے ڈھکے سر پر بالاج نے گال ٹکا لیا۔۔۔۔”

_______

مامو یار آپ بغیر بتائے ہی لاہور کے لیے نکل گئے ؟؟

حدید شاہ کے فون اٹھاتے کی عون نے خفگی کا اظہار کیا

“ہاں تو بھانجے اپنی طرح فارغ انسان سمجھا ہوا ہے ادھر مجھے بہت سارے کام ہیں اگر اتنا ہی مامو یاد آرہا ہے تو لاہور آجاؤ”

حدید شاہ نے ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے فون کان کے ساتھ لگاتے ہوئے عون کو پچھاڑا

“کلثوم شاہ اپنے نواسے کے زکر پر بے چین ہوئی دل کے زخم ایک دفعہ دوبارہ ہرے ہوگئے “

“ایک دفعہ بھی ان کے بیٹے نے ان سے نہیں کہا نہ پوچھا کہ کیا وہ بات کرنا چائیں گی

“ارے یار مامو میں تو آجاؤ مگر کیا کرو اب لاہور کی ہواؤں میں آپ کے بھانجے کا گزارا نہیں ہے “

“آہ۔۔۔اب تو تمام سکون اسلام آباد میں ہی موجود ہے” عون نے بیڈ پر گرتے ہوئے لمبی سی آہ بھڑتے ہوئے کہا

حدید شاہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنی مسکراہٹ نہ دبا سکے

“لگتا ہے اگلی بار پکا انتظام کرنا پڑے گا تمہارا یہ نہ ہو یہ سکون ہاتھ سے نکل جائے”

“اللہ نہ کرے مامو “عون نے سیدھا ہوتے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

تصور ہی محال تھا کجا کے حقیقت

“اچھا کرتا ہوں میں بات فکر مت کرو تم اپنی پڑھائی پر دھیان دو آخری سمسٹر ہے تمہارا “

حدید شاہ نے چند ایک بات کرکے فون کاٹ کر ناشتہ دوبارہ شروع کردیا

“کیا جوان ہے حدیقہ کا بیٹا ؟؟”

کلثوم شاہ پوتا نہیں کہہ سکی تھیں

“جی۔” یک لفظی جواب دے کر حدید شاہ ٹشو سے چہرہ تھپتھپاتے وہاں سے اٹھ کر چکے گئے

“کلثوم شاہ اپنا سر کرسی کے ساتھ لگا گئی “

“خدا تمہیں رسوا کرے “

“بددعا نکلی تھی ان کے دل سے کسی کے لیے ۔۔۔”

_______

اپنے شانے پر گرم سانسوں کی حدت محسوس کئیے بالاج سیدھا ہوا تھا

انابیہ یوں ہی سر ٹکا کر سو چکی تھی

بالاج نے اسے سیدھا کرکے لٹایا اور کمبل اسے اوپر دیا دھیرے سے اس کے گال کے ساتھ ہاتھ مس کرکے وہ وہاں سے نکل گیا

_______

“حدیقہ!!”

ابراہیم شاہ نے ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی اپنی دائیں جانب کی کرسی کی جانب دیکھ کر اپنی بیوی کو پکارا

“جی ابراہیم ؟؟ “

حدیقہ شاہ چائے کا کپ لبوں سے ہٹا کر سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگی

“بابا کہاں پر ہیں ناشتہ نہیں کریں گے ؟؟” ابراہیم شاہ نے بابا کا پوچھا

“نہیں ابراہیم ناشتہ وہ کافی دیر پہلے ہی کر چکے تھے ابھی پاس ہی پارک میں گئے چہل قدمی کے لیے “

“اکیلے ؟؟!!”

“نہیں ابراہیم محمود (گارڈ) ساتھ ہی گیا ہے ان کے “

“چلو اچھا ہے اور آپ کے نواب صاحب ؟؟”

“وہ سویا ہوا ہے آپ کو معلوم تو کتنا پڑھتا ہے میرا بچہ فائنل پیپرز ہیں پھر اس کی پریکٹس شروع ہوجائے گی ان شاءاللہ “

“تمہاری ہی چھوٹ ہی ہے جو وہ یہ وکالت کر رہا ہے حدیقہ نہیں تو مجھے یہ پیشہ ہر گز نہیں پسند “

“اتنے میں عون بھی سیڑھیاں اترتا دیکھائی دیا۔۔۔!!

“ابراہیم پلیز اب مت شروع ہوجائیے گا آپ دونوں کے بھیچ میں ہمیشہ میں پھنس جاتی ہوں “

حدیقہ شاہ کے جھنجھلانے پر ابراہیم شاہ ایک تیز نظر اپنے قریب آتے سپوت پر ڈال کر پلیٹ میں موجود آخری لقمہ لیا

“اچھا آپ نے ثرمد کی بیٹی کے لیے تحفہ لے لیا کیا آج اس کی سالگرہ ہے؟”

ابراہیم شاہ نے حدیقہ شاہ سے پوچھا

“او ۔۔۔ !!”حدیقہ سر پر ہاتھ مار گئی

“کیا ہوا مومی سر کیوں پیٹ رہی ہیں ؟”

عون اپنی ماں کا پیشانی لگا ہاتھ تھام کر بولا

“عون اپنی ماں کو مال لے جانا ہے اس نے کچھ ضروری سامان لینا ہے “

ابراہیم شاہ بغیر اپنی بیوی کے کہے ہی خود ہی عون سے بولے

“او نو ڈیڈ آج بہت امپورٹنٹ۔۔۔۔۔”

“لے جانا کا مطلب ہوتا ہے لے جانا “عون ابراہیم ابراہیم شاہ نے قطع لہجے میں کہا تو عون بھی آنکھیں گھما کر خاموش ہوگیا

“اگر آپ نے ناشتہ کرلیا ہے تو چلیں مومی “

عون نے چئیر پر بیٹھے بغیر ہی اپنی ماں سے کہا

“بیٹا تم تو ناشتہ کرلو”۔۔۔۔ حدیقہ شاہ نے جوس کا جگ اٹھا کر جوس گلاس میں انڈیلتے ہوئے اس سے پوچھا

“نہیں مومی پیٹ بھر گیا “

ابراہیم شاہ کی طرف دیکھ کر ایک دفعہ پھر سے آنکھیں گھمائی جس پر ابراہیم شاہ اپنے دائیں ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر رکھ کر مسکراہٹ دبا گئے

“حدیقہ گفٹ لے کر آپ تیار رہیے گا میں شام کو جلدی آجاؤں گا پھر چلیں گے “

“جی ٹھیک ہے !!” حدیقہ شاہ نے خفگی سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا

“چلیں مومی یار میں نے بتایا نہ امپورٹنٹ کلاس ہے میری آج

اچھا چلو “

“ہاں ۔۔۔”چلو حدیقہ شاہ اُٹھ گئی

“چلیں یوہائینیس۔۔۔!!”

سینے پر ہاتھ دھرے جھک کر کہا

________

اگلی صبح روشن تھی انابیہ کے لیے الگ ہی سرور لائی تھی جب بالاج نے اسے اور صفا کو ساتھ شاپنگ کرنے چلنے کا کہا تھا اب جب ساری رنجشیں دور ہوگئی تھی تو۔اب بالاج کا ساتھ پہلے سے بھی زیادہ عزیز ہوگیا تھا

اسے یہ تو معلوم تھا کہ بالاج اور حیا اب جلد ہی رخصتی کا انتظام کریں گے لیکن ایک چیز سے وہ ابھی بالکل بے خبر تھی کہ کل ہی وہ دن ہے تبھی وہ بغیر پریشانی کے صفا اور بالاج کے ساتھ شاپنگ کرنے میں مشغول تھی…

کافی دیر ایک ہی چاپ سے کپڑے دیکھنے کے باوجود بھی انابیہ کو کچھ خاص پسند نہیں آیا تو بالاج اپنی پینٹ کی پاکٹ سے فون نکال کر ایک جگہ کال ملائی

“چلو ٹھیک ہے اوکے!!”

“صفا بچے آپ اس سائیڈ پر جا کر جیولری وغیرہ دیکھو میں نے یہاں آگے سے ایک پارسل کلیکٹ کرنا ہے میں انا کے ساتھ جارہا ہوں “

‘بالاج نے انابیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے صفا کے پاس لے جاتے ہوئے صفا سے کہا ‘

انابیہ حیرانگی سے بالاج کی جلد بازی کو دیکھ رہی تھی تو کبھی اپنے ہاتھ کی مٹھی کو اس کی کشادہ ہتھیلی میں مقید ہوئے

“جی بھائی میں اسی شاپ میں ہوں آپ جائیں “

صفا نے اسے اطمینان سے کہتے خود بائیں جانب چلی گئی

بالاج بھی انابیہ کو تھامے وہاں سے لے کر چلا گیا

“جو ارے ارے ہی کرتی رہ گئی “