212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 65)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

“وعلیکم السلام ہاں ہاں ۔۔۔ آجاؤ ہم ہوگئے ہیں فری ۔۔۔۔ اوکے”

حیا نے بالاج سے کہہ کر فون ٹیبل پر رکھا

“اور بتاؤ کیسا رہا پہلا دن ؟ کیسا لگا جازب صاحب کو اسسٹ کرکے؟ “

حیا نے ساتھ ساتھ اپنی فائل سمیٹنا شروع کی

“اچھا گزرا تھا “صفا نے مسکرا کر کہا

“واقع ؟؟ “حیا کی آنکھوں میں شرارت تھی

صفا کا دل خوشی سے دھڑکا حیا کے جیسٹرز ان کے رشتے کو بہت بہتر بنا رہے تھے

“مما یار سچی مجھے نہیں پتا تھا اتنے کول مائنڈ فنی سے جازب انکل یہاں آکر اتنے سنجیدہ اور اکڑو ہوجاتے ہیں

آئی سوئیر میں جتنی دیر ان کے آفس میں رہی میرا سانس سوکھا رہا میرا اور وہ اتنی باریک بینی سے ہر چیز نوٹ کرتے ہیں آئی ایم ریلی امپریسڈ “

صفا نے مسکرا کر تفصیل بتائی تو حیا مسکرا دی

yes no doubt he is amazing person as well lawyer

“یس ہی از امیزنگ پرسن ایز ویل لوئیر “

حیا نے سامان سمیٹ لیا تھا

“ویسے مما یہ جو آپ کا اسسٹنٹ ہے یہ آپ کے ساتھ سوٹ نہیں کرتا” صفا باسط کو یاد کرتے ہوے بولی

صفا اس کی جادو گرنی والی بڑبڑاہٹ یاد کرتے منہ بنا گئی تھی

حیا نے چونک کر اسے دیکھا صفا اتنی جلدی کسی کے بارے میں اپنی رائے نہیں دیتی تھی

“بہت محنتی لڑکا ہے باسط بس بولتا زیادہ ہے بٹ سٹل اچھا اور سمجھ دار بچہ ہے “

حیا نے بیگ اپنے کندھے پر پہن لیا تھا

وہ اب بالاج کو کچھ میسج کر رہی تھی

———-

“ہیلو قاسم “

“حدید صاحب کیسے ہیں آپ اور آپ کی طبیعت “

“میں ٹھیک یوں تم بتاؤ گھر میں وہاں سب ٹھیک ہے ماں کیسی ہیں ؟ “

حدید شاہ نے کمرے میں چکر لگاتے اضطراب کی کیفیت میں میں دائیں ہاتھ میں تھاما ہوا فون بائیں ہاتھ میں منتقل کرکے بائیں کان کے قریب کیا

“جی وہ ٹھیک ہیں ۔۔۔ ” قاسم عون کی تنبیہہ یاد کرتے دھیرے سے بولا

“اچھا مجھ سے ملنے کوئی آیا تھا وہاں ؟ ” جانے کیا جاننا چاہ رہا تھا وہ

“نہیں صاحب مگر آپ کے نام پر دو نوٹس موصول ہوئے ہیں ایک عدالت کی طرف سے ہے اور ایک آفس کی جانب سے لگ رہا ہے فائل جیسا ہے “

“تم لے کر ادھر آجاؤ اسلام آباد اور ہاں اپنی بیوی کو سختی سے ماں کا خیال رکھنے کا کہہ کر آنا ادھر بلکہ تم ادھر ہی ٹھہرو ماں کے پاس وہ نوٹس بھجوا دو مجھے شام تک سارا سامان ادھر چاہیے ۔۔۔ “

حدید نے عدالت کے نوٹس والی بات پر اپنے دل میں اٹھتے وسوسے کو دبایا

———

وہ ابھی ہی گھر پہنچا تھا جب اسے لاونج میں اپنی ایزی چئیر پر کوئی کتاب پڑھتے کمال اعوان نظر آئے

جازب نے ہونٹوں پر مسکراہٹ سی چھلکی

“اور سنائیں بیرسٹر صاحب کیسی رہی اپنے فیوچر پوتے سے ملاقات ۔۔؟!”

وہ شریر لہجے میں بولا۔۔

“مت پوچھو۔۔۔ مجھ سے اتنی گھبراہٹ مجھے جج کی کرسی

میں بیٹھ کر مجرم کی زندگی موت کا فیصلہ کرنے میں نہیں ہوئی جتنی اپنے فیوچر پوتے کے آگے اپنے بیٹے کے لیے

اس کی ماں کا رشتہ مانگتے ہوئی”

کمال اعوان نے کتاب بند کرتے ہوئے جازب کو بتاتے ساتھ گھورا بھی انہیں جازب کی شریر مسکراہٹ پر تپ چڑھی

“ابھی سے گھبرا گئے ڈیڈ ابھی تو آپ نے اپنے بیٹے کی بارات پر ناگن ڈانس بھی کرنا ہے”

وہ ابھی بھی شرارت پر آمادہ تھا

اس عمر میں ناگن ڈانس استغفرُللہ ۔۔!”

وہ سوچ کر ہی سٹپٹا گئے

“ناگن ڈانس چھوڑو جازب کمال تم اپنے اوپر لگی الیگیشنز کو ہٹاؤ یہ زیاد لغاری مجھے صحیح انسان نہیں لگ رہا مجھے اس کی کال آئی تھی “

“اس کی کال کچھ کہہ تو نہیں رہا تھا یاں کوئی بدتمیزی تو نہیں کی اس نے ؟ “

جازب نے غصے سے کمال صاحب کے فون کو گھورا جیسے وہ وہاں فون نہیں وہ ہی پاگل میاں بیوی ہوں

“نہیں کہاں نہیں مگر کم باتیں بھی نہیں کیں کہ آپ جیسے معزز انسان کا بیٹا ایسی حرکتیں کر رہا ہے “

“تو پھر آپ نے کیا کہا معزز انسان؟” جازب ان کے پاس بیٹھ ان کی گود میں سر رکھ گیا

کمال اعوان نے آج کافی عرصے بعد جازب کے اس طرح ان کی گود میں سر رکھنے پر بھر آتے دل کے ساتھ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا

“زیادہ کچھ نہیں بس اس معزز انسان نے بہت ہی معزز انداز میں ان سے کہا ہے اس معزز انسان کے بیٹے کو معزز سمجھنے کی غلطی مت کرے وہ اپنی آئی پر آگیا تو یہ گھر اور باقی کی پیمنٹ دونوں سے ہی ہاتھ دھونا پڑے گا “

ویسے کیا ہے اس گھر میں جو تمہیں اتنا عزیز ہوگیا ہے منہ “پر مارو کوئی اور گھر دیکھ لو “

کمال اعوان نے منہ بنا کر کہا ان کو جازب کا ایک گھر کے لیے لڑنا سمجھ میں نہ آیا

“ہائے بیرسٹر صاحب یہ گھر بڑا لکی ثابت ہوا میرے لیے آپ نہیں سمجھو گے” وہ اپنا گال ان کے گھٹنے سے رگڑ کر مسکرائے

“یہ مسکراہٹیں کس سے چھپا رہے ہو ؟ خیریت ہے نہ “

کمال اعوان نے اپنے سامنے لگے قد آور شیشے سے نظر آتے اپنی گھٹنے پر گال ٹکائے مسکراتے ہوئے جازب پر نظر ڈال کر مشکوک نظروں سے دیکھ کر ان کا سر اوپر اٹھایا

“کیا یار میں اب مسکرا بھی نہیں سکتا بیرسٹر صاحب” جازب نے مسکراہٹ دبائی

درحقیقت یہ مسکراہٹ آج اتنا وقت صفا کے ساتھ گزارنے پر آئی تھی ایک شفقت ایک طمانیت جھلک رہی ان کے وجود سے صفا کو لے کر اس کی معصوم باتیں اس کی حرکتیں

“پھر بھی کچھ تو بتاؤ میں بھی مسکرا لوں ؟ “

کمال اعوان ایسے کیسے اس کا پیچھا چھوڑتے

“آپ کی فیوچر پوتی اپنی پریکٹس مجھے اسسٹ کرتے ہوئے کر رہی ہے اس کو ہی یاد کرتے مسکرا رہا ہوں۔۔۔۔ بیٹیاں بھی کیا چیز ہوتی ہیں ڈیڈ آج اگر حفصہ اور میری بچی زندہ ہوتی تو شاید صفا جتنی ہوتی یاں اس سے چھوٹی کیا وہ ایسی ہی ہوتی؟ معصوم سی پیاری سی میں اسے اپنے ساتھ رکھتا اس کے سارے لاڈ اٹھاتا ۔۔۔۔”

وہ باتوں باتوں میں کافی آگے نکل آئے تھے

جس شیشے میں کچھ دیر پہلے کمال اعوان جازب کی مسکراہٹ دیکھ رہے تھے اب وہاں سے انہیں اپنے بیٹے کے آنسوؤں نظر آرہے تھے اگر وہ نہ بھی دیکھتے تو اپنے بھیگتے گھٹنے کے ساتھ ٹیس اٹھتے دل سے بھی پہچان لیتے ان کا بیٹا پھر باتیں کرتے کرتے خود کو زخمی کر بیٹھا ہے

“جازب !!” کمال اعوان نے جازب کا چہرہ اوپر اٹھایا

“پینتالیس کے ہوگئے ہو آج کل کونسا شیمپو یوز کر رہے ہو کب سے تمہارے بالوں میں ہاتھ چلا رہا ہوں ابھی تک بال ہاتھ میں نہیں آئے( اس عمر کے سائیڈ ایفیکٹس) کونسی ریمیڈی کرتے پھر رہے کو چھپ چھپ کر مجھے بھی بتا دو تمہاری شادی سے پہلے میں بھی کوئی زور آزمائی کرلوں ؟ ” انھوں نے مشکوک نظر اس پر ڈالی تو وہ کھلکھلا کر ہنس دیے

“جیلس نہ ہوں بیرسٹر صاحب اور مجھے کسی ریمیڈی یاں شیمپو کی ضرورت نہیں یہ قدرتی مال ہے ایسے ہی ہیں آفٹر آل پینتالیس بھی کوئی عمر ہے بال جھڑنے کی

یہ بال جھڑنا آپ کی عمر کا تقاضا ہے “

وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر مسکراتا ہوا اٹھا

” زرا بیرسٹر صاحب مجھے میرے ابا ملیں گے کچھ منٹ ان سے پڑھ کر پھونک پروانی ہے اپنے بالوں پر وہ کیا ہے نہ بوڑھے لوگوں کی حسرت بھری نظر جلدی لگ جاتی ہے “

وہ سر کمال صاحب کی جانب جھکا کر بولا

جس پر انھوں نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتار کر اس کے سر پر چپت لگائی

“نکل جاؤ جازب اعوان آیا بڑا نظر اتروانے والے پتا ہے سب یہ نے نئے ہیئر ڈائی اور سیرم کا کمال ہے بڈھی گھوڑی لال لگام”

وہ تڑخ کر بولے

“ڈیڈ گھوڑی نہیں گھوڑا” وہ آنکھ ونک کرکے اپنا کوٹ کندھے پر ڈالے سیڑھیاں پھلانگتے اوپر والے پورشن کی طرف بڑھ گئے

جبکہ وہ پیچھے اسے گالی دیتے دیتے رہ گئے

“کمینا ۔۔۔۔”

———–

بالاج نے گاڑی گھر کے باہر روکی تو فرنٹ سیٹ پر بیٹھی حیا نے گردن موڑی

“میرا بچہ تم میری بہادر اور سمجھدار بیٹی ہو اور حیا نے اپنی بیٹی کی پرورش ایسی نہیں کی جو اپنے لیے سٹینڈ نہ لے سکے “حیا صفا کی گال چھو کر گاڑی سے نکلی

صفا آگے آجاؤ بالاج کی آواز پر صفا حیران سی گاڑی سے نکل کر گھر کے اندر جاتی حیا کو دیکھ رہی تھی

“مگر بھائی ۔۔۔۔ “

“آج کچھ وقت بھائی کے ساتھ گزار لو گڑیا “

بالاج نے مسکراتے ہوئے کہا تو صفا بھی مسکرا کر آگے آکر بیٹھ گئی

حیا کے آفس ہیں چائے کے ساتھ سنیکس کھانے کی وجہ سے صفا کا کچھ کھانے کو تو دل نہیں تھا مگر ٹھنڈے سے موسم میں اس نے بالاج کے پوچھنے پر آئسکریم کھانے کی فرمائش کی تو بالاج آئسکریم لے کر اسے اوپن پارک میں لے آیا

گاڑی باہر پارک کرنے کے بعد وہ دونوں پارک میں چہل قدمی کرنے لگ گیے شام کا وقت ہونے والا تھا سردی کی وجہ سے پارک میں نہ ہونے کے برابر لوگ تھے جب وہ صفا آئسکریم کا سکوپ لیتے مسکرائی دن بہت اچھا ہوگیا تھا اس کا آج کا

کیا بات ہے بھائی ؟

تم جانتی ہو گڑیا میرا رشتہ بے شک انابیہ کے ساتھ بڑوں کی خواہش پر جڑا تھا مگر کہیں نہ کہیں میں اسے پسند بھی کرتا تھا دل نے اس کے لیے رضا مندی دی تھی تبھی میں نے اسے زندگی میں شامل کیا

دل کے معاملے کنفیوژ ہوکر نہیں لیے جاتے اب جیسے میرا “اور انابیہ کا رشتہ کمپرومائز کی بجائے دل سے جڑا ہوا ہے میں چاہتا ہوں میری صفا بھی ایسے ہی خوش اور مطمئن ہو

تم جانتی ہو نہ خاور انکل کس سلسلے میں آج آرہے ہیں میں تم سے تمہاری بیٹی والی آمادگی اور رضامندی نہیں لینا چاہتا مجھے اپنے دل کا بتاؤ میری گڑیا “

وہ اسے لے کر بینچ میں بیٹھ گیا

صفا نے کچھ گھبرا اور جھجھک کر بالاج کو دیکھا

“تمہیں یاد ہے جب دو سال کے لیے میں یو ۔ کے گیا تھا انابیہ مجھ سے رابطے میں نہیں تھی تو تم ہی بغیر میرے کہے میرے دل کا حال جان کر مجھے اسکی تصویریں اور ویڈیوز بھیج دیا کرتی تھی مختصراً تم میرے دل کی راز دار رہی ہو تو کیا میری گڑیا مجھے اپنے دل کا راز دار نہیں بنائے گی “

“آپ کے دوست ۔۔۔؟” صفا نے بالاج کا چہرہ پر نظریں جمائیں

اس کی تم فکر مت کرو تمہارے انکار یا اقرار کسی بھی وجہ سے ہماری دوستی کو کچھ نہیں ہوگا

“بھائی وہ مجھ سے دو سال چھوٹا ہے ۔۔۔ “

صفا نے دھڑکتے دل کے ساتھ بالاج کو دیکھا جس کے چہرے پر چھائی شفقت اسے کمفرٹیبل کر رہی تھی

بالاج اس کی جانب دیکھ کر مسکرایا تو کیا عمر کے اس نا قابلِ اعتراض گیپ پر تم چپ تھی ؟ بالاج کو اس کی معصومیت پر پیار اور ہنسی دونوں ایک ساتھ آئی

نہیں میں نہیں اس نے پرپوز کیا تھا

صفا نے فوراً سے خود کا پلڑا صاف کیا

“کیا تم اسے پسند نہیں کرتی ؟ “

“نہیں ۔۔۔ وہ میرا دوست تھا بس “

“مطلب تمہیں وہ بس شجاع اور اس کے درمیان بیٹر آپشن لگتا ہے ؟ “

“بھائی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی “

وہ اپنی دونوں کہنیوں کو اپنے گھٹنے پر رکھے اپنے ہاتھوں میں چہرہ تھام کر سر جھکا گئی

“تم ایسا کرو اسے آج بلا لو آج ہی میں اور مما اس سے مل لیتے ہیں “

بالاج نے اسے خود سے لگائے پیار سے کہا

“مگر بھائی آج تو خاور انکل ۔۔۔۔”

“تو کوئی بات نہیں وہ تو لیٹ نائٹ آئیں گے تم انہیں آج ہی بلا لو ماں سے بات کر لوں گا وہ بھی خوش ہی ہوں گی اور اگر سمجھ آئی تو ہم خاور انکل سے مناسب لفظوں میں معذرت کر لیں گے “

“بھائی تھینک یو “صفا نے بھرائی آواز میں کہا

“آئسکریم کے لیے ؟ وہ تو تمہارا حق تھا اور اگر دوسری بات کے لیے وہ تو تمہارا شرعی حق تھا اس کا شکریہ کرکے گناہ گار نہ کرو میری گڑیا”

بالاج نے اس کے گالوں کو کھینچا

———–

“بھائی میں نے اور آئسکریم نہیں کھانی ! “

صفا بالاج کو دو تین آئسکریم لیتا دیکھ کر شرارت سے بولی جانتی تھی وہ اب اپنی انا کے لیے آئسکریم لے رہا تھا

“ارے یار تمہاری چھوٹی سی بھابھی کو بھی تو راضی کرنا ہے” بالاج نے آنکھ دبا کر شرارت سے کہا تو گاڑی میں صفا کی کھلکھلاہٹ گونجی

شفاف کھلکھلاہٹ بغیر ملاوٹ کے بالاج نے پر شفقت ہاتھ اس کے بالوں میں رکھ کر سہلایا

———-

حدید واشروم سے نکل کر اپنے ہاتھ تولیے سے صاف کر رہا تھا کمرے میں اب اسے گھٹن ہونے لگی تھی

تبھی اس کے کمرے کا دروازہ بجا تھا

صاحب جی آپ سے کوئی قاسم صاحب ملنے آئے ہیں

“قاسم ۔۔۔ !!” اسے میں نے کہا بھی تھا ماں کے پاس ٹھہرنا

“اچھا اسے ادھر ہی بھیج دو “

حدید پہلے تو کمرے سے ہی نکلنے لگا تھا مگر پھر ابراہیم اور فیصل جاوید کا سوچ کر کمرے میں ہی رک گیا وہ یہاں قاسم پر غصہ بھی کر سکتا تھا

——–

“یہ فون کیوں نہیں اٹھا رہا ؟ “

صفا نے غصے سے فون کو گھورا جیسے سامنے عون کو

پہلے تو ایک کال پر کیسے بات کرنے کو تیار بیٹھا ہوتا ہے

وہی دوسری جانب عون اپنی نانوں کے پاس بیٹھا ان سے چھوٹی موٹی باتیں کر رہا تھا ان کا دل بہلا رہا تھا کیونکہ ڈاکٹر نے صاف کہا تھا ایسا رہا تو وہ کسی دن یوں ہی

خاموشی سے اس دنیا سے چلی جائیں گی جبکہ اس خبر پر اپنی ماں کی ایک دم سے بگڑ جاتی حالت پر عون تڑپ گیا تھا ابراہیم اور عون کو سب برداشت تھا بس حدیقہ کی خوشی انہیں بدلے میں مل جائے

“ہیلو عون میں نے بھائی سے بات کی ہے تمہاری وہ چاہ رہے ہیں تم اپنے پیرنٹس کو لے کر آج ہی آجاؤ میں نے تمہیں بتایا تھا نہ آج مجھے بھائی کے دوست کی فیملی بھی دیکھنے آرہی ہے تو پلیز عون جلدی آنا میں نے اپنی طرف سے قدم اٹھا لیا ہے اب تم دیکھ لینا سب “

صفا نے وائس ناٹ عون کے نمبر پر چھوڑا

جو آبدہ شاہ نے کے پاس کرسی میں بیٹھے عون کی پینٹ کی پاکٹ سے جھلکتے سائلنٹ لگے فون سے روشنی کی صورت میں نوٹیفیکیشن آئی کن میں شو ہوا تھا

———–

سر !!

“قاسم میں نے کہا تھا نہ اُدھر ہی ٹھہر جاؤ “

حدید نے اس کے ہاتھ سے فائل لیتے ہوئے کہا

پہلا نوٹس عدالت کی طرف سے تھا اس کا گھر جو اس نے اپنے بیٹے کے نام کیا تھا مگر اس کی پاور آف اٹارنی ابھی بھی حدید شاہ کے نام تھی اور اس کی اجازت کے بغیر نہ صرف اس کے گھر کی خرید وفروخت جاری تھی اس گھر کو لے کر اس کے خودساختہ اونر نے خریدار پر گھر پر قبضہ جمانے کی الزام تراشی بھی کردی جس پر کیس بھی درج کردیا گیا ہے

حدید نے سر میں اٹھتی درر کی لہر پر دانت بھینج لیے اس کا تاریک ماضی پھر سے اس کے سامنے آرہا ہے

اس نے سر جھٹکا

“پتا کرو کون خرید رہا ہے یہ گھر مجھے خریدار کی ساری معلومات چاہیے باقی اس خودساختہ کے مالک کو سبق سکھانا میرا کام ہے “

حدید نے دوسرا انویلیپ کھولا اس پر بھی عدالت کی مہر ثبت تھی

خلع کے کاغذات حیات حفیظ کی جانب سے حدید فیصل جاوید کے نام !!