212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 68)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

جازب کمال کے آفس میں بیٹھی ایک فائل پر نظریں جمائے وہ ساتھ ساتھ پوائنٹس ایک کوڑے کاغذ پر اتار رہی تھی

“یہ تمہارے بابا ہیں صفا “

“غلط بتایا گیا ہے تمہیں ماموں کے بارے میں “

“اس دن اِنہیں ہی ہارٹ اٹیک ہوا تھا “

“اِنہیں پینک اٹیک آیا تھا رات کو وجہ نہیں جاننا چاہو گی ؟”

“حیا مامی نے خلع کے کاغذات بھیجیں ہیں ماموں کو “

آنسو کا ایک قطرہ آنکھ سے نکلا اور اس کوڑے کاغذ پر گڑا دوسری آنکھ سے بھی آنسو گڑتا مگر اس سے پہلے ہی صفا نے اسے پونچھ دیا ۔

“صفا کیا ہوا ہے بچے ٹھیک ہو تم ؟ ” جازب کی نظر صفا کی بھیگی سی آنکھوں پر پڑی وہ فکر مند سا ہوگیا

“ک۔کچھ نہیں انکل وہ سر درد کر رہا تھا “صفا نے پُردقت سا مسکرا کر کہا ۔

“تو آپ آج نہ آتی بیٹا اگر زیادہ طبعیت خراب تھی تو۔” جازب نے پانی کا گلاس اس کے آگے کیا وہ سمجھ گئے تھے صفا نہیں بتانا چاہ رہی ۔

“انکل یہ فؤور مت دیں نہیں تو میں آئے دن ہی آف لے لیا کروں گی” صفا نے مصنوعی سا ہنس کر پانی کا گلاس منہ سے لگا لیا ۔

“اتنا بور ہو جاتی ہوں اِدھر کیا؟ مجھے تو اپنی اسسٹنٹ اچھی لگی ہے کم از کم اب اس رف سے ماحول میں وقت اچھا اور جلدی گزر جاتا ہے ۔”

جازب نے اپنے دراز سے چاکلیٹ نکال کر صفا کے سامنے رکھی ۔۔۔

“کھالو موڈ اچھا کردیتی ہے چاکلیٹ “

صفا نے انکار نہیں کیا بلکہ جازب کمال کے خود کو اتنی اہمیت دینا اس کا دل بھاری سا کر گیا ۔۔۔

“کھا لوں ؟ صفا نے اجازت چاہی “

“ہاں ضرور کھا لو ” جازب نے ہنس کر اس کے اجازت لینے پر سر ہلایا ۔۔۔

چاکلیٹ کی پہلی بائٹ پر ہی اس کی آنکھیں بھیگنے لگی ۔۔۔

“یہ ہیں میرے ماموں انہیں ہی ہارٹ اٹیک آیا تھا “

چاکلیٹ کا ٹکڑا اس کے گلے میں اٹکا ۔۔۔

“پروفیشنل ازم کا ایک رول یہ بھی ہے اگر کوئی آپ سے اپنا سیکرٹ شئیر کرے تو وہ کمرے سے باہر نہ جائے “

جازب نے لیپ ٹاپ کو شٹ ڈاؤن کرکے چہرہ صفا کے بھیگتے چہرے کی طرف کیا ۔۔۔

“پروفیشنل ازم یہ بھی کہتی ہے وکیل سے بڑا جھوٹا کوئی نہیں “

“مگر اس سے بڑا راز دار بھی کوئی نہیں “

جازب نے دوبدو کہا ۔۔۔

“چاکلیٹ کے لیے شکریہ انکل ” وہ آنسو صاف کرگئی جازب مسکرایا وہ بات سمیٹ گئی تھی۔

” بتانے سے اس کا کمپوز ہونا بہتر۔۔۔!!”

“آپ کے پاس پانچ منٹ ہوں گے ؟” صفا نے وقت دیکھا اس کا آف ہوچکا تھا اب وہ اس کی اسسٹنٹ نہیں تھی ۔۔۔

جازب نے چونک کر سر اٹھایا۔

پھر اس نے گھڑی پر وقت دیکھا چہرے پر پروفیشنل مسکراہٹ سجا کر اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔

“ایک عرصہ آپ کو یہ بتایا جائے کہ تمہارا باپ ملک سے باہر ہے۔ تمہارے مستقبل کی خاطر وہ تم لوگوں سے دور ہے اور آپ روز رات کو اس کا انتظار کرو وہ آج نہیں تو کل ضرور آئیں گے۔ ہم بھی دوسرے عام بچوں کی طرح اپنے بابا کے ساتھ گھومنے پھرنے جائیں گے عام بچوں کی طرح اپنے باپ سے فرمائشیں کریں گے اور ایسا کرتے کرتے چوبیس سال بیت جائیں اور ایک دن آپ کو معلوم ہو، آپ کے چوبیس سال تو دھوکے میں گزر گئے آپ کے بابا آپ سے دور نہیں گئے تھے، بلکہ آپ کی جان کی حفاظت کی خاطر آپ کو ان سے دور رکھا گیا آپ کو معلوم ہو جس کے آنے کا اتنے لمبے انتظار کیا وہ کتنا ظالم شخص ہے جس کی وجہ سے آپ کی ماں نے کیا کچھ برداشت نہیں کیا اور ایک دن وہ آپ کو مل جائے وہ آپ کی زندگی میں آجائے اور آ بھی اس حالت میں جائے جس میں دیکھ کر ایک بیٹی تڑپ اٹھے ۔وہ بھی ایسی بیٹی جس نے چوبیس سال اس کے آنے کی دعا کی ہو ایسے میں وہ بیٹی کیا کرے اوپر سے اسے یہ بھی علم ہو جائے گے کہ اس کی ماں اب اتنے سالوں بعد اس کے باپ سے علیحدہ ہونے کا انتظام کر بیٹھی ہے ؟”

صفا بولتے بولتے چپ ہوگئی سانس سی چڑھی تھی۔ یہ بولنے کی تھکاوٹ نہیں تھی یہ تو لفظوں کا بھاڑ تھا جس نے اس کا سانس پھلا دیا تھا ۔۔۔

جازب کا دل عجیب سے انداز میں دھڑکا دماغ نے کہا اسے بھڑکا دو اچھا موقع ہے دل نے کہا تم کیسے سامنے بیٹھی اس بچی کے ساتھ دھوکہ کر سکتے ہو جو اپنوں کو چھوڑ کر تم سے اپنے دل کی بات شئیر کر رہی تھی ۔

“اللہ نے بیٹیوں کے دل کو باپ کے معاملے میں بے حد نرم رکھا ہے

اور اس بچی کا اپنے باپ کے لیے اتنا سب کچھ سن کر بھی تڑپ جانا فطری تھا بیٹیاں بہت ہی پیاری ہوتی ہیں بہت بہادر۔۔۔

رہی اس لڑکی کی ماں کی بات تو انہیں بھی حق ہے اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے کا اگر اس ماں نے اپنے بچوں کے لیے اپنی زندگی کے چوبیس سال قربان کردیئے تو اس کے بچے چاہ کر بھی اپنی ماں کی اس قربانی کا دین نہیں دے سکتے شاید اس کے بچوں کا اس کے ایکس شوہر کے ساتھ مراسم اسے تکلیف دہ لگے مگر یہ تو ڈیپینڈ کرتا ہے اس عورت کا مزاج کیسا ہے وہ فطرتاً کیسی ہے مگر پھر بھی عورت کبھی بھی خود کو دھوکہ دینے والے کے لیے دل پہلے جیسا نرم نہیں کرسکتی پھر چاہے وہ شخص دوبارہ سے پیدا ہوکر کیوں نہ آجائے اس کے سامنے “

“ہمم ۔۔۔ مگر اس بار بیٹی جلدی نرم نہیں پڑے گی “

صفا نے اثبات میں سر ہلایا

———-

“میں نے تمہیں ایک موقع دیا تھا عون ابراہیم اس شخص کا تمہارے ساتھ رشتہ ہونے کے باوجود میں نے تمہیں موقع دیا جسے تم نے گنوا دیا اب تم مجھے صفا کے آس پاس بھی دِکھ گئے تو انجام کے زمہ دار تم خود ہو گے ۔۔۔”

وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا ابھی وہ حدید کو اس کے کمرے میں چھوڑ کر اپنے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔

بالاج کی بات یاد آتے ہی اس نے ہزیانی انداز میں اپنی شرٹ اتار کر سامنے شیشے پر ماری

دل الٹ پلٹ گیا تھا ۔

جسم دھکتا ہوا محسوس ہورہا تھا

“میں آپ سے دستبردار ہوتا ہوں صفا خان “

اپنے ہی الفاظ کانوں میں ہتھوڑے کی مانند برسے اس نے بیڈ شیٹ مٹھی میں بھینج کر کھینچ ڈالی ۔

“صفاااا اتنا مشکل کیوں ہے ہمارا ایک ہونا “

“اتنی اذیت کیوں مل رہی ہے مجھے پیار ہی تو کیا تھا آپ سے یار ۔۔۔”

بیڈ کا حشر نشر کرکے اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا لیمپ سامنے شیشے پر دے مارا

اللہ وہ روتا روتا فرش پر دو زانوں گِر کر فرش پر پیشانی ٹکا گیا ۔۔۔

“اللہ تو جانتا ہے نہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا پھر میں نے کیسے اسے کہہ دیا میں دستبردار ہوتا ہوں کیسے اللہ ۔۔۔!”

وہ بچوں کی طرح زمین پر ہاتھ پاؤں مار رہا تھا بھوری آنکھوں میں پانی تھا ۔

یک دم ہی اس کا دل لرزا یا اللہ تو ۔۔۔ تو کچھ بھی کر سکتا ہے نہ اللہ مجھے صفا دے دے مجھے اس سے دور نہ کری تو ۔۔ تو جانتا ہے نہ میں نے وہ لفظ دل سے نہیں کہے تھے

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی میں کیا کروں۔۔۔۔۔ نہیں سمجھ آرہی ایک طرف ماموں کا حال دوسری طرف صفا دونوں ہی عزیز ہیں مجھے

اس نے سر پر ہاتھ رکھا آنکھیں فرش پر کچھ فاصلے پر پڑے ٹوٹے شیشے کے ٹکڑے پر گئی ۔

شیشے کے اس ٹکڑے پر اس کا برہنہ سینہ صاف نظر آرہا تھا بائیں جانب ابھرا ہوا سرخ نام جسے پڑھ کر اس نے بے ساختہ ہاتھ اپنے سینے پر رکھا ۔

وہ اٹھا الماری سے اپنی شلوار قمیض نکالی اور واشروم کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔

——–

حدید شاہ اس وقت آبدہ شاہ کے کمرے میں ان کے بیڈ کے پاس بیٹھا ہوا تھا

لقوہ زدہ چہرہ دایاں ہاتھ گیلی آنکھیں چہرے کی جھریوں میں گھلا ملال ۔۔۔ خوف

حدید کی آنکھوں میں پانی آگیا

“آپ کی بہن اور اس کی بیٹی نے تباہ کردیا ہمیں رہی سہی کسر ہم نے خود کو تباہ کرکے پوری کرلی ماں۔”

” اچھی رہ گئی حدیقہ، ہم سے دور ہوکر ۔”

آبدہ شاہ نے تھکی تھکی سی سانس لی تھی نہ وہ کچھ بولنے کے قابل تھی نہ معافی مانگنے کے بس اب تو موت کا انتظار تھا انہیں یاں ایک آخری ملاقات حیات سے۔۔۔ جس کی انہیں کوئی اُمید نہیں تھی انہیں معلوم ہی نہیں تھا حیات کہاں ہے ۔۔؟ کیسی ہے۔۔۔؟ اس کا بچہ کہاں ہے۔۔۔؟

بدلہ ہی تو لیا ان کی بھانجی نے اسے اپنے سگے بچوں سے زیادہ چاہنے کی سزا ۔

اپنے شوہر پر الزام لگانے کی سزا مل رہی تھی انہیں ۔۔۔

———-

زیاد لغاری پچھلے دس منٹ سے مس حیا خان کا انتظار کر رہے تھے انہیں اور ان کی بیوی کو علم ہوگیا تھا ۔۔۔ان کے مقابل جازب کمال اعوان ہے کوئی عام شخص نہیں۔۔۔ ایسے میں اگر وہ اس کے خلاف کیس لڑنا چاہتے ہیں تو ان کے ساتھ مضبوط وکیل کا ہونا ضروری ہے اور حیا خان کو کون نہیں جانتا تھا ۔۔

“السلام علیکم !”

تبھی حیا پروقار چال چلتی وہاں سے گزرتی اپنے آفس بڑھ گئی

باسط جو حیا کی آمد کا منتظر تھا فوراً اندر بڑھا جبکہ زیاد لغاری اپنے پاس سے گزرتی عورت کو دیکھ کر حیران ضرور ہوا تھا اس نے حیا خان کا جو خاکہ سوچ رکھا تھا اندر گئی عورت اس سے بالکل مختلف تھی کچھ جانی پہچانی سی

پانچ منٹ بعد باسط نے زیاد لغاری کو اندر جانے کا کہا

وہ سر ہلا کر اندر بڑھ گیا

“جی بیٹھیں مسٹر لغاری کیسے آنا ہوا آپ کا ؟”

اپنی سبز آنکھوں سے اپنی نظر کا چشمہ اتار کر اس نے براہ راست زیاد لغاری کی جانب دیکھا وہ تذبذب کا شکار ہوا ۔۔۔

———–

اللہ اکبر

اشھد ان لا الہ الاللہ

اس نے انگشت شہادت اٹھائی

بھوری آنکھوں میں پانی کی لکیر تھی داڑھی آنسوؤں سے تر تھی

چہرے کے تیکھے نقوش میں خوف کی جھلک دِکھ رہی تھی

———

“کیا کر رہی ہو شبانہ ؟ “

“میں حیا کو فون کر رہی ہوں خاور صاحب میں کل ہی صفا کو انگوٹھی پہنا کر آؤں گی ، آپ شجاع کو فون کریں اسے کہیں آجائے “

شبانہ خاور روتے ہوئے حیا کا نمبر ملانے لگی

———-

“دیکھیں مس حیا۔۔!! میری بیوی امید سے ہے بس اسی وجہ سے وہ یہاں نہیں آسکی آپ ہماری مدد کریں بہت امید جڑی ہے آپ سے ہماری “

“مسٹر زیاد لغاری !! آپ کی مسز کی یہاں موجودگی ضروری ہے پاور آف اٹارنی ان کے نام ہے ، باقی ان کاغذات کی پہلے جانچ پڑتال ہوگی پھر ہی میں آپ لوگوں کو کوئی جواب دوں گی”

حیا نے زیاد لغاری کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں الجھا لیا تھا تبھی ان کے فون کی سکرین روشن ہوئی

زیاد لغاری نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا

“اور اگر کچھ ایسا جو مجھے نہیں معلوم اور اس کا میرے علم میں ہونا ضروری ہے تو وہ بھی بتا دیں “

وہ سنجیدگی سے زیاد لغاری کے بڑبڑاتے تاثرات پر نظر جمائے بولی

———

اب وہ دائیں جانب سلام پھیر رہا تھا

پھر اس نے بائیں جانب سلام پھیرا

“السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ “

———

“حیا فون نہیں اٹھا رہی ۔ شجاع بھی فون نہیں اٹھا رہا خاور صاحب!!”

شبانہ صاحبہ تڑپ کر رونے لگیں

فائزہ نے پانی کا گلاس اپنی مامی کے آگے رکھا

“لے جاؤ اس کو ادھر سے تمہارا قصور ہے یہ “

فائزہ نے بس ایک افسوس بھری نظر اپنے ماموں پر ڈالی تھی

خاور صاحب شرمندہ ہوگئے

فائزہ نے خاموشی سے فرش پر بکھرا کانچ سمیٹا اور وہاں سے نکلی

——–

عون نے اب ہاتھ اوپر کی جانب بلند کیے

اللہ ۔۔۔!!!

ایک پکار تھی

اس ایک پکار میں پوری کائنات سمٹی تھی اس کی پوری زندگی ٹِکی تھی ۔۔۔

اور ایک اللہ کافی ہے ۔۔۔

——-

“حیا میں کل صفا کو شجاع کے نام کی انگوٹھی پہنانا چاہتی ہوں “

“دیکھو منع مت کرنا میری التجا سمجھ لو جب دونوں کو ایک کرنا ہی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے کل منگنی کردی جائے یہاں تین مہینے کا انتظار کیا جائے میں اور خاور حج پر جانے کا سوچ رہے ہیں مگر میں جانے سے پہلے چاہ رہی شادی نہیں تو کم از کم شجاع اور صفا کا نکاح ہوجائے ۔۔۔”

“کیا کہتی ہو حیا ۔۔۔۔ ؟”

حیا نے سامنے بیٹھی صفا کو دیکھا وہ موبائل پر کچھ سکرول کر رہی تھی

“جی شبانہ بھابھی آپ کی ہی بیٹی ہے آپ آجائیں کل اور حج کا سن کر بہت خوشی ہوئی اللہ پاک آپ کا حج قبول فرمائے “

“شکریہ حیا میرا مان رکھنے کے لیے مجھے معلوم تھا تم نا امید نہیں کرو گی “

“جی ۔۔۔ بھابھی اپنے ہی اپنوں کا مان رکھتے ہیں مجھے بس بچوں کی خوشی عزیز ہے “

“ہاں ہاں ۔۔۔ شجاع تو کملا ہوا جاتا ہے باقی صفا کے کرئیر کی فکر مت کرنا وہ میری بیٹی ہے اس کا کرئیر ہمیشہ آگے ہی رہے گا۔۔۔”

موبائل پر انسٹاگرام سکرول کرتے صفا کی انگلی معاً تھمی دل دھڑکا سینے کی دیواروں پر بجا اور اگلے لمحے سب اپنے معمول پر آگیا ۔۔۔۔

———

اِدھر عون ابراہیم سجدے میں گِرا تھا ۔۔۔

اُدھر خاور ہاؤس کے مین گیٹ سے شجاع خاور کی کالی ریوو گھر کے پورچ میں آکر کھڑی ہوئی ۔۔۔

کمرے میں بیٹھی فائزہ کا فون بلنک ہوا ۔۔۔

فائزہ شجاع کا نام یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں اِن رول ہوچکا تھا وہ مسکرا کر آن لائن ہاسٹل کے بارے میں پتا کرنے لگی

وہی ابراہیم اور حدیقہ شاہ، خان ہاؤس کے لوونگ روم میں بیٹھے حیا اور صفا کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔

———-

انابیہ نے ملازمہ کو ری فریشمنٹس کا کہہ دیا تھا بالاج کو بھی میسج کردیا تھا

اب وہ ان دونوں میاں بیوی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی

“آپ ۔۔۔ حیات کی ؟ “

“بیوی ہے میری۔۔۔۔ !” تبھی بالاج وہاں آیا

حدیقہ اور ابراہیم اسے دیکھ کر کھڑے ہوئے

حدیقہ کی آنکھیں بھیگنے لگی وہ وجیہہ جوان بھرپور مرد اس کا سگا بھانجا تھا اس کے بھائی کی اولاد اس کا وہ بھائی جو اپنی اولاد کے لیے ترسا تھا۔ اس کی اتنی جوان اولاد ہونے کے باوجود ۔۔۔۔ حدیقہ کے قدم آگے بڑھے

بے ساختہ اس کے ہاتھ بالاج کے مضبوط شانوں کو چھونے لگے بالاج احترام کی وجہ سے ان کے ہاتھ نہیں جھٹک سکا

سامنے کھڑی عورت اس کی سگی پھوپھو تھیں ۔۔۔۔ مگر جب اپنے سگے باپ سے ہی اس نے کوئی رشتہ نہیں رکھا تو کیا فرق پڑتا ہے سامنے کھڑا کون ہے ۔۔۔۔

“احمد ۔۔۔ تمہیں تصویروں میں ہی دیکھا تھا بس ماشاءاللہ کتنے بڑے ہوگئے ہو بالکل حدید بھائی جیسے “

جانے کیا جزبات تھے کیسی بے ساختگی تھی حدیقہ نے بالاج کی پیشانی چوم لی ۔۔

انابیہ خاموشی سے ادھر کھڑی تھی ۔۔۔

بالاج کا آنکھیں موندنا اس نے شدت سے محسوس کیا تھا

تبھی حیا اور صفا لیوونگ روم میں آئیں

سامنے کا منظر دیکھ کر حیا کا چہرہ بے تاثر ہوا جبکہ صفا ابراہیم نام پر متذبذب کا شکار تھی جو سوچ ا سکے دماغ میں آرہی تھی لِوونگ روم میں آنے تک اس نے بیشتر بار اس سوچ کی نفی کی تھی ۔۔۔

“حیات بھابھی” حدیقہ حیا کو پہچانتی اس کی جانب بڑھی اور گرمجوشی سے اس کے گلے لگ گئی

“صفا۔۔۔!” ساتھ ہی انھوں نے صفا کا گال چھوا

صفا انہیں بالاج جتنی ہی عزیز تھی اس کے بھائی کی بیٹی تھی اب تو ان کے بیٹے کی خوشی بھی تھی یہ جان کر انہیں صفا اور عزیز ہوگئی تھی ۔۔

“میں پھوپھو ہوں تمہاری بیٹا “وہ صفا کے سپاٹ تاثرات دیکھ کر محنت سے بولیں

“آپ کس رشتے کا زکر کر رہی ہیں آنٹی ہمارا آپ کے بھائی سے کوئی تعلق نہیں ہے “

صفا نے دو قدم حدیقہ سے دور کر لیے

صفا کے گال کو چھوتا حدیقہ کا ہاتھ ہوا میں ہی رہ گیا

ابراہیم نے فوراً حدیقہ کو اپنے حصار میں لیا انہیں پہلے سے ہی مقابل سے ایسے ہی ردعمل کی توقع تھی۔۔

“بیٹا ایسے مت کہو تم نہیں جانتی کتنا تڑپے ہیں بھائی تم لوگوں کے لیے کیا کچھ برداشت کیا ہے انہوں نے کتنا عرصہ قومہ میں رہے کیا کچھ ہوا ان کے ساتھ ان کی پہلی بیوی نے انہیں دھوکا دیا ۔۔۔”

“مسسز ابراہیم اگر آپ یہاں ماضی کے قصے سنانے آئیں ہیں تو ہم تینوں ہی اس میں انٹرسٹڈ نہیں ہیں زندگی بہت آگے بڑھ گئی ہے ہماری ہمیں ماضی کے کسی بھی کہانی یاں رشتے کی ضرورت نہیں ہے “

حیا نے نرمی سے کہا جبکہ صفا کا بس نہیں چل رہا تھا سامنے بیٹھے دونوں میاں بیوی کو باہر کا راستہ دیکھا دے وہ تو سد شکر انہوں نے رشتے کی کوئی بات نہیں چھیڑی تھی

مگر یہ صفا کی خام خیالی ہی تھی جب ابراہیم شاہ نے عون اور صفا کے رشتے کی بات کی

“ہم کسی کو ڈیفینڈ کرنے نہیں آئے ۔۔۔حیات ہم جانتے ہیں جو کچھ آپ کے ساتھ اور آپ کے بچوں کے ساتھ ہوا ہماری معافی سے نہ تو وہ سب صحیح ہوسکتا ہے اور نہ ہی پہلے جیسا مگر یقیناََ آپ یہ جانتی ہوں گی صفا اور عون ایک ہی یونیورسٹی میں ہوتے ہیں دونوں بہت اچھے دوست بھی ہیں بلکہ عون صفا کو پسند بھی کرتا ہے ہم صفا کے لیے پرپوزل لے کر آئیں ہیں آپ ماں ہیں ہمیں امید ہے ماضی کی تلخیوں سے ہٹ کر آپ بچوں کی خوشی کو اوپر رکھیں گی

اس پرپوزل پر غور و فکر کریں گی ہم بہت امید کے ساتھ یہاں آئیں ہیں “

ابراہیم شاہ کے لہجے میں بلاشبہ عزت تھی وہ جس طرح حیات کو آپ کہہ کر پکار رہے تھے

“دیکھیں ابراہیم بھائی بیٹی کی ماں ہوں اور جانتی ہوں جہاں بیڑی ہوں وہاں پتھر آتے ہی ہیں مگر معذرت صفا کا رشتہ طے ہوچکا ہے بلکہ کل اس کی منگنی بھی ہے اگر وہ کمٹڈ نہ ہوتی تو میں ضرور اس طرف توجہ دیتی “

“ایسے نہ کہیں بھابھی ہمیں معاف کردیں ہم بہن بھائی خود اپنے ماں باپ کے ناخوشگوار تعلقات کی وجہ سے ایک عرصہ ایک دوسرے سے دور رہے ہیں مجھے ماضی کا کچھ علم نہیں تھا اس کی سزا میرے بیٹے کو مت دیں “

وہ تڑپ ہی تو گئی تھیں …

“میں بھائی کی طرف سے آپ سے پھر سے معافی مانگتی ہوں پلیز میرے بیٹے کی خوشی اس سے جدا مت کریں۔۔۔ عون، صفا سے بہت محبت کرتا ہے۔۔۔۔ میں نے خود اس کی صفا کے لیے دیوانگی دیکھی ہے بس پچھلے کچھ روز سے در پہ در آنے والی آفات نے ہمیں موقع ہی نہیں دیا کہ ہم یہاں آسکیں “

“نہیں ۔۔۔ حدیقہ! آپی آپ یقین کریں میں بدلے نہیں لے رہی کل صفا کی منگنی ہے آپ لوگوں نے دیر کردی ہے میں معذرت ۔۔۔۔”

حیا حدیقہ کے ہاتھ جوڑنے پر پریشان سی ہوگئی

“آپ کی بیوی یہاں اپنے بھائی کے حصے کی معافی مانگنے آئی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں آپ انہیں ڈی فینڈ کرنے نہیں آئے انکل

عون بھی اکثر بے تکی باتیں کردیا کرتا تھا ۔۔۔۔”

صفا نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔

“صفا “حیا کے لہجے میں تنبیہہ تھی

نہیں برداشت ہورہا تھا اس کو خود کا بار بار عون کے ساتھ جڑنا یہ جاننا کہ کل اس سے دستبردار ہونے والا شخص کتنی محبت کرتا ہے اس سے ۔۔۔

نہیں سننی تھی عون کی دیوانگی کے قصے جھوٹ لگتا تھا اسے سب

صفا نے گہری سانس بھری لب کاٹا

” انکل میری اور عون کی اس بارے میں بات ہوچکی ہے اس نے آپ کو بتایا نہیں ؟ بہت کچی زبان ہے اس کی ہاں چھوٹا ہے نہ مجھ سے اِمیچیور ہے نہ ” وہ ہنس دی

ابراہیم شاہ شرمندہ سے خاموش ہوگئے ۔۔۔

حدیقہ نے دکھ سے اپنے ہاتھوں کو دیکھا بڑوں کی سزا بچوں کو نہیں ملنی چاہیے وہ دھیرے سے بولتی شکست زدہ قدموں کے ساتھ اٹھیں

“ٹھہریے حدیقہ آپی ۔۔!! کھانے کا وقت ہوگیا ہے پلیز کھانا کھا کر جائیے گا ضروری نہیں آپ یہاں صرف ایک رشتے سے ہی آئیں “

حیا نے انہیں روک کر انابیہ کو اشارہ کیا

وہ سر ہلا کر اٹھی ۔

“نہیں حیا اس کی ضرورت نہیں ، بس ایک اجازت میں مانگنا چاہتی ہوں اگر تم مجھے دے دو “

“کہیں حدیقہ آپی “

“اجازت اِن بچوں سے ملنے کی اجازت چاہیے میں جانتی ہوں ناراض ہیں دونوں مجھ سے بنتا بھی ہے ہیں نہ احمد ، صفا “

حدیقہ نے دونوں کی طرف مسکرا کر دیکھا

“میں بھی سنگل پیرنٹ کی آپ برنگ ہوں بہت محدود رشتوں میں پلی بھری ہوں مگر عورت ہوں نہ بہن ، بیٹی ، ماں تبھی خود سے آگے ان کا سوچنے لگ جاتی ہوں ابھی بھی نہیں جانتی کہ عون سے تمہاری کیا بات ہوئی کیا کہا اس نے مگر ہمیشہ میری دعا رہے گی اللہ تمہیں ہمیشہ خوش اور آباد رکھے ہر سکھ پاؤ اور اس بے و قوف کے لیے دل میں کوئی بات نہ رکھنا بچے “

“جی بے فکر رہیں آنٹی میں بھول گئی ہوں اور وہ تو ویسے ہی بھول چکا ہے ۔۔۔ “

صفا ان کا ہاتھ دبا کر اٹھتی وہاں سے چلی گئی

———

“میری حیا سے بات ہوگئی ہے شجاع کل منگنی ہے تمہاری میری جان بس ناراض مت ہونا اپنی ماں سے”

شبانہ خاور نے شجاع کے گال کو چھوا

“تم خوش ہو نہ شجاع ؟ “

شبانہ خاور نے تصدیق چاہی

“خوش ہوں ۔۔۔۔ خوش ہوں میں کچھ دیر کے لیے کمرے میں جارہا ہوں اپنے “

“کمرے میں کیوں ؟میری جان ! میں چاہ رہی تھی تم صفا کو شاپنگ پر لے جاؤ کل منگنی ہے تم دونوں کی اس کا ڈریس ہماری طرف سے ہوگا ـ”

مسسز شبانہ نے اس کا ہاتھ تھاما

“صفا کا ڈریس ۔۔۔۔؟؟” شجاع نے ماں کے چہرے کو دیکھا

“آپ کرلیں ڈریس کا بھی موم ، صفا کو اچھا نہیں لگے لگا ایسے جانا میں جانتا ہوں انہیں “

شجاع ماتھے کو سہلا کر بولا

“اچھا میں پھر ڈریس کی پکچرز ڈیزائنر سے منگوا کر بھیجتی ہوں تمہیں جو پسند آئے وہ منگوالوں گی “

“اوکے موم ۔۔۔۔ “

وہ سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔

——–

بالاج کچن میں کھانے کی تیاری کرتی انابیہ کے پاس آیا

“انا۔۔۔۔”

“مجھے یہ والی صفا آپی اچھی نہیں لگ رہی بالاج”

انابیہ، بالاج کے سینے میں چہرہ چھپا کر رو دی ۔

بالاج نے دکھ سے صفا کے تلخ لہجے کے بارے میں سوچا ۔

“وہ ہوجائے گی ٹھیک صفا۔۔۔۔ بھرم ٹوٹا ہے ابھی زخم گیلا ہے تم پریشان مت ہو انا۔۔۔۔!” انابیہ!! “

انابیہ کا وزن خود پر محسوس کرکے بالاج نے اس کا چہرہ تھپتھپایا ۔

“انا۔۔۔ میری جان ” پاس پڑی کرسی پر اسے بٹھا کر پانی کے چھینٹے اس کے چہرے پر مارے

“انابیہ ۔۔۔!!”

بالاج نے اس کی ہتھیلیاں سہلائیں۔۔۔۔

———

“قاسم۔۔!! میری اپونٹمنٹ بک کرو “

‘جی سر کس کے ساتھ ؟ “

“ایڈوکیٹ جازب کمال اعوان “