Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 10)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 10)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
ان کو بھی وارد ہونا تھا یہاں پر
موٹا بھینس کہی کا ۔۔۔
کیچن ٹیبل کے گرد پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے صفا نے تپ کر کہا
اللّٰہ معاف کرے کہاں سے آپ کو شجاع بھائی بھینس لگے آپ بھی نہ آپی۔۔۔۔ انابیہ اپنا بامشکل امڈنے والا قہقہ روک کر کہا
ہاں نہیں تو بھول گئی کچھ سال پہلے جب بھائی ِادھر تھے اور یہ آتے تھے مجال ہے کچھ بچتا تھا ہر شہ کا صفایا کرکے جاتے تھے اب بھی اِنہی کی وجہ سے میری اتنی لزیز بریانی درمیان میں ہی رہ گئی
صفا کو ایک بات پھر بریانی کا غم کھایا
یار آپی میں لا دیتی ہوں آپ کو بریانی کی پلیٹ کیا ہوگیا ہے۔۔۔
نہیں رہنے دو مما کو پتا لگا نہ تو ڈانٹ الگ پڑے گی بھائی کے سامنے بے عزتی الگ ہوگی
صفا دُکھی لہجے میں کہتی کہنی ٹیبل پر جماتے ہوئے اپنی گال اپنی ہتھیلی میں ٹکا گئی
افف اللّٰہ آپی انابیہ نے ہنستے ہوئے لوازمات کو ٹرے میں سیٹ کیا تھا
یار مجھے بھی د ے دو بھوک لگ رہی ہے صفا نے ہونٹ لٹکا کر بیچارگی سے کہا
اوو ۔۔صفو آپی کو بھوک لگی ہے انابیہ نے لاڈ سے صفا کے آگے اس کا پسندیدہ کیک رکھا
عون بدتمیز انسان تمہاری وجہ سے میں صبح سے بھوکی بیٹھی صفا نے غصے سے عون کو گھورا جو لیٹ ہونے کے بعد بھی بے شرمی سے دانت دیکھا رہا تھا
اوو صفو کو بھوک لگ رہی ہے
ای۔۔ ڈانٹ کال میں صفو اچھے خاصے نام کا بیڑا غرق کردیتے ہو
صفا نے گھور کر جھنجھلا کر کہا
اوکے میڈیم۔۔۔۔۔۔صفو
وہ پھر سے تیلی لگا کر نو دو گیارہ ہوگیا پیچھے صفا بلبلا اٹھی
آپی ۔۔۔۔۔
انابیہ کے بلانے پر وہ ہوش میں آئی
چندہ آئندہ مجھے صفو مت کہنا بہت زہر لگتا ہے مجھے یہ نک نیم ناک پھلا کر وہ کیک کھانے میں مصروف ہوگئی ۔۔۔
آنٹی اتنا سب کچھ تکلف کی کیا ضرورت تھی ٹیبل بھر کر لوازمات دیکھ کر شجاع نے احتراماً کہا
تکلف کی کیا بات آپ کا اپنا ہی گھر ہے بچے
حیا نے سنیکس اس کے آگے کئیے
افف اللّٰہ یہ وہ ہی بندہ ہے جس کا اتنے سامان سے پہلے کچھ نہیں ہوتا تھا
باہر سے آتی آوازوں پر صفا کانوں پر ہاتھ لگاتی چمچ دھونے نے غرض سے سنک کی جانب بڑھی
اہم۔۔۔اچھا اور کیا کیا یاد ہے آپ کو میرے بارے میں
اپنے پیچھے سے شجاع کی آواز سن کر صفا ایک دم اچھلی چمچ ہاتھ سے چھوٹ کر زمین بوس ہوا
جل تو جلال تو کا ورد کرتی وہ خوف کے باعث دھیرے سے مڑی
پیچھے شجاع دونوں ہاتھوں کو باندھے شوخ نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا
وہ۔۔۔نہیں میں نے تو کچھ نہیں کہا آپ کے کان بج رہیں ہوں گے
صفا نے ہڑبڑی میں کہہ کر چمچ اٹھانا چاہا جب شجاع چلتا ہوا اس کے قریب آ رکا
صفا آنکھیں پھیلائے اس کی دیدا دلیری دیکھنے لگی
ہاں ہو سکتا ہے میرے ہی کان بج رہیں ہو اس آواز کو بہت سالوں سے اپنے خیالوں میں قریب تر سننے کی عادت جو لگ گئی ہے ۔۔۔۔
زمین بوس چمچ اٹھا کر شیلف پر رکھتے ہاتھ دھوئے اور صفا کو حیران پریشان سا چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
بیٹا لو نہ تم تو ٹھیک سے کچھ بھی نہیں لے رہے
ارے نہیں آنٹی میں لے رہا ہوں آپ سنائیں باقی سب ٹھیک ۔۔
الحمدللہ میں تو ٹھیک ہوں بچے مگر لگتا ہے آپ کے تعلقات بس اپنے دوست تک ہی محدود تھے تبھی پچھلے دو سالوں میں۔ ایک دفعہ بھی چکر نہیں لگایا
حیا نے خفگی سے کہا
بس آنٹی بہت مصرفیات ہوگئی تھی بابا نے بزنس کے سب معاملات میرے سپرد کردئیے باقی بالاج والی کمپنی پر بھی چیک اینڈ بیلنس رکھنا تھا
شجاع نے شرمندگی سے سر کھجا کر کہا
شجاع کو شرمندہ دیکھ کر حیا نے اپنی خفگی مٹا کر استفسار کیا
گھر میں سب کیسے ہیں بھائی بھابھی وغیرہ
الحمدللہ آنٹی سب ٹھیک ہیں مما بابا اشعر وغیرہ سب اللّٰہ کے کرم سے ٹھیک ہے
ماشاءاللہ یہ تو اچھی بات ہے
انہیں بھی ساتھ لے آتے بچے چائے کا کپ اسے تھماتے ہوئے کہا
جی ان شاءاللہ چند روز میں ماما بابا چکر لگائیں گے
ضرور ضرور ان کا اپنا ہی گھر ہے جب مرضی آئیں
اچھا اب آپ لوگ باتیں کرو میں کھانے کا انتظام کرواتی ہوں
آنٹ۔۔۔۔
اور شجاع بیٹے کھانا کھائے بغیر میں نہیں جانے دینے والی
شجاع کے بولنے سے پہلے حیا تنبیہ کرتی وہاں سے اٹھ گئی ۔۔۔۔۔
اور سنا شیر کل پھر بیسٹ بزنس مین آف دا ائیر کی اوارڈ سرمنی ہے
حیا کے جاتے شجاع ریلیکس ہوکر چائے پیتا مسکرا کر بولا
تجھے جیسے معلوم نہیں بالاج نے اپنی آنکھیں گھمائیں
میرا تو ٹھیک ہے تو بتا آگے کا کیا پلین ہے
بالاج نے صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر بازو پیچھے پھیلائے
ارادے تو نیک ہیں صاحب!!!
کچھ دیر پہلے کا منظر آنکھوں سے سامنے آیا تو شجاع کی آنکھیں چمک اٹھیں اور لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ نے پھہرا ڈالا ۔۔۔۔
__________
صفا اپنے کمرے کی ٹیرس پر موجود کرسی پر بیٹھی شجاع کی غیر متوقع بات کے بارے میں سوچنے لگی چہرے پر پُرتشویش تاثرات تھے ۔۔۔
آپی کا فون کہاں ہے یار ؟؟۔۔۔میں نے آپ کو چند تصویریں بھیجی ہیں کپڑوں کی آپ نے کوئی جواب ہی نہیں دیا ۔!!
اتنے میں انابیہ اس کے سر پر سوار ہوئی
فون ۔۔۔؟؟ آہ فون میرا شاہد سائیڈ ڈرار میں پڑھا ہوگا میں دیکھ کر بتاتی ہوں
صفا اٹھتے ہوئے بولی
ویسے کپڑوں کی تصاویریں کیوں ؟؟
بیڈ کے سائیڈ ڈرار سے فون نکال کر اسے اون کیا
یار آپی کمنگ ٹیوزڈے میرا یونیورسٹی میں فنکشن ہے نہ تو وہاں پہنوں گی
انابیہ لب چبا کر آنکھوں میں لجاہٹ سموئے کہا یعنی وہ کوئی بات منوانے والی تھی
صفا نے آنکھیں چھوٹی کرکے ہاتھوں کو کمر پر باندھا
چندہ۔۔۔ لہجے میں شیرینی گھولی
جی میری آپی
انابیہ کا لہجہ اس سے بھی زیادہ میٹھا تھا
تمہیں بالاج بھیا نے اجازت دے دی فنکشن میں جانے کی جو یہ دھرا دھر تصویریں بھیجی ہیں
صفا نے آنکھیں گھما کر کہا
آپو ۔۔۔۔ مجھے جانا ہے انابیہ نے معصومیت سے ہونٹ لٹکائے کہا
آپو کی چندہ یہ معصوم منہ میرے بھائی کو دیکھاو جا کر کیا پتا وہ مان جائے
انابیہ کو کندھوں سے تھام الٹا کرکے باہر کا راستہ دیکھایا
آپی بہت Mean ہوگئی ہو آپ بات نہیں کروں گی آپ سے انابیہ پاؤں پٹخ کر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔
پیچھے سے صفا کے قہقہے کی آواز پر منہ بنا کر اپنا رخ حیا کے کمرے کی جانب کیا
پاگل ۔۔۔۔ہاہاہا صفا نے ہنستے ہوئے اپنا فون اٹھایا جس کے اون ہوتے ہی یکے بعد دیگرے بے شمار میسجز پر صفا ہڑبڑائی اتنے میسج
صفا نے سر پر ہاتھ مارا
پانچ سو میسجز اور تقریباً سو مسڈ کالز تو عون کی تھی
صفا نے دانت پیسے
ضائع ہوجاؤ گے تم عون ابراہیم۔۔!!!
شجاع اور اس کا لہجہ تو صفا کے دماغ سے فراموش ہی ہوگیا تھا اب تھا تو عون پر غصہ اور ناراضگی
_______
بیڈ پر لیٹتے ہی پہلا خیال اپنی صفا کا تھا اسے خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے عون نے صفا کا نمبر ملایا حالانکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ مقابل کا فون بند ہوگا مگر پھر بھی وہ خود کو اس معاملے میں حد درجہ بے بس محسوس کرتا تھا
صفا کا نمبر ملا کر فون کو سپیکر میں ڈال کر عون نے فون اپنے سینے پر رکھ کر آنکھیں موند لی
وہ جانتا تھا بیل نہیں جائے گی اس کا نمبر صفا نے بلاک کیا ہوا ہے یاں صفا نے فون ہی آف کر رکھا ہے
بیل جا رہی تھی ۔۔۔۔
بیل کی آواز پر عون ایک دم سیدھا ہوا
صفا کال اٹھائیں یار لہجے میں بلا کی بے تابی تھی
مگر وہ تو جیسے اسے ستانے کے لیے ہی اس دنیا میں موجود تھی ۔۔۔۔
نہ صفا نے کال اٹھائی
نہ اس نے اٹھانی تھی
مگر اتنا ضرور ہوگیا کہ اب وہ شاہد بلاک لسٹ سے نکل چکا
تھا
________
آخر وہ دن آ ہی گیا جس کا بالاج اور حیا نے سالوں سے انتظار کیا تھا
گہرے نیلے رنگ سے ٹو پیس کے ساتھ وائٹ ڈریس شرٹ جس کے ساتھ ہم رنگ ٹائی سیٹ کی تھی نفاست سے سیٹ کئیے بال سبز آنکھوں پر اس وقت سیاہ شیڈز کا پہرا تھا چہرے پر موجود سنجیدگی نے اس کے خوبرو حلیے میں چار چاند لگایا
حیا نے پہلی نظر پڑتے ہی اس کا صدقہ دیا
ناشتہ کرتی انابیہ بھی ایک پل کو اسے دیکھ کر ساکت ہوگئی تھی وہ بے دھیانی میں جوس ہونٹوں کے ساتھ لگانے کی بجائے گال کے ساتھ لگا گئی
آہ ۔۔۔ جوس کے چھلکنے پر بالاج بھی اس کی جانب متوجہ ہوا جو اب خفت کے مارے ٹشو سے اپنا گال رگڑ رہی تھی
صفا بھی انابیہ کی بے دھیانی پر مسکراہٹ دبا گئی
جبکہ بالاج کے چہرے پر بھی ایک لمحے کو مسکراہٹ چھپ دکھلا کر غائب ہوئی ۔۔۔
آپی اجازت لے دیں نہ بالاج کو مصروف دیکھ کر انابیہ نے صفا کی جانب جھک کر سرگوشیانہ انداز میں کہا
بھائی میں آپ کے لیے گرم کافی لے کر آتی ہوں صفا بالاج کے لیے کافی لانے کی غرض سے اٹھنے ہی لگی جب انابیہ نے نفی میں سر ہلایا
کیا ہوا چندہ ۔۔؟؟ صفا نے مصنوعی نا سمجھی سے انابیہ سے پوچھا
کچھ نہیں ۔۔۔۔دانت پیس کر اس نے بے بسی سے اپنی پلیٹ کی جانب سے جھکا لیا
اب ٹیبل پر صرف انابیہ اور بالاج ہی موجود تھے
انابیہ اپنے جھکے سر ہونے کے باوجود خود پر بالاج کی گہری نظریں محسوس کر سکتی تھی
تبھی پہلو بدلنے لگی
گہری نظروں کا ہی اثر تھا کہ اس کی ہتھیلیاں تر ہوگئی اور دل کی دھڑکن تیز ہوگئی یاں تک کہ وہ اپنی دھڑکنوں کی آواز اپنے کانوں تک سن سکتی تھی
ابھی وہ اٹھتی کہ بالاج نے
ٹیبل کے نیچے موجود اس کا ہاتھ تھام لیا
انابیہ بالاج کی اس حرکت پر پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جو اسے مشکل میں ڈال کر اب اپنا ناشتہ شروع کر چکا تھا
بھائی یہ لیں کافی اتنے میں صفا بھی بالاج کے لیے کافی لے کر وہاں پر آگئی
چندہ ناشتہ کیوں نہیں کر رہی انابیہ کے دونوں ہاتھوں کو ٹیبل کے نیچے دیکھ کر صفا نے کہا
ایک بےبس نظر بالاج پر ڈال کر انابیہ نے صفا کی طرف بھی دیکھا
بالاج میری جان مجھے ایک امپورٹنٹ ہیرنگ پر جانا پڑے گا میں اور صفا شام کو سر جی کے ساتھ ہی مین وینیو پر پہنچیں گے کوئی مسئلہ تو نہیں
حیا اپنا ڈوبٹہ صحیح کرتی اپنے ہاتھ میں تھامی فائل کے اوراق کو پلٹتے ہوئے وہاں آئی
نہیں مما جیسے آپ کو ٹھیک لگے بالاج انابیہ کا ہاتھ دبا کر اٹھ کھڑا ہوا
کہاں جانا ہے مما ؟؟ انابیہ کھانا فراموش کرکے اس بات کی طرف متوجہ ہوئی
بیٹا وہ آج بزنس مین آف دا ائیر سرمنی ہے جس میں میرا اور صفا کا جانا بھی ضروری ہے
ہم جلدی اجائیں گے آپ اپنا دھیان رکھنا اور ٹچ میں رہنا مسکان (ملازمہ) کو میں نے کہہ دیا ہے وہ آج کواٹر نہیں جائے گی تمہارے پاس ہی رک جائے گی
حیا نے ٹھہر ٹھہر کر کہا گوکہ اسے پوری بات وہ بتا نہیں سکتی تھی اور نہ ہی اسے ساتھ لے جانے کی وجہ بتا سکتی تھی اس لیے لہجے میں جھجھک تھی
انابیہ کا رنگ سفید پڑا اسے کسی نے نہیں بتایا مگر وہ پھر بھی حیا کے لہجے کی جھجھک کو محسوس کرکے خود کو کمپوز کرکے اُٹھی
کوئی بات نہیں مما آپ فکر مت کریں میں مینیج کر لوں گی
بیٹا حیا نے اس کی تھوڑی پر ہاتھ رکھا
آئی نو۔۔۔۔ کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی انابیہ نے حیا کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگا کر کہا
میری جان ۔۔۔۔۔ حیا کو اس پر بے ساختہ پیار آیا
اپنا خیال رکھنا انابیہ کے ماتھے پر لب رکھے
بالاج کو بھی اس کی عقل مندی پسند آئی تھی مگر وہ اظہار کہا کر سکتا تھا
صفا شام کو آپ مجھے تیار چائیے آتے ساتھ ہی میں آپ کو بس پک کروں گی
حیا آخری تاکید کرتے وہاں سے نکل گئی
اوکے مما ۔۔۔۔
_______
چندہ مجھے اس ایونٹ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا ۔۔
صفا نے خاموش بیٹھی انابیہ کے پاس آکر دھیمے لہجے میں کہا
اوہو کوئی بات نہیں آپی ضرور مجھے نہ لے جانے کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی اور مجھے مما پر پورا یقین ہے
آپ یہ چھوڑیں یہ بتائیں آپ پہن کیا رہی ہیں ؟؟؟
انابیہ نے صفا کی پریشانی دور کرتے ہوئے کہا
ہاں تم ہی کچھ سجیسٹ کردو تمہیں تو معلوم ہے مجھے کچھ خاص پسند نہیں
صفا نے اسے بازو سے اٹھاتے ہوئے کہا
اوکے باس چلیں آپ کو تیار کریں ۔۔۔۔ انابیہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی ۔۔۔
________
جازب کمال کسی ڈیٹ پر جا رہے ہوں کیا ۔۔۔؟؟
چائے کا مگ اپنی منہ کو لگا کر کمال اعوان نے مسکراتے لہجے میں شرارت سنگ کہا
کم اون ڈیڈ اپ کو تو جا نہیں رہے مجھے کیوں نروس کر رہے ہیں
وہ ہڑبڑی میں ایک دفعہ پھر سے اپنی ٹائی اتار کر دوبارہ پہننے لگے
کمال اعوان کی اولاد ہونے کے ساتھ ساتھ مشہور ایڈوکیٹ جاذب اعوان کمال ہو کر اتنی نروسنیس
ناک ہی کٹوا دی
ڈیڈ۔۔۔۔وہ شدید جھنجھلائے
اچھا اچھا ریلیکس اپنے بالوں کو تو ٹھیک کرو مجھ سے زیادہ بوڑھے لگ رہے ہو
کمال اعوان نے ایک دفعہ پھر سے ٹونٹ کیا
آپ چلیں جائیں ڈیڈ کہہ دیجئے گا میری طبیعت خراب ہے
تھک کر وہ ہار مانتے اپنے باپ کے آگے ہاتھ جوڑ گئے
مطلب تم واقعی چاہتے ہو تمہارا باپ اپنی اکلوتی اولاد کی خوشیاں دیکھے بغیر ہی اس دنیا سے رخصت ہوجائے
ڈیڈ آپ کی حسِ ظرافت بس مجھے دیکھ کر ہی بیدار ہوتی ہے جاذب کمال نے منہ بنا کر کہا
ارے کہا بیٹے یہ حس تو تمہاری ماں کے ساتھ ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی اب جا کر کچھ آثار نظر آرہے ہیں جیسے اس گھر میں دوبارہ خوشیوں کا بسیرا ہونے والا ہے
اچھا ہاں مجھے یاد آیا حیا بچے کا فون تھا میں نے اس سے اپنے آنے کی معزرت کرلی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ تم اسے اور صفا بیٹی کو پک کرو گے ان کے گھر سے گاٹ اٹ اب اپنی تیاری کو سمیٹو اور لیٹ ہونے سے پہلے نکلو یہ نہ ہو لیٹ لطیف بن کر امیج خراب کرواؤ
کمال اعوان نفی میں سر ہلا کر وہاں سے چلے گئے
پیچھے جازب اپنے فون پر آتی حیا کی کال پر گہری سانس بھر کر کال پک کر گئے ۔۔۔۔
