Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 42)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 42)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
حیات کو بے حد اصرار پر حاجرہ بیگم نے روک لیا تھا
وہ اس وقت حاجرہ بیگم کی گود میں سر رکھے لیٹی مسکراتے ہوئے ان کی نصیحتیں سن رہی تھی جو اسے اپنا خاص خیال رکھنے کا کہہ رہی تھی
“حیاتی سن رہی ہو نہ میری جان تم نے خاص خیال رکھنا ہے اپنا کھانے پینے میں کوئی لاپرواہی نہیں کرنی
میں حدید سے کہوں گی تمہارا خیال رکھے خاص طور پر کھانے پینے کے معاملے میں “
“نہیں ماما ان سے کچھ مت کہیے گا پلیز وہ پہلے ہی اس معاملے میں بہت سخت ہے اگر آپ نے بھی کہا تو پھر تو انھیں اور موقع مل جائے گا “
“ہاں تو اچھا ہے نہ میرا بچہ تمہارا اتنا دھیان رکھتا ہے “
حاجرہ بیگم نے اسے کے بالوں میں ہاتھ پھیرا حیات کے نرم ملائم بال انہی کی بدولت اتنے خوبصورت تھے
،”دھیان نہیں رکھتی نہ تم اب اپنے بالوں کا حیات خود سے تو بہت لاپرواہ ہو تم “
“مجھے تو ڈر لگتا ہے حیات تم کیسے اس ننھی سی جان کا دھیان رکھو گی “
حاجرہ بیگم نے کچھ پریشانی سے حیات کا سر چومتے ہوئے کہا
“مما آپ فکر نہ کریں میں وعدہ کرتی ہوں بہت دھیان رکھو گی اور نشاء آنٹی سب بہت بہت کئیر کرتے ہیں آپ نے دیکھا نہیں آنٹی کی خوشی “
حیات تم اب بھی آبدہ بہن کو آنٹی کہتی ہو بچے انھیں ماما کہا کرو حدید کو بھی خوشی ہوگی
“اچھا مما ۔۔۔۔”تبھی حیات کا فون بجا تھا
حدید کا نمبر دیکھ کر وہ مسکرائی
آبدہ شاہ سمجھتے ہوئے سر ہلاتی اس کا سر سہلا کر اٹھی
اچھا اب میں چلتی ہوں کچھ چاہیے ہوا تو بتانا
اوکے وہ اپنی ماں کی مسکراہٹ دیکھ کر شرما گئی تھی
________
حیات کو اس کے ماں باپ کے گھر چھوڑ کر وہ ضروری کام سے باہر گیا تھا ابھی گھر آیا تو خالی کمرے پر نظر پڑتے اسے حیات کی کمی سی محسوس ہوئی تھی
بلاشبہ وہ آج خوش تھا بے حد خوش مکمل ہو جانے کی خوشی نے اس کے دل کو مسرور کر دیا تھا وہ کبھی بھی حیات کو وہاں رہنے کے اجازت نہ دیتا آج تو بالکل بھی نہ مگر حاجرہ آنٹی نے خود اصرار کیا تھا اوپر سے حیات کی سبز آنکھوں میں بھی تو ایک مان تھا
وہ بغیر کپڑے بدلے بسترے پر گڑا تھا
کچھ دیر ہو ہی لیٹے اس نے حیات کو کال ملا دی
ایک بیل
دوسری بیل ۔۔۔
تیسری بیل ۔۔۔۔
کال اٹینڈ کر لی گئی تھی مگر دوسری جانب سے خاموشی ہی ملی
“زیادتی کر دی مسسز شاہ”
حدید کی گھمبیر سی آواز پر حیات کا دل دھڑک اٹھا تھا
دل نے تڑپ کر واپس جانے کی خواہش کی
“حیات۔۔۔۔ !!”
حدید نے ہنوز خاموشی سی محسوس کرکے اس کا نام پکارا
حیات کی بس ہوئی تھی وہ بغیر کچھ بولے کال کاٹ گئی
حدید نے حیرانگی سے فون کی جانب دیکھا
ابھی وہ دوبارہ کال کرتا نشاء کا میسج موصول ہوا تھا
“مکمل ہونے کی خوشی مبارک ہو حدید ایک غیر مکمل سی انسان کی طرف سے “
میسج پڑھ کر حدید کا پورا وجود جیسے کسی نے جھنجھوڑ دیا تھا
وہ فون وہی پر چھوڑ کر کمرے سے نکلا
وہ لمبے لمبے ڈھاگ بھر کر نشاء کے کمرے تک پہنچا جہاں سے آبدہ شاہ باہر نکل رہی تھی
حدید نے ماں کے چہرے پر دیکھا
حدید جتنی جلدی سب ختم ہو بہتر ہے بچے “
“آبدہ شاہ نے حدید کی جانب دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
وہ سر ہلا کر کمرے میں گیا
وہ نائٹ سوٹ میں منہ کے بل بیڈ پر اڑی ترچھی لیٹی ہوئی تھی
حدید اسی کے پاس نیم دراز ہوگیا
نشاء نے حدید کی موجودگی محسوس کرکے اپنی سسکی روکی
“نشاء ۔۔۔!!”
وہ اپنا چہرہ اس کے بازو میں چھپا کر روتی چلی گئی
“میں بہت بہادر ہوں حدید اس ایکسیڈنٹ کے بعد بھی میں نے جی لیا مگر میری ہمت کیوں ٹوٹ رہی ہے ”
حدید کی آنکھیں چھت کی سیلنگ پر تھی
“ڈاکٹر ۔۔۔!!”
“آئی ایم سوری ۔۔۔”
نشاء ۔۔۔۔ حدید نے اس کے بال سہلائے
“ادھر دیکھو” اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا
________
حیات نے بے قابو دھڑکنوں سے پریشان ہوکر بغیر جواب دئیے فون ہی کاٹ دیا
اسے شرم آرہی تھی حدید سے
لبوں سے الفاظ نکلنا محال تھا اور اوپر سے حد یہ تھی کہ حدید کا گھمبیر لہجہ
خون کی روانگی جیسے پورے جسم میں تیزی سے ہونے لگی تھی ۔۔۔۔
وہ بستر میں لیٹ گئی مگر نیند کہاں آنی تھی اب سو کروٹیں بدلنے لگی
_______
“عدنان “
وشمہ بیڈ میں بیٹھی الماری سے کچھ تلاش کرتے عدنان کو پکار گئی
“ہاں ۔۔۔’
وہ بغیر سر نکالے ہی بولے
“آپ کو گھر والوں کو خوشی نہیں ہوئی میری امید سے ہونے کی خبر سن کر “
وشمہ کی آواز بھرا گئی تھی
عدنان کے ہاتھ تھمے تھے وہ الماری یوں ہی کھلی چھوڑ کر اپنی بیوی کے پاس آئے
“اور ایسا کیوں لگا تمہیں “
“پتا نہیں” وہ اپنا چھڑوا گئی
اے۔۔۔وشمہ
“حیات بہت خوش ہے اس کے سسرال والے میرے سسرال والے “
وہ مزید بولی
عدنان نے لب بھینجے
“یہ تو غلط تھا نہ وہ تو گواہ تھا اپنی بیوی کے راتوں کو اٹھ کر رونے سے “
“ائی ایم سوری” وہ اسے ساتھ لگائے بولے
“اچھا اب اپنی آنکھیں صاف کرو یار صبح سے اتنا رش لگا تھا موقع ہی نہیں ملا اپنی حسین بیوی سے بات کرنے کا” عدنان نے کندھا وشمہ کے کندھے پر مار کر شرارت سنگ کہا
وہ مصنوعی خفگی سے چہرہ موڑ گئی
تبھی اسے اپنی کلائیوں میں وزن کا احساس ہوا تھا
وشمہ نے چونک کر چہرا موڑا
خوبصورت سے کنگن اس کی سفید کلائیوں میں بہت جچے تھے
“یہ میں نے آج ہی تمہارے لیے خریدے تھے مگر مجھے معلوم نہیں تھا اس سے بھی زیادہ خوبصورت تحفہ میری وشمہ نے مجھے دینا جس کا اللہ کے بعد تمہارا شکر گزار
ہوں “
وہ اس کے کنگنوں کو چھیڑتے ہوئے مسکراہٹ سے مزین چہرے سمیت بولا
“میری امید ٹوٹ رہی تھی عدنان” وہ آنسوؤں پر ضبط کئیے گھٹی آواز میں بولی
“میری جان نا امیدی کی تو بات ہی نہیں تھی ہمیں اللہ پر یقین تھا نہ دیکھو اللہ نے ہمیں نواز دیا “
“اچھا جلدی سے آنسو صاف کرو اور پیاری سی مسکراہٹ دیکھاو اور بتاؤ کیا کھاؤ گی مجھے پتا ہے تم نے ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا “
“گول گپے” وشمہ چمکتی آنکھوں سے بولی
“اوکے تم تھوڑا سا انتظار کرو میں تمہارے لیے گول گپے لے کر آیا “
عدنان کے جانے کے بعد وہ اپنی کلائیوں میں سجتے کنگنوں پر ہاتھ پھیر گئی دل جیسے ہم سفر کے پر جذب لفظوں پر سکون میں آگیا تھا ۔۔۔۔
_______
“حیات ۔۔۔!! بچے جاگ رہی ہو “
حیات کے کمرے کی جلتی لائٹ دیکھ کر عدنان فکر مندی سے کمرے کا دروازہ ناک کیا
“عدنان بھائی اندر آجائیں “حیات اٹھ کر بیٹھی
“میرا بچہ طبیعت ٹھیک ہے نہ ؟”
“جی بھائی بس وہ نیند نہیں آرہی تھی “
“اچھا میں تمہاری بھابھی کے لیے گول گپے لینے جارہا ہوں تم نے کچھ کھانا ہے ؟”
عدنان نے اسے اپنے حصار میں لے کر پوچھا
“نہیں بھائی دل نہیں کر رہا “
“اچھا میں سوچ رہا تھا چھوٹی سی حیاتی کے لیے آئسکریم لے آؤ۔۔۔! “
بھائی نے مسکراہٹ دبائے کہا تو وہ بھی مسکرا دی
“بھائی آپ کی حیاتی بڑی ہوگئی ہے “
“ماشاءاللہ واقع میری چھوٹی سی گڑیا بڑی ہوگئی ہے “
اچھا تم آرام کرو وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر اٹھے
“بھائی “
ہاں عدنان بھائی دروازے سے مڑے
“بھائی آپ مجھے ۔۔۔و”ہ اسے جھجھک سی محسوس ہوئی تھی
“کیا بات ہے حیات “
“بھائی آپ مجھے گھر چھوڑ دیں گے؟” وہ نظریں جھکائے ہاتھ مسلتی بولی
“اتنی سی بات آجاؤ باہر میں انتظار کر رہا ہوں “
عدنان بھائی نے مسکراہٹ دبائے اس کے سر پر چپت لگا کر کہا
“میں بس دو منٹ میں آئی “
اپنا ہینڈ بیگ لے کر اپنا حلیہ صحیح کرکے باہر پرچ کی طرف بھاگی
“آرام سے یارر۔۔۔۔”
بھائی نے اس کی جلد بازی دیکھ کر متفکر ہوکر کہا
وہ کھسیانہ سا ہنس دی ۔۔۔۔
_________
گارڈ نے حیات کو دیکھتے ہی سلام کرکے دروازہ کھولا
اس کے اندر جاتے ہی عدنان بھائی واپس چلے گئے
حیات سیدھا اپنے کمرے میں آئی دھڑکنیں اتھل پتھل سی ہورہی تھی مگر کہیں یہ بھی تھا کہ اب تک تو حدید سو گیا ہوگا وہ صبح اسے سرپرائز کر دے گی
اس نے جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھولا پورا کمرہ اندھیرے سے نہایا ہوا تھا
حیات نے لائٹ جلائی تو۔ پورا کمرہ ویسے کا ویسا ہی تھا بس بیڈ سے کچھ فاصلے پر حدید کے بوٹ موجود تھے اور بیڈ پر حدید کا فون حیات ٹیرس میں گئی تو ہو بھی خالی تھا
شاید واشروم میں ہوں گے مگر اندر سے تو کوئی آواز نہیں آرہی
وہ خود کلامی کرتی کمرے سے باہر نکلی اس ٹائم تو آنٹی اور نشاء آپی بھی سو رہی ہوں گی وہ واپس کمرے میں آ کر بیڈ پر لیٹ گئی کافی دیر جاگنے کے بعد اس کی آنکھیں بھاری سی ہونے لگی تھی
کچھ دیر بعد حیات کو اپنے ہاتھ پر وزن سے محسوس ہوا
_________
نشاء کو سلا کر حدید کمرے میں آیا تو اندھیرے کمرے میں بھی وہ حیات کی موجودگی کو اچھے سے محسوس کر چکا تھا
تبھی آگے بڑھ کر اس کے پاس آیا
وہ گہری نیند میں تھی اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد حیات کو اپنے ہاتھ پر وزن سے محسوس ہوا اس نے آنکھیں کھولی حدید اس کے ہاتھوں پر ہاتھ جمائے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا
“بہت دیر کردی مہربان آتے آتے “
حدید وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی
“میں تو کب کی آگئی آپ کہاں تھے ؟ “
وہ خفگی سے بولی
“انتظار ستاتا ہے نہ جیسے تمہارے فون کاٹنے نے مجھے
بے آرام کیا تھا”
حدید کا لہجہ بہت نرم تھا مگر آنکھیں نہیں
حیات کے وجود میں سنسناہٹ سی ہوئی
حدید کا انداز عجیب تھا بہت عجیب
“آپ مجھ سے بدلہ لے رہے تھے” وہ حدید کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال گئی
“بدلہ۔۔۔”
حدید مسکرایا
“تمہیں کیا لگتا ہے ؟ “
حدید نے جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھا
“یہ ہی کہ مسٹر شاہ اپنی مسسز شاہ سے کبھی بدلہ نہیں لے سکتے” وہ آگے کو ہو کر اپنا سر اس کے شانے سے لگا گئی
“امپریسیو۔۔!!” اس کی پیش قدمی پر وہ گہرا مسکرایا
اچھا آپ نے بتایا نہیں آپ کہاں تھے آپ کا فون بھی ادھر ہی تھا
حیات نے چہرہ تھوڑا سا موڑ کر پوچھا
سو جائیں مسسز شاہ اس وقت مجھے بس سکون چاہیے وہ اتنا کہہ کر آنکھیں موند گیا
حیات بھی سر جھٹکتی آنکھیں موند گئی تھی کیونکہ اب اسے سکون تھا سکون تھا تو نیند بھی مہربان تھی ۔۔۔
________
اگلی صبح ناشتہ حیات نے بنایا تھا اس کا دل کچھ میٹھا بنانے کا کیا تو حلوے کے ساتھ سب کا ناشتہ بھی بنا دیا
آج اس کا موڈ بھی بہت خوشگوار تھا
“السلام علیکم ماما “
ارے حیات تم کب آئی
آبدہ شاہ نے حیات کو دیکھ کر پوچھا
“میں رات کو ہی آگئی تھی ماما”
“اچھا ۔۔۔۔ بہت اچھا کیا تم نے “
“نگینہ ۔۔۔۔نگینہ !!”
“جی بڑی بیگم صاحبہ “
نگینہ آبدہ شاہ کی خاص ملازمہ وہاں آئی
“آج سے حیات کے کھانے پینے سے لے کر اس کی ہر ضروری چیزوں کا تم نے خیال رکھنا ہے ہمارے ہونے والے وارث ماں ہیں “
حیات شاہ
“ماشاءاللہ ماشاءاللہ بی بی جی اللہ زندگی تندرستی والا بیٹا دے آپ کو “
تبھی آبدہ شاہ نے پیسے نکال کر حیات سے وار کر انھیں نگینہ کو تھمایا
“جاؤ اب جوس بنا کر لاؤ حیات کے لیے “
جی جو حکم بی بی جی “
“حدید کہاں ہے حیات ؟ “
“وہ جاگ گئے ہوں گے میں انھیں بلا کر لاتی ہوں “حیات اٹھتے ہوئے بولی
اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے اس کی نظر نشاء کے کمرے کے کھلے دروازے سے جھانکتی نشاء نظر آئی
آپی بھی جاگ گئی حیات مسکراتے ہوئے اس کے کمرے کی جانب بڑھی اس نے پہلی مرتبہ سب کے لیے کچھ خاص بنایا تھا تو اس کی خواہش تھی سب مل کر کھائیں
“السلام علیکم نشاء آپی “
حیات دروازہ ناک کرکے اندر آئی
نشاء نے فون کان سے ہٹا کر ناگواری سے حیات کی جانب دیکھا
“جی کیا مسئلہ ہے” نہایت اکھڑ لہجے میں حیات سے پوچھا تھا
حیات کے چہرے کی مسکراہٹ سی سمٹی
“آپی ناشتہ “
میرے نہ آنے سے ناشتہ ہضم نہیں ہوگا تمہیں
“آپ مجھ سے ناراض ہیں آپی ؟”
حیات کی آنکھیں بھر گئی
“ناراض …”
نشاء ابھی کچھ بولتی حدید نے سخت لہجے میں نشاء کو پکارا
“اپنی بیوی سے کہو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے حدید “
نشاء نے حدید کی جانب دیکھ کر سپاٹ لہجے میں کہا ۔۔۔۔
“چلو حیات “
مگر میں نے کیا کہا ہے آپی میں تو بس ناشتہ
“میں نے کہاں نہ چلو حیات “
حدید حیات کو کھینچتے ہوئے لے گیا
پیچھے حیات نے کانچ ٹوٹنے کی آواز با خوبی سنی تھی
اس نے ایک نظر حدید پر ڈال کر ایک نظر نشاء کے کھٹاک سے بند ہوتے کمرے کے دروازے پر بھی ڈالی تھی
وہ لوگ ڈائننگ میں آئے تو آبدہ شاہ ملازمین پر برس رہی تھی
“کیا ہوا ممی ؟”
حدید نے آبدہ شاہ سے پوچھا
‘کس لیے اتنی ملازموں کی فوج رکھی ہے میں نے تاکہ میری بہو ناشتہ بنائے وہ بھی اس حالت میں “
آبدہ شاہ کی غصے سے تیز آواز پر حدید نے چونک کر حیات کی طرف دیکھا جو اپنی جگہ چور سی بن گئی
مما وہ ناشتہ میں نے سب کے لیے اپنی مرضی سے بنایا ہے
حیات نے دھیمے لہجے میں کہا
“حیات آپ کا دماغ ٹھیک ہے آپ کو کیا ضرورت تھی گرمی میں کچن میں جانے کی یاں اتنی محنت کرنے کی کچھ بھی کھانے کا دل کرے ملازموں سے کہیں یہ تو ہیں ہی کام چور “
آبدہ شاہ نے حیات کو بھی سخت لہجے میں کہا
“سوری مما “حیات سر جھکائے اپنی انگلیوں پر نظریں جما گئی
صبح وہ جتنے خوشگوار موڈ میں تھی اب اس کا اتنا ہی دل کر رہا تھا رونے کا ۔۔۔۔
وہ سر ہلا کر زہر مار ہی کھا پائی تھی
_________
“نشاء تم کیا کہنے والی تھی حیات کے سامنے “
نشاء کمرے میں اپنی الماری سے کپڑے نکال رہی تھی جب حدید نے اس کا بازو پکڑ کر اسے سامنے کرتے ہوئے کہا
کیا کہنے والی تھی میں اسے ہاں ؟
کیا کہنے والی تھی ۔۔؟
“نشاء ۔۔۔حدید نے اسے تھاما جو اپنے ہاتھوں سے اسے جھٹک رہی تھی
نشاء کنڑول کرو یار
“کیسے کنٹرول کرو حدید وہ قات.ل ہے
میری آنکھوں کے سامنے ایک قات.ل ہے “
وہ چیخ اٹھی تھی۔۔۔۔۔
