Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 80) Last Episode (Part - 1)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 80) Last Episode (Part - 1)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
اگلی صبح بالاج انابیہ اور صفا ناشتہ لے کر ساتھ والے بنگلے میں وارد ہوگئے کمال اعوان ان سب کو دیکھ کر خوشگوار حیرت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے
ارے بچوں آؤ آو
وہ سب مسکراتے ہوئے اندر آئے ملازم ناشتہ ہی لگا رہے تھے
کمال صاحب نے آگے بڑھ کر باسل کو تھاما
صبح جب جازب اور حیا نیچے آئے تو نیچے الگ ہی رونق لگی ہوئی تھی جازب آگے بڑھ کر بالاج کے گلے لگا پھر صفا اور انابیہ کے سر پر ہاتھ پھیرا
ناشتہ شروع کیا گیا بالاج انابیہ کی پلیٹ میں کھانا ڈال رہا تھا اور جازب حیا کے صفا باسل کو کھانا کھلا رہی تھی اور کمال اعوان مسکراتے ہوئے اس منظر کو تک رہے تھے
اتنا مکمل منظر اتنے سالوں بعد ان کی بوڑھی آنکھوں کو دیکھنا نصیب ہوا تھا
تبھی وہاں عون صاحب چلے آئے
میں تو گھر گیا تھا پتا لگا آپ سارے اِدھر ہیں تو میں اِدھر آگیا
غلط وقت میں تو نہیں آیا ؟
ارے نہیں نہیں جازب نے آگے بڑھ کر عون کو گلے لگایا
آخر کو آپ ہمارے داماد ہیں تشریف رکھیں جازب کی شریر سی آواز پر عون نے ہنستے ہوئے صفا کے ساتھ والی کرسی سنبھالی
اور باسل کو اس سے لے کر گود میں ڈالا
یار یہ مہینہ کیسے گُزرے گا صفا میں رخصتی کے لیے اتنا انتظار نہیں کر سکتا
ہمیشہ والی دھائی صفا نے کان لپیٹ کر ناشتے پر فوکس کیا
صحیح ہے کرلیں اگنور شادی کے بعد گن گن کر بدلے لوں گا ساری دنیا کی شادی ہو جائے گی بچے ہو جائیں گے ہماری رخصتی وہی کی وہی لٹکی ہوئی رہ جائے گی ۔۔۔۔
اچھا میرا بچہ تیری پھوپھو تو لفٹ نہیں کرواتی تو ہی اپنے پھوپھا کو پاری دے دے وہ باسل کے ساتھ لاڈیاں کرتا اسے کھلکھلانے پر مجبور کر رہا تھا ۔۔۔
——–
حیا آپ سے ایک اجازت لینی ہے
وہ لوگ لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے بچے سارے کمال صاحب کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے
کیسی اجازت ؟
صفا کی شادی نزدیک ہے میں چاہتا ہوں اس کی شادی یہاں سے ہو میں اسے باپ بن کر رخصت کروں اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو تو ؟
حیا کتنے لمحے جازب کا چہرہ دیکھتی رہی
یار ایسے نہ دیکھیں کمزور دل کا انسان ہوں جازب کے کان سرخ ہوگئے
شکریہ جازب
شکریہ کی کیا بات ہے آپ میری بیوی ہیں اور آپ سے جڑے تمام رشتے میرے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنے آپ کے لیے اور صفا کا تو معاملہ ہی الگ ہے اس کو میں نے ہمیشہ اپنی بیٹی مانا ہے، جانتی ہیں میری پہلی اولاد بیٹی تھی مگر میں اسے محسوس نہیں کرسکا کبھی کبھی صفا کو دیکھ کر لگتا ہے اللہ نے اسے واپس بھیج دیا ہے
جازب کی آنکھوں میں جمع ہوتی نمی حیا کو اچھی نہیں لگی
صفا آپ کی بیٹی ہے جازب مجھے خوشی ہوگی اگر وہ آپ اسے رخصت کریں گے حیا نے جازب کے ہاتھوں کو تھام کر نرمی سے کہا جازب نے مسکرا کر اپنی آنکھوں میں جمع ہوتی نمی صاف کی
——–
صفا باسل کے پاس بیٹھی تھی جب جازب اس کے پاس آیا ۔
صفا نے مسکرا کر جازب کو دیکھا پھر باسل کے ساتھ مصروف ہوگئی
کیسی چل رہی ہیں شادی کی تیاریاں ؟
جازب نے شروعات کی
ٹھیک چل رہی ہیں انکل آپ بتائیں میری مما زیادہ روڈ تو نہیں ہیں نہ ؟ صفا نے مسکرا کر شریر لہجے میں کہا
یہ دنیا نرم دل لوگوں کو جینے نہیں دیتی صفا بچے اور آپ کی مما بہت سمجھ دار ہیں انہوں نے اپنے دل کے اوپر سخت خول چڑھا لیا ہے تاکہ لوگ ان کی بائونڈری کراس نہ کر سکیں نہیں تو حیا سے زیادہ حساس عورت میں نے نہیں دیکھی
یہ تو ہے میری مما بیسٹ مما ہیں ہیں نہ باسل دادو بیسٹ ہیں نہ صفا کے باسل کے گالوں کو لبوں سے چھوتے کہا
اور میں ؟ میں کیسا لگا صفا اور باسل کو ؟
آپ بھی بہت اچھے ہیں انکل صفا نے مسکرا کر کہا
کیا میں اتنا اچھا ہوں صفا کا بابا اور باسل کا دادا بن سکتا ہوں ؟
جازب نے بہت آہستگی سے پوچھا تھا
صفا نے چونک کر جازب کو دیکھا
کیا میں اس پیاری سی لڑکی کا بابا کہلانے کے قابل ہوں ؟ کیا میں اتنا اچھا ہوں مجھے اتنی بڑی زمہ داری مل سکتی ہے ؟
وہ صفا سے پوچھ رہا تھا صفا کی آنکھوں میں نمی سی جمع ہونے لگی
میں زیادہ خود غرض تو نہیں ہورہا ؟ حیا صاحبہ کو بیوی بنانے کے ساتھ دل میں خواہش جاگی تھی اپنی پیاری سی دوست کو اپنی بیٹی بنانے کی
بتاؤ نہ صفا بچے میں ویلڈ ہوں یاں نہیں اگر نہیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں آپ حیا صاحبہ کی بیٹی سہی میری لیے بہت خاص ہیں اور اگر ہاں تو آپ مجھے بابا کہیں گی تو یقین جانیں میری زندگی سا سب سے بہترین تحفہ ہوگا یہ
جازب صفا کو دیکھ کر خاموش ہوگئے پھر مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھ گئے آجاؤ باسل آپ کے بابا کے پاس چلتے ہیں جازب باسل کو گود میں اٹھا کر کھڑا ہوا
بابا ۔۔۔
۔ پیچھے سے آتی صفا کی آواز پر جازب کے قدم تھمے
صفا بھاگ کر جازب کے گلے لگ گئی اسے روتا دیکھ کر باسل بھی رونے لگا
باسل کی آواز سن کر بالاج اور انابیہ بھی وہاں آئے
بالاج نے مسکرا کر صفا کو دیکھا پھر جازب کو ایک یہ کمی وہ صفا کی کبھی پوری نہیں کرسکتا تھا جو آج جازب نے پوری کردی تھی ۔۔۔
اچھا بچے رو کیوں رہی ہو باسل رونے لگ گیا ہے جازب نے اپنی بھاری آواز پر قابو پر کر کہا ۔۔۔۔
———–
جازب کل سے کام پر جانا ہے بہت چھٹیاں ہوگئیں کافی سارے کیس پینڈنگ پر پڑے ہیں حیا نے الماری میں اپنے کپڑے سیٹ کرتے ہوئے سرسری سا کہا
مگر پیچھے سے کوئی جواب نہ پاکر وہ مڑی تھی اور اس کا سر جازب کے سینے سے ٹکرایا تھا
آوچ لگی تو نہیں جازب نے جلدی سے حیا کا ہاتھ اس کے ماتھے سے ہٹا کر وہ جگہ سہلائی
کیا ہوگیا ہے دیوار سے نہیں ٹکرائی حیا نے ہنس کر اس کا ہاتھ پیچھے کیا مگر جازب نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے
اسے پتھر سے گوشت بھی آپ نے ہی بنایا ہے آپ کی منہ دکھائی کل دے ہی نہیں پایا جازب نے انگوٹھی حیا کی جانب بڑھائی جس پر حیا نے ہاتھ آگے کردیا ۔۔۔
آج ڈنر پر چلیں گی میرے ساتھ ؟
سوچوں گی حیا انگوٹھی کو توصیفی نظروں سے دیکھ کر وہاں سے چلی گئی پیچھے جازب سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ مسکرا دیے ۔۔۔
———
جازب نیچے لاونج میں آئے جب کمال اعوان نے انہیں مخاطب کیا
جازب ناٹس آیا ہے اس گھر کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا ؟ کمال اعوان نے ناٹس نکال کر پڑھتے ہوئے پوچھا
افف یہ بندہ بس آخری ہیرنگ ہے ویسے بھی وہ گھر اسے مجھ سے بھی مل نہیں سکتا وہ اب میری بھی ملکیت نہیں رہا
جازب نے ٹیبل پر پڑے ڈرائے فروٹ کے ڈبے میں سے کاجو نکال کر منہ میں ڈالے
مطلب وہ گھر بیچ دیا تم نے ؟ کمال صاحب سیدھے ہوئے
یہ قانونی طور پر غلط تھا اس گھر پر کیس چل رہا تھا جازب کیسے اسے بیچ سکتا تھا
وہ گھر۔۔۔ وہ تو میں نے حیا کے نام کردیا وہ نرمی سے مسکرایا
وہاں آتی حیا کے قدم تھمے تھے
اللہ جازب تم نے وہ گھر حیا کے نام کردیا کیا حیا جانتی ہے اس پر کیس چل رہا ہے ؟
ارے میرے خلاف وہی تو لڑ رہی تھیں اس کیس میں
اب میں انکا تو وہ گھر کیا چیز تھی
جازب تم رن مرید سے بھی اوپر کی چیز بن گئے ہو
اچھا ہے لوگ میری مثالیں لیا کریں گے کمال اعوان کا بیٹا تھا بڑا ہی بیوی سے محبت کرنے والا تھا
خیر میں حیا کو ڈنر پر لے کر جارہا ہوں آپ چلیں گے ؟
ہاں تاکہ ادھر لے جاکر تم مجھے کوسو کہ کباب میں ہڈی بن گیا میں بوڑھا
ارے میں تو سوچ رہا ہوں تم تو اپنے بچوں کو حیا کے پاس بھٹکنے نہیں دو گے میں بوڑھا کیا چیز ہے
وہ دونوں حیا کی موجودگی کو بھولے اپنی طنزیہ فائٹ میں لگے ہوئے تھے
اب تو حیا کی بس ہوگئی اس نے دونوں کو پکارا ان دونوں کو بری طرح چپی لگی
دونوں کے ہی چہرے شرم سے سرخ پر گئے
حیا نے بے یقین نظر جازب پر ڈال کر قدم پورچ کی طرف بڑھا لیے
کمینے انسان شرمندہ کردیا بہو کے سامنے کمال صاحب نے اس کے شانے پر تھپکی لگائی اور وہ حیا کے پیچھے بھاگا ۔۔۔۔
——–
سارے راستے جازب خاموش ہی رہا ۔۔۔ ایسی ایسی بے تکی باتیں کی تھیں دونوں باپ بیٹے نے اب جازب سرخ کانوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔
حیا کبھی ایک نظر گاڑی سے باہر دورا لیتی تو کبھی جازب کے سرخ کانوں پر
پرتکلف سا ڈنر کرکے جازب نے اب سویٹ ڈش منگوائی تھی
آپ کے لیے ایک گفٹ لیا تھا
ایک اور گفٹ وہ اسے پرسو سے جانے کتنے گفٹس دے چکا تھا
جازب نے خوبصورت سا باکس اس کی جانب بڑھایا حیا باکس کھولتی ایک لمحے کو ہونق ہوگئی
وہ پہلا شوہر تھا جس نے اپنی بیوی کو پہلی ڈنر ڈیٹ پر کافی کے دو جار گفٹ کیے تھے
وہ مجھے سمجھ ہی نہ آیا آپ کو کیا دوں وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا
یہ طنز تھا ؟ حیا نے کافی کے جاروں کو دیکھا بہت خوبصورتی سے ریپ تھے
نہیں ہرگز نہیں مجھے کافی بنانا آگئی ہے حیا صاحبہ
حیا محظوظ ہوئی پھر سر پھینک کر ہنستی چلی گئی ۔۔۔۔
———
اگلی صبح جازب کوٹ جانے کے لیے ہاتھ میں ٹائی تھامے تیار کھڑے تھے حیا نے اپنا دوپٹہ صحیح کرتے ہوئے شیشے پر نظر ڈالی تو جازب نے بے چارگی سے ٹائی حیا کی جانب بڑھائی جس پر اس نے نفی میں سر ہلاتے ٹائی ان کے گلے میں ڈال کر ناٹ باندھی
پھر وہ نیچے آئے تو صفا بھی تیار تھی وہ ساتھ ہی کوٹ کے لیے نکلے تھے ۔۔۔
آؤ تو یہ وجہ تھی میڈم آپ کی مصروفیت کی ہمارے لیے کیس لڑتے ہوئے ہمارے ہی حریف کے ساتھ یاریاں لگا رہی ہیں
زیاد لغاری کے گھناؤنے لفظوں پر کچھ لوگ ان کی جانب متوجہ ہوئے ۔۔۔
ارے تم نے بدلہ لینا تھا تو منع کردیتی تمہاری وجہ سے میری بیوی ہاسپٹل میں موجود ہے
اب دیکھو میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں
تم ان کے بارے میں ایسا سوچ کر بھی دیکھاؤ زیاد لغاری تمہاری نسلیں نا مجھ سے پناہ مانگنے لگے تو کہنا
آہ تمہاری نسل تو ہے ہی نہیں وہ اسے تپاتا ہوا نکلا۔۔۔
زیاد لغاری کی دھمکی اسی کے خلاف کام کی رہی سہی کسر عدالت میں حدید شاہ کے بیان نے پوری کردی جس کے مطابق وہ گھر نشاء کے نام بھی نہیں تھا اس گھر کی پاور آف اٹارنی حدید کے نام تھی جو اس نے جازب کے نام کردی ہے
زیاد لغاری بری طرح کیس ہارا تھا آخری وار بھی ناکام گیا ۔۔۔
تمہارے بیان کی ضرورت نہیں تھی حدید شاہ
حدید کو بڑے تفاخر سے وہاں سے جاتا دیکھ کر جازب نے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ کر کہا
ضرورت تو تھی جازب صاحب میرے دستخط کے بغیر اس گھر کا کیس لٹک جاتا مگر کسی کو ملتا نہ تم میرے شکر گزار ہونا نہیں چاہتے یہ الگ بات ہے
سیانے کہتے ہیں اگر تم زمیندار ہو تو پٹواری اور کسی چھوٹے سے بھی کیس میں ملوث ہو تو وکیل ان دونوں سے پنگا نہیں لینا چاہیے بڑی کتی چیز ہوتے ہیں دونوں اور صحیح کہتے ہیں وہ
ہمیں کیس سنوارنا اور بگاڑنا دونوں آتا ہے ۔۔۔ حدید کا شانہ تھپتھپا کر وہاں سے نکل گیا ۔۔
بابا ۔۔۔ یہ صفا کی آواز تھی حدید کے قدم تھمے تھے اس نے رخ موڑا مگر صفا اس کے پاس سے گزرتی جازب کے قریب چلی گئی ۔۔۔
حدید نے گہری سانس بھری
یہ کیس اتنا بڑا تھا کیا؟ پریس کیوں اکٹھی ہوگئی ؟
زیاد لغاری ۔۔۔۔جازب دانت پیس کر بڑبڑایا پر تیزی سے وہاں سے نکلا صفا بھی اس کے پیچھے ہی تھی
حیا صاحبہ کیا یہ سچ ہے آپ نے اپنے معقل کو دھوکہ دیا ہے آپ اپنے اپوننٹ لائیر کے ساتھ ملی ہوئی تھیں
آپ کا کیا رشتہ ہے مسٹر جازب کے ساتھ
یاں یہ کوئی ذاتی دشمنی تھی
مسٹر زیاد کا کہنا ہے آپ کی وجہ سے ان کی بیوی پاگل خانے چلی گئیں ان کا بچہ مر گیا حیا صاحبہ
میں زبان نکال لوں گا اگر کسی نے حیا صاحبہ کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا بیوی ہیں یہ میری
جازب کی دھاڑ پر ایک دم سناٹا سا چھا گیا
آپ لوگ جیسے اپنی لمٹ کراس کرکے ان کے قریب آرہے ہیں یہ ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے
یقیناً آپ لوگ نہیں چاہے گے آپ پر ہراسمنٹ کیس چارج ہو اور آپ کو ابھرتا کرئیر تباہ ہوجائے
جازب کے سرد لہجے پر وہ سارے غائب ہوگئے
کون نہیں جانتا تھا جازب کمال کو وہ صرف لفظوں کا کھلاڑی تھوڑی تھا ۔۔۔
بابا یو آر گریٹ صفا نے حیا کے وہاں سے جانے کے بعد جازب کو دیکھ کر تھمبز آپ کیا تھا ۔۔۔
———
رات کو وہ لوگ گھر آئے تو بالاج اور انابیہ ادھر ہی موجود تھے باسل کو نہ دیکھ کر حیا نے اس کے بارے میں پوچھا
باسل میں تو حیا کی جان تھی ۔۔۔ میں نے بھی سب سے پہلے اسی کا ہی پوچھا تھا کمال صاحب نے ہنس کر کہا
ماشاءاللہ دل لگ جاتا ہے باسل کے ساتھ
ماں باسل کو کچھ دیر کے لیے ڈیڈ لے کر گئے ہیں اپنے ساتھ
بالاج کی بات پر حیا نے اثبات میں سر ہلایا
میں چینج کرکے آئی
حیا تیزی سے اوپر کی جانب بڑھی
جازب بھی پیچھے ہی اس کے ساتھ اوپر پہنچا
حیا ۔۔۔ وہ کافی خاموش سی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی حیا اگر آپ کو باسل کی یاد آرہی ہے تو اسے بلا لیتے ہیں
جازب نے اس کا رخ اپنی جانب کرکے کہا مگر اس کی آنکھوں میں آنسو تھے
جازب شاید یہ میری خود غرضی لگے سر جی آپ کے باپ ہیں انہیں خواہش ہوگی آپ کے بچوں کی مگر
میرے دو بچے ہیں حیا مجھے اور کسی بچے کی کوئی خواہش نہیں ہے
آپ کیسے سوچ سکتی ہیں میں آپ کو کسی ایسی سچویشن میں ڈالوں گا جہاں آپ کو کسی بھی قسم کی تکلیف اٹھانی پڑے
وہ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بول پڑا تھا ۔۔۔
جازب نے اس کے آنسو صاف کیے
مجھے آپ کے آنسو تکلیف دے رہے ہیں
حیا نے تشکر سے اسے دیکھا ۔۔۔۔
———
دن اپنے معمول پر آگئے تھے شاہ ہاؤس میں عون کی شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں عون آئے دن حدیقہ کو ساتھ لے کر صفا کو شاپنگ کروانے کے لیے لے جاتا
ادھر جازب کمال حیا سے بھی بھر کر صفا کی شادی کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے
جس دن صفا کو عون نہ لے کر جاتا اس دن جازب لے جاتے صفا بچاری گھن چکر بن چکی تھی
ان کے مطابق صفا سے ان کا دہرا رشتہ تھا وہ صرف ان کی بیٹی نہیں اکلوتی دوست بھی تھی
جازب نے اس کی زمہ داری لی تھی اور جازب کمال اعوان
زمہ داریوں سے پھڑنے والا شخص نہیں تھا
حیا کے دل میں اس کے لیے عزت بڑھی
میں بہت تھک گئی ہوں بابا وہ لوگ مال کے کیفے ٹیریا میں بیٹھے ہوئے تھے جب صفا نے منہ بنا کر کہا
ارے اتنی جلدی تھک گئی لڑکیاں تو اس کام میں بہت ماہر ہوتی ہیں اور تم اپنی شادی کی شاپنگ کرکے تھک گئی
جازب نے اس کے اگے ملک شیک کا گلاس کرتے ہوئے ہنس کر کہا
اچھا جی اتنا تجربہ کہاں سے آگیا آپ کے پاس ؟ صفا نے آنکھیں چھوٹی کر کے کہا
جازب گڑبڑا گیا
ارے یار میں تو ویسے ہی کہہ رہا تھا تم نے تو بات اُچک لی
ارے میں دو بہت جانے مانے وکیلوں کی بیٹی ہوں لفظوں میں سے لفظ نکالنے آتے ہیں مجھے
جازب کے چہرے پر بڑی گہری مسکراہٹ آئی تھی
مادام ۔۔۔
———
جازب گاڑی سے نکل کر تیزی سے گھر کی جانب بڑھا
سر پارسل آیا ہے ڈیلیوری بوائے نے جازب کو مخاطب کیا
مسز جازب اعوان
وہ پارسل پر لکھے نام پر بے ساختہ مسکرایا اچھا سنو یہ لو ٹِپ جازب نے ہاتھ اپنے کوٹ میں ڈال کر پانچ ہزار کا نوٹ نکالا
ڈیلیوری بوائے ہونک بنا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہا تھا اتنے کا تو پارسل بھی نہیں تھا جتنی اسے ٹِپ مل گئی وہ خوش ہوتا نکل گیا ۔۔۔
مسز جازب اعوان اس نے پھر سے دہرایا دل میں خوشگواری سی بھر گئی
حیا صاحبہ آپ کا پارسل آیا ہے جازب نے کمرے میں آتے پارسل حیا کی جانب بڑھایا
پارسل ۔۔۔ او ہاں وہ میں نے ۔۔۔ وہ بولتے بولتے چپ ہوئی
کیا ہے اس میں ویسے ؟
جازب نے سرسری سا ہی پوچھا تھا حیا پزل ہوگئی وہ تو ویسے ہی اسے کف لنکس اچھے لگے اس نے آرڈر کرلیے سوچا جازب کو نہ اچھے لگے تو بالاج کو دے دے گی
کف لنکس ہیں کیثول سے ہیں آپ دیکھ لیجیے گا نہیں تو میں بالاج کو دے دوں گی
وہ لہجے کو حد درجہ نارمل رکھتے ہوئے اپنے حجاب کی پن سیٹ کر رہی تھی تبھی اسے کسی چیز کے چاک ہونے کی آواز آئی تھی
جازب ایک ہاتھ سے پارسل کھول رہا تھا دوسرے سے اپنے کف پر لگے سنہری کف لنکس کھول رہا تھا
پہنا دیں گی وہ آنکھوں کو ان سبز آنکھوں میں ڈال کر بولا حیا بے ساختہ ہی سر ہلا کر کف لنکس تھام گئی جبکہ وہ مسکاتے ہوئے حیا کے چہرے کو دیکھ رہا تھا دھڑکنیں اتنی زور سے دھڑک رہی تھیں کہ اس کے پاس کھڑی حیا بھی ان کی ردھم کانوں میں سن رہی تھی
———
جازب نے اس کا مان بھرایا تھا حیا بھی آئے دن اپنی پسند کا کچھ نہ کچھ جازب کے لیے لیتی رہتی
آپ ۔۔۔ آپ یہ میرے لیے لائی ہیں؟ وہ خوشگوار حیرت سے بولا
وہ سلور پلیٹڈ جینٹس واچ تھی
ہاں اپنے شوہر کے لیے وہ بے ضر سی بات پر یک دم ہی لال ہوگئے
اگلی صبح حیا نے ان کے دراز میں سب سے اوپر وہ ہی گھڑی دیکھی تھی ۔۔۔
