Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 78)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 78)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
اٹس اے ہیلدی بے بی بوائے پری میچور ہونے کی وجہ سے کچھ ٹیسٹ ہورہے ہیں پھر آپ کو دے دیا جائے گا آپ کا پوتا
اور انابیہ ؟ شی از السو بیٹر ناؤ
ڈاکٹر مسکرا کر کہتی وہاں سے چلی گئی جبکہ حدید کتنے ہی لمحے یوں ہی کھڑا رہ گیا ۔۔۔۔
تبھی وہاں بالاج آیا نچڑا ہوا رنگ بکھرا ہوا حلیہ
ماں کہاں ہے انابیہ کیسی ہے ؟ وہ حدید کو جھنجھوڑتے ہوئے بولا
حدید خاموش نظروں سے بالاج کو دیکھ رہا تھا
بتا کیوں نہیں رہے آپ بالاج نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر کہا
تبھی اسے بچے کے رونے کی آواز آئی
اس نے بے یقینی سے حدید کو دیکھا
بیٹا ہوا ہے میں دادا بن گیا احمد میں دادا حدید نے روہانسا ہوکر کہا۔۔۔
اب تو تم بھی باپ بن گئے ہو احمد ۔۔۔ تھوڑی گنجائش نکال لو
بالاج شدت سے حدید کے گلے لگ گیا
یہ دوہری خوشی تھی جو آج حدید شاہ کو ملی تھی اس نے اپنے ہاتھ بالاج کے گرد لپیٹ لیے
دونوں باپ بیٹا رو رہے تھے دونوں کے ہی آنسو خوشی کے تھے
قاسم نے تشکر سے اس منظر کو دیکھا تھا
صفا اور جازب بھی وہاں پہنچے جازب حیا کی اتنی ساری مسڈ کالز دیکھ کر پریشان ہوکر صفا کے ساتھ خان ہاؤس کے لیے نکلا تھا مگر وہاں انہیں خبر ملی انابیہ کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے حیا اسے ہاسپٹل لے گئی ہے تو وہ دونوں سیدھا ہاسپٹل پہنچے
تبھی نرس نے سفید کمبل میں لپٹا وجود حدید اور بالاج کے سامنے بڑھایا۔۔
سب ٹیسٹ کلئیر ہیں بے بی بالکل ٹھیک ہے
اور انابیہ ؟بالاج نے بے تابی سے پوچھا
جی وہ بھی خطرے سے باہر ہیں
انہیں روم میں شفٹ کردیں گے تو آپ ان سے مل لیجیے گا
بالاج نے بچہ پکڑنا چاہا تبھی حدید نے اسے تھام لیا وہ رو رہا تھا اس بچے کے چہرے کو چوم رہا تھا
تبھی پرئیر روم سے حیا باہر آئی بالاج کو دیکھ کر فوراً اس کی جانب بڑھی
بالاج ۔۔۔ ماں اس نے روتی ہوئی حیا کو خود سے لگایا
آئی ایم سوری بیٹا میں دھیان نہیں رکھ سکی
نہیں مما بالاج نے حیا کے آنسو صاف کیے وہ ٹھیک ہے بے بی ٹھیک ہے آپ کی دعاؤں کی وجہ سے سب ٹھیک ہے اس نے حیا کے گرد بازو باندھ کر کہا
حیا حدید کو دیکھ رہی تھی جو سب سے بے پرواہ ہوکر بچے سے باتیں کر رہا تھا
یہ ۔۔۔بالکل تمہارے جیسا ہے احمد تم بھی بالکل ایسے ہی تھے ایسی ہی ناک ایسے ہی ہونٹ اس کی آنکھیں ؟ اس نے آنکھیں نہیں کھولیں ابھی تک آنکھوں کا پتا نہیں لگ رہا
حدید نے بے چارگی سے کہا وہ بالکل بچہ ہی لگ رہا تھا
بالاج ہنس دیا ۔۔۔۔
———-
انابیہ کو روم میں شفٹ کردیا گیا تھا
عون کے گھر والے کمال اعوان سب ہی ہاسپٹل میں آگئے تھے بچہ ابھی بھی حدید شاہ کے ہاتھ میں تھا حیا نے اپنے دوپٹے سے نقاب کر لیا تھا
صفا چور نظروں سے اپنے بھانجے کو دیکھ رہی تھی مگر حدید سے مانگنے نہیں جارہی تھی تبھی عون ہی حدید کے پاس گیا
ماموں مجھے بھی دے دیں میرا بھانجا میں اکلوتا پھوپھا ہوں اس کا عون نے پکڑ ہی لیا حدید شاہ نے ہاتھ پیچھے کرنے چاہے جب عون نے دھیان صفا کی جانب کروایا
دھیان سے پکڑنا عون حدید نے نرمی سے ننھا وجود عون کو تھمایا جو اسے صفا کے پاس لے گیا
انابیہ ابھی بھی غنودگی میں تھی بالاج اس کے سرہانے بیٹھا اس کے بال سہلا رہا تھا
جازب وہاں مٹھائی لے آیا
جازب کمال کو دیکھ کر حدید کے چہرے کے نقوش بگڑے
زہر لگتا تھا یہ شخص حدید کو اور بالکل ایسے ہی تاثرات اور خیالات جازب کے بھی تھے حدید کو لے کر
میلا پالا بے بی میری جان میرا شہزادہ صفا بچے کے گالوں کو لبوں سے چھوتے بولی
بالکل اپنے معصوم پھوپھا پر گیا ہے دیکھو کتنا شریف ہے عون نے صفا کے ہاتھوں میں ہی جھک کر بچے کے گال کو چوما اس کی نزدیکی پر صفا زرا سٹپٹائی مگر سب کا دھیان ہوش میں آتی انابیہ کی جانب تھا
اتنے تم معصوم صفا نے آنکھیں گھمائیں
ہاں جانتا ہوں میرے جیسے دو معصوم اور آگئے تو ہوگیا دنیا کا کام تمام
زندگی عون نے گھمبیر لہجے میں اسے پکارا
میں کیا سوچ رہا ہوں اپنے جیسے دو معصوم لے ہی آئیں بچارے انتظار میں ہوں گے
بتائیں رخصتی کی ڈیٹ کا کہوں مما کو ؟ عون نے بے بی کی کھلتی آنکھوں کو دیکھ کر سرگوشی سی کی
پہلے کونسا تم مجھ سے پوچھ کر کچھ کر رہے ہو صفا نے مسکراہٹ دبا کر کہا عون کو تو جیسے جھٹکا لگا
میری زندگی راضی ہیں افف اللہ میں آج ہی بات کرتا ہوں ماں سے
اس کی آنکھیں تو میری جیسی ہیں
تبھی ایک دم عون نے پرجوش ہوکر کہا
تمہاری جیسی نہیں میری جیسی ہیں تم بھول رہے تمہاری آنکھیں بھی مجھ پر گئیں ہیں
حدید نے قدم ان دونوں کے قریب لے کر کہا
حدیقہ تو بچے کی نظر اتار رہی تھی ان کے اکلوتے بھانجے کا بیٹا تھا وہ دادی بن گئی تھیں
فیصل جاوید پر دادا بن گئے تھے ان کی خوشی بھی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی
گھر میں رونق سی آگئی تھی اس کا نام کیا رکھنا ہے حیا ؟
حدیقہ نے بچے کو پکڑ کر پوچھا
انابیہ اور بالاج رکھیں گے حدیقہ باجی حیا نے بچہ بلآخر اس کے ماں باپ کو تھما ہی دیا نہیں تو بچارا کبھی کس کے ہاتھ میں تو کبھی کس کے انابیہ نے اس کے گالوں کو سہلایا
باسل احمد انابیہ نے بالاج کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
اپنے پوتے کے نام کے ساتھ احمد سن کر حدید آبدیدہ سا ہوگیا تبھی وہاں سے نکلتا چلا گیا
پیچھے سب ہی آہستہ آہستہ چلتے بنے وہ انابیہ اور بالاج کو وقت دینا چاہ رہے تھے ۔۔۔
_______
میں ڈر گئی تھی بالاج
انابیہ نے سراسمیگی لہجے میں کہا آنکھوں میں وہ منظر لہرایا تو اس نے گود میں بھرے باسل کو خود میں بھینج لیا
بالاج نے دونوں کو ہی اپنے حصار میں لیا ڈر تو وہ بھی گیا تھا
شکریہ انا مجھے اتنا خوبصورت تحفہ دینے کے لیے، مجھے مکمل کرنے کے لیے، میرے لیے حوصلہ کرنے کے لیے ، میرے وجود کے حصے کو اتنی تکلیفیں اٹھا کر دنیا میں لانے کے لیے بالاج اسے کہہ رہا تھا ساتھ ساتھ اس کے ڈرپ لگے سوجھے ہاتھ پر بھی بوسہ دے رہا تھا ۔۔۔
لاج ہمارا بے بی وہ کھلکھلائی اس کی مسکراہٹوں میں تو بالاج کا سکون تھا ۔۔۔۔
——–
صفا عون کے ساتھ چلتی ہوئی جارہی تھی باتوں میں بس باسل کا زکر تھا عون بھی مسکرا مسکرا کر جواب دے رہا تھا۔۔
تھی اسے پیچھے سے کسی کی آواز آئی
صفا ۔۔۔۔
یہ آواز فائزہ کی تھی
صفا نے رخ اس کی جانب موڑا عون بھی اس کی جانب مڑا
فائزہ کیسی ہو ؟ صفا نے مسکرا کر پوچھا
اب بھی آپ مجھ سے میرا حال چال پوچھ رہی ہیں آپ کو تو مجھ سے نفرت ہو جانی چاہیے ہے میں آپ کو شجاع کے درمیان آگئی ۔۔۔
فائزہ نے بھرائے ہوئے لہجے میں کہا
میں کیوں تم سے نفرت کروں گی فائزہ شجاع کا نصیب تم تھی اور انسان کو وہ ہی ملتا ہے جو اس کے نصیب میں ہوتا ہے اور آخری بات تم میرے اور شجاع کے درمیان نہیں آئی میں آئی تھی تم دونوں کے درمیان تم دونوں کا نکاح ہماری منگنی سے پہلے ہوا تھا
صفا نے نرمی سے اسے سمجھایا
مگر وہ کہتے ہیں انہوں نے یہ نکاح مجبوری میں کیا ہے وہ ہمیشہ مجھ سے یہ ہی کہتے ہیں
فائزہ نے سسکی بھری
ایک بات یاد رکھنا فائزہ مرد ان معاملات میں کبھی بھی مجبور نہیں ہوتا اور نہ مجبوری میں رشتے آگے بڑھائے جاتے ہیں تم آج اس کی اولاد کی ماں بننے والی ہو اس احساس سے نکل آؤ کہ تم مجبوری تھی یاں تم نے میری جگہ لے لی
میری جگہ کبھی یہ تھی ہی نہیں میری جگہ جو تھی آج میں وہاں ہوں صفا نے کچھ فاصلے پر کھڑے عون کو دیکھا
مگر میں انہیں کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی ان کی وجہ سے مجھے ماموں کے آگے مامی کے آگے شرمندہ ہونا پڑا وہ اب اپنے بیٹے کی اولاد کی وجہ سے میرا ساتھ دینے پر مجبور ہیں
کیا وہ تمہارا خیال رکھ رہا ہے ؟
صفا نے فکر مندی سے پوچھا
شاید اپنی اولاد کے لیے فائزہ نے استہزایہ لہجے میں کہا
جس دن تمہیں لگے وہ بلا غرض تمہاری جانب بڑھ رہا ہے اس دن تاخیر نہ کرنا فائزہ
کبھی کبھی معاف کرنا پڑتا ہے فائزہ اچھی زندگی گزرانے کے لیے نہیں تو اس ناراضگی میں ہم اپنی زندگی کے بہترین عیام کھو دیتے ہیں
صفا نے اس کا ہاتھ دبا کر چھوڑا
فائزہ اس کا چہرہ تکنے لگی
میں اس دن کا انتظار کروں گی صفا اور آپ کے لیے دعائیں بھی
تبھی وہاں شجاع آیا مگر تب تک عون صفا کا ہاتھ تھام کر اسے لے جا چکا تھا ۔۔۔۔
———–
چند مہینوں بعد ۔۔۔۔
کل حیا کی عدت کا آخری دن تھا صبح فجر کی نماز ادا کرکے وہ معمول کے مطابق اپنی کافی بنانے کی بجائے سیدھا اپنے گھر کے لون میں آگئی ٹھنڈی تازی ہوا نے اس کے وجود میں سرایت کرتے اس کے اندر سکون بھر دیا گہری سانس بھر کر اس کے قدم مین گیٹ کی جانب تھے گارڈ نے حیا کو دیکھ کر سیلوٹ کیا ڈرائیور بھی گارڈ کے پاس بیٹھا چائے پی رہا تھا حیا کو دیکھ کر سیدھا ہوا
گاڑی نکالوں میڈم ؟
نہیں انعام بھائی میں پارک تک جارہی ہوں وہ موبائل پر آئی
ای۔میل چیک کرتے ہوئے ان سے بول کر نکل گئی ابھی اس کے پاس دو گھنٹے تھے کوٹ کے لیے نکلنے میں تبھی آج اس کا ارادہ تھوڑی سی مارننگ واک کرنے کا تھا
پارک میں نا ہونے کے برابر لوگ تھے جب اسے ہنسنے کھلکھلانے کی آوازیں آئیں حیا نے موبائل آف کرکے اپنا دھیان اس جانب مرکوز کیا جہاں ضعیف فربہا سی چار عورتیں ہنستے کھلکھلاتے ہوئے واک کرنے کی کوشش میں تھیں کبھی کوئی ایک آگے ہو جاتی تو تین پیچھے سے آوازیں لگاتیں تو کبھی کوئی دو پیچھے رہ جاتی تو اس کی ہمت بڑھاتیں۔
اسلام علیکم باسط میری آج کی میٹینگس کینسل کردو مجھے لاہور کے لیے نکلنا ہے دیکھو کوئی ارجنٹ فلائیٹ ہے تو مجھے انفارم کرو
ان عورتوں کو دیکھ کر حیا کو شدت سے اپنی ماں کی یاد آئی تھی اب وہ کیسے بھی ان کے پاس جانا چاہ رہی تھی ایک مسکراتی نظر ان پر ڈال کر وہ گھر کی راہ لیتی وہاں سے چل دی ۔۔۔۔
——–
ماں آپ کی کافی دینے ہی آرہی تھی آپ کہاں گئی تھیں ؟
صفا کافی کا کپ تھامے لاونج سے آتی حیا کو دیکھ کر بولی
ہاں میں واک کے لیے گئی تھی
حیا نے باسط کا میسج کا جواب دینے کے ساتھ صفا سے کہا
اسے بھی لے جاتی ماں ڈاکٹر نے کہا ہے غبارا بنتی جارہی ہے
تبھی وہاں انابیہ گود میں باسل کو اٹھا کر بالاج کے ساتھ چلتی آرہی تھی بالاج کے شرارت سے کہنے پر انابیہ نے اس کی پسلی پر اپنی کہنی بھی ماری تھی
اوچ ۔۔۔!!
کیوں بیٹا جی آپ کو مشکل لگ رہا ہے بیوی کو صبح واک پر لے جانا حیا نے آئی برو اچکا کر کہا
ہاتھ بڑھا کر باسل کو تھام لیا تھا
ہاں مشکل ہے اب کونسا میں انہیں پیاری لگتی ہوں موٹو موٹو کہہ کر چھیڑتے رہتے ہیں
انابیہ فوراً مگرمچھ کے آنسوں نکال کر حیا کی آغوش میں چھپی یہ الگ بات تھی چھپ وہ سکتی نہیں تھی
آہ نہیں نہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں شرط یہ کہ یہ میڈم بنا ڈرامے کیے اٹھ جائیں اتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اسے اٹھانے کے لیے
ہاں تو آپ کا فرض ہے اس کے نکھرے اٹھانا آپ کی نسل کی آمین ہے یہ آسان نہیں ہوتا ماں بننا
حیا نے انابیہ کے بالوں پر لب رکھے
ہاں نہ مما پوری رات باسل جگائے رکھتا ہے یہ تو گھوے بیچ کر سو جاتے ہیں انابیہ نے منہ بنا کر کہا
بالاج نے بھی محبت پاش نظروں سے ان تین عورتوں کا دیکھا جان عزیز تھیں وہ تینوں اس کو
کل سے واک سٹارٹ نہیں مانی تو گود میں اٹھا کر لے جاؤں گا
بالاج نے انابیہ کے پاس آتے اسے کہا
ساتھ باسل کے ماتھے پر لب بھی رکھے
پھر واک بھی مجھے ہی گود میں اٹھا کر کر لیجیے گا آپ کا جم بھی ہوجائے گا
انابیہ نے کہہ کر زبان نکال کر دودھ کی باٹل باسل کے منہ کو لگائی بہت ہی شرارتی بچہ تھا باسل
بالاج نے دودھ کا گلاس بھر کر اس کے آگے رکھا
میں لاہور جارہی ہوں مما کی طرف گھنٹے بعد فلائٹ ہے میری صفا آپ اکیلے چلے جاؤ یاں بالاج آپ کو چھوڑ دے گا اور بالاج آج انابیہ اور باسل کے پاس آپ ٹھہرو گے
آپ بے فکر رہیں ماں نانو کو ہماری طرف سے پیار دیجیے گا
بالاج نے اٹھ کر ماں کو حصار میں لیتے ہوئے کہا
ہاں ضرور اپنا دھیان رکھنا بیا اور کوئی گند مند نہیں ڈاکٹر نے منع کیا ہے پھر باسل تنگ ہوتا ہے بالاج حیا نے تنبیہہ کی کیونکہ بالاج جتنا مرضی سخت ہوجاتا انابیہ کے آنسوں کے آگے سب دھرا کا دھرا ہی رہ جاتا تھا تب صرف حیا ہی انابیہ کو ڈیل کرتی تھی ۔۔۔
مما یار اب میں بچی نہیں ہوں بیٹے کی ماں ہوں انابیہ نے فخر سے باسل کو خود سے لگا کر کہا تبھی اگلے پل اس کے راج دلارے نے دودھ اس پر نکال کر ماں کے فخر کو میلیا میٹ کیا
انابیہ نے روہانسا ہوکر حیا کو دیکھا جس پر ہنس دی آج کافی عرصے بعد وہ کھل کر ہنسی تھی انابیہ بھی ہنس دی صفا نے جلدی سے ویٹ وائپ سے باسل کا منہ صاف کیا
یہ نیا اضافہ ان تینوں کی زندگی کا خوشگوار حصہ تھا باسل کی شرارتیں مستیاں ان تینوں کی زندگی تھی
———
لاہور کی فلائٹ لے کر وہ سیدھا افتخار ہاؤس آئی تھی دروازہ پری نے کھولا تھا وہ حیا کو دیکھ کر چیخ اٹھی
پھوپھو وہ حیا کے گلے لگ گئی حیا نے مسکرا کر اسے خود سے لگایا
پری کو دیکھ کر اسے اپنی جوانی یاد آتی تھی یہ لڑکی ہوبہو اس کا عکس تھی اتنی مشابہت
پھوپھو واٹ آ سرپرائز حمزہ بھی پھوپھو کو دیکھ کر گرمجوشی سے ملا
حیا دونوں بھائیوں سے مل کر حاجرہ بیگم کے کمرے میں آئی
سمعیہ کے ساتھ بیٹھی باتیں کرتی حاجرہ بیگم حیا کو دیکھ کر خوشی سے کانپتی ہوئی کھڑی ہوئی
حیا نے ان کے نخیف سے وجود کو بانہوں میں بھر لیا
پھوپھو آپ بے بی کو بھی ساتھ لائی ہیں ؟ سمعیہ نے اشتیاق سے پوچھا
نہیں پھوپھو کی جان ابھی بے بی بہت چھوٹا ہے آپ آنا نہ اس سے ملنے حیا نے سمعیہ کی گال چھو کر کہا
تبھی کوثر بھاھی حیا کے لیے جوس لے کر کمرے میں آگئی
بہت بہت مبارک ہو حیات دادی بن گئی ہو
شکریہ بھابھی حیا کوثر بھابھی کے گلے لگی
کیا کھاؤ گی ؟ میں نے کل تمہارا پسندیدہ آلو گوشت بنایا تھا کھانا لگواؤں ؟
نہیں بھابھی بھوک نہیں بس امی سے ملنے کا دل چاہ رہا تھا وہ ماں کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں موند گئی
امی آپ کی بیٹی دادی بن گئی ہے وہ ماں کے ہاتھوں کو چوم کر بتا رہی تھی
عدنان نے بتایا تھا ان کی نخیف سی آواز ابھری
میں بہت تھک گئی ہوں ماں بابا کی بہت یاد آرہی ہے وہ اپنے آنسو ماں کی گود میں چھپا گئی
تمہارے بابا بہت خوش ہوں گے حیاتی میں ملوں گی ان سے تو بتاؤں گی ہماری حیاتی بہت بڑی ہوگئی ہے اب تو خود دادی بن گئی ہے
وہ حیات کے بالوں کو سہلاتی ہوئی خوشی سے بتا رہی تھیں
———-
کمال اعوان خان ہاؤس میں موجود تھے مگر یہاں آکر انہیں معلوم ہوا حیا گھر پر نہیں ہے لاہور گئی ہوئی ہے
تبھی انہوں نے پھر سے اپنی گزارش بالاج کے سامنے رکھی
معلوم نہیں زندگی کتنی بچی ہے مگر اس سے پہلے اپنے بیٹے کا بستا گھر دیکھنے کی خواہش ہے بچے
ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں آپ بالاج نے ان ہاتھوں کو تھاما
صفا بھی وہی کھڑی تھی
اس گزرے عرصے میں اس نے جازب کو ماں کے ساتھ سوچ کر پرکھا تھا اب تو اس کی بھی خواہش تھی ماں اور جازب انکل ایک ہو جائیں
ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے انکل مگر ماں ۔۔۔۔ انہیں کیسے منائیں گے ہم ؟
صفا نے ہاتھوں کو مسل کر کہا
تمہاری ماں تم بچوں سے بہت پیار کرتی ہے تم لوگوں کی خاطر وہ کچھ بھی کر گزر سکتی ہے بہت خوش نصیب ہو تم لوگ اللہ سے دعا ہے وہ مان جائے ۔۔۔ کب تک آئے گی وہ واپس ؟
کل تک ۔۔ کل تک آجائیں گی ماں صفا کے بتانے پر وہ اٹھے
ساتھ ہی جازب کو حیا کے لاہور ہونے کا بھی بتا دیا ۔۔۔۔
———-
ایک پورا دن ماں کے ساتھ گزار کر وہ بہت پرسکون تھی اگلی صبح خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا گیا جب وشمہ بھابھی حیا کے پاس آگئی
وہ پہلی جیسی وشمہ تو لگ ہی نہیں رہی تھی کھلتے چہرے میں وہ شادابی نہیں رہی تھی آنکھوں کے نیچے ہلکے فربہا وجود سوکھ گیا تھا رنگت سانولی پڑی ہوئی تھی
مجھے معاف کر دو حیات مجھ سے کچھ عرصہ اپنے گھر والوں کی لاتعلقی برادشت نہیں ہوسکی اور تم نے اتنا طویل عرصہ میری وجہ سے ان کے بغیر گزار دیا
وشمہ بھابھی کو روتا دیکھ کر کہا حیا نے ماں کے چہرے کی جانب دیکھا انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تو حیات نے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ پکڑ لیے۔۔۔
میں کبھی کبھی سوچتی ہوں آگر آپ مجھے یہاں پناہ دے دیتی تو آج جو میں ہوں وہ نہ ہوتی کیا معلوم میرے بچے بھی چھین لیے جاتے اور میرا یہ دکھ بھی بابا سے برادشت نہ ہوتا
جو ہوا میں ان سب سے آگے بڑھ آئی ہوں بھابھی اس شخص سے آزادی لینے کے بعد میں اپنے ماضی کو بھلا چکی ہوں بس پرسکون ہوکر زندگی گزارنا چاہتی ہوں ان پچیس سالوں نے بہت تھکا دیا ہے مجھے اب اور چلنا نہیں چاہتی
عدنان بھائی نے آگے بڑھ کر حیا کو اپنے حصار میں لے لیا پری نے بھی مسکرا کر حمزہ کو دیکھا
پھوپھو کچھ دیر اور ٹھہر جائیں نہ پلیز پری نے التجا کی
نہیں بس میں چلتی ہوں میرا بچہ اب تم لوگ آنا ۔۔۔
وہ مسکرا کر گاڑی میں بیٹھی جب اس کا فون بجا جازب کی کال تھی
حیا صاحبہ ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں یہاں پہنچ جائیے گا حیا نے ماتھے پر بل ڈال کر ایڈریس کو دیکھا یہ کیا طریقہ تھا حکم جھاڑنے کا۔۔۔۔
———-
کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی حیا صاحبہ ؟
اتنا دوبدو انداز حیا ایک پل کو چپ کر گئی
آپ نے یہ کہنے کے لیے مجھے یہاں بلایا ہے جازب صاحب ؟
جی کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی
نہیں ۔۔۔ اس نے صاف انکار کیا
کیوں ۔۔۔ انکار کی وجہ بتائیں اگر قابلِ قبول ہوئی تو ضرور پیچھے ہٹ جاؤں گا
اب یہ شادی میرے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی حتیٰ کہ ضرورت کی بھی نہیں
آپ اچھی سی لڑکی دیکھیں اور اس سے شادی کرلیں یقین کریں میں آپ کو کوئی خوشی نہیں دے سکتی
اور محبت کا کیا ؟
جازب نے نظریں اس کی سبز آنکھوں پر مرکوز کیں
ان آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد تھا جن سے حیا نظریں چراتی تھی
آج بھی حیا نے نظریں پھیر لیں
یہ سب فرضی باتیں ہوتی ہیں شادی ضرورت
مجھے بہت دُکھ ہوا حیا صاحبہ آپ نے میری محبت کو ضرورت کے ساتھ مشروط کیا
جازب نے اسے مزید کچھ کہنے سے ٹوک کر بڑے ٹھنڈے لہجے میں کہا
دیکھیں جازب صاحب آپ کوئی ٹین
صحیح کہہ رہی ہیں حیا صاحبہ میں کوئی ٹین ایجر نہیں ہوں اور اگر شادی اتنی ہی ضرورت پورا کرنے کا سامان ہوتی تو میں آج آپ کو پرپوز نہ کر رہا ہوتا
بیس سال پہلے ہی کرچکا ہوتا جب میں جوان تھا جب آپ جوان تھی جب بقول آپ کے ضرورت پیک پر ہوتی ہے مجھے تب بھی علم نہیں تھا کہ آپ کسی کے نکاح میں ہیں اس وقت
جازب کے لہجے میں غم و غصے کی جھلک تھی حیا نے لب بھینج لیے یہ شخص مگر وہ اٹھ گئی اور جازب وہی بیٹھا رہ گیا ۔۔۔
———-
جازب شکست خوردہ قدم لیے گھر آیا کمال اعوان صاحب اس کے سست قدموں کو دیکھ کر نفی میں سر ہلا گئے
نکمی اولاد نہ مزہ نہ سواد ۔۔۔
ایک لڑکی نہیں منائی جارہی تم سے
آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے چار شادیوں کا تجربہ ہے آپ کا جازب نے پٹخ کر جواب دیا
اب مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا
———
