212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 75)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

صبح صادق طلوع آفتاب کا وقت فجر کی اذانوں کی ہلکی ہلکی آوازیں کانوں کو سکون دے رہی تھیں صفا کی آنکھ بھی اذان کی آواز پر کھلی کسلمندی سے اٹھتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں ہی بنے ٹیرس میں چلی آئی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اس کی ساری سستی دور بھگا دی وہ گہرے سانس لیتی مسکرائی تبھی اس کی نظر بے دھیانی میں اپنے گھر کے بیک سائیڈ والے حصے کی سڑک پر گئی یہ وہی جگہ تھی جہاں اکثر عون وارد ہوا کرتا تھا کبھی اسے چڑانے کے لیے کبھی اس سے معافی مانگنے کے لیے کبھی اپنی بائیک پر تو کبھی اپنی گاڑی سے ٹیک لگا کر

اسے معلوم بھی نہ ہوا کب اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی

کیا عون کی محبت واقع ہی اتنی سچی تھی جو آج وہ اس کے نام ہونے والی ہے ؟

کیا واقعی اس کی محبت میں صدق تھی۔۔۔

کیا اسے عون کو معاف کر دینا چاہیے ؟ دل میں سوال سا اٹھا مگر وہ سر جھٹک کر اندر بڑھ گئی وضو بنایا اور اپنے رب کے آگے سجدے میں چلی گئی

جو بھی تھا وہ مطمئن تھی کشمکش کا عالم نہیں تھا سکون تھا دل میں ۔۔۔۔

——–

آخر وہ دن آہی گیا تھا جب صفا اور عون ایک ہونے والے تھے

خان ہاؤس کو دلہن کی مانند سجایا گیا تھا ۔۔۔ زیادہ مہمان نہیں تھے بس حیا کی جانب سے جازب اور کمال اعوان ہمیشہ کی طرح حاضر تھے کچھ دفتری جان پہچان والے لوگ اور حیا کے گھر سے عدنان اور سلمان بھائی حمزہ کے ساتھ آئے تھے بھابھیاں حاجرہ بیگم کی طبیعت کی وجہ سے ا نہیں سکی اور بچوں کے پیپرز تھے ۔ حمزہ حیا اور بالاج سے مل کر صفا کے کمرے کی جانب بڑھا جہاں انابیہ اور صفا کو بیوٹیشن تیار کر کے جا چکی تھی ؟۔۔۔

اپنے کمرے میں بیٹھی سفید غرارے میں بہت حسین لگ رہی تھی ہلکا پھلکا میک اپ اور ہاتھوں میں کھلتے مہندی کے نقش و نگار روپ تو جیسے اس پر ٹوٹ کر آیا تھا صفا حمزہ نے اسے دیکھ کر بے ساختہ اس کی نظر اتاری اپنے والٹ سے پیسے نکال کر اس پر سے وار کر اپنے لیے جوس لاتی ملازمہ کو تھمائے۔۔۔۔۔

صفا حمزہ کو دیکھ کر مسکرائی تھی

تبھی حمزہ کے فون کر پریہان کی ویڈیو کال آنے لگی

اس نے مجھے کہا تھا کہ جاتے ساتھ ہی میری صفا سے بات کروانا اور دیکھ لو اس کی کال بھی آ گئی ہے

ہاں تو وہ خود آجاتی

“کیسی ہیں مسسز پریہان حمزہ صاحبہ “

صفا کے انداز تخاطب کے ساتھ حمزہ کی نظروں کی حدت پر پری بے ساختہ بلش کر گئی

اتنی کھلکھلاہٹیں بتا رہی ہیں وہاں بھی معاملہ دل کا ہے

پری کے شریر لہجے پر صفا کر گڑبڑائی تو حمزہ بھی ہنس دیا

تم دونوں بہت تیز ہو اور تم ہمیں بہت عزیز ہو میری جان خوش رہو آباد رہو تمہاری مسکراہٹ میرے اور حمزہ کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے پری نے اسے دعائیں دے کر فلائنگ کس اس کی جانب اچھالی جسے صفا کے کچھ کہنے سے پہلے ہی حمزہ نے کیچ کرنے والے انداز میں اچک لی

صفا اب پری کی طرح دیکھ کر پری کے سے انداز میں مسکرائی

جس پر پری سٹپٹا پر حمزہ کو گھورتے ہوئے فون کاٹ گئی ۔۔۔

———

تیاریاں تو شاہ ہاؤس میں بھی خاصی عروج پر تھیں

عون صاحب سفید رنگ کی شیروانی میں نظر لگ جانے کی حد تک ہینڈسم لگ رہے تھے حدیقہ تو کتنی دفعہ اس کی نظر اتار چکی تھی حدید نے عون اور صفا کے لیے پورا ہوٹل بک کروایا تھا کیونکہ نکاح جمعے کے بعد تھا تو رات کا ڈنر ان دونوں کو حدید کی طرف سے تھا

ابراہیم شاہ ، فیصل جاوید ، حدید عون یہ سب جمعہ پرھنے گئے تھے عورتیں تیار تھیں مردوں کے آتے ہی ان سب نے خان ہاؤس کی جانب نکل جانا تھا ۔۔۔

———

زیاد اور نشاء کی اس دن کوٹ سے واپسی پر بری طرح لڑائی ہوئی تھی جب زیاد کو علم ہوا حیا خان نشاء کے سابقہ شوہر کی دوسری بیوی تھی جسے نشاء نے زیاد کے ساتھ مل کر دھوکہ دیا تھا زیاد سر پکڑ کر بیٹھ گیا اسے سمجھ آگئی تھی یہ گھر ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے کیونکہ جازب کمال کو ہرانے والی بس حیا خان ہی تھی اور وہ کیونکر نشاء کا ساتھ دیتی اسی بے بسی میں زیاد نے نشاء کو بہت سنا بھی دی حالانکہ دھوکے میں تو زیاد لغاری بھی شامل تھا حدید شاہ کا پرانا حریف

لڑائی کے بعد زیاد نشاء کو فلیٹ میں ہی چھوڑ کر وہاں سے نکل گیا اس نے نشاء کی حالت پر بھی غور نہ کیا

نشاء پاگل ہوکر چلا رہی تھی تین دن سے زیاد گھر نہیں آیا وہ شدید ڈپریشن میں اور پیٹ میں اٹھتے درد کے باعث بے ہوش ہوگئی ۔۔۔

اگلی صبح زیاد جب فلیٹ آیا تو نشاء کو بے ہوش دیکھ کر اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے وہ اس کی جانب لپکا

نشاء نشاء تم ٹھیک ہو نشاء

ارد گرد پھیلا خون ایک پل کو زیاد کا دل ہی رک سا گیا وہ اسے اٹھائے ہاسپٹل کی جانب بھاگا ۔۔۔

———-

لڑکے والے آگئے ہیں ۔۔۔

وہ کوئی حیا کے جاننے والوں کی بیٹی تھی اس نے آکر انابیہ کے پاس بیٹھی صفا کو اطلاع دی تو یک دم ہی صفا کی گرفت انابیہ کے ہاتھ پر مضبوط ہوئی

انابیہ نے اسے دھیرے سے اپنے ساتھ لگایا اپنے لیے دعا کریں آپی اپنی آنے والی زندگی کے لیے کہتے ہیں نکاح کے وقت لڑکی کی مانگی ہوئی دعا عرش تک جاتی ہے

انابیہ کہہ کر اُٹھی ۔۔۔

تبھی حیا اور بالاج اندر آئے ایک جانب بالاج اور دوسری جانب حیا وہ ان دونوں کے معیت میں سٹیج تک آئی جس کے درمیان میں پھولوں کی دیوار تھی اور دوسری جانب اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ عون ابراہیم موجود تھا

نکاح کی رسم شروع کی گئی

صفا حدید ولد حدید شاہ آپ کا نکاح عون ابراہیم ولد ابراہیم شاہ کے ساتھ دس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟

صفا کے ہاتھ کانپنے زبان کچھ بھی بولنے سے انکاری ہوا تھا آج اس نے پہلی بار اپنے نام کے ساتھ حدید شاہ کا نام سنا تھا اس کی سسکی دوسری جانب بیٹھے عون نے بھی سنی اور حدید شاہ نے بھی اور وہ دونوں ہی بے چین ہوئے

بالاج خود صفا کو روتا دیکھ کر کچھ پریشان ہوا

ماموں وہ آپ کی بیٹی ہے آپ جائیں ان کے پاس پلیز عون نے درخواست کی تھی اس سے پہلے حدید اس تک جاتا

تبھی جازب کمال نے آگے بڑھ کر صفا کے سر پر ہاتھ رکھا صفا نے روتے ہوئے سر اوپر اٹھایا جازب کمال کی آنکھوں سے جھلکتی محبت و شفقت اس نے کانپتے ہوئے قبول ہے کہا ۔۔۔

دوسری دفعہ ۔۔۔

پھر تیسری دفعہ ۔۔۔

حیا نے آگے بڑھ کر صفا کو گلے لگا لیا جو اتنی شدت سے روئی کے سب ہی پریشان سے ہوگئے ۔۔۔

بس میرا بچہ بھیا ہے نہ تمہارے پاس بالاج نے اسے اپنے حصار میں لیا اس کے بال سہلائے

اگر کبھی تمہیں یہ تنگ کرے نہ تو مجھے بتانا اسے میں خود ہی سیدھا کردوں گا ویسے بچارا تم سے جتنا ڈرتا ہے نہ مجھے نہیں لگتا تمہیں مجھے بتانے کی ضرورت پڑے گی بالاج نے صفا کو ہنسانے کے لیے اس کے کان میں سرگوشی کی جس پر وہ ہنس بھی دی تھی ۔۔۔

وہی دوسری جانب تیسری دفعہ قبول ہے کہتے ہی صفا اور عون کے درمیان سے پھولوں والی دیوار ہٹا دی گئی دونوں کو ایک ساتھ بٹھا دیا گیا تھا ۔۔۔

صفا کے ہاتھ ابھی بھی دھیرے دھیرے کانپ سے رہے تھے جب اس کے پاس بیٹھے عون نے نرمی سے اس کے کانپتے ہاتھ کو اپنی گرم ہتھیلی میں لیا

صفا کا دل زور سے دھڑکا اس نے ہاتھ چھڑوانا چاہا

مگر عون نے انہیں نہیں چھوڑا

ابھی بھی ناراض ہیں آپ صفا لہجے میں محبت ہی محبت تھی

صفا پلیز کچھ تو بولیں کاش یہاں کوئی نہ ہوتا تو میں آپ کا ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر آپ کو اس کی پاگل ہوتی دھڑکنیں سناتا

پلیز ناراضگی چھوڑ دیں نہ اپنے معصوم سے شوہر کو معاف کردیں

وہ دھیرے دھیرے سے سرگوشیاں کر رہا تھا

صفا کا دل پگھلتا جارہا تھا مگر اس نے ظاہر نہیں کیا

جب حمزہ اس کے پاس آیا تمہاری ہی بیوی ہے بھئی

وہی نہ میری ہی بیوی ہے کسی کو کیا مسئلہ سامنے بھی عون تھا

حمزہ نفی میں سر ہلا کر ہنس دیا جبکہ صفا نے عون کو زور سے چٹکی کاٹی

وہ بچارا کراہ بھی نہیں سکا

تبھی ویٹر کھانا لگانے لگے

صفا ان کمفرٹیبل تھی اتنا تیار ہوکر کھانا کیسے کھا سکتی تھی اوپر سے اس کا دوپٹہ

میں کھلا دوں عون نے پھر سے جھک کر کہا تو اب صفا سچ میں زچ ہوگئی

عون ابراہیم میں تمہارا گلا دبا دوں گی اگر تم اب چپ نہ ہوئے تو

صفا کی تپی تپی سی آواز پر عون کو جیسے سکون سا آیا

ارے یار کیا ہوا ہے بالاج بھائی بھی تو بھابھی کو کھلا رہے ہیں عون اب تم نے ایک بھی لفظ کہا نہ تو آئی سوئیر میں بھول جاؤں گی ہم دونوں سٹیج پر بیٹھے ہوئے ہیں

اوکے اوکے عون اب کہ سچ میں لائن پر آگیا اس کے لیے یہ ہی بہت تھا اس کی صفا اس سے بول رہی تھیں ۔۔۔

آہستہ آہستہ دوسرے سارے مہمان جارہے تھے اب بس عون کے گھر والے رہ گئے تھے یاں کمال اعوان جن کے پاس حیا کی ایک امانت تھی جازب ان کا باہر انتظار کر رہا تھا

یہ لو حیا تمہاری امانت جازب میرا انتظار کر رہا ہے میں چلتا ہوں کمال اعوان نے خاکی رنگ کا لفافہ حیا کی جانب بڑھایا وہ سر ہلا گئی مجھے بہت اچھا لگا آپ لوگ ہمیشہ میرا مان بڑھاتے ہیں سر جی وہ مشکور نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے بولی

تمہارا ہمیں اپنا ماننا ہی کافی ہے بچے یہ شکریہ کرکے شرمندہ نہ کرو ۔۔۔ وہ حیا کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے چلے گئے ۔۔۔

حیات مجھے کچھ کہنا تھا تم سے اگر تم اجازت دو تو کیا عون صفا کو کھانے پر لے جاسکتا ہے ؟ دراصل ابراہیم اور میں نے ان کے لیے سیٹ ریزرو کر وائی تھی حدیقہ نے معاً حدید کی جگہ اپنا اور ابراہیم کا نام لیا

اس میں میری اجازت کی کیا ضرورت ہے حدیقہ باجی عون شوہر ہے اب صفا کا وہ اسے لے جاسکتا ہے

اچھا پھر تم جاکر خود ہی انہیں اجازت دے دو عون نہیں چاہتا صفا آوکورڈ ہو اس لیے مجھ سے پہلے بات کر لی تھی اس نے

ہاں کیوں نہیں میں کہہ دیتی ہوں صفا کو آپ لوگ آجائیں اندر چلیں چائے کا انتظام ہوگیا ہے

ہاں ہاں میں آرہی ہوں مہمانوں کے اتنے شور شرابے میں آج بات بھی نہیں ہوسکی ۔۔۔

———-

عون حدیقہ کا انتظار کر رہا تھا دوسری جانب صفا عون کے ارادوں سے بے خبر اس بھاری سوٹ میں اب اکتا گئی تھی اب تو اس کے کندھوں میں بھی درد ہونے لگا تھا

وہ لوگ کافی دیر سے فوٹو چوٹ کروا رہے تھے گھر والے اندر چلے گئے اور مہمان واپس

تبھی اس نے ملازمہ کو آواز دے کر انابیہ کو بلانے کا کہا

کیا ہوا صفا آپ مجھے بتائیں کچھ چاہیے آپ کو ؟

میں بہت تھک گئی ہوں مجھے الجھن ہورہی ہے ان کپڑوں میں

صفا کی جھنجھلاہٹ سمجھتے عون اٹھ کھڑا ہوا

اور ہاتھ اس کی جانب بڑھایا آئیں آپ کو میں اندر کے جاتا ہوں آپ کرلیں چینج

مگر ابھی مہمان

جس کے لیے تیار ہوئیں تھیں اس نے دیکھ لیا نہ اب وہ نہیں چاہتا آپ کسی اور کے لیے اپنی جان پر مشقت کریں

صفا نے ٹرانس کی کیفیت میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر دھڑا

تبھی انابیہ وہاں آئی مگر ان دونوں کو دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے واپس مڑ گئی

صفا عون کا ہاتھ تھامے گھر کی پچھلی طرف بنی سیڑھیوں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔

آدھے گھنٹے بعد وہ کپڑے بدل کر باہر آئی تو عون اس کے انتظار میں باہر ہی کھڑا تھا

میک اپ اتارتی تو گھنٹے سے پہلے باہر نہ آتی تبھی ہلکا پھلکا سا ڈریس پہن کر وہ باہر آئی

عون نے مسکرا کر اسے دیکھا مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا آپ میری بیوی بن گئیں ہیں صفا اس نے صفا کے دونوں ہاتھوں کو تھام لیا

صفا ایک دم سٹپٹائی وہ جو اس نے عون سے منہ بنایا ہوا تھا بات نہ کرنے کا ارادہ تھا ایک دم بلش کر گئی

چھوڑو عون نیچے سب ہمارا انتظار کر رہے ہیں

ارے انتظار کیا گپیں لگا رہے ہیں یہ ہمارا ٹائم ہے مجھے اپنا کمرہ تو دیکھائیں وہ اسے لیے صفا کے کمرے میں ہی آگیا

واؤ مطلب اب سے میرا کمرہ بھی اتنا ہی صاف ستھرا رہے گا

عون نے آئی برو اُچکا کر توصیفی نظروں سے کمرے کا جائزہ لیا

تم نے شادی اپنا کمرہ صاف کروانے کے لیے کی ہے ؟

صفا نے غصے سے گھور کر اس کے بازو پر چپت لگائی

ارے یار کوئی اپنے کچھ گھنٹے پہلے کے معصوم شوہر کو مارتا ہے کیا ؟ وہ بازو سہلا کر بولا

ہاں اتنا تم معصوم دنیا میں تمہارے جیسے دو معصوم اور آگئے نہ تو سب کا کام تمام ہو جائے گا

ہاں اب تو میں شادی شدہ ہوں آسکتے ہیں دو میرے جیسے معصوم۔۔۔

وہ عون ابراہیم تھا اس کا شرم سے کیا تعلق

میں جارہی ہوں تم ادھر ہی رہو صفا نے اس کی باتوں سے بچنے کے لیے وہاں سے جانا مناسب سمجھا جب عون نے اس کا بازو تھاما

ایک چھوٹا سا گفٹ ہے آپ کے لیے وائٹ گولڈ کا بریسلٹ تھا جس پر چھوٹے چھوٹے ہیروں سے اے ۔ ایس ایلفابیٹ لکھے ہوئے تھے

میں پہنا دوں ؟ جانے کیا تھا عون کے لہجے میں صفا اپنا ہاتھ آگے کر گئی عون جی جان سے مسکرایا صفا کی سفید کلائی میں وہ بریسلٹ پہنا کر وہ اس کے ہاتھ کی پشت کو ہونٹوں سے چھو گیا ۔۔۔

وہ ہنوز ٹرانس میں تھی

اچھا یہ بتائیں آپ اتنا رونے کیوں لگی تھی اب میں جانتا ہوں میری شکل اتنی بھی بری نہیں کہ میری دلہن رونے ہی لگ جائے

عون نے اسے بیڈ پر بٹھا کر اس کے سامنے دو زانوں بیٹھ کر اس کے ہاتھوں کو تھاما

کچھ نہیں بس رونا آگیا

صفا آپ مجھے بتا سکتی ہیں آپ مجھ سے ہر بات شئیر کر سکتی ہیں اپنا ہر ڈر اپنی ہر انسیکیورٹی میں سب ہینڈل کرلوں گا ۔۔۔

عون نے مدھم سے لہجے میں کہا تو صفا کی آنکھوں میں پھر سے نمی جمع ہونے لگی

مما کو کل حدید شاہ طلاق دے دیں گے انہوں نے بتایا کل سے ان کی عدت شروع ہو جائے گی اتنے سارے غم میری مما کے حصے میں کیوں آئے ہیں عون اس رشتے نے مجھے خوفزدہ کردیا ہے

وہ سسکی تو عون فوراً اس کے پاس بیٹھا

ماموں ہرگز مامی کو طلاق نہیں دیں گے صفا وہ بہت پیار کرتے ہیں مامی سے مامی ابھی زرا غصہ ہیں ماموں انہیں منا لیں گے ۔۔۔

صفا کو جھوٹی آس مت دو عون

حیا کی آواز پر وہ دونوں بے ساختہ کھڑے ہوئے

مامی

اگر تم مجھے مامی کی جگہ آنٹی یاں اب صفا کی طرح مما کہو گے تو زیادہ اچھا لگے گا

مامی میں جانتا ہوں آپ ناراض ہیں غصہ ہیں مگر یقین کریں ماموں آپ سے بہت محبت کرتے ہیں

تمہارے ماموں کسی سے محبت نہیں کرتے عون اور یہ کاغذات اس بات کا ثبوت ہیں یہ معاہدے کے کاغز جن کر اس نے چار دن پہلے دستخط کیے تھے اور یہ طلاق کے جس پر وہ ابھی دستخط کرکے چلا گیا ہے ۔۔۔۔

چار دن قبل

گاڑی نے قدم گاڑی کی جانب بڑھائے کچھ منٹ بعد وہ وہاں آیا

اس کے ہاتھ میں نوٹس تھا وہی نوٹس جو اسے حیا کی جانب سے موصول ہوا تھا میں ان کاغزات پر دستخط کردوں گا اگر تم صفا اور عون کی شادی کے لیے رضامندی دیتی ہو

حدید کی آواز پر حیا نے جھٹکے سے سر اٹھایا

اپنی بیٹی کی خوشی اسے کسی ڈیل کے نتیجے میں نہیں دوں گی حدید شاہ

ایک اور کاری ضرب حدید کا بڑھا ہوا ہاتھ پہلو میں آگڑا تھا

عون صفا سے بہت محبت کرتا ہے تم کہو گی تو میں عون کی زندگی سے چلا جاؤں گا بس ایک دفعہ مجھے رضامندی دے دو میں کاغذات پر بھی دستخط کردوں گا ۔۔۔

حیا نے اسے دیکھ کر سر جھٹکا حدید شاہ سائیکو تھا پاگل تھا

حدید نے پہلے صفحے پر دستخط کیے اور نوٹس حیا کے ہاتھ پر رکھ دیئے میں مُکروں گا نہیں حیات

کیا اتنی محبت ہے تمہیں اپنے بھانجے سے حیا ایک دفعہ کہنا چاہتی تھی پوچھنا چاہتی تھی مگر اس نے نہیں پوچھا

اگر صفا اور عون کا ساتھ ہونا اللہ نے لکھا ہے تو اسے کوئی بھی نہیں ٹال سکتا حدید شاہ اتنا کہہ کر وہ آگے بڑھی

حدید نے فوراً گاڑی میں بیٹھ کر اس کی طرف کا دروازہ کھولا

نہیں تو یقیناً وہ پیدل ہی نکل پڑتی ۔۔۔

گاڑی اسی چھوٹے ڈھابے پر پاس روک کر حدید حیا کے ساتھ ہی گاڑی سے نکلا

مجھے تم پر یقین نہیں ہے حدید شاہ پہلی کہانیوں کی طرح یہ بھی تمہاری کوئی چال ہو اس لیے دوسرا نوٹس تمہیں پہنچ جائے گا حیا اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر بولی

حدید کے قدم اُدھر ہی تھم گئے

تم نے کہا تھا تم عدت پوری کرو گی اس لیے ابھی سائن نہیں کیے تاکہ پہلے تسلی سے عون اور صفا کی منگنی یاں نکاح ہوجائے

حیا کے ہاتھ گاڑی کے دروازے پر جم گئے پھر گہری سانس لی اور طنزیہ مسکراہٹ کے گاڑی میں بیٹھی

اور پیچھلی کہانیوں کو تمہارا جھوٹا کہنا سمجھ سکتا ہوں تم کیسے یقین کرو گی میں خود آج تک یقین نہیں کرسکا

حدید کی بڑبڑاہٹ کافی واضح تھی

حیا نے سر جھٹکا مگر اس کی نظر گاڑی کے ڈیش بورڈ پر پڑی فائل پر گئی

یہ رہا تمہاری جھوٹی کہانیوں کا ثبوت حدید نشاء زیاد لغاری

بقول تمہارے جو کبھی ماں نہیں بن سکتی تھی ایٹ منتھ پریگنینٹ آج کل تمہارے تحفتاً دیئے ہوئے گھر کے لیے کیس لڑ رہی ہے ۔۔۔ وہ گاڑی کے شیشے سے کاغذ ہوا میں چھوڑتی وہاں سے نکلتی چلی گئی اس کا رخ اعوان ہاؤس کی جانب تھا اس وقت وہ جس ٹینشن میں تھی اسے کالم ڈاؤن کمال اعوان ہی کر سکتے تھے وہاں اس نے اپنی پریشانی بتانے کے ساتھ دستخط شدہ کاغذ بھی کمال اعوان کو تھما دیا ۔۔۔

حال ۔۔۔

میری جان تم میری بہادر بیٹی ہو ایک بہادر ماں کی بہادر بیٹی یہ دکھ آنے جانے والے ہوتے ہیں جیسے خوشیاں نہیں ٹھہرتی ویسے ہی دکھ بھی نہیں ٹھہرتے میرے رشتے کا انجام یہی تھا پچیس سال پہلے بھی اور آج بھی اتنے سال صرف اور صرف تمہارے اور بالاج کی حفاظت کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلی اب جب مجھے یقین ہے کہ تم دونوں سیف ہو اپنی اپنی زندگیوں میں خوش ہو تو مجھے بھی اپنے لیے سٹینڈ لینا چاہیے

مما میں اور بھائی آپ کے ہر فیصلے میں آپ کے ساتھ ہیں صفا شدت سے حیا کے گلے لگ گئی تھی

جبکہ عون بے چین ہوگیا حدید شاہ اکیلے تھے

مگر اس وقت وہ یہاں سے نہیں جاسکتا تھا اس بار بھی صفا کو چھوڑ کر جاتا تو یہ صفا اور اس کے ساتھ دونوں کے ساتھ ہی ناانصافی تھی

میں جانتی ہوں اور امید ہے عون تم بھی سمجھداری کا مظاہرہ کرو گے بچے کچھ فیصلے اٹل ہوتے ہیں ان کا ہونا لازم ہوتا ہے

خیر صفا عون تمہیں ڈنر میں لے جانا چاہتا ہے بچے تم چلی جاؤ اس کے ساتھ میں نیچے جارہی ہوں حدیقہ باجی اور ابراہیم بھائی ابھی ہی گئے میں بالاج کے ساتھ سب دیکھ لوں ۔۔۔