Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 73)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 73)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
کچھ دنوں بعد ۔۔۔!
صفا اب قدرے بہتر تھی۔۔۔ چہرے کی خروچیں بھر گئیں تھیں یوں ہی ایک رات وہ انابیہ کے ساتھ خاموشی سے عون کو بھی دیکھ کر آئی تھی جو اُس وقت سد شکر نیند میں تھا صفا کا یہ راز انابیہ کے پاس امانت تھا جس میں انابیہ نے خیانت نہیں کی صفا آگے دن ڈسچارج ہوکر گھر آگئی تھی بالاج نے صرف حیا سے شجاع والی بات کی تھی صفا اور انابیہ دونوں ابھی شجاع کی حرکت سے بے خبر تھیں
“آپی کیا آپ عون بھائی سے اتنی محبت کرتی ہیں ؟ “
انابیہ نے واشروم سے باہر نکلی صفا کو دیکھ کر غائب دماغی سے صفا نے چونک کر انابیہ کو دیکھا
“تم سے کس نے کہا مجھے اس سے محبت ہے چندہ وہ بس میرا اچھا دوست تھا اس نے میری مدد کی میرے لیے گولی کھائی اسی لیے میں اسے دیکھنے گئی تھی “
صفا نے نظریں چرا کر ہاتھوں کو صاف کرتے ہوئے کافی لمبی تمہید باندھتے ہوئے کہا
تھا ۔۔۔۔
انابیہ بڑبڑائی
” مگر میں نے تو آپ سے ہاسپٹل کے چکر کا کہا ہی نہیں میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی “
انابیہ نے اس کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھا
“کوئی فرق نہیں پڑتا میری زندگی میں شجاع خاور لکھا جاچکا ہے اور مجھے بھیا کا فیصلہ دل سے قبول ہے “
ان کے کمرے میں آتے بالاج نے مسکرا کر صفا کی آخری بات سنی تھی آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا
“مجھے فخر ہے اپنی گڑیا پر اور مجھے یقین ہے میری گڑیا آگے بھی اپنے بھیا کے فیصلے پر یقین کرے گی “
“بالکل ۔۔۔”
صفا نے بس ایک لمحے میں ہی خود کو کمپوز کرلیا تھا ۔۔
———–
دروازے کے کھٹکنے پر دروازے سے ٹیک لگا کر اپنے گھٹنوں میں منہ دیے بیٹھی فائزہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی ساری رات بیٹھے رہنے کی وجہ سے اس کی کمر اکڑ کر تختہ بن چکی تھی
“فائزہ تم سے ملنے کے لیے تمہارے گھر سے کوئی آیا ہے “
یہ آواز اس کے ساتھ والے کمرے میں رہائش پذیر عمیرہ کی تھی
فائزہ نے اپنے پورے چہرے پر ہاتھ پھیرا
“شاید ماموں ؟ نہیں۔۔۔ “
وہ اٹھی تبھی اسے زور سے چکر آیا ہے آنکھوں میں پھر سے آنسوں جمع ہونے لگے ساری رات الٹیاں اور اب یہ چکر
وہ اپنا حلیہ درست کرتی نیچے بڑھ گئی
اپنے ماں باپ کو صفا کی جانب سے انکار کرکے وہ کتنے دن اپنی کمرے میں قید رہا تھا شبانہ خاور اس کے انکار کو خود سے مشروط کرکے اس کی خاموشی پر اس بار واقعی خود خرض سی ہوگئی کہ کہیں وہ اپنا فیصلہ نہ بدل لے خاور صاحب نے بھی بیوی کے کہنے پر خاموشی اختیار کرلی آج اتنے دنوں بعد وہ فائزہ سے ملنے کے لیے گھر سے نکلا تھا وہ اپنا غلٹ فائزہ کی صورت میں بھلانا چاہ رہا تھا ۔۔۔
تبھی فروزی رنگ کے سادہ سے سوٹ میں برسو کی بیمار لگتی فائزہ نیچے آئی س کی گندمی رنگت میں زردیاں گھلی ہوئی تھیں
اپنے سامنے شجاع کو دیکھ کر فائزہ کی آنکھوں میں تعجب اور پھر غصہ اترا
فائزہ شجاع اسے دیکھتے کھڑا ہوا تھا کمرے میں بس وہ دونوں ہی تھے شجاع نے اپنا نام فائزہ کے شوہر کی حیثیت سے لکھوایا تھا تبھی ملاقات میں مسئلہ نہیں ہوا
٫آپ یہاں پر کیا کر رہے ہیں شجاع خاور ؟”
فائزہ کے لہجے کی غراہٹ پر شجاع ایک لمحے کو گڑبڑا گیا
“کیا ہوا ہے فائزہ؟ “
شجاع اس کے قریب چلا آیا
“اب کیا رہتا ہے کر تو چکے ہو مجھے برباد اب کیا دیکھنے آئے ہو شجاع خاور ؟؟ “
فائزہ شجاع نے اس کے بازوؤں کو تھامنا چاہا مگر وہ اسے جھٹک گئی
“چلے جاؤ یہاں سے مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ اس شکل سے نفرت ہے “
وہ پھنکار کر وہاں سے نکلنے کے لیے مڑی مگر شدید چکر کھا کر ادھر ہی بے ہوش ہوگئی
فائزہ کے بے ہوش وجود کو دیکھ کر شجاع کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے ۔۔۔۔
———-
“آج عون کا ڈسچارج ہے میں اس سے ملنے جارہا ہوں انا تم آجاؤ تمہارا چیک اپ بھی کروا لوں گا۔ گڑیا تم چلو گی ؟ “
بالاج نے انابیہ کو مخاطب کرتے آخر میں صفا سے پوچھا
“میرا وہاں کیا کام بھائی اب میں ٹھیک ہوں بلکہ بہت بہتر ہوں “
اس نے دل کو ڈپٹ کر کہا بدلے میں بالاج نے اس کی پیشانی چومی
“خوش رہو میرا بچہ اور ہاں مما کے پاس چلی جاؤ وہ بلا رہی تھی تمہیں آجاؤ آنا ۔۔۔”
————-
آج عون کا ڈسچارج تھا چھوٹے موٹے زخم اب مندمل ہوگئے تھے
مگر گولی کا گھاؤ کوئی چھوٹا تھوڑی تھا مگر وہ جلد از جلد ٹھیک ہونا چاہتا تھا بالاج نے اسے امید جو تھما دی تھی
حدید شاہ نے عون کے چمکتے چہرے پر نظر ڈالی پھر نظر پھیر لی کہ کہیں ان کی نظر نہ لگے جائے ۔
“ماموں بالاج بھائی نے صفا کے لیے حامی بھر دی ہے”
عون نے خود ہی حدید شاہ کو مخاطب کیا جو کب سے خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے
عون کی بات کر چونک کر اسے دیکھنے لگے
“میں بھی ایسے ہی حیران ہوا تھا ماموں “
وہ مزے سے بولا
اب بس ٹھیک ہوکر ان کے گھر جانا ہے صفا کا ہاتھ مانگنا ہے انہیں رخصت کرکے لانا ہے وہ تو سب تیاریوں کو سوچے بیٹھا تھا
“ان شاءاللہ ۔۔۔ ” حدید شاہ نے شدت سے اس کی خوشیوں کی دعا کی ۔۔۔
———-
“مبارک ہو مسٹر شجاع آپ کی بیوی امید سے ہے مگر یہ بہت کمزور ہیں اور ٹینشن بھی بہت لیتی ہیں۔۔۔ “
ڈاکٹر کے مسکرا کر کہنے پر شجاع نے چونک کر فائزہ کو دیکھا وہ نظریں چرا گئی شاید یہ ہی وجہ تھی وہ پہلے سے ہی جان چکی تھی تبھی شجاع کو دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئی تھی
شجاع نے بادقت مسکرا کر فائزہ کا ہاتھ تھام لیا اور اسے لے کر کھڑا ہوا
” بہت شکریہ آپ کا ڈاکٹر میں ان کا بہت دھیان رکھوں گا اگلی ملاقات میں آپ کو واضح فرق محسوس ہو جائے گا “
ڈاکٹر نے مسکرا کر ایک پرچی فائزہ کی جانب بڑھائی
“کچھ ٹیسٹ ہیں نیکسٹ ٹائم کروا کر آئیے گا ۔۔۔”
ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنے ٹیبل پر پڑی
گھنٹی بجائی یعنی کہ اگلے پیشنٹ کو بھیج دیا جائے ۔۔۔
تبھی مسکراتے ہوئے انابیہ اور بالاج اندر داخل ہوئے ۔۔۔
ارے انابیہ کیسی ہیں آپ ڈاکٹر نے بغیر ان چاروں کے چہرے پر نوٹ کیے انابیہ ڈے مسکرا کر پوچھا جس نے چونک کر بالاج کے حیران کن چہرے پر نظر ڈالی
“مسسز شجاع آپ اپنا پرس بھول رہیں ہیں “
ڈاکٹر نے فائزہ کو مخاطب کیا جس نے تیزی سے چئیر پر دھڑا اپنا پرس پکڑ کر بغیر کسی کو دیکھے باہر کی راہ لی
شجاع بھی فائزہ کے پیچھے کمرے سے نکل گیا
“یہ دونوں ؟ “
انابیہ نے بے ساختہ ڈاکٹر سے پوچھا
“کیا آپ ان دونوں کو جانتی ہیں انابیہ یہ میری نئی پیشنٹ تھیں فائزہ شجاع پریگننٹ ہیں مگر فرسٹ ٹائم ہیں تو بہت زیادہ گھبرائی ہوئی تھیں خیر یہ تو نارمل ہے آپ بتائیں کنڈیشن کیسی ہے آپ کی ؟ اب تو ماشاءاللہ تھرڈ منتھ سٹارٹ ہے آپ چلیں میں کرتی ہوں الٹراساؤنڈ”
وہ چئیر سے اٹھتے ہوئے بولیں
جبکہ بالاج سنجیدگی سے اس جگہ کو دیکھنے لگا جہاں سے ابھی ڈاکٹر گئی تھیں ۔۔۔
———-
کمال اعوان نے ہاتھ میں پکڑے نوٹس پر طائرانہ نظر ڈال کر حیا کو فون ملایا سامنے بیٹھا جازب کچھ تشویش میں لگ رہا تھا دوسری ہی بیل پر حیا کی جانب سے کال اٹھا لی گئی تھی
حال احوال کے بعد کمال اعوان مدعے کی طرف آئے
“حیا بچے دوسرا نوٹس بھیجنے کی ڈیٹ آگئی ہے۔۔۔ “
“جی سر جی میں جانتی ہوں ۔۔۔ آپ رہنے دیں دوسرا نوٹس میں آپ سے مل کر بات کرتی ہوں اس بارے میں آپ سے کچھ مشورہ درکار ہے ۔۔۔”
حیا نے سامنے ہاتھ میں سرخ گلاب کا بکے تھامے کھڑے حدید شاہ کو دیکھ کر کمال اعوان کو منع کیا
جبکہ کمال اعوان کے پاس بیٹھے جازب نے حیا کے جواں پر لب بھینج لیے سر کرسی کی پشت سے لگایا اور آنکھیں موند لیں
اس ارادے کے ساتھ اب وہ وقت ضائع نہیں کرے گا ایک دفعہ حیا کے روبرو ہوکر صاف صاف اپنا پرپوزل رکھے گا اور پھر چاہے آر ہو یا پار ۔۔۔۔ تبھی اس کے فون کی بیل بجی تھی “مخصوص بیل “
ہمیشہ کی طرح اپنے پورے وقار اور خوبصورتی سمیت ہلکے گلابی رنگ کی شلوار قمیض اور ہم رنگ دوپٹے کے ساتھ وہ بیٹھی ہوئی تھی سامنے گلابوں کا بکے اٹھائے حدید شاہ ۔۔۔۔!
———
“تم اتنی سخت دل تو کبھی نہیں تھی حیات !”
حدید نے افسوس کرتے ہوئے کہا
“حدید شاہ خلع کے کاغزات ایک دفعہ تمہیں موصول ہوچکے ہیں میں دوسری دفعہ بھی بھیج سکتی ہوں اور پھر تیسری دفعہ تمہیں خود کوٹ میں اپئیر ہونا پڑے گا اور یہ بات تم بھی جانتے ہو، تمہاری دولت بھی تمہیں کوٹ کے چکر لگانے سے نہیں پچا سکتی مگر آج میں نے تمہیں صرف اسی لیے بلایا ہے میں اس معاملے کو احسن طریقے سے نپٹانا چاہتی ہوں ، تم مجھے طلاق دو میں شرعی طریقے سے عدت کا دورانیہ مکمل کروں اور تمہارے رشتے کے بوجھ سے خود کو آزاد کروں”
کہتے ہوئے حیا کا چہرہ بہت سپاٹ تھا بالکل سرد نہ کوئی خوشی نہ کوئی غم
“تم تھوڑا وقت لو حیا میں نے تم سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کی میں نے تمہیں کچھ نہیں کہا مگر ہمارے بچوں ۔۔۔۔”
“تم حق رکھتے ہو حدید شاہ؟ “
حیا نے بات کاٹ کر بڑے طنزیہ انداز میں سوال کیا تھا
حدید ایک لمحے کو چپ ہوا
” ہمارے بچے ؟”
“انہیں عادت ہے حدید شاہ “
تبھی ٹیبل پر پڑا حدید کا فون بلنک ہوا تھا اور بڑی ہی بے ساختہ سی حیا کی نظر اس پر پڑی تھی جبکہ حدید کا دھیان ان سرخ گلابوں پر تھا جو یک دم ہی مرجھائے سے لگنے لگے تھے حالانکہ وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے بالکل تازہ پھول لایا تھا ۔۔۔۔
———-
حدید شاہ بہت عجلت میں نکلا تھا ریسٹورنٹ سے حیا نے اسے پکارا تھا مگر وہ بغیر اسے کوئی جواب دئیے نکل گیا
حیا بھی اس کے پیچھے اٹھ گئی وہ کبھی بھی اپنی گاڑی حدید شاہ کے پیچھے نہ لگاتی اگر جو اس نے حدید کے فون پر صفا کے نام کا میسج نہ دیکھا ہوتا جس پر اس کی بے ساختہ نظر پڑی تھی وہ گاڑی کو کچھ فاصلے پر رکھے حدید کے پیچھے ہی گاڑی سے اتری تھی یہ جگہ کھلے ڈھابے جیسی تھی اِکا دُکا ہی لوگ ہی موجود تھے حیا چھوٹے چھوٹے قدم لیتی اس بند سے ڈھابے کی جانب بڑھی
حدید شدید طیش میں کسی شخص کو مار رہا تھا یہاں تک کہ اس شخص کا چہرہ خون سے رنگ چکا تھا
تیری ہمت کیسے ہوئی میرے بھانجے کو گولی مارنے کی
صاب ۔۔۔ صاب معاف۔۔۔ وہ۔ غلطی اس کے دوسرا ساتھی بھی حدید کی زد میں آیا مار کھا رہا تھا
“تم کتوں کو لگا یہاں آکر چھپ جاؤ گے تو حدید شاہ سے بچ جاؤ گے تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی ٫
حدید پاگل ہوا ان کے منہ پر مکے برسا رہا تھا
“صاب ہم بس بے ہوش ۔۔۔۔ “
“جھوٹ بولتا ہے میرے ساتھ کمینے تجھے کہاں تھے اسے بے ہوش کرنا ہے اور میرے بھانجے کے آتے ہی اس سے تھوڑا سا لڑنا ہے تاکہ اسے شک نہ ہو اور تو نے اس پر ہی گولی چلا دی اگر میری بیٹی کو گولی لگ جاتی ؟”
وہ اب پیروں سے ٹھوکر مار رہا تھا
جبکہ فاصلے پر کھڑی حیا کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی
اس کے قدم لڑکھڑائے تھے
حدید ان دونوں گنڈوں کو مار کر جب سیدھا ہوا تو اس کی نظر سفید نچڑے چہرے کے ساتھ حیا پر پڑی
حیا کی آنکھوں سے جھلکتی بے یقینی پر حدید نے غصے سے مڑ کر ایک شدید ٹھوکر پیچھے درد سے کراہتے شخص کے منہ پر دے ماری ۔۔۔۔
حیات۔۔۔ حیا کو پیچھے کی طرف قدم لیتا دیکھ کر حدید نے اسے کلائی سے تھام کر پکارا
“طلاق کے کاغزات آج کی تاریخ میں دستخط کرکے مجھے مل جانے چاہیے حدید شاہ مجھے تمہاری شکل سے بھی نفرت ہورہی ہے “
حیات کا تفس بگڑ رہا تھا اتنا پڑا انقشاف کیسا باپ تھا وہ حیات نے اپنی کلائی چھڑوائی تھی اس کی گرفت سے
حدید نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی گاڑی کی جانب قدم بڑھائے
میری بات سنے بغیر میں تمہیں یہاں سے جانے نہیں دوں گا حیات
حدید نے بھڑک کر کہا
حیات کے پیروں میں جان نہیں تھی وہ حدید کے کھینچتی چلی گئی الفاظ ختم ہوگئے تھے کچھ نہیں بچا تھا
تم نے اپنی ہی بیٹی کو اغواہ کروا لیا حدید شاہ؟ گاڑی شہر سے دور جاکر کھڑی کی تھی حدید نے سامنے ہر سو سبزہ پھیلا ہوا تھا
جب حیات کی آواز پر حدید نے نظر اٹھا کر ا سکے چہرے پر ڈالی
کچھ دیر پہلے جو چہرہ حد سے زیادہ سپاٹ تھا اس میں بیک وقت کہیں احساسات جھلک رہے تھے
کیا پہلے والا حملہ بھی تم نے ہی کروایا تھا ؟
نہیں حدید نے سر اٹھا کر فوراً اس کی نفی کی
تم اتنے خود غرض کیوں ہو حدید شاہ مجھے جب لگتا ہے اس سے زیادہ تم نہیں گر سکتے تم اگلے پل کچھ ایسا کر کے دیکھا دیتے ہو کہ مجھے نفرت ہونے لگتی ہے تم سے
یہ وہ الفاظ سے جو حیا کبھی بھی حدید شاہ کو نہیں بتانا چاہتی تھی وہ اس سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی تھی حتیٰ کہ نفرت کا بھی نہیں
مگر اس وقت اس کا دماغ ماؤف ہوچکا تھا
کیا تمہارا بھانجا بھی شامل ہے اس سازش میں حدید شاہ ؟ وہ غائب دماغی سے بولی
“نہیں حیات اسے نہیں علم پلیز اسے مت بتانا یہ سب میں نے کیا تھا میرا غلط ارادہ نہیں تھا صفا کی سیفٹی کے لیے اس پر ہوئے پہلے حملے کے بعد اسے کڈنیپ ہی کروایا جانا تھا “
بلاشبہ عون ابراہیم میں حدید شاہ کی جان بستی تھی
تو تم نے سوچا کیوں نہ میں ہی کروا لوں اسے کڈنیپ پھر اپنے بھانجے کو بھیج کر اسے بچانے کا دکھاؤا کرواوں گا ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے
حیات نے غصے سے اس کا کالر تھام لیا ان گنڈوں کے مکروہ چہرے دیکھ کر وہ تب سے ہول رہی تھی
“میں نے کہا نہ حیات وہ صفا کی سیفٹی ۔۔۔”
“وہ صفا کے ساتھ کچھ بھی کرسکتے تھے حدید شاہ وہ اگر تمہارے بھانجے کو گولی مار سکتے ہیں تو وہ میری بیٹی کی عزت بھی خراب کر سکتے تھے حدید مگر تمہیں یہ بات کب سمجھ آئے گی تمہارے لیے عزتوں سے کھیلنا کونسا مشکل کام ہے تم تو ماہر ہو اگر تمہاری بیٹی کی بھی عزت سے کوئی کھیل جاتا تو تمہیں اتنا دکھ کہاں ہونا تھا یہ تو ۔۔۔۔”
حیات۔۔۔۔ حدید دھاڑا تھا حیات جو گیلی آنکھوں سے اس کا کالر جھنجھوڑ رہی تھی ایک دم سے ساکن ہوگئی کالر اپنے ہاتھوں سے آزاد کیا وہ وہی بیٹھتی چلی گئی
“تم نہیں سمجھ سکتے حدید شاہ تم نہیں۔۔۔
راتوں کو اٹھ کر اپنے بچوں اور اپنی عزت کی حفاظت کرنا
تم نہیں سمجھ سکتے ایک لڑکی کی عزت کتنی نازک ہوتی ہے “
حدید نے کرب سے آنکھیں موند لیں ۔۔۔
اس نے قدم اپنی گاڑی کی جانب بڑھائے تھے
———-
بالاج اور انابیہ بہت خاموش سے گھر آئے تھے
بالاج انابیہ کو شجاع کی پہلی حرکت کے بارے میں بھی بتا چکا جسے سن کر انابیہ کو شجاع کی سوچ اور اس کے دھوکے پر افسوس ہوا تھا
ہم اتنے ہی کم تر ہیں انا ہمارا ہر عزیز رشتہ ہمیں دھوکہ دے دیتا ہے بالاج سڈی روم میں بیٹھا ہوا تھا جب انابیہ اس کے پاس آئی تھی ۔۔۔
ایسے کیوں کہہ رہے ہیں لاج یہ تو آزمائشیں ہوتی ہیں لوگوں کے اصل چہرے دیکھانے کے لیے اور اچھا ہی نہ وقت رہتے حقیقت کھل گئی منگنی کی تو ویسے بھی ہمارے دین میں کوئی جگہ نہیں ہے آپ پریشان مت ہوں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بہترین لکھا ہوا ہے انابیہ نے اپنا ہاتھ اس کے بالوں میں پھیرا تھا
مما کو کیسے بتاؤں انا شجاع کا رشتہ میرے ذریعے ہوا
تو کیا ہوا لاج آپ نے اس کا برا تھوڑی چاہا تھا سچ کہوں تو مجھے عون بھائی صفا آپی کے لیے ٹھیک لگے آپ ایک دفعہ مما سے اس بارے میں بات کرئیے گا نہ
انابیہ نے ٹھہر ٹھہر کر کہا بالاج نے مسکرا کر اسے دیکھا پھر اس کا ہاتھ تھام کر نرمی سے دبا کر چھوڑا یہ اشارہ تھا اس کی بات مان لینے کا
اچھا آجائیں کھانا لگواؤں صفا آپی نے بھی یقیناً کچھ نہیں کھایا ہوگا ہم کیوں غیروں کے لیے اپنا سکون برباد کریں ؟
چلیں آجائیں۔۔۔
ہاں چلوں میں ایک فون کال کرلوں آتا ہوں بالاج نے اس کا گال تھپتھپا کر کہا
انابیہ سر ہلا کر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔
ہیلو بالاج خان سپیکنگ شجاع خاور کے ساتھ پارٹنر شپ ختم کرنے کا نوٹس جاری کردو جتنے بھی اکٹھے ٹینڈر ہیں خواہ جن پر کام چل بھی رہا ہوں سب آج کی تاریخ کر رک جانے چاہیے ۔۔۔
ایک فون کال کرنے کے بعد اس کی ہلکی سبز آنکھوں کا رنگ ایک لمحے کو گہرا ہوا پھر وہ چہرے پر مسکراہٹ لائے کمرے سے نکلا اسے آج ہی ماں سے بات کرکے عون کے لیے رضامندی دینی تھی آج کے آج ۔۔۔۔
