Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 67)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 67)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
ساری رات بے چین سنگ کٹی تھی عون کی جانب سے خاموشی پر صفا کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا
تبھی بار بار اسے فون ملاتی فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد صفا نے پھر سے عون کا نمبر ملایا جو اٹھا لیا گیا تھا
“عون ابراہیم تم سمجھتے کیا ہو خود کو جب دل چاہا اظہار کرلیا جب دل چاہا بے پرواہ ہوگئے،
صرف تمہارے کہنے پر میں نے بھائی سے تمہاری بات کی اور تم ۔۔ ! تم آئے ہی نہیں اپنے گھر والوں کو لے کر عون “
صفا نے اپنی ساری جھنجھلاہٹ سارا غصہ عون کر نکالا
جبکہ سرخ آنکھوں کے ساتھ سپیکر پر فون لگا کر حدید کو صفا کی آواز سناتے عون نے لب کاٹے
“صفا میں ہاسپٹل میں ہوں کیا تم آ سکتی ہوں ہاسپٹل
پلیز ۔۔۔ “
“آئی نیڈ ہو “
عون نے گہری سانس بھر کر کہا
صفا ایک دم سے پریشان سی ہوئی
“سب ٹھیک ہے نہ عون تم ہاسپٹل کیا کر رہے ہو تمہارے موم ڈیڈ ٹھیک ہیں ؟ تم ۔۔۔ تم ٹھیک ہو ؟”
“پلیز صفا آجاؤ ابھی کوئی سوال مت کرو تمہارے سارے سوالوں کا جواب تمہیں مل جائے گا “
صفا نے وقت دیکھا سردیوں کے دن تھے تو فجر بھی دیر سے ہوئی اب چھ بجنے والے تھے اور اس نے نو بجے جانا تھا حیا کے ساتھ تین گھنٹے تھے وہ جا سکتی تھی مگر کیسے مما اٹھی ہوں گی اس وقت وہ فجر کے بعد اٹھ جاتی تھیں .
تبھی اس کے فون پر عون نے لوکیشن سینڈ کردی تھی
اگر حیا کو نہ بھی پتا لگتا تو بالاج کے گارڈ کو پتا لگ جاتا صفا نے اپنے ٹیرس کا دروازہ کھولا اسے لمحے بالاج کا گارڈ علی بخش گاڑی لے کر نکلا
“یہ کہاں گیا ؟ “
اچھا ہے میں جلدی سے چلی جاتی ہوں جلدی ہی آجاؤں گی صفا نے الماری سے اپنا کوٹ اور اپنے سوٹ سے ہم رنگ حجاب نکال کر لیا چہرہ ہر طرح کی زیب و آرائش سے پاک تھا وہ جلدی سے نکلی ہیں اگلے تین منٹ میں اس کے گھر کے دروازے کے باہر ہوتی
“بی بی جی آپ کہاں جارہی ہیں ؟ “صفا ابھی دروازے سے نکلتی جب ان ادھیڑ عمر دروازے پر تعین گارڈ شاید نماز پڑھ آیا تھا صفا سے پوچھ گچھ کرنے لگا
“وہ گارڈ بابا میں والک کے لیے جارہی ہوں موسم اچھا ہے نہ صبح کی والک صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے نہ اوکے اللہ حافظ آدھے گھنٹے تک آجاؤں گی “
صفا کہتی جلدی سے نکلی تبھی اسے کیب اپنی جانب آتی نظر آئی صفا گارڈ کا دھیان کہیں اور دیکھ کر جلدی سے کیب پر بیٹھی
“یا اللہ سب ٹھیک ہو” عون کے لہجے نے صفا کو گھبراہٹ کا شکار کردیا تھا
پندرہ منٹ تک وہ ہاسپٹل پہنچ چکی تھی
ایمرجنسی وارڈ کی جانب جاتے اسے اپنی عون آتا نظر آیا
“عون کیا ہوا ہے ؟”
” چلو میرے ساتھ صفا “
عون صفا کو ہاتھ سے تھامے اپنے ساتھ لے جانے لگا
“کہاں لے کر جارہے ہو عون مجھے تمہیں پتا ہے مجھے کتنی گھبراہٹ ہورہی ہے میں پورے راستے کتنا پریشان ہوتی آئی ہوں “
“بتاؤ تو صحیح اندر ہے کون “
صفا کچھ جھجھکی مگر عون بغیر اس کی سنے دروازہ کھولتا صفا کو اندر کے آیا
سامنے نیم دراز ڈرپ لگے وجود کو دیکھ کر صفا خالی نظروں سے عون کو دیکھنے لگی
“صفا ۔۔۔” حدید اپنا درد دبائے اسے پکارنے لگا
“یہ کون ہیں عون ؟ “
صفا کی ٹھنڈی سی آواز پر حدید کرب سے آنکھیں بند کرگیا
حدید شاہ میرے ماموں صفا عون نے عون نے نظریں صفا کی بھوری آنکھوں پر ٹکائیں
کل رات کو حدید کو پینک اٹیک آیا تھا جو اسے سالوں پہلے آنا ختم ہوگئے تھے ڈاکٹر نے حدید شاہ کی ایز ا قومہ پیشنٹ ہسٹری دیکھ کر صاف کہہ دیا تھا کہ اب کبھی حدید کو پینک اٹیک آیا تو یاں تو اس کے دماغ کی نس پھٹ جائے گی یاں وہ قومہ میں چلا جائے گا تھی عون سب کچھ فراموش کیے صفا کو ہاسپٹل بلا چکا تھا
“اب کیسی طبعیت ہے آپ کی انکل ؟”
صفا نے سپاٹ لہجے میں حدید شاہ سے پوچھا
“تمہارے بابا ہیں یہ صفا “عون نے حدید کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر صفا کا بازو تھام کر کہا
صفا نے ہنس کر عون کو دیکھا
“تم پاگل ہو عون تمہیں غلط فہمی ہوئی میں نے بتایا تھا نہ میرے بابا دوسرے ملک میں ہوتے ہیں انہیں ہم سے زیادہ عزیز پیسے ہیں “
“غلط بتایا ہے تمہیں صفا تمہارے بابا اسی ملک میں ہیں صفا یہ ہیں تمہارے بابا”
اس نے ہاسپٹل کے بیڈ پر گیلی آنکھوں میں حسرت سموئے خود کو دیکھتے شخص کو دیکھا
“کیا غلط کہا میری ماں نے عون ابراہیم یہ ہی کہ میرا باپ وہ پیسوں کے لیے ہم سے دور بیٹھا شخص نہیں بلکہ اولاد کے حصول کے لیے میری ماں سے دھوکے سے دوسری شادی کرنے والا شخص ہے جس سے بھاگ کر میری ماں در در کی ٹھوکریں کھاتی رہیں
یہ زیادہ ازیت ناک ہے عون ابراہیم ۔۔۔!!” وہ چیخ پڑی تھی
“ماموں کی طبیعت خراب ہو جائے گی صفا “پلیز عون نے اسے ہاتھ تھامے
“کیوں سنوں میں تمہاری عون کیوں ؟”
وہ واپس حدید شاہ کی جانب مڑی
” اللہ پاک آپ کو صحت دے انکل”
وہ ایک پل اسے دعا دے کر دوسرے پل انکل کہہ کر پھر سے اذیت دے گئی …
“میں چلتی ہوں عون ابراہیم ابھی تو خود کو ایک اور دھوکے کا یقین دلانا ہے .”
وہ مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گئی حدید نے ہارے ہوئے جواڑی کی مانند اپنا سر بستر پر گرا دیا
تبھی عون صفا کے پیچھے بھاگا
“صفا بات سنو تمہیں صرف حیات مامی کا ماضی معلوم ہے تم ماموں کے ماضی سے ناواقف ہو “
“ایک بات بتاؤ عون “
وہ عون کی آواز پر پلٹی عون کا دل شدت سے دھڑکا
“جب میں تم سے اپنے باپ کے حوالے سے اپنے گھر والوں کی بنائی سٹوری سنا رہی تھی تمہیں ہنسی تو بہت آئی ہو گی
تمہارا دل تو بہت کر رہا ہوں مجھ تک ہنسنے کا جسے اپنے باپ کے وجود کی حقیقت کا معلوم ہی نہیں “
صفا نے مصنوعی شرارت سے کہا جبکہ اس کا سرخ پڑتا چہرہ اور ماتھے کی ابھرتی سبز رگ اس کے ضبط کا پتا دے رہی تھی۔
“ویسے سچ میں دوست سمجھ کر ہی بتا دو کہیں یہ دوستی یہ پیار ویار کا ناٹک بھی کسی پلین کا حصہ تو نہیں ؟ “
“نہیں صفا!” وہ تڑپ ہی تو گیا تھا اپنے پیار کو ناٹک کہلوا کر
“میں تمہارا اپنی کزن ہونے والی بات سے تمہارے جتنا ہی لاعلم تھا صفا اس بات کا علم مجھے ماموں کے ہارٹ اٹیک پر ہوا تھا میں تمہیں بتانے بھی والا تھا صفا میں تمہیں اس دن بھی ماموں سے ملوانے والا تھا مگر تم ہاسپٹل سے چلی گئی تھی “
عون نے بے چینی سے اسے بتایا صفا کو بھی اس دن عون کا اسے اپنے ماموں سے ملوانے کا اصرار یاد آیا ۔۔۔
صفا کو خاموش دیکھ کر وہ پھر سے بولا
میں کل شام کو ہی اپنے ماما بابا کو تمہارے گھر لانے والا تھا مگر رات کو ماموں کو پینک اٹیک ہوگیا جس وجہ سے مجھے انہیں یہاں لانا پڑا
“تم جاننا نہیں چاہو گی انہیں پینک اٹیک کیوں آیا ؟ “عون نے صفا کریدا جو سپاٹ سے تاثرات کے ساتھ اسے سن رہی تھی مگر عون کو لگا جیسے وہ ذہنی طور پر وہاں موجود نہیں ہے
“غیروں کے معاملے میں پڑنا ضروری نہیں سمجھتی میں” صفا نے اپنی گھڑی میں وقت دیکھا
“حیات مامی نے خلع کے کاغذات بھجوائیں ہیں ماموں کو جنہیں دیکھ کر وہ پینک ہوگئے تھے “
“کیا تم میرے لیے اس شخص کو چھوڑ سکتے ہو ؟”
وہ دونوں ایک ساتھ بولے
عون نے متحیر ہوکر صفا کو دیکھا وہ تو صفا کا دل ماموں کی طرف نرم کرنا چاہ رہا تھا مگر صفا نے تو اس کی نوبت ہی نہ آنے دی اتنا بڑا مطالبہ رکھ دیا ۔
“کیا کہا صفا آپ نے ؟” وہ بے یقین سا ہوکر بولا
“کیا تم میرے لیے اس شخص کو چھوڑ سکتے ہو ؟”
“وہ تمہارا باپ ہے صفا !!’
“کیا تم میرے لیے اس شخص کو چھوڑ سکتے ہو عون ابراہیم ؟”
“تم نے ہمیشہ میری محبت کا امتحان ہی لیا ہے صفا” وہ دل سوز لہجے میں بولا
وہ کیسے اس حال میں اپنے ماموں کو چھوڑ سکتا ہے
“کیا تم اس شخص کو چھوڑ سکتے ہو عون ؟”وہ پھر سے بولی
“میں آپ سے دستبردار ہوتا ہوں صفا ۔۔۔ “وہ بولا تو اس لمحے اسے اپنا دل خالی ہوتا محسوس ہوا جیسے دھڑکنیں بھی دھڑکنا نہ چاہ رہی ہوں ۔
اور صفا اسے خالی دل سے دیکھتی رہی وہ تو اس سے شرط کے مطابق اس سے اس کی جان بھی نہ مانگ سکی۔
تبھی نرس آئی اس نے جانے کیا عون سے کہا وہ وہاں سے جلدی سے نکلا
مگر صفا کو آس پاس کی ہر حرکت رکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی کوئی بھی آواز کانوں تک نہیں جارہی تھی بس عون کی پیٹھ تھی اس کے اٹھتے دور جاتے قدموں کی آواز تھی
صرف ایک لمحہ اور محبت نے صفا کو اتنے دیر سے خود کو دھتکارے جانے کی سزا دے دی وہ بڑے کروفر کے ساتھ صفا کے دل میں اپنے نوکیلے پنجے گاڑ گئی
تقدیر نے بھی نظریں چرائی
زبان پھڑپھڑا کر رہ گئی
———-
صبح سات بجے کا وقت تھا جازب ابھی تک ناشتے کے لیے نہیں آیا تھا کمال اعوان خود اسے دیکھنے اس کے کمرے میں آئے تھے
وہ کمرے میں اپنی راکنگ چئیر پر آرام دہ انداز میں بیٹھے آنکھیں موندیں اپنے ایک کان پر ائیر پوڈ کو لگائے گانا سننے میں مکمل محو تھا
جب کمال اعوان نے کمرے میں اکر جازب کو پکارا مگر وہ سدھ بدھ کھوئے بیٹھا گانے سن رہا تھا کمال صاحب نے سائیڈ ٹیبل پر پڑے ائیر پوڈ کو اٹھا کر کان سے لگایا جب راحت فتح کی بڑے دکھ سے گائی جانے والی لائن ان کے کانوں میں پڑی
ایسی الجھی نظر ان سے ہٹتی نہیں ۔۔۔
دانت سے ریشمی ڈور کٹتی نہیں ۔۔۔
کمال صاحب نے آئی برو اچکا کر جازب کی بند آنکھوں کو دیکھا
عمر کب کی برس کے سفید ہوگئی
کاری بدری جوانی کی چھٹتی نہیں
وللہ یہ دھڑکن بڑھنے لگی ہے
چہرے کی رنگت اڑھنے لگی ہے
ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں جی ۔۔۔۔
انہوں نے اپنی امڈتی مسکراہٹ کو روکا
دل تو بچہ ہے جی تھوڑا کچا ہے جی
لالللا لاللا لالا
جازب کمال اعوان صاحب نے اسے ہلایا وہ ہڑبڑا کر اٹھے “کیسے گانے سن رہے ہو ؟”
ڈیڈ اس نے پہلے ہونق بن کر کمال صاحب کو دیکھا پھر ان کے کان میں اپنا ائیر پوڈ دیکھ کر وہ جھنجھلایا اس نے ان کے اور اپنے کان سے ائیر پوڈ نکال کر ڈیوائس میں ڈالے
ائیر پوڈ ڈسکنیکٹ ہوئے
تبھی راحت فتح کی سریلی آواز پھر سے گونجی
ہائے۔۔۔ زور کرے کتنا شور کرے
بے وجہ باتوں پر آویں غور کرے ۔۔۔۔
دل سا کوئی کمینہ نہیں!!
وہ یہاں وہاں فون تلاش کرنے لگے
کوئی تو روکے کوئی تو ٹوکے
اس عمر میں اب کھاؤ گے دھوکے
ڈر لگتا ہے عشق کرنے میں جی۔۔۔
“کتنا گندا ٹیسٹ ہے گانوں میں تمہارا مجنوں کی اولاد “
“مجنوں یعنی آپ ۔۔۔۔ میں تو آپ کی اولاد ہوں نہ بیرسٹر صاحب”
وہ فون بند کرکے معصومیت سے بولے
“تمہارا بندوبست اب حیا ہی کرے گی کرنی پڑے گی بات میں اچھے بھلے بیٹے کی جگہ اس مجنوں کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا جوان جہاں میڈز ہیں گھر پر “
“استغفرُللہ بیرسٹر صاحب”
وہ کانوں کو ہاتھ لگا گئے
“اچھا بھلا گانا سن رہا تھا “
ایسی اداسی بیٹھی ہے
دل میں ہنسنے سے گھبرا رہے ہیں
ساری جوانی قطرا کر کاٹی
پیری میں ٹکرا گئے ہیں
دل دھڑکتا ہے تو ایسے لگتا ہے
وہ آرہا ہے یہی دیکھتا ہی نہ ہو
پریم کی ماریں کاٹار ریں
توبہ یہ لمحے کٹتے نہیں کیوں
آنکھوں سے میری ہٹتے نہیں کیوں
ڈر لگتا ہے خود سے کہنے میں جی ۔۔۔۔
———-
وہ کیب میں ہی گھر واپس آئی تھی
انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا ۔۔۔
یہ میرے ماموں ہیں صفا ۔۔۔
یہ تمہارے بابا ہیں صفا ۔۔۔
انہیں پینک اٹیک آیا تھا ۔۔۔
حیات مامی نے انہیں خلع کے کاغزات بھجوائیں ہیں ۔۔۔
میں آپ سے دستبردار ہوتا ہوں صفا خان
تمہیں پتا ہے تم سب سے زیادہ بے معنی وجود ہو اس دنیا میں کسی کے لیے بھی کوئی معنی نہیں رکھتی اس نے شیشے میں نظر آتے اپنی عکس پر ہاتھ پھیرا پھر مسکرائی
محبت میں دو طرح کے احساس شدت سے جاگتے ہیں یاں تو بندہ بہت فراخ ہوجاتا ہے یاں بالکل ہی ظالم ہوجاتا ہے اور صفا ظالم ہوگئی تھی
وہ عام دنوں سے زیادہ تیار ہوئی تھی
مہکتی ہوئی ناشتے کی ٹیبل پر آئی تھی سر براہی کرسی پر بیٹھی حیا کا گال چوما
“بھائی آپ شجاع کے گھر والوں کو ہاں کردیں مجھے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں “
اپنی پلیٹ سیدھی کی سامنے پڑا آملیٹ پلیٹ میں ڈالا
انابیہ اس سے پہلے صفا کو کچھ کہتی بالاج نے انابیہ کا ہاتھ دبا کر اسے خاموش کروا دیا
“کیا تم نے اچھے سے سوچ سمجھ کر فیصلہ لیا ہے صفا؟” حیا نے ناشتے سے ہاتھ روک کر صفا کے چہرے کو جانچنا چاہا
مگر وہ بھی تو پھر حیا کی بیٹی تھی دیر سے ہی صحیح اپنے تاثرات کو کافی حد تک چھپا چکی تھی
“جی مما میں نے بہت سوچ کر فیصلہ لیا ہے آنٹی کو آپ نے کہا تھا نہ میری پریکٹس کے بعد آپ کوئی فنکشن رکھنا چاہتی ہیں تو آپ ان سے کہہ دیں آج کل میں آکر منگنی کر جائیں اور شادی میری پریکٹس کے بعد رکھ لیں گے “
وہ بڑے آرام سے بولی تھی حیا نے بالاج کے چہرے پر نظر ڈالی جس نے آنکھوں سے اشارہ کرکے حیا کو پرسکون رہنے کا اشارہ کیا
“اتنی جلدی کیا ہے میری گڑیا میری اکلوتی بہن ہو تم بالاج خان کی بہن ہو سارے ارمان پورے کریں گے ہم “
“اتنی کوئی جلدی نہیں جہاں اتنا انتظار کیا ہے وہاں شجاع اور کر لے “بالاج نے ہنس کر کہا تو صفا بھی مسکرائی
“بھائی انتظار اچھی چیز نہیں ہوتی “
“مما میرا ناشتہ ہوگیا جازب انکل بہت سٹرکٹ ہیں مجھے نہیں لگتا مجھے آپ کی بیٹی ہونے کا پریویلیج دیں گے تو ٹائم سے چلیں” وہ ہنس کر بولی کہ حیا کا ہاتھ رک گیا
جیسے اس سے زیادہ ایک نوالہ بھی اس کے گلے میں نہیں جا پائے گا
انابیہ کے ہاتھ پر بالاج کی گرفت سخت ترین ہوگئی مگر وہ خاموش بیٹھی رہی
صفا انابیہ سے مل کر بالاج کو خدا حافظ کہہ کر حیا کے ساتھ نکل گئی
“بالاج میرا دل گھبرا رہا ہے صفا آپی کو کیا ہوا ہے ؟ انہیں پتا لگ گیا کیا اس لڑکے کا ؟ “جبکہ بالاج نے اپنے پر نظر دہرائی جہاں پر اس کیب کی نمبر پلیٹ اور پکچر اسے موصول ہوئی تھی جس پر صبح صفا کہیں گئی تھی
“میں دیکھ لوں گا تم فکر مت کرو انا شام تک ٹھیک ہو جائے گی صفا بھی بس تم اس کے ساتھ ایزی رہنا کوئی سوال نہ کرنا اور اگر آج کوئی ضروری لیکچر نہیں ہے تو چھٹی کرلو مجھے ضروری کام سے جانا ہے “
“نہیں ضروری لیکچر نہیں ہیں ہفتے بعد فائنلز ہیں تو آج کل کچھ زیادہ پڑھائی بھی نہیں ہورہی آپ جائیں” انابیہ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ پھیر کر اپنے تہی حوصلہ دیا ۔
بالاج نے مسکرا کر اس کا ماتھا چوم کر وہاں سے اٹھ گیا
” تم آرام کرلو شام تک فون کروں گا تمہیں پریشان مت ہونا اللہ حافظ !” اس کے بال سہلا کر وہ وہاں سے نکل گیا
اللہ ہمارے گھر کی خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگنے دئیں انابیہ نے بے ساختہ دعا کی مگر نظر تو لگ گئی تھی
———
“شجاع کہاں ہو بچے رات سے گھر نہیں آئے تم؟”
شبانہ خاور نے روتے ہوئے شجاع سے کہا جو رات کا آبادی سے دور پہاڑوں والی طرف اپنی گاڑی کے بونٹ پر لیٹا ہوا تھا نہ ہوا اس پر اثر کر رہی تھی اور نہ ہی رات کی پھیلی دھند
“میں کل ہی حیا کی طرف چلی جاوں گی شجاع میں اس کی منتیں کرلوں گی مگر کل ہی صفا کو تمہارے نام کی انگوٹھی پہنا دوں گی شجاع پلیز گھر آجاؤ میرا دل گھبرا رہا ہے شجاع پلیز ماں کو مت ستاؤ “
“آپ نے میرا فائزہ سے نکاح کیوں کروایا ماں “
وہ اتنی دیر بعد فقط یہ ہی بولا
کل سے اس کا دماغ اور دل لڑائی چھیڑے بیٹھے تھے فائزہ کا دیکھایا آئینہ صفا کا معصوم چہرہ بالاج کی آنکھوں میں چمکتی امید کتنی ہی چیزیں تھیں اسے اپنا آپ گناہ گار لگنے لگا تھا مگر دماغ کہتا تھا اس کا فائزہ سے رشتہ صرف کاغذی ہے وہی دل کہتا تھا محبت میں شراکت داری نہیں ہوتی
“ماں آپ نے مجھے کہیں ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہے مجھ سے خود ہی اپنا آپ سمیٹا نہیں جا رہا”
شبانہ خاور کے ہاتھ کانپے تھے
شجاع!!
“آجاؤں گا ماں جلد آجاؤں گا”
وہ فون کاٹ گیا
———-
“حدیقہ بس کرجاؤ”
“جتنا مجھے تمہارے رونے سے تکلیف ہوتی ہے تم اتنا ہی روتی ہو تمہیں سب کی فکر ہے خود کو دھتکارنے والی ماں کی ، اپنے انا پرست بھائی کی مگر نہیں ہے تو اپنے شوہر کی جو مر جائے گا تب بھی تمہیں ان کی ہی فکر رہے گی “
ابراہیم شاہ کی بس ہوگئی تھی اتنا تو حدیقہ اپنی پوری زندگی میں نہ روئی تھی جتنا وہ پچھلی کچھ دنوں سے رو رہی تھی کل تو وہ بے ہوش ہی ہوگئی تھی ڈاکٹرز نے ابراہیم شاہ کو وارننگ دی تھی اتنا رونا حدیقہ شاہ کے لیے ٹھیک نہیں ہے مگر وہ کہاں سن رہی تھی ابراہیم کی کبھی آبدہ شاہ کی حالت پر روتی تو کبھی حدید کی حالت پر اوپر سے رات کا حدید کا پینک اٹیک
حدیقہ نے تڑپ کر ابراہیم کو دیکھا
“آئی ایم سوری ابراہیم آئی ایم سوری مگر میں جان کر نہیں رو رہی”
وہ اپنی آنکھیں صاف کرکے بولیں جہاں پھر سے نمی جمع ہوگئی ۔۔۔
ابراہیم نے انہیں اپنے حصار میں لیا
“تمہارے بھائی اور ماں نے ایک معصوم کی بددعا لی ہے اس کی آہ لگی ہے دونوں کو حدیقہ اور اس کی معافی ہی دونوں کو اس اذیت سے نجات دلا سکتی ہے۔ “
ابراہیم نے دکھ سے کہا ۔
وہ بھی حدید نے ماضی سے کچھ کچھ ہی واقف تھا مگر جتنا واقف تھا اسے یہ ہی لگا دونوں ماں بیٹے کو حیات کی بددعا لگی ہے ۔
“میں جا کر اس کے پیر پکڑ لوں گی آپ مجھے اس کے پاس لے جائیں ابراہیم پلیز “
حدیقہ نے اذیت سے کہا
“جانا تو ہمیں وہاں پڑے گا ہی حدیقہ تمہارا بیٹا حیات کی بیٹی سے دل جو لگا بیٹھا ہے “
ابراہیم نے حدیقہ کے بال سہلا کر کہا
“کیا ۔۔۔؟ “حدیقہ نے حیرانگی سے ابراہیم کو دیکھا
“ہاں ۔۔۔”
“تو آپ مجھے ابھی لے چلیں پلیز ابراہیم پلیز ابھی “
“مگر حدیقہ “
“پلیز ابھی ابراہیم اور کتنی تاخیر کرنی ہے ! “
———
بالاج ہاسپٹل کے باہر کھڑا تھا
یہاں عون نے کیوں بلایا ہوگا صفا کو بالاج نے اپنی پیشانی پر انگلی پھیری۔
وہ ریسیپشنسٹ کے پاس گیا
عون شاہ کے نام سے کوئی پیشنٹ موجود ہے یہاں پر ؟
بالاج نے ریسیپشنسٹ سے کہا
“نہیں سر “
پھر کون حدید ۔۔۔ دیکھیں حدید شاہ کے نام سے کوئی پیشنٹ ہے ؟
“حدید شاہ ۔۔!
“جی ایمرجنسی وارڈ میں “
ریسیپشنسٹ اسے بتا کر دوبارہ اپنے کام میں بزی ہوگئی بالاج کی حالت عجیب سی ہوئی
مگر اس نے قدم ایمرجنسی وارڈ کی جانب بڑھائے
“غلط کیا تم نے عون میری وجہ سے اپنا رشتہ خراب کر لیا صفا سے “
حدید شاہ نے دکھ سے عون کو دیکھا
“یار ماموں بہت خونخوار ہے آپ کی بیٹی دل کٹوا کر آیا ہے آپ کا مجاہد !! یوں۔۔۔ حوصلہ شکنی نہ کریں اور اٹھیں گھر چلیں نانو آئی ہوئی ہیں اِدھر ملنا ہے آپ کو ان سے ؟ “
عون نے دل پر ہاتھ پھیر کر ہاتھ آنکھوں کے سامنے کیا لہو عام آنکھ سے نہ دکھنے والا لہو اس کے ہاتھ کو سرخ کر گیا تھا ۔
مگر دونوں ماموں بھانجے کی آنکھ عام کہاں تھی دونوں ہی زخمی تھے اور دونوں ہی اس سرخی کو دیکھ پارہی تھے
دروازے پر کھڑے بالاج نے عون کو دیکھ کر مٹھیاں بھینجی
وہ قدم اندر رکھتا کمرے کے اندر ہی آگیا۔
وہ دونوں ماموں بھانجے بالاج کو وہاں دیکھ کر حیران تھے
آپ ہماری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے مسٹر حدید شاہ
حدید شاہ نے پرشکوہ نظر ہاسپٹل کی چھت پر ڈالی ۔
جس اولاد کے لیے اس نے اتنا سب کچھ کیا وہ اسے اپنا باپ ہی نہیں مانتی
بیٹی تھی تو وہ اسے انکل کہتی تھی بیٹا تھا تو وہ اسے مسٹر بلا رہا تھا
“جان تو اسی لمحے تم تینوں کی مجھ سے چھٹے گی جب حدید شاہ مر جائے گا بالاج حدید شاہ
بتا دینا اپنی اماں کو حدید شاہ کسی بھی خلع کے کاغذات کو نہیں مانتا وہ دنیا کی کسی بھی عدالت میں چلی جائے “
حدید شاہ نے بالاج کی سبز آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اٹل لہجے میں کہا
“اپنی ماں کو آپ سے نجات میں خود دلواؤں گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے “
“اور تم ۔۔۔” وہ اب عون کی جانب مڑا
“میں نے تمہیں ایک موقع دیا تھا عون ابراہیم اس شخص کا تمہارے ساتھ رشتہ ہونے کے باوجود میں نے تمہیں موقع دیا جسے تم نے گنوا دیا اب تم مجھے صفا کے آس پاس بھی دکھ گئے تو انجام کے زمہ دار تم خود ہو گے ۔۔۔”
