Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 66)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 66)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
خلع کے کاغذات حیات حفیظ کی جانب سے حدید فیصل جاوید کے نام !
اس نے پڑھا پہلی بار ۔۔۔ دوسری بار ۔۔۔۔ تیسری بار میں اس کی آنکھیں دھندلا گئیں
“جاؤ قاسم !!”
حدید شاہ نے نہایت ضبط کرتے ہوئے کہا
“مگر سر “
“میں نے کہا جاؤ یہاں سے قاسم “
اب لہجے میں ضبط کے ساتھ سختی بھی تھی
قاسم نے افسوس سے اپنے سر کو دیکھا وہ پچھلے پچیس سالوں سے حدید شاہ کا ملازم تھا چھوٹی سی عمر میں وہ اور اس کی بیوی شاہ ہاؤس آئے تھے اور یہاں کے مکینوں کی ملازمت کر رہے تھے
قاسم از خود ہر گزرے لمحے کا گواہ بھی تھا
حدید نے گہری سانس بھری
ایک دفعہ ۔۔۔
دوسری دفعہ ۔۔۔
تیسری دفعہ جب سانس متوازن نہیں ہوئی اس نے شرٹ کے اوپر پہنا لونگ نیک سویٹر ایک ہی جست میں اتار کر پھینکا ماتھے کی رگ پھڑکنے لگی
“حیات تمہارا بدلا تھی اور تم میرا بدلا ۔۔۔”
نسوانی آواز کانوں میں گونجی حدید کی کانچ بھوری آنکھیں سرخیاں چھلکانے لگی
“تمہارے ساتھ میرا گزارا نہیں معذور شخص کے ساتھ میں کیسے رہ سکتی ہوں “
گلے میں جیسے پھانس آڑی سانس لینا دشوار ہوگیا
حدید نے بٹنوں کی پرواہ کیے بغیر کھینچتے ہوئے اپنی شرٹ اتاری ایک بعد دوسرا بٹن ٹوٹتا ہوا اس کے قدموں میں گڑ رہا تھا
سامنے ڈریسنگ ٹیبل کا سہارا لے کر اس نے پھر سے گہرے سانس لینا شروع کیے
اس کا فراخ سینہ شیشے میں نظر آرہا تھا بائیں جانب گردن سے شروع ہوتی پہلے ایب تک کی ابھری ہوئی لکیر ٹانکوں کے نشان سی لگ رہی تھی
“مجھے طلاق دے دو حدید نہیں تو میں خلع لے لوں گی “
حدید نے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھا
“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں نشاء “
اپنے الفاظ یاد آئے تب اتنی درد نہیں ہوئی تھی تو اب اتنی درد کیوں ہورہی ہے بامشکل دو سال ساتھ کے بعد پچیس سال کا ہجر کاٹنے کے باوجود اسے درد ہورہا تھا حدید شاہ کی آنکھیں بھیگنے لگی سر اٹھایا تو سامنے شیشے سے بیڈ پر پڑے کاغذات صاف نظر آئے
سینے میں پھر سے درد اٹھنے لگا
مگر دماغ اس درد پر حاوی ہوگیا اس نے سر تھاما
خلع کے کاغذات حیات حفیظ کی جانب سے حدید فیصل جاوید کے نام !!
“نہیں ۔۔۔۔۔ “
وہ روتا ہوا نیچے گڑتا چلا گیا ۔۔
———–
“یار میں تین چار آئسکریم لایا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں ہے تم ساری ایک دفعہ ہی کھا لو” بالاج نے انابیہ کی سرخ ہوتی ناک کو کھینچ کر کہا
“اوُنہوں لاج کیا ہے!” انابیہ نے اپنی ناک سہلائی
“مجھ سے بھی پوچھ لو تمہارا شوہر ہوں یار “بالاج نے اسے تیسری آئسکریم کا ریپر اتارتے دیکھ کر صدمے سے کہا
“میں نے کھا لی آپ نے کھا لی بات تو ایک ہی ہے نہ “
انابیہ نے آنکھ دبا کر دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا
“تمہیں تو میں بتاتا ہوں ” بالاج نے آئسکریم چھین کر اس کے گالوں پر لگا دی
انابیہ نے صدمے سے اپنے چہرے پر لگی آئسکریم کو انگلیوں سے چھوا
“بالاج” اس کی متحیر سی آواز پر بالاج ہنسا
“آپ نے میرا میک اپ خراب کردیا اور میری آئسکریم بھی ضائع کردی ” وہ چوتھی آئسکریم اس کی گود میں پھینک کر اٹھی
بالاج نے فوراً اس کی کلائی تھام لی خراب کہاں ہوئی ہے “میری جان ضائع تھوڑی ہوئی میں اتار دیتا ہوں نہ آئسکریم” وہ شوخ نظروں سے اسے دیکھنے لگا
“چھوڑیں ٹھرکی شوہر ۔۔۔۔”
انابیہ کے القاب پر بالاج کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا
“اچھا یہ تو لے جاؤ “وہ گود میں دھڑی آئسکریم دیکھ کر وہ ہنستے ہوئے بولا
“خود ہی کھالیں “وہ واشروم میں منہ دھوتی تپ کر بولی
تبھی بالاج کا ایک دم سے دل سا گھبرایا
انابیہ چہرہ پونچھتی واشروم سے باہر نکلی تو بالاج کے اڑے حواس دیکھ کر تشویش سے اس کے قریب چلی آئی
“کیا ہوا ہے لاج ؟”اس نے فکرمندی سے کہا
کچھ نہیں ایک دم سے دل بیٹھا وہ اس کا ہاتھ دل کے مقام پر رکھ گیا جس کی دھڑکن معمول سے ہٹ کر چل رہی تھی
“آپ صفا آپی کے لیے پریشان ہیں کچھ نہیں ہوتا انہوں نے آپ سے شئیر کیا ہے نہ اپنے دل کا حال آپ فکر مت کریں “
وہ اس کا ہاتھ دبا کر بولی تو وہ بھی کچھ پرسکون ہوا
———
“ہیلو عون میں نے بھائی سے بات کی ہے تمہاری وہ چاہ رہے ہیں تم اپنے پیرنٹس کو لے کر آج ہی آجاؤ میں نے تمہیں بتایا تھا نہ آج مجھے بھائی کے دوست کی فیملی بھی دیکھنے آرہی ہے تو پلیز عون جلدی آنا میں نے اپنی طرف سے قدم اٹھا لیا ہے اب تم دیکھ لینا سب “
یہ کوئی تیسری دفعہ عون نے صفا کا وائس ناٹ سنا تھا مگر دماغ تھا کہ یقین ہی نہیں کر پارہا تھا جبکہ دل بلیوں اچھل رہا تھا
کیا ٹائم چھ بج گئے “جلدی کر عون !!”
“ماموں ماموں۔۔” وہ خوشی سے بھاگتا ہوا حدید شاہ کے کمرے میں گھسا ۔۔۔۔
———-
وہ ٹیولپ رنگ کی پیروں کو چھوتی فراک میں ٹیولپ ہی تو لگ رہی تھی سفید چہرے پر میک اپ کے نام پر صرف ٹینٹ ہی لگایا تھا گالوں پر بھی اور ہونٹوں پر بھی وہ ہی لگایا ہوا تھا بھوری آنکھوں کی پلکیں مسکارے سے اور نمایاں ہوگئی تھی
صفا نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا
ایک لڑکی کی زندگی پر اس کی ماں کی میرج لائف بہت اثر انداز ہوتی ہے پھر بے شک اسے دنیا جہاں کی آسائشیں مل جائیں مگر ماں کا ہیلدی ریلیشن دیکھنے کو نا ملے نہ تو آگے جاکر اپنے لائف پارٹنر کی طرف سے ان سیکیورٹیز والا خوف اس کے دل و دماغ میں بیٹھ جاتا ہے
میں نے بھی تو انہیں چیزوں کو فیس کیا ہے میری ماں نے سنگل پیرنٹ بن کر میری اور بھائی کی پرورش کی انہوں نے ہمیں بہت پیار دیا ہر جگہ سپورٹ کیا مگر وہ جو ایک خلا ہوتا ہے نہ کہیں نہ کہیں وہ ہمارے بیچ جگہ بنا ہی گیا
شاید اس لیے کہ مجھے امید تھی بابا کبھی نہ کبھی آئیں گے میں ان سے شکوہ کروں گی کہ آپ کے ہم سے زیادہ پیسے ضروری تھے مگر پھر کل مجھے معلوم ہوا کہ ان سے دوری کی وجہ پیسے تو نہیں ہیں ایک قطرہ اس کی آنکھ سے بہہ کر ڈریسنگ ٹیبل پر کھلی اس کی ڈائری پر” بابا ” لکھے حرف پر گڑا وہ حرف ابھر اٹھا
میری ساری امیدیں جو میں چھوٹی عمر سے جوڑتی آرہی تھی وہ کل ساری ٹوٹ گئیں شاید یہ خلا میری امیدوں کے ٹوٹنے پر بنا ہے
خیر بابا کی غیر موجودگی نے مجھے کہیں نہ کہیں اس رشتے سے بھی متنفر کیا ہے اسی وجہ سے میں نے عون کے بڑھے ہاتھوں کو کبھی سپورٹ نہیں کیا
اسی وجہ سے میں کتنا عرصہ اپنے راز دار بھائی اور اتنا سپورٹ کرنے والی ماں کو بھی اپنے دل کا حال نہیں بتا پائی آج بھی شاید بالاج بھائی پہل نہ کرتے تو میں خاموشی سے شجاع کے نام کی انگوٹھی پہن لیتی
کیا کروں میں بہت بزدل ہوں حمزہ بھائی نے صحیح ہی کہا تھا میں بزدل ہوں اسے حمزہ یاد آیا پھر پریہان یاد آئی وہ مسکرائی
میرا دل ابھی بھی ڈرتا ہے اس ہمسفر جیسے ساری زندگی کے لیے جڑ جانے والے رشتے کو لے کر
مما بہت بہادر تھیں مگر میں بالکل بھی بہادر نہیں ہوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں میں رو دیتی ہوں ، میں گھبرا جاتی ہوں اگر کبھی ایسی سچویشن کا مجھے سامنا کرنا پڑگیا تو میں کیا کروں گی۔۔۔ اس سے اگے وہ سوچ بھی نہیں سکی تھی اس کی ڈائری کے پاس پڑا فون بجا حمزہ کی کال تھی
ابھی آپ دونوں کو ہی یاد کر رہی تھی میں
صفا نے بھیگ جاتے لہجے کو کنٹرول کرتے مسکرا کر کال اٹھاتے کہا
مقابل نے بھی کچھ ایسا کہا تھا کہ صفا کھلکھلا اٹھی ۔۔۔
———-
“ماموں !! “
ٹھنڈے فرش پر بغیر شرٹ کر گڑے ہوئے حدید کو دیکھ کر عون کا دل رک گیا
حدید کی ناک سے خون نکل رہا تھا آنکھیں کھلی ہوئی تھیں
ماموں عون دوڑتا ہوا ان کے قریب گیا
ماموں عون نے حدید کا چہرہ فرش سے اٹھا کر اپنی گود میں رکھا
“اسے ۔۔۔ کہو مجھ سے۔۔۔۔ دور مت جائے عون خدا کے لیے”
وہ ہاتھ کے اشارے سے اس کا دھیان بیڈ کی طرف دلوا رہے تھے
عون نے ہاتھ بڑھا کر وہ کاغذ تھاما
خلع کے کاغز دیکھ کر وہ لب بھینج گیا
“ماموں آپ اٹھیں ہمت کریں میں آپ کو ہاسپٹل لے چلتا ہوں “
عون نے گیلی آنکھوں کو پونچھ کر اسے اٹھانا چاہا مگر وہ ایک ہی نام لیتا بے ہوش ہوگیا
حیات ۔۔۔!!
———-
صفا نے بے چینی سے وقت دیکھا ساڑھے آٹھ بج گئے آدھے گھنٹے تک شجاع کی فیملی نے بھی آجانا تھا
صفا نے ہاتھوں کو مسلا عون نے چھے بجے کا میسج سن لیا ہوا تھا تو ابھی تک اس نے کوئی ریپلائے کیوں نہیں کیا
“آپی ری لیکس” انابیہ نے صفا کے کندے پر ہاتھ رکھا
صفا پر دقت سا مسکرائی
تبھی ملازمہ نے مہمانوں کی آمد کا بتایا
“میں دیکھ کر آتی ہوں “انابیہ اس کا گال سہلا کر اٹھی
شجاع کی پوری فیملی آئی تھی
بالاج آگے بڑھ کر شجاع کے گلے لگا جس نے مسکرا کر گرمجوشی کے ساتھ بالاج کو گلے لگایا تھا
“حیا بھی مسز خاور سے ملی یہ خاور کی بھانجی ماشاء اللہ بہت ہی پیاری بچی ہے سمجھدار سلیقہ شعار “
شبانہ خاور نے فائزہ کو حیا سے ملواتے ہوئے مسکرا کر کہا
“ماشاءاللہ بیٹا آپ کی والدہ کا سنا ہے بہت افسوس ہوا اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے ہم ان کی تدفین پر آہ نہیں سکے دراصل میں لاہور میں تھے “
“کوئی بات نہیں آنٹی” فائزہ نے سر جھکا کر کہا ماں کے زکر پر آنکھوں میں جمع ہوتی نمی کو بہت مشکل سے سنبھالا
تبھی ایک پیاری لڑکی اس سے ملی فائزہ نے سر اٹھا کر
“کیا یہ صفا ہے ؟ “اس نے دل میں سوچا مگر اس کی غلط فہمی جلدی ہی دور ہوگئی جب انابیہ نے شجاع کو بھائی کہہ کر پکارا
“میں ٹھیک ہوں بھابھی آپ کیسی ہیں؟” شجاع نے انابیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
“جی الحمدللہ !”
———
تبھی صفا وہاں آئی تو شجاع کی جیسے پیاسے دید کو پانی نصیب ہوا وہی فائزہ جسے صفا کو دیکھنے کی خواہش تھی وہ بھی پوری ہوئی اس نے حسرت سے صفا کے چہرے کو دیکھا جسے شجاع کب سے نہار رہا تھا ۔
پر تکلف سے ماحول میں کھانا کھایا گیا چائے کے دور کے بعد خاور صاحب نے بات کرنے میں پہل کی
اب کیوں نہ بات کر لی جائے
صفا نے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر چہرہ مرکوز کرلیا اس کی بے چینی کو محسوس کیے اس کے پاس بیٹھے بالاج نے اسے خود سے لگا کر بن کہے حوصلہ دیا
حیا نے مسکرا کر خاور صاحب کو دیکھا
بھائی صاحب آپ تو جانتے ہیں ابھی ہی صفا اپنی پریکٹیکل لائف کی طرف آئی ہے اور اس کیرئیر کو جوائن کرنا اس کا شوق اور خواہش دونوں ہے میں اس کی یہ خواہش پوری کرنا چاہتی ہوں اس کی پریکٹس کا دورانیہ تین ماہ کا ہے تب تک ۔۔۔۔
ہاں حیا صحیح کہہ رہی ہو اتنی جلد بازی نہیں کرنی چاہیے بچوں کو کسی رشتے میں جوڑنے کی
ان کو وقت دینا چاہیے صفا کی پریکٹس تک شجاع اور صفا کو وقت مل جائے گا پھر کردیں گے منگنی
شبانہ خاور نے حیا کی بات اچک کر اس کے ہاتھ دبا کر مسکرا کر یقین دہانی کروائی
حیا بھی مسکرا دی جبکہ صفا جس نے انابیہ کا ہاتھ زور سے تھاما ہوا تھا اسے ریلیکس ہوکر چھوڑا
وہی اپنے باپ کے پاس بیٹھے شجاع نے جس ضبط کے ساتھ اپنی ماں کو دیکھا تھا فائزہ نے چور نظر اس پر ڈال کر محسوس کرلیا تھا
تبھی وہ مسکرا کر ایکسکیوز کرتا وہاں سے اٹھا
ضروری کال ہے
وہ فون کان سے لگا کر لاونج سے نکل گیا ۔۔۔
———
تقریباً ساڑھے گیارہ کا وقت تھا جب شجاع کی فیملی خان ہاؤس سے اپنے گھر کے راستے پر نکل گئی تھی
صفا بالاج سے نظریں چراتی اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ بالاج اور حیا لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے بالاج نے ہی دونوں کے لیے کافی بنائی تھی جسے اس وقت وہ دونوں باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ پی بھی رہے تھے
جبکہ انابیہ کی صبح یونیورسٹی تھی جس وجہ سے وہ سونے کے لیے کمرے میں چلی گئی تھی
تمہارا نہیں خیال بالاج شجاع کو تاخیر پر لٹکا کر ہم صفا کی امیدیں باندھ رہے ہیں جبکہ ہم جانتے ہیں صفا کے بتائے پروپوزل کا انجام کیا ہوگا
حیا نے کافی کا سپ لیتے بالاج چہرے کو دیکھا جو کچھ الجھا ہوا سا تھا
“ماں کبھی کبھی ایسے چھوٹی موٹی ٹھوکریں انسان کو بڑے غم سے ڈیل کرنے کے قابل بنا دیتی ہیں اور کبھی کبھی بڑے دھوکے سے بچنے کی بھی راہ بن جاتی ہیں “
ہممم۔۔۔
“ویسے آنٹی کا بی ہیویور کچھ عجیب نہیں تھا آج ماں ؟ ‘
بالاج نے خالی مگ پر انگلی پھیرتے ہوئے حیا کا چہرہ دیکھا جس کا خود کا رنگ اس سوال پر پھیکا سا پڑا
“سچ کہو تو مجھے شبانہ خاور کے روئیے پر ان کی مسکراہٹ پر آج پہلی بار آبدہ شاہ کی جھلک نظر آئی مگر نہیں ایسا نہیں ہوسکتا میری بیٹی کا نصیب مجھ سا نہیں ہوسکتا اور شجاع وہ تو بالکل بھی ایسا نہیں ہے مجھے یہ ہی تو تسلی ہے بالاج کے صفا کا دل ٹوٹے گا تو اسے سنبھالنے کے لیے شجاع ہوگا “
حیا نے مگ سینٹر ٹیبل پر رکھ کر اپنے ہاتھوں کو جوڑ کر پیشانی ان پر رکھی بالاج فوراً ان کے قریب ہوگیا اس نے ماں کو اپنے حصار میں لیا
“بہت مشکل ہوتا ہے بالاج بہت مشکل میری صفا ۔۔۔نہیں وہ بہت نازک ہے “
حیا نے بالاج کی طرف اپنی بھیگی سبز آنکھوں کو مرکوز کرتے ہوئے کہا لہجے ہیں خوف تھا اڑی رنگت ان کے خوف کی ترجمانی کر رہی تھی
“چوبیس سال حیا نے سفر suffer کیا ہے
اسے کمال اعوان کی بات یاد آئی آج پہلی بار اس کی ماں نے اپنے دکھ کی جھلک دیکھائی تھی بالاج کو نہیں تو وہ ہر وقت مضبوط بنی رہتی تھی ان دو کو تو بھنک بھی نہیں پڑنے دیتی تھی
“ایک موقع تو وہ دونوں بھی ڈیزرو کرتے ہیں چوبیس سال پہلے حیا نے اپنے بچوں کی خوشی کے لیے بغیر سوچے سمجھے قدم اٹھا لیا تھا
آج تمہارے سامنے بیٹھا ایک باپ بھی اپنے بیٹے کی خوشیوں کے لیے تمہارے سامنے جھولی پھیلائے بیٹھا ہے “
اس نے ماں کے ہاتھ چومے” آپ بہت اچھی ہیں ماں “
بالاج نے دل میں کہا
کچھ نہیں ہوتا ماں اس کا بھائی ابھی زندہ ہے آپ نے فکر نہیں کرنی ادھر دیکھیں
بالاج نے اس چہرہ ہاتھوں میں تھاما
“اپنے بیٹے پر یقین رکھیں ماما اپنی گڑیا کو کسی دکھ کا سامنا نہیں کرنے دے گا آپ کا بالاج اور رہی بات شبانہ آنٹی کی تو وہ بھی میں دیکھ لیتا ہوں وہ شاید ہمارے تاخیر ڈالنے پر اس طرح ری ایکٹ کر کے گئی ہیں مگر میں شجاع کو جانتا ہوں وہ بہت اچھا ہے بلکہ اس کا بچپن تو میرے ساتھ ہی گزرا ہے “
“ہمم جاؤ اب تم صبح اتنے کام ہیں بھائی کی بھی کال آئی تھی اس جمعے حمزہ اور پریہان کا نکاح کے ساتھ رخصتی کا چھوٹا سا فنکشن ہے اور ہفتے کو ولیمہ ہے اس کی تیاریاں بھی کرنی ہیں میں چاہتی ہوں حمزہ اور پری کی شادی میں کوئی کمی نہ ہوں “
“ہو جائے گا جانم آپ بس حکم کریں اج کیا ہے منگل تھا بدھ ہے صبح ہوجائے گا میں علی بخش کو بھیج دیتا ہوں دیکھنے کے لیے ادھر کا کام مگر ماں یہ دو دن ہم کسی ہاٹل میں رہیں گے میں ادھر نہیں رہنا چاہتا”
بالاج ادھر میری ماں بھی ہے اتنے سال ان سے دور رہی ہوں
حیا نے افسردگی سے کہا اس عورت کی وجہ سے پہلے بھی وہ اتنے سال اپنے بھائیوں اور ماں سے دور رہی اب پھر رہنا پڑے گا
“آپ انہیں ساتھ لے آئیں نہ ماں وہ ادھر رہ لیں ہمارے ساتھ اتنا بڑا گھر ہے “
بالاج نے ماں کے افسردہ چہرے کو دیکھ کر فوراً حل بتایا
“مجھے نہیں لگتا وہ آئیں گی “
“دیکھ لیں گے آپ نے ٹینشن نہیں لینی اور بتائیں کیس کا کیا بنا ہوگیا اور وہ شخص خرم داد جس نے حملہ کروایا تھا ؟
سنا ہے اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ؟”
بالاج نے سنجیدگی سے حیا کو دیکھا مگر آنکھوں کی چمک پر حیا نے اپنی آئی برو اُچکائی
“ہاں اس کا ایکسیڈنٹ ہوچکا ہے اور بہت بری حالت میں ہے ہاسپٹل میں موجود ہے وہاں سے بچے گا تو اپنے اوپر لگی دفعات کے ہاتھوں قید ہو جائے گا “
“خیر اتنا برا ایکسیڈنٹ بھی نہیں ہونا چاہیے تھا اس کا ابھی اپنے جرموں کا بدلہ بھی دینا تھا اس نے “
“اوو کوئی بات نہیں ہوتا تو وہ ہی ہے جو لکھا ہوتا ہے بالاج” ہنوز سنجیدہ تھا مگر آنکھوں کی چمک قابلِ دید تھی
“اوو کوئی بات نہیں کے بچے تمہاری ماں ہوں میں بالاج
کیا مطلب میں سمجھا نہیں” وہ اب مسکرایا گال کا گڑھا نمایا ہوا تھا
“جاؤ بالاج خان صبح تمہیں بہت کام ہے اس بات کے بابت تم سے صبح پوچھوں گی “
حیا نے اس کی گال کھینچ کر کہا
‘یار ماں بچہ تھوڑی ہوں میں “
بالاج نے گال سہلائی
“میرا بچہ باپ بنو گے تو پتا لگے گا بچہ بچہ ہی رہتا ہے ماں باپ کے لیے “
حیا ہنستے ہوئے اٹھی
“چلو نکلو میری بیا تمہارا انتظار کر رہی ہوگی بچاری نیند کی شدائی میری بچی کو انتظار کی سولی پر لٹکایا ہوا ہے “
“آہ پتا ہے بھنگ پی کر سورہی ہوگی آپ کی بچی “
بالاج ماں کا سر چوم کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
پیچھے حیا بھی ہلکی پھلکی سی ہوگئی
گھڑی میں وقت دیکھا خلع کے کاغذات تو اب تک پہنچ گئے ہوں گے مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا اسے
صبح باسط کو بھیج کر سب سے پہلا کام اس نے یہ ہی کروانا تھا
———-
بالاج دبے قدموں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تھا کہ کہیں انابیہ کی آنکھ نہ کھل جائے مگر وہ بیڈ کے کراؤن کے ساتھ ٹیک لگا کر سوتی جاگی کیفیت میں ہاتھ میں موبائل پکڑنے بیٹھی تھی
“تم سوئی نہیں ابھی تک ؟؟”
“آپ کا انتظار کر رہی تھی لاج آپ نے اتنی دیر کردی میں نے صبح یونیورسٹی بھی جانا ہے “
اس نے بسترے پر بیٹھے بیٹھے بازو واہ کی تو بالاج کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا
“بس دو منٹ میری جان میں کپڑے چینج کرکے آیا ۔۔۔۔”
