212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 64)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

پورے ڈھائی بجے صفا نے روہانسا ہوکر گھڑی کو دیکھا تھا پھر سامنے موبائل پر سنجیدگی سے دیکھتے جازب کمال پر نظر ڈالی

اسی وقت جازب کمال نے سر اٹھایا صفا نے ہڑبڑا کر نظریں فائل پر ٹکا لیں

” آج کے لیے اتنا کافی ہے ہوگئیں ہیں فری آپ”

جازب کمال نے اپنا فون بند کرکے میز پر رکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا

تو صفا نے باقاعدہ گہری سانس بھر کر فائل بند کرتے ہوئے میز پر رکھی اسے جلد از جلد حیا سے ملنے کی طلب ہورہی تھی جو باتیں وہ صبح سن چکی تھی جو کچھ وہ جان چکی تھی اس کے بعد وہ بس زیادہ سے زیادہ حیا کے پاس رہنا چاہتی تھی

“کیا میں جاؤں سر ؟ “

“ٹائم اؤر ہونے کے بعد تم مجھے انکل بلا سکتی ہو بچے “

جازب نے اپنے ازلی نرم لہجے میں کہا تو صفا بھی ریلیکس سی ہوگئی

“سچی انکل ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ مما کے بھائی لگ رہے تھے اتنا رَف ایک روڈ Rough and Rude سٹائل “

صفا نے ہنستے ہوئے جازب کی سنجیدگی پر تبصرہ کیا

جبکہ جازب خود کو حیا کا بھائی کہنے پر زیر لب لاحول ولاقوۃ پڑھ چکے تھے

اور انتہا یہ کہ وہ صفا کو ٹوک بھی نہ سکے بس جبراً مسکرا دئیے

“ابھی آپ نے حیا صاحبہ کو اسسٹ نہیں کیا بچے تبھی آپ ایسا کہہ رہی ہیں نہیں تو یہ رف اور ٹف سٹائل ہمارے پروفیشن کا خاصا ہے کبھی ہمیں عام سی بات بھی نہایت روڈ انداز میں کرنی ہوتی ہے تو کبھی اگلے کو آگ لگانے والی بات بھی مسکرا کر برداشت کرنی ہوتی ہے “

“یہ پوائنٹس بھی لکھوں ؟ “صفا نے بے چارگی سے کہا تو جازب قہقہ لگا گئے

“سیدھا جا کر دائیں ہاتھ میں بڑا سا حال نما کمرہ ہے وہاں دوسرا آفس ان کا ہے “

———-

بالاج کمپوزڈ سا ہوکر انابیہ کی یونیورسٹی کے باہر اس کے انتظار میں کھڑا تھا

جب وہ مسکراتے ہوئے اس کی جانب آئی اسے آتے دیکھ کر بالاج نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اس کے بیٹھ جانے کے بعد خود دوسری طرف آکر بیٹھا

“اسلام علیکم کیسا رہا تمہارا دن؟” بالاج نے ہنوز کمپوز سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا

“دن تو اللہ کا شکر بہت اچھا گزرا آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں ؟ “

انابیہ نے مسکرانے کے ساتھ ساتھ فکر مندی سے کہا تو بالاج بس ایک نظر اسے دیکھ کر رہ گیا وہ کیا اس کی آنکھیں بھی پڑھنے لگی تھی اب

“ہاں بس صفا کو لے کر تھوڑا سا ۔۔۔۔ “

بالاج کمال اعوان کی بات گول کر گیا

“جہاں تک مجھے یاد ہے آپ رات کو صفا والی ٹینشن سے آزاد ہوکر سوئے تھے ! تو کیا آپی نے کچھ کہا ہے ؟ جواب دیا ؟ یاں کوئی خواہش رکھی ہے ؟ یاں کوئی اور پریشانی ہے ؟ “

بالاج لب بھینج گیا وہ انا سے کب تک چھپا لیتا مگر ماں کے لیے ایسے ذکر کرنے میں اسے جھجھک سی ہورہی تھی

“نہیں صفا سے ماں نے ابھی بات نہیں کی “

بالاج نے سٹیرنگ گھماتے ہوئے انابیہ کے پہلے ہی سوال کا بس جواب دیا تھا دوسرے کو وہ اگنور کرگیا تو انابیہ خاموش ہوگئی

یہ دونوں ہی جانتے تھے انابیہ کیوں خاموش ہوئی ہے

تبھی انابیہ نے بالاج کی تھائی پر دھرے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔

“جب صحیح لگے تب بتا دیجیے گا “

وہ مسکرا کر سر سیٹ کے ساتھ لگا کر آنکھیں موند گئی

آدھا راستہ یوں ہی خاموشی کی نظر ہوا

“کیا عورت اپنے لیے اٹھتی ہر نگاہ کو پہچان لیتی ہے “

وہ جیسے غنودگی میں جا رہی تھی جب بالاج کی آواز پر ہوش میں آئی

“کیا عورت کو محسوس ہو جاتا اس کے پاس کھڑے اس سے بات کرتے شخص کی ا س کے لیے کیا اٹینشنز ہیں “

“جی “

انابیہ نے یک لفظی جواب دیا

“ہر عمر کی ؟ “

بالاج نے جیسے تصدیق چاہی

“جی ہر عمر کی ۔۔۔۔ یہاں تک کہ ایسی اٹینشنز سے یکسر انجان ایک نا بالغ لڑکی بھی “

انابیہ نے جیسے کھول کر واضح کردیا

بالاج نے اپنے ہاتھ کے اوپر دھرے انابیہ کے ہاتھ کو مٹھی میں بھر کر ہونٹوں کے قریب لے جا کر بوسہ دیا

“صفا والا معاملہ حل ہو جائے پھر تم سے شئیر کروں گا اس پریشانی کو بھی اور مجھے امید تم مجھے صحیح گائیڈ کرلو گی “

وہ انابیہ کا وہی ہاتھ اپنے گال کے ساتھ جوڑ گیا

وہ بھی مسکرائی جب جب بالاج اسے ایسے مان دیتا تھا اسے اپنا وجود معتبر لگتا تھا وہ پل پل اپنی ماں کے اس فیصلے پر شکر کرتی تھی بالاج سے ساری ناراضگیاں اس کی وارفتگیوں کے آگے اپنی موت آپ مر گئے تھے

———-

“سکھا سکھا کہاں ہے ماں ؟” اسے مٹھائی کے ٹوکڑوں کا کہا تھا

شجاع خاور تو جیسے آج کسی کے بھی قدموں کو ٹکنے نہیں دے رہا تھا

“تحفے کہاں ہیں گاڑی میں رکھ دئیے کیا ؟

“عظمی باجی (ملازمہ ) آپ کے شوہر کہاں ہیں ؟ رفیق۔۔۔ آہ یہ شخص میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہا “

“شجاع پینک کیوں ہورہے ہو ؟” اس نے گہری سانس بھری

“بس سب ٹھیک سے ہو جائے ” شجاع نے مسکرا کر لاونج میں لگے شیشے میں دیکھا تبھی اسے اپنے پیچھے کسی کا عکس نمایا ہوتا نظر آیا

فائزہ اپنے ازلی سادہ سے حلیے وہی سپاٹ تاثرات

شجاع نے اسے اگنور کیا وہ کم از کم اس داسی کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا اس کے چہرے کی ویرانی دیکھ کر شجاع گھبرا جایا کرتا تھا

———

” کیا ہم نے صحیح کیا شبانہ ؟”

خاور صاحب نے اپنے کانوں میں اویزے ڈالتی بیوی پر نظر ڈال کر دھیمے سے لہجے میں پوچھا

جانے کیا تھا ان کے لہجے میں کہ شبانہ خاور کے لمحے بھر کو ہاتھ تھم سے گئے تھے

“آپ کی بہن کی خواہش تھی یہ خاور صاحب آپ کی سگی بہن میری نہیں وہ جاتے جاتے فائزہ کی زمہ داری ہم پر ڈال کر گئی تھیں “

“ہاں تو اب جو قدم ہم اٹھا رہے ہیں وہ صحیح ہے فائزہ کے ساتھ صفا کے ساتھ ؟ میری مری بہن کے ساتھ “

“جو قدم ہم نے پہلے اٹھایا تھا خاور صاحب وہ آپ کی اور آپ کی بہن کی خواہش تھی اب جو قدم ہم اٹھا رہے ہیں جو کہ میں ہرگز اٹھانا نہیں چاہ رہی مگر مجبور ہوں تو اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے نہیں تو مجھے آپ کی یتیم مسکین بھانجی قبول ہے مگر وہ لڑکی نہیں جس کی پیدائش اس کے ہی باپ کے لیے سوالیہ نشان ہے “

“ہاں تو یہ دوغلا پن نہیں ہے کیا اپنے بیٹے کا میری بھانجی سے نکاح کروا کر آج ہم اپنے بیٹے کی پسند کی لڑکی کا رشتہ لینے جا رہے ہیں ، یہ زیادتی نہیں میری یتیم مسکین بھانجی کے ساتھ جسے اس کی ساس نے بطور پہلی چوائس میں اس لیے رکھا ہے کیونکہ اپنے بیٹے کی پسندیدہ لڑکی انہیں پسند نہیں”

اور اس لڑکی کا کیا قصور ہے جسے خود اپنی حقیقت کا معلوم نہیں جس کی ماں کے ماضی کے ہم آنکھوں دیکھے گواہ ہیں

“چھوڑ دیں اس بات کو خاور جو ہوگا دیکھا جائے گا۔۔۔” شبانہ خاور نے آخری نظر اپنی تیاری پر ڈالی وہ بہت کچھ سوچ بچار کر کے جارہی تھی حیا کے گھر ایسے ہی وہ آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگل سکتی تھی

“کچھ ایسا کہ ان کے بیٹے کے سامنے وہ برا بھی نہ بنتی اور اپنے پلین میں کامیاب بھی ہوجاتیں “

“ٹھیک ہے شبانہ بیگم جو ہوگا دیکھا جائے گا مگر یاد رکھنا میرا بیٹا اگر مجھ سے جدا ہوا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا “

“ہم۔۔۔۔ صحیح!!”

———

“شجاع بات سنیں “

فائزہ شجاع کے نکلنے پر فوراً سے اس کے سامنے آئی

“اس دن جب میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ آپ اتنی محبت کرتے ہیں ان سے ؟اور آپ نے جواب میں کہاں تھا

“بہت اتنی کہ اگر وہ ایک دفعہ کہ دے کہ شجاع خاور انتظار کرو میرا تو میں ساری زندگی اس کا انتطار کرسکتا ہوں

وہ کہہ دے شجاع آپ صرف میرے ہیں تو میں دوسری نظر کسی کی طرف نہ کروں

وہ اگر کہہ دے شجاع اپنی محبت ثابت کرکے دکھاؤ

تو میں اس کے لیے جان بھی دے دوں

وہ اگر کہہ دے صرف میرے ہو جاؤ

تو میں اس کے لیے خود سے بھی لاتعلق ہو جاؤں

اور میں پوری رات سوچتی رہی کہ کیا کوئی شخص کسی سے اتنی زیادہ محبت کر سکتا ہے پھر مجھے اندازہ ہوا نہیں اتنی محبت کوئی نہیں کرسکتا “

فائزہ

مسکرائی شجاع بے چین ہوا

” تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ اتنی محبت کوئی نہیں کر سکتا میں کر سکتا ہوں تم میرا دل نہیں دیکھ سکتی “

شجاع کے ماتھے پر بل پڑے دماغ چٹخ ہی تو گیا تھا

“واقعی آپ ان سے اتنی محبت کرتے ہیں مگر کیا آپ انہیں یہ بتانے کی ہمت کر سکتے ہیں کہ آپ ان کے عہدے میں کسی اور کو شریک کر چکے ہیں”

“وہ بس ایک فارمیلیٹی تھی مجھے مما بابا نے قسم دی تھی”

شجاع نے تیز اور سخت لہجے میں کہا

اسے یاد تھا کس طرح اس کی ماں اور بابا نے صفا کے گھر اس کا رشتے لے جانے کی عوض اس کے آگے فائزہ سے نکاح کی شرط رکھی تھی

کہ اگر صفا کو بیوی بنانا چاہتے ہو تو پہلے فائزہ سے نکاح کرنا پڑے گا بے شک تم بعد میں اس کی زمہ داری مت اٹھانا مگر اسے نکاح میں لے لینا ہی ہو گا اور اس رات شجاع جس قدر زہنی طور پر جزباتی ہوا ،ہوا تھا اس نے ماں باپ کے آگے ہار مان لی تھی

“وہ مجبوری تھی میری …”

مجبوری ۔۔۔ وہ استہزایہ مسکرائی

“مرد کبھی مجبور نہیں ہوتا شجاع خاور کبھی مجبور نہیں ہوتا مرد اگر نا چاہے نہ تو کوئی بھی طاقت اس کی نا کو ہاں میں نہیں بدل سکتی

یہ تو عورت ہوتی ہے جس کی نا کو بھی نیم رضامندی سمجھا جاتا ہے مگر مرد کی نا ، نا ہی رہتی ہے

میں نے آپ پر اپنی کوئی زمہ داری نہیں ڈالی اور اگر آپ زرا سی بھی آواز اٹھاتے اور احتجاج میں اتر جاتے تو میں ماموں اور مامی کے پیر پکڑ لیتی مگر آپ سے نکاح نہیں کرتی

تو خدارا اگلی بار یہ مت کہیے گا کہ آپ مجبور تھے ایسا کہہ کر آپ صرف خود کو دھوکہ دیں گے

ابھی بھی آپ سے یہ کہنے آئی ہوں اس لڑکی کو جسے آپ اپنی محبت کہتے ہیں اس کی زندگی برباد مت کریں اسے حقیقت سے آگاہ کردیں اگر آپ کہیں گے تو میں اس سے خود بات کرلوں گی میرا اور آپ کا رشتہ فقط کاغزی ہے میں آپ دونوں کے درمیان نہیں آؤں گی مگر اسے دھوکے میں مت رکھئیے گا کیونکہ جب امیدیں ٹوٹتی ہیں تو انسان بھی ٹوٹتا ہے ساتھ “

“میں نے تم سے کوئی عہدو پیمان نہیں کیے تھے فائزہ “

شجاع نے اس کو سے بازو تھام کر سامنے کیا

در حقیقت چہرے سے دھواں نکل رہا تھا جیسے کسی نے گرم تپھڑ مار دیا ہو

“اسی وجہ سے تو آج یہ ہمت کر پارہی ہوں شجاع اسے وجہ سے تو آپ کو آزاد کر رہی ہوں کہ آپ کی کیا غلطی آپ نے کون سے میرے ساتھ جینے مرنے کے وعدے کیے تھے جس کی بنا پر آپ سے لڑوں مگر یہ اُمیدیں تو ہر مجھ سی بیوقوف لڑکی اپنے بچپن میں ہی باندھنا شروع کر دیتی ہے کہ کوئی شہزادہ آئے گا اور سارے غم بہا لے جائے گا

مگر مجھے اندازہ ہوگیا ہے ہر لڑکی کی زندگی میں شہزادہ نہیں آتا کبھی کبھی کچھ لڑکیوں کو اپنا شہزادہ خود بننا پڑتا ہے “

وہ نرمی سے اپنا بازو شجاع کی گرفت سے آزاد کروا کر وہاں سے نکل گئی ۔۔۔

——–

“او ایکسکیوز می آپ کہاں چلی جارہی ہیں ؟؟ میڈم !!”

باسط حیا نے آرڈر پر کہ اس وقت اسے کوئی ڈسٹرب نہ کرے اس کے آفس کے باہر بیٹھا اپنے کام میں مشغول تھا

جب ایک نسوانی وجود تیزی سے اسے حیا صاحبہ کے آفس میں روم میں جاتا نظر آیا

باسط اپنی شامت آنے پر جلدی سے صفا کے آگے کھڑا ہوگیا

ایکسکیوزمی مجھے حیا خان صاحبہ سے ملنا ہے

صفا نے تیوری چڑھا کر اپنے سامنے کھڑے اپنے سے قدرے لمبے شخص کو سر اٹھا کر گھور کر دیکھا تھا

باسط کی نظر ایک پل کو صفا پر ٹکی تھی پھر وہ نظریں پھیر گیا

میم بزی ہیں اور ابھی اندر کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے آپ تھوڑی دیر بعد آئیے گا

باسط نے ہاتھ میں پہنی گھڑی پر نظر ڈال کر کہا

دو تیس اس وقت وہ فری ہوتی ہیں

صفا نے اسی کی گھڑی پر نظر ڈال کر اشارہ کرکے بے زاری سے کہا وہ پہلے ہی بہت تھکی ہوئی تھی اوپر سے یہ لمبا چوڑا جن

باسط نے اپنے گھنگرالے بالوں پر ہاتھ پھیرا

دیکھیں مس

“جونئیر ایڈوکیٹ صفا خان “

صفا نے دانت پیس کر اپنا انٹرو ڈکشن دیا

“او تو آپ جونئیر ہیں ” باسط مسکرایا

“ویسے آپ کو کیا کام ہے حیا میم سے ؟ کہیں آپ ان کی نئی اسسٹنٹ تو نہیں لڑکی کہیں تم میری سیٹ ٹو کھانے نہیں آئی “

باسط نے خود ہے دماغ میں کھچڑی پکاتے آنکھیں بڑی کرکے کہا

اس کے انداز پر صفا کو ہنسی آئی

جازب انکل تو کہہ رہے تھے یہاں سب بڑے پریکٹکل ہیں تو اس نمونے کو مما نے خود کو اسسٹ کرنے کے لیے کیسے رکھ لیا

صفا بڑبڑائی

“تم کوئی جادو کر رہی ہو”

باسط نے گھور کر صفا کے بڑبڑاتے ہونٹوں پر ٹونٹ کیا

اب تم سائیڈ پر نہ ہٹے مسٹر اسسٹنٹ تو میں واقع تم پر جادو کردوں گی اور ساتھ میں تمہاری سیٹ بھی کھا لوں گی

صفا نے اسے ہٹاتے کہا

“دیکھو تم اندر نہیں جاسکتی میڈم غصے میں ہیں “

باسط نے اسے پھر سے روکا مگر اس بار صفا آگے ہوکر حیا کے آفس روم کا دروازہ ناک کرچکی تھی

باسط نے انگلیاں دانتوں میں لے کر اپنی کھڑوس میڈم کی ڈانٹ کا انتظار کرنے لگا

کم ان

مگر اندر سے آتی نرم آواز پر باسط متحیر ہوا

صفا نے طنزیہ مسکراہٹ اچھال کر اندر قدم بڑھائے تو ساتھ ساتھ باسط نے بھی اس کے اندر قدم رکھے

میم یہ زبردستی اندر آئی ہیں میں نے منع بھی کیا تھا

باسط تیزی سے بولنا شروع ہوا جبکہ

حیا صفا کو دیکھ کر مسکرا کر اٹھی اور پھر اسے ساتھ لگا کر بیٹھنے کا کہا

جبکہ باسط کی پھر سے آنکھیں کھل گئیں

“تم جا سکتے ہو باسط اور جاتے جاتے کریم چچا سے کہنا دو کپ کافی اور کچھ ساتھ لیتے آئیں “

“جادو گرنی میم پر بھی جادو کردیا !!”

باسط نے گھور کر صفا کی پشت پر بکھرے اس کے گھنگرالے بالوں پر نظر ڈال کر کہا