Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 63)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 63)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“دھیان سے جانا جب فری ہوجاؤ گی تو مجھے کال کرلینا پرس پکڑ لیا نہ یونیورسٹی کارڈ ہے نہ تمہارے پاس اور پیسے ۔۔۔۔”
“ارے بابا سب ہے میرے پاس لاج میں پہلی دفعہ تھوڑی نہ جا رہی ہوں یونیورسٹی”
انابیہ بالاج کے اور پروٹیکٹو ہونے پر ہنس دی
“اچھا چلو پھر دھیان سے جاؤ” اس نے انابیہ کی جانب ہوکر گاڑی کے دروازے کا لوک کھولا
انابیہ اس کے جھکنے پر شرارت کرتی مسکراتی ہوئی گاڑی سے نکل گئی
“اللہ حافظ مسٹر شوہر ۔۔!” شرارتی آنکھوں کے ساتھ بالاج کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتی وہاں سے سیدھا یونیورسٹی کے مین گیٹ کی جانب سے اینٹر ہوگئی
پیچھے بالاج مسکرا کر بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا ۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے گاڑی کا رخ اعوان مینشن کی جانب
بڑھا لی
———-
حیا اور صفا جازب کے ساتھ ہی کورٹ آئیں تھیں جازب اور حیا نے پہلے اپنی ہیرینگ کے حساب سے ڈسکشن کی تھی پھر وہ حیا کو لے کر سپریم کورٹ کے لیے نکل گئے جبکہ صفا کو جازب نے اپنے آفس میں کچھ فائلز ریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ ان انتظار کرنے کا کہ کر گئے تھے
صفا جازب کمال کے آفس میں بیٹھی ان کے آفس روم کا معائنہ کر رہی تھی فائلز وہ ریڈ کر چکی تھی تبھی نہایت تفصیل سے کمرے کا معائنہ کر رہی تھی
ہلکے کریم رنگ سے مزین دیواریں بلاشبہ ماحول کو پیشہ ورانہ سا بنا رہی تھیں دیواروں پر لگی کچھ قانونی تصویریں اور آرٹ ورک تھے جو آفس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی مقابل کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی طاقت رکھتے تھے
ایک بڑی سی گہری بھورے رنگ کی میز پر لیپ ٹاپ اور کچھ سرمئی اور نیلے کور والی فائلوں کے ڈھیر سے لگے ہوئے تھے
دیواروں پر ڈپلومے اور سرٹیفکیٹس فریم میں جازب کمال کی ذہانت و کامیابی کا منہ بولتا ثبوت تھے ۔ بائیں جانب ایک بڑا سا خانہ قانون کی کتابوں سے بھرے شیلف
اور ڈیکوریشن پیس میز پر قانونی پیڈز اور قلم نفاست سے رکھے گئے تھے کلائنٹس کے بیٹھنے کے لیے ایک آرام دہ کرسی تھی جس پر وہ براجمان تھی
گہرے بھورے رنگ کی ٹیبل پر وہ کہنی ٹکائے بڑی محویت سے بیک وال پر لگی دو ترازوں والی وال آرٹ کو دیکھ رہی تھی سنہری رنگ کے دو ترازوں برابری اور انصاف سے تشبیہ دیئے گئے تھے پھر اس کی نظر زرا سی ہٹی تو غیر ارادی نگاہ میز پر پڑے چھوٹے سے فریم پر گئی
وہ بلاشبہ فریم سی جھلکتی تصویر میں نظر آتا شخص بہت وجیہہ تھا شاندار پرسنیلٹی کا حامل وہ جو اس عمر میں بھی بہت حسین لگتا تھا اپنی جوانی میں کیسا تھا صفا نے اج پہلی بار دیکھا پھر لاشعوری طور پر ہی اس نے جازب کمال کی تصویر والا فریم تھاما وہ شاید ستارا اٹھارہ سال پرانی تصویر تھی جس میں جازب کمال مخصوص وکیل والے حلیے میں تھے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک قابلِ دید تھی
صفا تصویر کو دیکھتے ہوئے حدید شاہ کے بارے میں سوچنے لگی
اس کے بابا تو اس کی مما سے سات آٹھ سال بڑے تھے تو کیا وہ بھی اتنے سالوں بعد ایسے ہی ہوں گے جازب انکل جیسے فٹ اور خوبرو آخری بار اس نے حدید کی تصویر پانچ سال پہلے حیا کی الماری کے دراز میں دیکھی تھی جو حیا کی شادی کے اوائل دنوں کی تھی جس میں وہ دونوں ہی موجود تھے تصویر یاد کرتے اسے احساس ہوا تھا اس کی ماں نے صحیح ہی کہا تھا وہ شخص کسی بھی لڑکی کا خواب ہوسکتا تھا
ان کے پاس وجاہت ،ذہانت، دولت ہر شہ تھی مگر دل نہیں تھا
صفا نے بےزاریت سے سر جھٹکا
“خواب ۔۔۔ کسی بھی لڑکی کے لیے بھیانک خواب ہوسکتا ہے وہ شخص ۔۔۔۔ ” وہ طنزیہ مسکرائی
“میں نے اپنا پہلا کیس جیتا تھا تب کی تصویر ہے یہ “
جازب کمال نے آفس میں داخل ہوتے اپنی تصویر پر صفا کی محویت دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بتایا
تو صفا نے خجل ہوکر فریم واپس اس کی جگہ پر رکھ کر کھڑی ہوئی
“السلام علیکم کیسا رہا آپ لوگوں کا ٹرائل ؟”
“کامیاب “جازب نے مسکراتے ہوئے یک لفظی جواب دیا
“ماما میرا مطلب سینئر ایڈوکیٹ حیا خان صاحبہ ؟”
جازب اس کے انداز تخاطب پر مسکرایا
“وہ اپنے آفس میں ہیں، اس وقت وہ کسی سے نہیں ملتی اگر آپ نے ملاقات کرنی ہے تو پورے دو تیس میں ہی آپ ان سے ملاقات کرسکتی ہیں وہ بھی ان کے اسسٹنٹ سے بات کرنے کے بعد “
جازب اپنے کوٹ ان اَن بٹن کرتا اپنی چئیر پر بیٹھتا
پروفیشنل انداز میں بولا تو بدلے میں صفا نے بھی پروفیشنل مسکراہٹ کے ساتھ سر خم کیا
“یو مے سٹ مس خان “
“تو آج آپ کا آفشلی فرسٹ ڈے ہے اپنی پریکٹس کے ساتھ ساتھ مجھے اسسٹ کرنے کا !”
“یس سر ! “
“میں نے کچھ فائلز دیں تھی آپ کو ریڈ کرنے کے لیے “
“جی سر میں نے ریڈ کی ہیں “
“سو گیو می بوتھرو “
جازب نے کرسی ہے ساتھ اپنی بیک پن کرتے جازب کے سوال پر خود کو کمپوز کرتی صفا پر نظر ڈالی
———-
“سر بالاج صاحب آئیں ہیں !”
کمال صاحب اپنے کمرے سے منسلک سٹڈی روم میں بیٹھے کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے جب ملازم نے مودبانہ انداز میں ان کا دروازہ ناک کرتے ہوئے انہیں اطلاع دی
“اسے بٹھاؤ بلکہ لوینگ روم میں نہیں اسے ادھر ہی لے آؤ سنو چائے کا اچھا سا انتظام کرنا اور کمرے میں ہی لے آنا اور ایسا کرو کھانا بھی بنا لو ویسے میں نے صبح کک سے کہا تو تھا “
“اب منہ کا تک رہے ہو جاؤ کے کے او اسے “
کمال اعوان کرسی سے اٹھے
جبکہ ملازم تو اپنے مالک کی بے تابی پر حیران تھا
افف جازب اب بوڑھے باپ کو ملازموں کے سامنے مزاق بنانا ہے
وہ ایک جوان بیٹے سے اپنے بیٹے کے لیے اس کی ماں کا رشتہ مانگنے لگے تھے بڑی عجیب سی سچویشن تھی ان کے لیے
———-
اپنے آفس میں ہتھیلیوں پر گال ٹکائے حیا سامنے لگے چھوٹے سے شیشے کو دیکھ رہی تھی اس کا آفس بھی تقریباً جازب کمال جیسا ہی تھا
ویسی ہی کریم رنگ سے رنگی دیواریں دیوار پر لگے آرٹ ورک ہاں ان کی میز پر رکھے فریم میں تین نفوسوں کے چہرے نمایا ہورہے تھے بالاج صفا اور چھوٹی سی انابیہ جو اس کا کل اثاثہ تھے پھر اس نے گہری سانس بھر کر اپنے آگے پڑے دستخط شدہ خلع کے کاغذات کو دیکھا
ان پر دستخط کرتے ہوئے کوئی جزبات اسے محسوس نہیں ہوئے
نہ دکھی نہ خوشی کہ اور نہ ہی نفرت کے بالکل سپاٹ اور ٹھنڈے جزبات تھے حیا کہ اس شخص نے جیسے اس کے جزبوں کا ہی قتل کردیا تھا
ان کاغزات کو خاکی لفافے میں قید کیا اپنے آگے پڑی سنہری مہر اس پر ثبت کی
“باسط !! ” میز پر پڑے انٹر کوم سے اپنے اسسٹنٹ کو کال کی
آگے ہی منٹ وہ دروازہ ناک کرتے حیا کے سامنے کھڑا تھا
تئیس چوبیس سال کی عمر کا وہ لڑکا جس کے بال گھنگرالے تھے رنگ تھوڑا سا دبا ہوا تھا قد چھ فٹ تھا چہرے پر سٹبل سی داڑھی مونچھیں تھی وہ موودب انداز میں کھڑا تھا
“تم سے ایک کام کہا تھا “حیا نے سپاٹ انداز باسط پر ڈالی تو وہ گڑبڑا گیا بے شک حیا کے وقار اور رعب میں تو یہاں کا آدھا سٹاف آیا ہوا تھا
“جی میم ہوگیا “
اچھا یہ آج ہی مطلوبہ جگہ پر ارسال ہو جائے “
“اوکے میم “
———
“ماموں دھیان سے” عون نے حدید کے بازو چھڑوانے پر عون نے فکرمندی سے کہا
“ٹھیک ہوں یار تم نے مریض ہی بنا چھوڑا ہے اتنا بیڈ ریسٹ میں نے کبھی نہیں ۔۔۔۔ ! ” بولتے بولتے حدید کی آنکھوں کے سامنے تاریخ سا سایہ لہرایا اس سے پہلے وہ لڑکھڑاتا عون نے خود ہی نرمی سے
ان کے گرد اپنے بازوؤں کو باندھا
“اللہ نہ ہی کبھی ضرورت لائے میرے ہینڈسم ہنک” عون نے انہیں بیڈ پر بٹھا کر کہا تو حدید نے بھی اپنا ہاتھ عون کے گرد باندھ لیا
“وہ آئے گی نہ عون میری بچی مجھ سے ملنے “
اتنا بے بس عون نے آج سے پہلے اپنے ماموں کو کبھی نہیں دیکھا تھا تبھی لب بھینج گیا
“انہیں آنا پڑے گا ماموں ” وہ گہری سوچ میں غرق بولا
———
“کافی پوائنٹس مس تھے !!”
جازب نے سنجیدگی سے نوٹ بیڈ پر صفا کی جانب سے ہائی لائٹ کیے گئے پوائنٹ کو دائرہ بنا کر سمیٹا
صفا نے نچلا لب کاٹا کنفیوژ ہوتے انگلیوں کو مروڑا سر پہلے سے اور جھکا لیا
“ٹین میں سے فور اور مائنس ون تمہارے اِم فارمل باڈی لینگویج کے “جازب نے ہاتھ میں پکڑا پین ہونٹوں سے لگاتے صفا کی طرف دیکھ کر کہا
صفا نے سر اٹھایا دل جیسے بیٹھ ہی گیا تھا کہ پہلے ہی دن اتنا برا امپریشن اور پھر وہ مما کو کیا بتائے گی
“ناؤ رائٹ سم رولز أون پیپر ریگارڈنگ کیس ریڈنگ. مس خان!”
“Now write some rules on paper regarding case reading . Miss Khan !”
“فرسٹلی اپنی باڈی لینگویج سے کبھی بھی سامنے والے کو یہ شو مت کروائیں کہ آپ کنفیوژ ہیں،
آپ کی پروفیشنل سٹرانگ باڈی لینگویج ہونی چاہیے
سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر سٹرانگ آئی کونٹیکٹ کے ساتھ بات کریں
آپ کے پوائنٹس پورے ہو یاں نہ ہو جتنے بھی ہیں ان پر پکڑ مضبوط ہونی چاہیے
کیس کی ہسٹری اس کا مین پوائنٹ ہوتا ہے
نمبرز اور فیگرز لائیر کے ٹپس میں ہونے چاہیے “
صفا جیسے جیسے لکھتی جارہی تھی اسے ساتھ ساتھ اپنی غلطیوں کا بھی اندازہ ہورہا تھا
———-
“اور سناؤ سب کیسا جار ہا ہے ؟ ” کمال اعوان نے تیسری دفعہ یہ سوال کیا تھا
“جی الحمدللہ انکل سب ٹھیک”مگر بالاج نے تیسری بار بھی مسکرا کر ہی جواب دیا
ابھی کمال اعوان مدعے پر آتے جب ملازم سروینگ ٹرالی میں چائے کے ساتھ چائے کے انواع اقسام کے لوازمات لیے وہاں آیا
“انکل ان سب کی کیا ضرورت تھی میں ناشتہ کرکے آیا ہوں”
بالاج نے خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
“نہیں نہیں تکلف کی ضرورت نہیں ہے “
چائے کا کپ ہونٹوں سے لگاتے کمال صاحب نے خاموش نظر بالاج پر ڈالی وہ بھی انہیں ہی دیکھ رہا تھا
اتنا مشکل ہوتا ہے کسی کے بیٹے سے اپنے بیٹے کے لیے اس کی ماں کا رشتہ مانگنا
وہ گہری سانس بھر کر رہ گئے
“حیا نے خلع کے کاغزات بنوائے ہیں مجھ سے “
کمال اعوان نے شروعات کی
بالاج نے چائے کا کپ سامنے پڑی شیشے کی ٹیبل پر رکھ دیا اب سنجیدگی سے کمال صاحب کو سننے لگا
“یہ بات ایک معقل اور وکیل کے درمیان کانفیڈینشنل ہوتی ہے بالاج مگر تم سے ایک وجہ کی بنا پر کر رہا ہوں “
“جی میں سن رہا ہوں انکل !”
بالاج نے خلع کا سننے کے بعد ماتھے پر آئی تیوڑیوں کو درست کرتے کہا
“چوبیس سال حیا نے سٹرگل کیا ہے چوبیس سال لگ گئے اسے موو آؤن کرنے میں بے شک وہ اس شخص سے وہاں سے نکلتے ہی اپنے سارے رشتے ختم کرچکی تھی وہاں سے نکلنے کے بعد میں اتنی تاخیر کی وجوہات سے بھی تم واقف ہو۔۔ حدید شاہ کے سٹرانگ بیک گراؤنڈ کے سبب تم اور صفا کی سیکیورٹی کی وجہ سے وہ اس شخص کے نام سے آزاد نہیں ہوسکی تھی
اسی وجہ سے وہ آج بھی قانونی اور شرعی لحاظ سے اس شخص کی بیوی ہے مگر اب جب اس نے قدم بڑھا کر خلع لینے کا فیصلہ لیا ہے تو ۔۔۔”
“تو ہم یعنی میں اور صفا اپنی مما کے ساتھ ہیں انکل اور مجھے بھی شدید دکھ ہے کہ میری اور صفا کی سیکیورٹی کی خاطر میری ماں نا چاہتے ہوئے بھی اس شخص کے نام سے جڑی رہیں “
“کاش یہ فیصلہ ماں جلدی لے لیتی مگر خیر دیر آئے درست آئے “
“ہمم مجھے یہ ہی امید تھی تم سے بچے کمال اعوان مسکرائے “
” آپ کا ہمارے حامی بننے کا بہت مشکور ہوں انکل آپ نے اور جازب انکل نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر ہماری مدد کی ہے ہمیں اکیلا نہیں ہونے دیا “
بالاج نے عزت و عقیدت سے ان کا ہاتھ تھاما
“تم سے ایک اور بات بھی کرنی تھی بالاج !”
کمال اعوان نے اپنی بالاج کے ہاتھ میں قید ہاتھوں کو کھول کر اب اس کے ہاتھوں کو تھاما
“یہ تمہارے انکل یاں مددگار کی طرف سے نہیں بلکہ ایک بیٹے کے باپ کی طرف سے التجا ہے
آپ حکم کریں انکل بالاج نے اپنی سوچ کی نفی کرتے مسکرا کر کہا
چوبیس سال حیا نے سفر suffer کیا ہے اور لگ بھگ اتنے ہی سال جازب نے بھی خود کو خوشیوں سے دور کر لیا اس کا ماضی
بے شک حیا جیسا دل سوز نہیں تھا مگر اس نے بھی بیوی اور نومولود بچے کو کھویا تھا دونوں ہی اپنے اپنے دکھ دل میں دبائے ہمارے لیے مسکراتے ہیں میں چاہتا ہوں وہ دونوں ایک ہو جائیں دونوں اپنے اپنے دکھ ایک دوسرے کو سنا کر خود کو اس تکلیف سے آزاد کردیں زندگی میں ایک ایک موقع تو وہ دونوں ہی ریزرو کرتے ہیں
تم با حیثیت بیٹے کے جازب کی طرف ہر طرح کی تسلی کر سکتے ہو سوچ سکتے جتنا مرضی وقت لے لو
مجھے غلط نے سمجھنا بالاج میں ایک باپ ہوں جس طرح چوبیس سال پہلے حیا نے اپنے بچوں کی خوشی کے لیے بغیر سوچے سمجھے قدم اٹھا لیا تھا
آج تمہارے سامنے بیٹھا ایک باپ بھی اپنے بیٹے کی خوشیوں کے لیے تمہارے سامنے جھولی پھیلائے بیٹھا ہے “
“کیا آپ یہ جازب انکل کی خواہش پر کر رہے ہیں ؟”
پوری بات سننے کے بعد بالاج فقط اتنا ہی بولا
“ہاں اس کی رضا مندی بھی شامل ہے”
کمال اعوان نے دل میں جازب کو باتیں بھی سنائیں مگر پھر اس کا رات کا ہواؤں میں اچھلنا یاد کرکے وہ دل مسوس کر رہ گئے
اپنے بیٹے کی مسکراہٹ کے صدقے تو وہ کسی کے سامنے بھی جھولی پھیلا سکتے ہیں
جبکہ سامنے بیٹھا بالاج اپنے ہاتھوں پر نگاہیں ٹکائے پرسو رات کا منظر یاد کرنے لگا کس طرح حیا پر حملے کی خبر پر جازب کمال کملا گئے تھے اور پھر حیا کو صحیح سلامت دیکھ کر جس طرح وہ ان کے قدموں میں گڑ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے ان کی پسندیدگی تو بالاج سے تب سے ہی چھپی نہیں رہ گئی تھی
“تو کیا اس کی ماں بھی جانتی تھی جازب انکل کی اپنے لیے پسندیدگی ؟”
“انکل مجھے کچھ وقت دیں “
“کیا مما جانتی ہیں ؟ “
بالاج نے جھجھکتے ہوئے کہا
“نہیں اسے نہیں معلوم میں جانتا ہوں وہ کبھی ہاں کرے گی بھی نہیں ۔ وہ ماں ہے اور اس کے لیے ہمیشہ کی طرح اپنے بچے ہی آگے ہوں گے فرسٹ پرائیورڑی ،
اسی لیے تم سے بات کی ہے بچے ہمیشہ اس نے تم لوگوں کے لیے کیا اب وقت ہے تم لوگ بھی اس کا سوچو شادی شدہ ہو سمجھتے ہی ہو گے پارٹنر کی ضرورت سب سے زیادہ اسی عمر میں پڑتی ہے جب بچے شادی کرکے اپنے اپنے آشیانے بسا لیتے ہیں “
کمال صاحب نے بالاج کو ساتھ لگاتے کہا
بچوں کی شادی سے بالاج کو صفا اور شجاع کی یاد آئی
اچھا انکل میں چلتا ہوں
بالاج سانس بھر کر جبراً مسکرا کر بولا
“کھانا تو کھا کر جاؤ لنچ ٹائم ہوگیا ہے کھانا تیار ہے بس” کمال صاحب نے انٹر کام پکڑتے ہوئے کہا
“نہیں انکل میں چلتا ہوں انابیہ کو یونیورسٹی سے پک کرنا ہے
پھر کبھی
ہاں ضرور بلکہ میں نے حیا سے کہا تھا ادھر ڈنر کا مگر مصروفیات ہی بہت زیادہ ہوگئیں ہیں دونوں کی “
کمال صاحب بالاج کے ساتھ ہی اسے باہر تک چھوڑنے آئے
“اچھے سے سوچ لینا بالاج بچے آپ کے ایک فیصلے پر بہت سی زندگیوں کی خوشیاں جڑی ہیں “
