212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 62) Part - 2

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

الارم کی بجتی ٹون پر جب انابیہ کی آنکھ کھلی تو واشروم سے پانی گرنے کی آواز پر اس نے کسمسا کر اپنی آنکھوں کو دو سے تین بار بند کرکے کھولتے نیند کو جھٹکا

مگر فجر کے بعد بالاج سے باتیں کرتے ہوئے وقت کا پتا ہی نہیں لگا اور پھر لیٹ سونے کی وجہ سے آنکھوں میں ہنوز خمار کی سرخی سی جگمگا رہی تھی

کچھ پل بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھے بیٹھے ہی پھر سے وہ نیند میں جانے لگی جب چہرے پر ٹھنڈے پانی کا قطروں کی وجہ سے اس نے آنکھیں کھولیں

سامنے ہی بالاج مسکراتے ہوئے تولیے سے بالوں کو رگڑتا اس کے چہرے پر پانی کی چھینٹے اڑا رہا تھا

” گیارہ بجے مما کی ہیرنگ ہے انہوں نے چلی جانا ہے ۔۔اور تمہیں بھی تو پھر یونیورسٹی ڈراپ کرنا ہے ۔۔پھر وہاں سے کمال انکل کی طرف بھی جانا ہے۔۔ شجاع نے بھی آنا ہے بہت مصروف دن ہے آج کا”

بالاج نے اسے شانوں سے تھام کر اٹھایا

یونیورسٹی کے نام پر انابیہ نے منہ بنا کر گال پھلائے

یونی۔۔!

“نو ایکسکیوز!! انابیہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی بالاج نے اس کے بالوں کو سمیٹ کر کے اس کے ہاتھ میں اپنی پسند کی نیلے رنگ کی ڈریس پکراتے اسے واشروم کی جانب بھیجا پھر ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہوکر مسکراتے ہوئے اپنے بالوں پر ہیر برش چلانے لگا

———–

تھوڑی دیر بعد وہ دونوں نکھرے سے کمرے سے باہر نکلے تھے

دونوں ایک ساتھ بلا کے جچ رہے تھے بالاج نیلے رنگ کے فارمل سے پینٹ کوٹ پر بلیزر ڈالے بالوں کو خوبصورتی سے سیٹ کیے اپنے گھڑی والے ہاتھ سے انابیہ کا ہاتھ تھامے چلتا آرہا تھا۔۔۔

انابیہ بھی بالاج کی پسند کا اس کا سلیکٹ کیا نیلے رنگ کا پیروں تک آتا فراک پہنے ہوئے تھی دائیں شانے میں جھولتا ڈوپٹہ جیولری کے نام پر گلے میں بالاج کا دیا ہوا پینڈنٹ اور کانوں میں چھوٹے چھوٹے سے اویزے بہت جب رہے تھے مگر اس ظاہری سے نکھار سے کہیں زیادہ بالاج کی آنکھوں سے جھلکتی محبت اور انابیہ کے چہرے پر بکھرا سکون دونوں کے کپل کو قابلِ رشک بنا رہا تھا ۔۔

“ابھی تک مما اور آپی دونوں ہی نہیں آئے ناشتے پر ماما کو تو جانا نہیں تھا ؟”

انابیہ ڈائننگ ٹیبل کو خالی دیکھ کر پوچھنے لگی

“تم گڑیا کو دیکھو شاید تھک گئی ہے اگر سوئی ہوئی تو سوئی رہنے دینا میں مما کو جگا کر آیا “

بالاج حیا اور انابیہ صفا کے کمرے کی جانب بڑھے

انابیہ خالی کمرے کو دیکھ کر کچھ پریشان سی ہوئی صفا کمرے میں نہیں تھی شاید جاگ گئی تھی

“ہوسکتا ہے لان میں ہوں۔۔!”

انابیہ صفا کے کمرے کا دروازہ بند کرتے واپس لاونج میں آئی

جہاں بالاج کھڑا مسکرا رہا تھا

“آپی تو کمرے میں ہیں ہی نہیں ، آپ نے مما کو اٹھا دیا ؟ “

انابیہ نے کندھے اچکا کر صفا کی غیر موجودگی کا بتاتے ہوئے حیا کا بھی پوچھا

“گڑیا مما کے کمرے میں ہے مما کے پاس سورہی ہے بالاج نے مسکراتے ہوئے بتایا

“پھر تو یہ بہت صحیح ٹائم ہے بالاج آپ کرلیں آپی سے بات مما کی موجودگی میں ہی “

انابیہ نے پرجوش ہوکر کہا

“ہاں میں بھی یہ ہی سوچ رہا ہوں تم بھی چلو “

اس نے انابیہ کا ہاتھ تھاما تو وہ اِس مان پر دیدنی خوشی سے اس کا ہاتھ چوم کر مسکرائی

“آپ تینوں کا وقت ہے بالاج آپ تینوں ڈسکس کرو اپنے دل کو آزاد کردو ہر غیر ضروری شخص کے غم سے “

وہ بالاج کا ہاتھ دبا کر نرمی سے بولی

“تم مجھے روز اس بات کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہو انابیہ تم میری کا زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ ہو اتنا مغرور مت کرو “

“اچھا جی۔۔” وہ مسکرائی” اللہ آپ کا یہ والا غرور سلامت رکھے اچھا بابا جائیں آپ تینوں کے لیے مزے کا ناشتہ بناتی ہوں “

وہ کھلے بالوں کو جوڑے میں قید کیے اسے حیا کے کمرے کی جانب دھکیلتی وہاں سے کچن کی جانب بڑھ گئی

———–

بالاج دوبارہ کمرے میں آیا تو حیا واشروم سے نکل رہی تھی

بالاج بچے حیا گیلے ہاتھوں کو پونچھ کر اس کے پاس آئی تو بالاج نے محبت و عقیدت کے سنگ ماں کی گیلی ہتھیلیوں کو تھام کر انہیں لے کر بیڈ پر آیا جہاں کمفرٹر میں چھپی صفا لیٹی ہوئی تھی

بالاج سائیڈ پر موجود جگہ پر ماں کو بیٹھا کر خود ان کا رخ اپنی جانب کرکے ان کے سامنے بیٹھا ہاتھوں کو ہنوز اپنے ہاتھوں میں قید کیا ہوا تھا

” اس کی طبیعت ٹھیک ہے نہ ؟؟”بالاج نے زرا ہاتھ بڑھا کر کمفرٹر سے نظر آتے صفا کے چہرے کو چھو کر حرارت محسوس کرنی چاہی

“ہاں طبیعت ٹھیک ہے بس رات کو میرے پاس آگئی “

حیا رات کے منظر کو یاد کرتے مسکرائی انہیں صفا پر بے ساختہ پیار آیا

“بڑی ہوگئی ہے تمہاری گڑیا بالاج بن کہے دکھ سمجھنے بھی لگی ہے محسوس بھی کرنے لگی ہے رات کو مجھ سے ماضی کے بارے میں جاننا چاہ رہی تھی” حیا صفا کے چہرے پر نظر ڈالے ہی بولی جو پرسکون ہوکر سورہی تھی

“میں بھی یہ ہی کہنے آیا تھا اب صفا کو ماضی کے بارے میں بتا دینا چاہیے ہے ماما میں نہیں چاہتا اسے کہیں اور سے غلط انداز میں کوئی خبر ملے” بالاج نے سنجیدگی سے ماں سے کہتے ان ہاتھوں کا بوسہ بھی لیا تھا کہ یہ ماضی کا زکر بھی ان کے زخموں کو اڈھیرنے والا تھا اور اسے اپنی اولاد کو بتانا

“بالاج کوئی بات ہے ؟” حیا نے سوالیہ نظروں سے پوچھا ماں کی آنکھ تھی اولاد کی ہر بے چینی کو محسوس کر سکتی تھی

بالاج نے دھیرے سے انہیں اپنے حصار میں لے کر۔ مختصراً ہی انہیں عون نے بارے میں بتایا آواز دھیمی تھی کہیں صفا نہ جاگ جائے

حیا نے بے یقینی سے بالاج کا چہرہ دیکھا آنکھوں میں تحیر کے ساتھ نمی بھی ابھری اگر یہ عون والی حرکت بھی حدید شاہ کی سازش تھی تو وہ شخص آج حیا کی نظروں میں مکمل گر گیا تھا

“نہیں ماں آپ روئیں گی نہیں آپ میری بہادر سی جان ہیں آپ نے ہمیں اکیلے پالا ہے ہمیں اس قابل بنایا ہے کہ ایسی سازشوں کا ڈٹ کا مقابلہ کرسکیں بس میں چاہتا ہوں آپ سچ صفا کو بتا دیں باقی میری گڑیا واقع بہت سمجھ دار ہے دوسرا میں چاہتا ہوں آپ شجاع کے گھر والوں سے بات کرنے سے پہلے ایک دفعہ صفا سے اس کے دل کی رضا پوچھ لیں باقی ” بالاج نے صفا کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو وہ کسمسائی

“صفا ۔۔۔ “حیا نے اسے پکارا محبت سے ماتھے کو چھوا اس کے کسمسانے پر مسکرائی بھی مگر در حقیقت دل ڈر گیا تھا اندر سے کہ محبت میں دل ٹوٹنے کا درد تو انہوں نے بھی سہا تھا

صفا نے مندی مندی آنکھوں کو کھول کر دیکھا سامنے ہی ماں کو بھائی کے حصار میں دیکھا تو پہلے مسکرائی

پھر مصنوعی خفگی سے کمفرٹر اتار کر دونوں کو دیکھا

“آپ کو سکون نہیں بھیا اپنی انا کے پاس جائیں نہ صبح صبح میری ماما کے پاس آگئے” حیا کے گلے میں لاڈ سے بانہیں ڈال کر کہا

تو بالاج بھی مسکرا دیا

“کیا کروں میرا گزار نہیں اپنی حسیناؤں کے بغیر اور پھر یہ خوبصورت سی حسینہ میری جنت ہے جسے دیکھے بغیر میرا گزارا نہیں “

بالاج نے صفا کی گال کھینچ کر حیا کے بالوں پر لب رکھے تو حیا نے دونوں بچوں کے گرد اپنے بازوؤں کو پھیلایا

“ہاں تو صرف آپ کی جنت ہیں کیا میری بھی تو جنت ہیں میری آئیڈیل موم لو یو “

لو یو ٹو میری جان حیا کل کی رات کے بعد صفا کو اپنے بہت قریب تر محسوس کرنے لگی تھی واقع بیٹیاں تو ماں کے لیے بہت بڑی رحمت ہوتی ہیں جو ماں کے غموں کو خود میں سنبھال لینے کا ہنر جانتی ہیں

“کچھ کہنا ہے تم سے صفا بلکہ آج سب کچھ کہنا چاہتی ہوں”

اپنے سینے سے لگی صفا کے بالوں کو سہلا کر کہا تو اس سر اٹھا کر ماں کو دیکھا

“انیس سال کی تھی میں جب میرا رشتہ آیا تھا یونیورسٹی کے دوسرے سال میں تھی ابھی میرے پیپر ہورہے تھے مگر رشتہ اچھا تھا تو گھر والوں نے مجھ سے پوچھ کر ہاں کردی

دو بھائی تھے دونوں کی ہی لاڈلی تھی میری ذرا سی تکلیف پر تڑپ سے جاتے تھے ماں بابا کی جان تھی بھابھیاں بھی اچھے سے رہتی تھی نیز لاڈوں میں پلی تھی پھر میری شادی ہوگئی

حدی۔۔۔ حدید شاہ سے وہ شخص مجھ سے عمر میں چھ سات سال بڑا تھا مگر ایسا تھا کہ کسی بھی لڑکی کا خواب ہوسکتا تھا ذہین وجیہہ ماں کا فرماں برادر شادی کے ایک مہینے میں ، میں خود کو خوش قسمت تصور کرنے لگی تھی پھر بالاج کی پیدائش کی خبر نے جیسے میری زندگی کو چار چاند لگا دیئے تھے سب اچھا تھا بہت اچھا سوائے اس عورت کے جو حدید شاہ کی کزن تھی اور پہلی بیوی بھی نشاء ۔۔۔!!”

حیا کے غم ہرے ہوئے تھے

صفا کی آنکھیں پھیلنے لگی دل کی دھڑکنیں سست پڑنے لگی ماں کو کہ تو دیا تھا وہ سب سن لے گی اب جب باری آئی تو دل جیسے کسی نے کند چھڑی سے کاٹ دیا ہو دماغ میں ہتھوڑے بجنے لگے اسے احساس ہی نہ ہوا کب اس کا چہرہ آنسوں سے تر ہوا اتنی تکلیف اتنی ازیت دوسری عورت کا دکھ

اس بات کا بدلہ لیا گیا جس میں ان کا کوئی قصور تھا ہی نہیں وہ بے گناہ ہوکر اتنے سوز سے گزریں

یہ ۔۔۔خود سری تھی کوئی شخص اتنا بے حس کیسے ہوسکتا ہے۔۔ماں؟؟!! وہ ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

باپ سے ملنے کی حسرت اپنی موت آپ مر گئی

حیا نے اسے سب بتا دیا تھا بس وہ نہیں بتا سکی تو اس کے باپ نے اسے ناجائز کہنا

حیا میں اتنی ہمت نہیں تھی

“ماں۔۔” وہ ماں کا ہاتھ چومنے لگی “مجھے ہمیشہ فخر رہا ہے آپ کی بیٹی ہونے پر ، آپ بہترین ماں ہیں “

وہ ماں کے گالوں سے آنسوؤں کو صاف کیے انہیں چومنے لگی

تبھی ان کے کمرے کا کھلا دروازہ ناک ہوا انابیہ کھڑی تھی

“ناشتہ بن گیا ہے آپ لوگوں کا آجائیں یار “

وہ مسکرا رہی تھی مگر اس کی بھیگی بھیگی سی آنکھیں گواہ تھی وہ ان کے دکھ میں بھی ان سے الگ نہیں تھی

حیا نے دونوں ہاتھوں نے گرد باندھے ہاتھوں وہی سے کھول دیا

“تمہارے بغیر ہم ادھورے ہیں میری جان “

حیا نے محبت سے کہا تو وہ بھاگ کر ان تینوں کے درمیان میں گھس گئی اب حیا کے ایک جانب صفا تھی ایک جانب بالاج آصف درمیان میں انابیہ تھی اور بالاج کا ایک بازو پیچھے سے حیا اور صفا کو حصار میں لیا ہوا تھا اور دوسرا انابیہ کے اوپر تھا

“چلیں نہ سیڈ سیڈ نہ ہونا مما میں نے پہلی دفعہ شادی کے بعد کوکنگ کی ہے چلیں نہ مجھے ساسو ماں کی طرح نیگ دیں اور آپی آپ آکر تعریفیں کریں میری اور لاج آپ۔۔۔ اس نے چہرہ اٹھا کر بالاج کو دیکھا جس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر انابیہ کا دل پسیج گیا

“میں ہاتھ چوموں بیوی ؟” بالاج نے سنجیدگی سے اس کے کان کے پاس جھک کر کہا جسے قریب ہونے کی وجہ سے حیا اور صفا دونوں نے سن کر مسکراہٹ دبائی

جبکہ انابیہ نے سرخ ہوکر بالاج کے ہاتھ پر چٹکی بھر کر گھورنے کی کوشش کی

“گفت دیں” اس نے دانت پیس کر کہا

“چلیں جلدی جلدی میں نے یونیورسٹی جانا ہے یار مما آپ نے کورٹ جانا ہے آپی آپ نے جازب انکل کے ساتھ جانا ہے اور مسٹر شوہر آپ نے بھی کہیں جانا تھا” وہ سب کو دکھی ماحول سے نکال کر اٹھی تھی

“مسٹر شوہر کی مسسز بیوی چلیں دیکھائیں ایسا کونسا ناشتہ بنا لیا جو آپ کو نیگ اور گفٹ چاہیے ؟؟”

بالاج اسے ساتھ لیے کمرے سے نکلا

حیا نے وقت دیکھا دس بج گئے تھے انہوں نے گیارہ بجے کورٹ کے لیے نکلنا تھا شجاع کے گھر والوں نے رات کو آنا تھا تو ابھی وقت تھا کورٹ کے معاملات سے نبٹ کر ان کا ارادہ صفا سے واضح اس کی رضا مندی پوچھنے کا تھا