Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 62) Part - 1
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 62) Part - 1
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“بالاج آپ جاگ رہے ہیں ؟ “فجر کے وقت الارم کی وجہ سے انابیہ کی آنکھ کھلی تھی اس نے الارم بند کرنے کی غرض سے سر اٹھا کر سائیڈ ٹیبل کی جانب ہاتھ بڑھا کر الارم بند کیا اور بائیں جانب چہرہ موڑا تو اسے بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھا بالاج نظر آیا
وہ بھی ایک ہاتھ پر وزن ڈال کر اٹھ کر بیٹھی
“آپ کب سے جاگ رہے ہیں بالاج طبیعت ٹھیک ہے آپ کی ؟” انابیہ نے آگے ہوکر بالاج کی پیشانی چھو کر محسوس کرنا چاہا کہ کہیں بالاج کو بخار تو نہیں مگر اس کا ماتھا ٹھنڈا تھا بالاج نے انابیہ کا ہاتھ تھام لیا
“سب ٹھیک ہے نہ لاج؟” گھٹنوں کی مدد سے آگے ہوکر بالاج کے ساتھ لگتے انابیہ نے سر اس کے شانے پر ٹکا کر ہاتھ اس کی شرٹ کے اوپر ہی رکھ کر پھیرا
“پریشان ہوں انا دل بے چین ہے “
“کیسی پریشانی؟” اس نے اپنا ہاتھ بالاج کے بالوں میں الجھا دیا
“اور کب سے ہے یہ پریشانی ؟ “
بالاج نے گال اس کے بالوں میں ٹکایا دیا
“رات سے “
مجھے جگا لیتے نہ آپ انابیہ نے نرمی سی کہا
“اچھا بتائیں کیسی بے چینی ہے ؟ “
بالاج نے گہری سانس بھری اور علی بخش والی بات انابیہ کے گوش گزار کی
انابیہ کتنے ہی لمحے خاموش رہی اس کا دماغ بات کو پروسس کر رہا تھا
“لاج آپ لوگ صفا آپی کو ماضی سے آگاہ کردیں کسی اور سے معلوم ہوگا تو ان کے لیے یہ بات زیادہ تکلیف دہ ہوگی ہوسکتا ہے کہیں اور کسی اور انداز میں پتا لگے ہوسکتا ہے وہ لڑکا ہی کچھ غلط سلط بول کر آپی کو مما کے خلاف کردے “
انابیہ نے فکر مندی سے کہا
“میں ماں سے بات کروں گا مجھے بھی لگتا ہے اب بھی صفا کو لاعلم رکھنا غلط ہوگا “
“جی بے فکر رہیں ویسے میرا بھی آپ سے ایک سوال ہے !”
وہ کچھ جھجھکی
“جھجھکا مت کرو انا تم سے میرا کوئی پردہ نہیں ہے میں تم سے ہر وہ بات کرلیتا ہوں جو شاید خود سے بھی اکیلے میں نہیں کر پاتا”
وہ جھجھکنے پر پھیکا سا مسکرا کر بولا
” اگر صفا آپی بھی اس لڑکے کو پسند کرتی ہوئیں تو پھر آپ کیا کریں گے کیا آپ انہیں دور کردیں گے ؟ اگر نہیں تو شجاع بھائی ان کو کیا کہیں گے آپ ؟؟”
انابیہ نے خوفزدہ ہوکر پوچھا محبوب کا ہجر کاٹنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے انابیہ نے دو سال بالاج کے بغیر کاٹ کر پتا کر لیا تھا اب وہ ایسا درد تو کسی دشمن کے لیے بھی نہیں چاہتی تھی صفا تو پھر اس کی عزیز ترین ہستیوں میں شامل ہوتی تھی
“مجھے کیا کرنا چاہیے تم بتاؤ انا؟” بالاج نے اس کا ہاتھ کر اس رنگ فنگر میں اپنی پہنائی انگوٹھی کو چھیڑتے ہوئے پریشانی سنگ پوچھا
“آپ آپی کو سب بتا دیں اور فیصلہ ان پر چھوڑ دیں “
انابیہ نے بالاج کے گال پر ہاتھ کر کہا
“اگر اس کا فیصلہ غلط ہوا پھر ؟” بالاج نے اب کہ اس کی آنکھوں میں دیکھا
“تو ہم ہیں نہ ان کے ساتھ ان کے فیصلوں کو اؤن کرنے والے ان کے فیصلوں کو درست کروانے والے اس طرح انہیں کم از کم یہ تو دکھ نہیں ہوگا بھائی نے ان کے دل کی رضا نہیں جانی “
دل میں موجود بوجھ جیسے جیسے کم ہوا وہ مسکرایا
“تم میرا سُکھ و سکون ہو انابیہ تم سے میری راحت و نشاط وابستہ ہے” وہ انابیہ کا ہاتھ تھام کر شدت و جذبانیت کے سنگ بولا
وہ بدلے میں گہرا مسکرا دی
” اللہ مجھے آپ کا سکون بنائے رکھے ۔۔”
———
“جازب تمہارے لیے عدالت سے نوٹس آیا ہے !”
کمال اعوان ملازمہ کے ابھی چند منٹ پہلے دے کر جانے والے لفافے کو جازب کو دیکھاتے ہوئے بولے جو ابھی جاگنگ سے آئے تھے
“کیسا نوٹس ؟”
جازب نے ملازم کے ہاتھ سے جوس کا گلاس تھامتے ہوئے پوچھا جو بڑے مؤدب انداز میں جوس کا گلاس ٹرے میں تھامے کھڑا تھا
“دیکھتا ہوں” کمال اعوان نے آنکھوں میں چشمہ لگاتے نوٹس کھول کر پڑھنا شروع کیا
“تمہارے خلاف کیس کیا ہے کسی زیاد لغاری نے تم پر کیس کیا ہے کہ تم نے دھوکے سے ان کا گھر ہتھیا لیا ہے ؟؟”
“ناٹ اگین یہ دونوں میاں بیوی تو مجھے جونک کی طرح چپک ہی گئے ہیں !”
وہ سر جھٹکتا تولیے سے چہرہ پونچتا ڈائننگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا
“معاملہ کیا ہے برخودار ؟؟”
“دراصل ڈیڈ ان کا لاہور میں ایک گھر ہے جو یہ تقریباً مہینے پہلے سستے داموں میں بیچ رہے تھے۔۔۔ میں تھرڈ پارٹی کے تھرو ڈیل میں انولو ہوا تھا مجھے سمجھ آئی میں نے آدھی سے زیادہ پیمنٹ کردی تھی۔۔۔ ان کی جانب سے کاغزات پر دستخط ہوچکے ہیں۔۔۔ میرے دستخط نہیں ہوئے میں پچھلے دنوں بہت مصروف تھا تب ہی مسز لغاری کا مجھے میسج آیا وہ یہ گھر نہیں بیچنا چاہتے ان کا ارادہ بدل چکا ہے۔۔۔”
“پہلے تک تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں تھا مگر اب جب میں نے اور حیا نے لاہور میں کافی کام شروع کروائیں ہیں تو ہمارا انا جانا بھی لگا رہے گا اور اوپر سے حیا کا سارا میکہ بھی لاہور میں ہے۔۔۔ تو میں نے سوچا کیوں چھوڑوں اتنا اچھا گھر ہے ہمارے ہاسپٹل کے قریب بھی ہے۔۔۔”
“تو تم حامی بھر کر مکر گئے !” کمال صاحب نے ہمیشہ کی طرح سیدھی ہی ماری جس پر جازب ہنس دیا
“اب بندہ اپنا بھی نہ سوچے میں اپنی طرف سے غیر دستخط شدہ پیپرز اور آدھی پیمنٹ کا ثبوت جب کورٹ میں رکھوں گا تو پہلی ہی ہیرینگ میں فیصلہ میرے حق میں آجائے گا اور یہ بات یہ دونوں میاں بیوی جانتے بھی ہیں مگر جانے کس مٹی کے بنے ہیں “
جازب نے ناک سے مکھی اڑاتے ہوئے کہا
“تم تو شادی سے پہلے ہی زن مرید بنتے جارہے ہو جازب کمال !”
اعوان صاحب گھور کر وہ نوٹس دوبارہ فولڈ کرکے لفافے میں ڈالا
“پریکٹس ڈیڈ پریکٹس میکس آ مین پرفیکٹ !”
کمال اعوان بدلے میں اپنے سپوت کو گھور بھی نہ سکے
اوپر سے بے شک وہ اسے جتنا مرضی ٹوک لیتے اندر سے تو وہ بھی بہت خوش تھے اپنے بیٹے کی خوشیوں کی نظر اتار رہے تھے
“میں نے بالاج کو بلایا ہے بات کرنے کے لیے تو مجھے شام کو تم گھر میں نظر نا آنا “
پتا نہیں کیسے وکیل ہو ہر وقت گھر میں بیٹھے بسترے توڑ رہے ہوتے ہو
بات سنانا تو بہانہ تھا اصل میں تو اسے بالاج کی آمد سے آگاہ کرنا تھا
نہیں تو یہ بات وہ دونوں ہی جانتے تھے جازب گھر ہوتا ہی کب تھا
کبھی کسی کیس میں تو کبھی کسی کام میں مصروف
“ارے میں اسے کھا تھوڑی نہ جاؤں گا کمال صاحب میرا ہونے والا بیٹا ہے وہ “
“جازب !! ” لہجہ میں صاف تنبیہ تھی
“اچھا بھئی دیا دادا پوتے کو “اَس ٹائم ” وہ ہنستے ہوئے موبائل پر آتی کال کو سننے کے لیے اٹھا
“اللہ تمہارے یقین اور خوشیوں کو سلامت رکھے میرے بیٹے”
کمال اعوان نے جازب کی پشت کو دیکھتے ہوئے دل سے دعا کی
مگر جانے کیوں دل گھبرا رہا تھا
