212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 9)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

ہیلو اسلام علیکم!!!….

حیا نے کال اٹینڈ کرتے ہی کہا

مگر دوسری جانب سے خاموشی ہی ملی

جازب صاحب ؟؟ سب ٹھیک ہے آپ نے اس وقت کال کی …؟؟ سر جی ٹھیک ہیں ان کی طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔؟؟ ہیلو !!!

دوسری جانب جازب اعوان کو نیند ہی نہیں آرہی تھی اس لیے بغیر وقت دیکھے حیا کے نمبر پر کال ملا چکے تھے ۔

اب انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی حیا کو کیا کہیں

ہیلو حیا صاحبہ

وہ میں ۔۔۔۔۔ جازب اعوان لب بھینج گئے اَب اپنے اس وقت کال کرنے پر بچتا رہے تھے

وہ میں اس کافی کے لیے معذرت کرنا چاہ رہا تھا اپنے پیشانی کو دو انگلیوں سے سہلا کر ٹہر ٹھہر کر بولے

کافی ۔۔۔۔!!!

حیا متحیر ہوئی

جی ایا وہ میں نے جان کر نہیں کیا تھا بس مجھے پتہ نہیں لگا

آپ نے مجھے اس وقت کافی کے لیے کال کی ہے۔۔۔؟؟

جازب صاحب !!!

جازب خفت کے شکار ہوئے

دوسری جانب سے خاموشی محسوس کیے حیا خود ہی بول پڑی

چلیں اچھا کیا آپ نے مجھے کال کر لی میں بھی صبح آپ کو کال کرنے ہی والی تھی یہ بتانے کے لیے کہ کل میں کورٹ تو نہیں اوں گی صفا کا پیپر ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی میں نے آپ سے پوچھنا تھا کیا آپ اس ویک اینڈ پر مصروف تو نہیں ہیں ۔۔؟؟

ہیلو جازب صاحب !!!

جی۔۔جی جی نہیں میں بالکل بھی مصروف نہیں ہوں

ایک ہاتھ سے اپنی شرٹ کا اوپری بٹن کھول کر گہری سانس بھر کر کہا

چلیں یہ تو اچھی بات ہے میں نے آپ کو بتانا تھا کہ اس ویک اینڈ کو بزنس مین آف دا ائیر کی ایوارڈ سرمنی ہے

اگر آپ اور سر جی بھی وہاں آئیں گے تو مجھے اور بالاج کو اچھا لگے گا

یہ کال میں بتانے والی خبر نہیں تھی لیکن صبح میں آہ نہیں سکوں گی اور پرسوں ہفتہ ہے باقی بالاج باقاعدہ آپ سے اور سر جی سے ملنے آئے گا اور بات بھی کر لے گا اس بارے میں

آپ لوگوں نے مجھے اور ڈیڈ کو اس قابل سمجھا ہمارے لیئے عزاز کی بات ہے میں اور ڈیڈ ان شاءاللہ ضرور آئیں گے باقی بالاج کے آنے کی بات اس کا اپنا گھر ہے جب مرضی آئے

چلیں بہت بہت شکریہ

اللّٰہ حافظ ۔۔۔۔

اللّٰہ کی امان

جازب نے کال کاٹ کر فون کا ایڈج ماتھے سے لگا لیا

___________

اگلی صبح خاصی روشن اور پر نور تھی دھوپ کی نرم گرم کرنوں نے ماحول کی خنکی کو کافی حد تک کم کر دیا جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے ناشتہ کرتے ہی سب لوگ

اِدھر اُدھر کا کام چھوڑے جمعہ کے دن کا احترام کرتے نماز کی تیاریوں میں مشغول ہوگئے بالاج جمعہ کے خطبے کی آواز سنتے ہی مسجد کی جانب روانہ ہوگیا

انابیہ کا بھی آج کوئی خاص لیکچر نہیں تھا تو اس نے چھٹی کرلی اب وہ بھی نہا کر وضو بناتی نماز ادا کرنے لگی تھی

صفا کا آج پیپر تھا تو وہ صبح ہی نکل گئی تھی حیا صاحبہ بھی اپنی نماز اور ازکار میں مصروف تھیں

سفید گرم شلوار قمیض کے ساتھ سر پر نماز کے سٹائل میں ڈوبٹہ باندھے وہ نماز سے فارغ ہوکر

باہر لون میں آگئی

دھیمے لہجے میں آنکھیں موندے نعت پڑھتی وہ مسرور سی جھولے پر بیٹھی جھول رہی تھی

جب اپنی گود میں وزن سا محسوس کرکے انابیہ نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں

ب۔۔بلی۔۔۔۔ سفید رنگ کی پرشین بلی اس کی گود میں بیٹھی اپنا منہ اس کے ساتھ سہلاتے اٹکلیاں کرنے لگی

انابیہ کا رنگ فق ہوا بلی ۔۔۔

آہ ۔۔۔۔بلی ۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔ چیخے مارتے ہوئے اندھا دھند باہر کی جانب بھاگی مین گیٹ سے اندر آتے بالاج نے روتی ہوئی انابیہ کو فکر مندی سے تھاما

انا۔۔۔۔بالاج وہاں ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔بلی۔۔۔۔نہیں وہ اپنا چہرہ مارے خوف کے اس کے سینے میں چھپائے چیخ ہی رہی تھی

بالاج نے انابیہ کے بے ہنگم وجود کو سنبھالا نہیں تو جس قدر وہ خوفزدہ تھی اپنے ساتھ بالاج جو بھی گراتی

تبھی وہ بلی دوبارہ سے انابیہ کے پیروں میں آکر اٹکلیاں کرنے لگی

انابیہ کی بس ہوئی وہ اپنے پاؤں بالاج کے پیروں پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو زور سے اُس کر گرد باندھ کر چیخنے لگی جب بالاج نے ایک ہاتھ سے انابیہ کا منہ بند کیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے گرد سہارا کیا انابیہ کی چیخ سے ڈر کر سہمی ہوئی بلی کو بالاج نے اپنے پاؤں سے سائیڈ پر کیا

اب منظر کچھ یوں تھا انابیہ پوری بالاج کے سہارے پر تھی

جبکہ وہ بلی جو ساتھ والی دیوار اچھل کر آئی تھی وہ ڈر کر مارے وہی سے واپس بھاگ گئی

انا۔۔۔۔

نہیں نہیں اسے بھگائیں پلیز بالاج ۔۔۔۔

انابیہ چلی گئی ہے بلی بالاج نے اسے دور کرنا چاہا مگر وہ گرفت سخت کر گئی

انابیہ ۔۔۔۔ بالاج کی گھمبیر سرگوشی پر نے چونک کر سینے اپنا چہرہ نکالا

خود کو اس قدر بالاج کے قریب دیکھ کر انابیہ کی سانس اٹکی چہرہ سرخیاں چھلکانے لگا

ان سبز آنکھوں میں دیکھنا ماحال ہوا تو

پلکیں لرزنے لگی

پلکوں کی یہ چلمن ولله باکمال تھی

بالاج کو مبہوت کر گئی ۔۔۔۔

ڈوبٹے کے سفید حالے میں مقید سرخیاں چھلکاتا سفید چہرہ ایک کمی تھی ناک میں اگر چھوٹی سی لونگ ہوتی تو یہ حسین چہرہ منظر مکمل کرتا

باہر سے آتی گاڑی کی آواز پر بلاج نے انابیہ کو خود سے دور کیا چلی گئی ہے وہ بلی اس کے سر پر چپت لگا کر اندر کی جانب بڑھ گیا پیچھے انابیہ حیران پریشان کھڑی رہ گئی ….

___________

او شٹ شٹ لیٹ ہوگیا میں آج صفو کا پیپر تھا یار ۔۔۔۔

ہڑبڑی میں گھڑی کی جانب دیکھا جہاں سوا ایک کا ٹائم ہورہا تھا بڑبڑاتے ہوئے وہ الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگا

ریش ڈرائیو کرکے وہ مطلوبہ جگہ پہنچا تھا

دور سے اس نے صفا کو دیکھ کر اپنے سلگتے دل کو سکون پہنچایا جو اپنے چہرے پر ڈوبٹہ ٹھیک کرتی اپنی گاڑی کی جانب بڑھی

یہ ملاقات یک طرفہ اور بہت مختصر سی تھی مگر کوئی عون ابراہیم سے پوچھتا اس کے جلتے دل پر اوس کے ٹھنڈے قطروں ماند پڑی تھی

چل بیٹا عون اتنی ملاقات بھی سہی ہے

وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس مڑ گیا کیونکہ اس کا کام تو ہوگیا تھا

__________

ڈرائیور نے گاڑی خان ہاؤس کے مین گیٹ کے پاس اتاری صفا گاڑی سے نکل کر گھر کے اندر داخل ہوئی

چندہ یہاں پر کیا کر رہی ہو ؟؟

صفا ہاتھ میں اپنا بیگ سنبھالتے ہوئے لان میں کھڑی انابیہ سے پوچھنے لگی

آپی ۔۔۔۔ انابیہ نے چونک کر صفا کو دیکھا

طبیعت ٹھیک ہے نا تمہاری چندہ ۔۔؟؟؟صفا نے فکر مندی سے پوچھا جی آپی میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے انابیہ نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا

اچھا آجاو اندر

صفا نے انابیہ کا ہاتھ پکڑا

ایک منٹ چندہ کیا تم نے بھائی کا پرفیوم لگایا ہے

پرفیوم ۔۔۔!!!

محسوس کرنے پر اسے اپنے اِرد گرد حتیٰ کہ خود سے بھی اسی پرفیوم کی خوشبو محسوس ہوئی تو اس کا چہرہ کان کی لو تک سرخ ہوا ۔۔۔۔

نہیں تو ڈر کر فوراً نفی میں سر ہلایا

ہاہہاا ارے یار گھبرا کیوں رہی ہو بھائی کا پرفیوم تمہارا پرفیوم ایک ہی بات ہے اب ان کی چیزوں پر بھائی سے زیادہ تم ملکیت رکھتی ہو صفا نے انابیہ کی کچھ دنوں پہلے والی بات دہرائی تو وہ روہانسی ہوئی

آپی ۔۔۔۔

ہاہاہاا اچھا آجاو اندر ٹھنڈ لگوا لو گی بغیر شال یاں سویٹر کے

صفا بھی بالاج کی طرح اس کے سر پر چِپت لگا کر اندر بھر گئی ۔۔۔۔

__________

صفا میری جان کیسا ہوا پیپر ؟؟

حیا نے اسے گلے لگاتے ہوئے پوچھا

اچھا ہوا تھا مما اب بس بہت بھوک لگی ہے صبح جلدی جلدی میں ٹھیک سے ناشتہ نہیں کیا

فوڈ باسکٹ میں سے سیب پکڑ کر اسے کترتے ہوئے کہا

اچھا تم فریش ہوکر او میں لگواتی ہوں کھانا اور بیو کو بھی بلاؤ اس لڑکی نے قسم کھائی ہے ڈھنگ سے کھانا نہ کھانے کی

حیا نے فکر مندی سے کہا

اچھا ماما بھیجتی ہوں

___________

افف بیا اففف تم اتنی ڈرپوک کیسے ہو سکتی ہو اور اگر ڈری بھی تھی تو ایسے کون کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ اف بالاج میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے

اللہ وہ تو مجھ سے کل ناراض بھی تھے اور میں پاگلوں کی طرح ان کے ساتھ چپکی ہوئی تھی اللہ جی میری مدد فرما

ایک تو پہلے ہی میں ان کا سامنا کرنے سے گھبراتی ہوں اب تو بالکل بھی نہیں کر پاؤں گی

اب کیا کروں اللہ کرے وہ چلے جائیں ان کو کوئی کام آجائے ضروری

اپنے کمرے کے ساتھ مہلک ٹیرس پر کھڑی وہ بڑبڑا رہی تھی جب اسے مین گیٹ سے بالاج نکلتا ہوا نظر آیا

وہ دور سے ہی دیکھ سکتی تھی کہ سفید رنگ کی شلوار قمیض کے ساتھ سیاہ شال لی ہوئی تھی جبکہ بازو اتنی سردی میں بھی کہنیوں تک فولڈ تھے مضبوط کلائی میں میں پہنی مردانہ گھڑی

پاؤں میں سیاہ رنگ کی کھیڑی وہ بلاشبہ دور سے بھی اس کا دل دھڑکا گیا

وہ لاشعور میں ہی پھر سے اپنے بہت قریب مردانہ پرفیوم کی مہک محسوس کرنے لگی

جب ایک دم سے ہی بالاج نے فون پر بات کرتے کرتے اپنی سبز آنکھوں کو اٹھایا

ٹیرس پر کھڑی انابیہ کو فرست سے اسے تکنے میں مگن دیکھ کر دائیں گال پر موجود ڈمپل نمودار ہوا تھا مگر

انابیہ کے چھکے اڑ گئے وہ فوراً سے پہلے وہاں سے دور ہٹ گئی

پاگل ۔۔۔۔ بالاج بڑبڑایا

کیا ہوا فون کی دوسری جانب سے آتی شجاع کی آواز پر بالاج ہوش میں آیا

کچھ نہیں تو بتا کدھر ہے اور کب آرہا ہے گھر میں انتظار کر رہا ہوں

ارے یار کیا ہوگیا بس پہنچ گیا ہوں تو تو ایسے بلا رہا ہے جیسے خوب اہتمام کرکے رکھا ہے

شجاع نے بیک مرر پر نظریں جما کر اپنے درست بالوں پر ایک دفعہ پھر سے ہاتھ چلایا

آج وہ اس دشمن جاں سے ملنے والا تھا جس نے اس کی راتوں کی نیند اڑا رکھی تھی

خانوں کی خاطر مدارت کسی کو مایوس نہیں ہونے دیتی شجاع ضیاء

بالاج نے پر رعب لہجے میں کہا

اوکے خانزادہ صاحب خاطر مدارت کا تو معلوم ہے سنا ہے زبان سے بھی نہیں پھرتے خان

لب دبا کر شجاع نے گاڑی کے ڈیش بورڈ سے ائیر رنگ نکالا چھوٹا ے گولڈن کلر کے آرمڈ پر شیمپین رنگ کے نگ جڑے ہوئے تھے

وہ ایک ہی پیس تھا

تجھے کوئی شک ہے۔۔۔؟؟

ارے میں نے ایسا کب کہا

اچھا اب فون رکھ کیا ساری باتیں فون پر ہی کرنی ہیں شجاع نے فون کاٹ ڈیش بورڈ پر رکھا اور وہ ائیر رنگ اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ڈال لی ۔۔۔۔

________

السلام علیکم خان صاحب۔۔۔۔!!!

شجاع بڑی گرم جوشی کے ساتھ بالاج سے ملا تھا

وعلیکم السلام

بالاج بھی اتنے ہی پرجوش انداز میں اس سے بغل گیر ہوا

انکل آنٹی کو بھی لے آتے ساتھ ہی

فکر نہ کر وہ بھی آئیں گے بہت جلد آئیں گے پر سوچ انداز میں بولا

اچھا تو تو اہ۔۔۔ مما کو نہیں معلوم خود ہی نبٹنا ان سے بالاج نے ہاتھ اٹھا کر کہا

صفا آرام سے کھاؤ بچے

صفا کو چاول بغیر چبائے جلدی جلدی نگلتے دیکھ حیا نے ڈبٹا

مما واقع بہت بھوک لگ رہی تھی اور نیند آرہی اب

وہ ٹلے بغیر اپنے انداز میں کھانے لگی

انابیہ ہنس دی جبکہ حیا سر نفی میں ہلا گئی

السلام علیکم آنٹی ۔۔۔!!!

آنٹی ۔۔۔!!؟؟؟ یہ تو بالاج بھائی کی آواز نہیں ہے صفا کو کھاتے ہوئے

بری طرح ٹھسکا لگا

آپی پانی انابیہ نے جلدی سے پانی کا گلاس صفا کی جانب بڑھا کر اس کی پیٹھ سہلائی

صفا ٹھیک ہو بچے حیا بھی پانی کا گلاس لے کر اس تک آئی

ج۔۔جی

شجاع بھی پریشان ہوا مگر بے بسی تھی کہ وہ اس کے پاس نہیں جا سکتا تھا

ارے شجاع بچے

حیا خوشگوار لہجے میں بولی

شجاع نے آگے بھر کر سر حیا کی جانب جھکایا

وعلیکم السلام ماشاءاللہ اور خوبرو ہوگئے ہو

اسلام علیکم شجاع بھائی انابیہ نے فوراً سے پہلے اپنا ڈوبٹہ درست کیا

وعلیکم السلام بھابھی کیسی ہیں آپ ؟؟

الحمدللہ بھائی آپ سنائیں انابیہ اپنی شئیر سے اٹھ کھڑی ہوئی

جی بھابھی اللّٰہ کا کرم وہ شروع سے ہی انابیہ کو بھابھی ہی کہتا تھا

انابیہ نے صفا کا بازو ہلایا

اسلام علیکم شجاع بھائی صفا کو اپنی بریانی کے بھیچ میں ہی رہ جانے کا دکھ ہوا اس لیے وہ منہ بنا کر بولی

جبکہ بھائی لفظ ٹھاہ کرکے لگا تھا شجاع کو

وعلیکم السلام وہ زبردستی ہی مسکرا سکا

بچوں بیٹھوں میں چائے کھانے کا انتظام کرواتی ہوں بیا صفا آجاؤ

وہ دونوں حیا کے پیچھے چلی گئی

شجاع اور بالاج لاونج میں بیٹھ گئے جبکہ صفا نے ایک نظر اپنی ادھ کھائی بریانی کی پلیٹ کی طرف بھی کی تھی ۔۔۔۔۔۔