212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 8)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

کیا ہوگیا ہے حدیقہ جسٹ ریلیکس یار جوان خون ہے ہوجاتا ہے ایسا ۔۔۔۔

ابراہیم شاہ نے اپنی روتی ہوئی بیوی کو اپنے ساتھ لگا کر تسلی دی

جوان خون ہے تو کچھ بھی کرے گا ابراہیم۔۔۔؟؟؟

خدانخواستہ کل کو اپنے ساتھ کچھ کرلے گا تو کہاں جاؤں گی میں۔۔۔۔؟؟

شادی کے پانچ سال بعد منتے مُرادوں سے موت کے منہ میں جا کر میں اس رتبے میں فائز ہوئی تھی ابراہیم

اگر عون کو کچھ ہوا تو میں مر جاؤں گی بھرائے لہجے میں کہتی ابراہیم شاہ کے دل کو ٹھیس پہنچا گئی

کیسی باتیں کر رہی ہو حدیقہ۔۔!!

ابراہیم شاہ اپنی محبوب بیوی کے منہ سے موت کی بات سن کر تڑپ گئے

کس پر چلا گیا ہے آخر یہ ابراہیم۔۔؟؟ آپ تو ایسے جنونی نہیں تھے

آنسو پونچھ کر اب حدیقہ شاہ نے غصے سے کہا

اپنے مامے پر۔۔۔۔۔ ابراہیم شاہ نے بے ساختہ کہا

حدیقہ شاہ نے خفگی سے سر اٹھا کر شوہر کو دیکھا

ہاں تو صحیح کہہ رہا ہوں میں تمہیں ہی تھا میرے بیٹے کو سب سے پہلے میرا بھائی پکڑے گا اور میں نے کتنا کہا تھا اپنے بھائی کو گھڑتی مت دینے دو چلا گیا نہ ہمارا بیٹا تمہارے جنونی بھائی پر

سالا۔۔۔۔

ابراہیم شاہ برہم سے تھے تبھی اتنی سالوں پرانی باتوں کو یاد کرکے بھی جل کُڑ رہے تھے

اور جیجا جی مجھے یاد کیا ۔۔!!!

حدید شاہ بغیر دروازہ ناک کئیے سیدھا لاونج میں آئے حدیقہ جو ابراہیم کے شانے پر سر رکھے بیٹھی تھی سٹپٹا کر دور ہوئی

جبکہ ابراہیم شاہ بھی ہڑبڑا گئے تھے

آئیں آئیں سالے صاحب آپ کو ہی یاد کر رہے تھے

ابراہیم شاہ نے منہ بنا کر کھڑے ہوتے کہا

شیطان کا نام لیا شیطان حاضر اٹھتے ہوئے وہ بڑبڑائے

حدیقہ شاہ نے اپنے شوہر کو کہنی ماری

کہا تو بالکل ٹھیک ہے شیطان ۔۔۔۔ اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کر حدید شاہ نے سائیڈ سمائل دی تھی دائیں گال کا گھڑا ایک لمحے کو نمودار ہوا اور اگلے لمحے ہی غائب ہوگیا

ویسے شیطان کے بھتیجے کے باپ کے بارے میں کیا خیال ہے جیجا جی حدید شاہ کی بات پر ابراہیم شاہ بلبلا کر رہ گئے

ابراہیم چھوڑیں نہ پلیز عون کو بھائی دیکھ لیتے ہیں آپ مت جائیں پلیز ۔۔۔۔ حدیقہ نے نرم لہجے میں سمجھایا تو ابراہیم شاہ ہمیشہ کی طرح اپنی بیوی کے آگے بے بس ہوگئے ۔۔۔۔

_______

کیفے سے ہی بالاج کی بدلی ہوئی ٹون محسوس کرکے انابیہ نے گاڑی میں بیٹھ کر دوبارہ کوئی سوال پوچھنے سے خود کو باز رکھا

بدلی سی نگاہیں۔۔۔۔ چاہت بھرے جملوں۔۔۔۔ کی بازگشت کے باعث انابیہ کی ہتھیلیاں اتنی سردی میں بھی پسینے سے تر ہوگئی تھی

“ہم گھر نہیں جارہے کیا “۔۔۔؟؟

کافی دیر خود کو ڈبٹنے اور خاموش رکھنے کے باوجود بلآخر انابیہ بول ہی پڑی تھی کیونکہ انہیں مسلسل سفر کرتے آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا مگر سفر تھا کہ کٹ نہیں رہا تھا اور نہ ہی گھر آرہا تھا

مگر بالاج کی جانب سے خاموشی محسوس کئیے انابیہ دانت پیس کر رہ گئی

“مما انتظار کر رہی ہوں گی ہمارا ” دبا دبا کر ایک ایک لفظ کہتی بالاج کو مسکرانے پر مجبور کر گئی

سبز آنکھوں میں چمک سی ابھری تھی

دائیں گال کا بھنور دیکھ کر انابیہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی

وہ جیسے رک کر دھڑکا تھا

” تمہیں کس بات کی ٹینشن ہے مسسز اپنے شوہر کی محفوظ پناہ میں ہو “

آج بلاج تو جیسے قسم کھا کر آیا تھا انابیہ کے کانوں سے دھوئیں نکلوانے کی

انابیہ نے ہاتھ بڑھا کر گاڑی میں چلتا ہیٹر آف کرکے اپنی طرف کا شیشہ تھوڑا نیچے کرکے گہری سانس بھری تھی

وہ چاہ کر بھی اِس خوبصورت سفر پر یقین نہیں کر پارہی تھی

ایسا لگ رہا تھا جیسے سب مختصر ہے جیسے پہلے تھا اسے حد درجہ عادی بنا کر چھوڑ دیا گیا اِس بار بھی بالکل ویسا ہی ہوگا

انابیہ اپنی سوچوں میں ہی گم تھی جب گاڑی رکی

انابیہ نے نظریں فرنٹ سکرین کی جانب کی ہلکی ہلکی بونداباندی میں اس کے سامنے کا منظر اس قدر دلکش اور دلفریب تھا انابیہ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی آنکھیں موند کر گہری ٹھنڈی سانس لی دل شاد سا ہوگیا وہ ٹرانس سی کیفیت میں آگے خوبصورت نارنجی اور سرمئی رنگ کی چادر اوڑھے ہلکے ہلکے بادلوں کی اوٹھ میں ڈھلتا سورج جیسے جیسے شام ہورہی ہوا کی خنکی بھی بھرتی جا رہی تھی جب اپنے کندھوں پر وزن محسوس ہوا بالاج نے اپنا کورٹ اتار کر اس کے کندھوں پر پہنادیا تھا

مسسز میں بس ابھی کے لیے ہی برداشت کر رہا ہوں کہ تمہارا شوہر تمہارے ساتھ ہے اور تمہارا دھیان کہی اور ہے ۔۔۔۔

نہایت دھیمی سی پر شدت سرگوشی پر انابیہ ٹرانس کی کیفیت سے نکلی

چہرے کے نرم سے تاثرات سپاٹ ہوگئے

وہ واپس مڑنے لگی تھی بلاج نے کلائی سے تھام کر اسے اپنے سامنے کیا

لیکن انابیہ رخ موڑ گئی

انابیہ کا رخ موڑنا اسے ناگوار ضرور گزرا تھا مگر وہ خاموش رہا ۔۔۔۔

یار میں تو مما سے رخصتی کی بات کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور میری مسسز کے مزاج نہیں مل رہے

بالاج نے کُن اکھیوں سے انابیہ کی خفا خفا صورت پر ڈالی

وہ اسے بری طرح ایٹریکٹ کر رہی تھی

ہاتھ بالاج نے ہنوز اس کا تھام رکھا تھا ۔۔۔۔

آپ چاہتے کیا ہیں بالاج میں پھر آپ پر یقین کروں۔۔۔۔ آپ پھر مجھے اپنا اس قدر عادی بنا دیں کے آپ کے بغیر میرا گزارا نہ ہو اور آپ پھر مجھے چھوڑ کر چلے جائیں

انا۔۔۔۔

آپ نے تو مجھ سے شکوے کا حق تک چھین لیا تھا بالاج خان آپ نے مڑ کر ایک دفعہ بھی میری خبر نہیں لی کہ زندہ ہوں کہ مر گئی ۔۔میں انسان ہوں کوئی کھلونہ نہیں بالاج خان

سوری اس بار انابیہ آپ کی کسی بات پر یقین نہیں کرے گی آپ کے لیے آسان تھا اور اب بھی ہوگا مجھے چھوڑ جانا مگر اس بار مجھے اپنا عادی نہ کریں نہیں تو میری موت کے زمہ دار آپ ہوں گے ۔۔۔۔

بالاج کا ہاتھ جھٹک کر پہلے سختی سے چیخنے کے انداز میں کہا اور آخری کا جملہ دھیرے مگر بےبس لہجے میں

انا۔۔۔!!!!

بالاج نے اپنے بلند ہاتھ کو ہوا میں ہی روک لیا تھا

بات اتنی اور اس حد تک کرو جتنے کا خمیازہ تمہاری جان بھگت سکے انابیہ بالاج خان

یک دم اسے بازو سے کھینچ کر قریب کیا

اور میں تم سے کتنا لاپرواہ اور بے خبر رہا ہوں اس بات کا حساب تب دوں گا جب تم میری دسترس میں آجاؤ گی

برف سا سرد لہجہ اور آگ برساتی سبز آنکھیں جن کی کچھ دیر پہلے کی چمک اب مقفود تھی

بالاج نے سخت نظر انابیہ پر ڈال کر اسے ہاتھ سے تھام کر گاڑی کے پاس لے جا کر بٹھایا اب گاڑی کا رخ خان ہاؤس کی جانب تھا ۔۔۔۔۔

_______

شیر !!!

حدید شاہ عون کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہ اتنی سردی شرٹ لیس بیڈ پر اڑا ترچھا لیٹا ہوا تھا آنکھیں بند تھیں سینے پر جہاں سے پہلے خون نکل رہا تھا وہاں حدیقہ شاہ نے پٹی کی تھی جو عون نے باپ کی زبردستی اور ماں کے آنسو کے سبب نا چاہتے ہوئے بھی کروالی

حدید شاہ نے تاسف سے اپنے بھیجے کو دیکھا بقول گھر والوں کے عون ہوبہو حدید شاہ کا عکس تھا

بائیس سال کے ہو عون شاہ تم پر یہ ٹین ایج لڑکوں والی حرکتیں سوٹ نہیں کرتی

حدید نے عون کے چہرے کی طرف جھک کر کہا

صفا !!!…..

بھوری آنکھوں میں دیکھتے ہی صفا کی بھوری آنکھیں شدت سے یاد آئی

“عاشقی کا بھوت اترا نہیں چھوٹے شاہ”۔۔۔۔ حدید شاہ نے عون کے زخمی سینے پر تھپکی دی

‘آہ ۔۔۔ مامو” عون اٹھ کھڑا ہوا

ہاں مامو تمہاری محبوبہ نہیں جو سر کے بل کھڑے ہوگئے ہو

حدید شاہ نے پھر سے طنز کیا

عون کان کی لو کھجا کر رہ گیا۔۔۔۔۔

ویسے سینہ کاٹنے سے کس کی جان جاتی ہے چھوٹے شاہ اگلی بار کلائی پر ایکسپیریمنٹ کرنا

حدید شاہ نے گھور کر کہا

آپ اگر صرف طنز و تشنیع کرنے آئیں ہیں تو جائیں میرا ابھی موڈ نہیں ہے

عون نے فوراً سے پہلے اپنے چہرے کے زاویے بگاڑے تھے

تمہارے باپ کی اتنی جرت نہیں ہوئ کہ وہ مجھے اس گھر سے نکال سکتا اور تم مجھ سے چلے جانے کی بات کر رہے ہو

حدید شاہ نے بیڈ کے سامنے موجود دو سیٹر پر بیٹھتے ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ چڑھا کر استہزایہ کہا

مامو عون بے بس ہوکر بیڈ پر سر تھام کر بیٹھ گیا

سر تھامنے کی بجائے اس کے گھر رشتہ لے جانے کی تیاری کرو

حدید شاہ نے اپنے کورٹ کی جیب سے سگار نکال کر سلگایا

وہ نہیں مانے گی مامو بہت ضدی ہیں

عون نے صفا کا تپھڑ یاد کیا تو چہرہ ایک دفعہ پھر دھک اٹھا تھا مگر اپنے ماموں کے سامنے وہ گال پر بھی ہاتھ نہیں رکھ سکتا تھا عقاب جیسی نگاہیں منظر کا پس منظر تک جان لیتی تھی

اتنی عزت عون ابراہیم شاہ۔۔۔۔۔

لگتا ہے یک طرفہ محبت کے مریض بن گئے ہو

یک طرفہ محبت نہیں عشق ہے مجھے صفا خان سے اپنی جان سے بھر کر عشق ہے مجھے ان سے

اور رہی عزت کی بات تو ہاں وہ ہیں قابلِ عزت

وہ عون ابراہیم کا اکلوتا عشق ہیں

شدتِ جذبات میں کہتا وہ اپنا ہاتھ اپنے دل ہر رکھ گیا

حدید شاہ کو کچھ یاد آیا تھا بہت شدت سے آنکھوں سے ہوتا وہ منظر ان کے ویران دل تک سرایت کرگیا تھا ۔۔۔۔

اور کیوں نہیں مانے گی تمہاری صفا خان ۔۔۔۔۔

اس کا باپ بھی مانے گا

آخر کیا کمی ہے عون ابراہیم شاہ میں ..؟؟؟

درشت لہجے میں کہا

وہ مجھے بچہ سمجھنا چھوڑیں تو ہی میری ذات کی خامیوں اور خوبیوں پر غور کریں گی

دھیمے سے کہا

بچہ!!!؟؟؟۔۔۔۔۔ ویٹ صفا خان تمہاری ٹیچر تو نہیں ؟

حدید شاہ نے سگار منہ سے نکال کر کچھ حیرانگی سے کہا

نہیں میری سئینیر محض دو سال ہی بڑی ہیں مگر میرے لیے یہ معمولی سا فرق کوئی معنے نہیں رکھتا مجھے بس اتنا معلوم ہے صفا خان عون ابراہیم شاہ کی ہیں اور وہ” فقط میری ہی رہیں گے”

پھر چاہے مجھے ان کو پانے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے میں کر گزروں گا ۔۔۔۔۔

” میں عائلہ کی خوشی کے کچھ بھی کر گزروں کا موم “

کہیں بہت پرانے اپنے الفاظ کانوں میں گونجے ۔۔۔۔

ضرور تمہارا دوست ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا مگر ایسی بیوقوفانہ حرکت سے پرہیز کرنا میری بہن آج تمہاری وجہ سے جتنا روئی ہے نہ آئندہ اگر ایسا ہوا نہ عون شاہ تو میرے اعتاب سے تمہیں کوئی نہیں بچا پائے گا ۔۔۔۔

سرد لہجے میں وارننگ دے کر حدید شاہ وہاں سے چلے گئے

پیچھے عون دھیرے سے اپنی پٹی سہلانے لگا ۔۔۔

_______

حیا نے ایپرن اتار کر ہاتھ دھوئے اب ان کا ارادہ صفا کے کمرے میں جا کر اسے اٹھانے کا تھا

صفا میری جان ۔۔۔۔ حیا نے دروازہ بجایا

سر درد کے باعث دروازے پر ہوتی ہلکی سی دستک بھی صفا کے کانوں میں ہتھوڑے کی مانند لگ رہی تھی

صفا جانو آکر کھانا کھا لو بچے بس کرو اتنا پڑھنا بھی اچھا نہیں ہوتا

حیا نے فکر مندی سے کہا

آئی مما فریش ہو کر سر تھام کر لہجے کو متوازن کرکے صفا نے آنکھیں دو تین دفعہ جھپکی

ہاں آجاؤ بالاج اور انابیہ بھی بس آنے والے ہوں گے میں کھانا لگواتی ہوں ۔۔۔۔

_______

بالاج کا موڈ تو خراب ہوہی چکا تھا انابیہ کو بھی چپی لگ گئی تھی وہ دونوں گھر کے پاس پہنچے

تمہیں مجھ سے جو بھی شکوے ہیں میں چاہتا ہوں مجھ تک ہی محدود رہیں مما کو اس میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے

میں بچی نہیں ہوں بالاج میں اچھے سے جانتی ہوں کونسی باتیں مجھے خود تک محدود رکھنی ہیں

سیٹ بیلٹ کھولتے ہوئے مدھم لہجے میں کہا

ہمم ۔۔۔۔۔انابیہ خان تم واقعی اب بچی نہیں رہی اس لیے میں چاہتا ہوں رخصتی جلد از جلد ہو

اپنی طرف سے گاڑی کا دروازہ کھول کر پہلے انابیہ کا ہاتھ تھاما پھر وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے ۔۔۔۔

بالاج ۔۔۔۔۔ بیو میری جان جاؤ بچوں جلدی سے فریش ہو کر آؤ میں تم لوگوں کے لیے کھانا لگواتی ہوں صفا کو بھی کہا ہے

تھوڑی دیر میں وہ چاروں ڈائینگ ٹیبل پر براجمان تھے صفا کی سرخ آنکھیں دیکھ کر بالاج پریشان ہوگیا

صفو یہ کیا ہوا ہے آنکھوں کو ۔۔؟؟

بھیا کچھ نہیں الرجی ہوگئی ہے لگتا ہے آنکھیں مل کر اپنی پلیٹ میں کھانا ڈال کر خود کو مصروف دکھانے لگی

صفا اب جھوٹ بھی بولیں گی آپ ؟؟؟

حیا خان کے سنجیدگی سے کہنے پر صفا کا رنگ فق ہوا

ج۔جی مما …؟؟

ناسمجھی سے مما کی جانب دیکھا

جی اتنی ٹینشن کیوں لے رہی ہو بچے ایک ٹیسٹ ہی کچھ نہیں ہوتا خود کو ٹینس کروں گی تو نہ ٹیسٹ دیا جائے گا نہ طبیعت صحیح ہوگی

صفو بھائی کی جان فکر مت کرو اچھا ہی ہوگا کل کا ٹیسٹ

جی آپی انابیہ نے بھی صفا کو زور سے گلے لگایا

صفا نے شکر کا سانس لیا جی مما بھائی آپ لوگوں کی دعائیں ہیں نہ میرے ساتھ اچھا ہی ہوگا

اچھا چلو کھانا کھاؤ بیو تمہارے لیے میں نے موز بھی بنایا ہے

حیا نے پانی کا گلاس بھر کر بالاج کے آگے رکھتے ہوئے کہا

مما یو آر دی بیسٹ کھانا بہت مزے کا بنا اوسم ۔۔۔۔ انابیہ نے دل کھول کر تعریف کی مگر حقیقت تو یہ تھی ٹیبل پر موجود تینوں نفوس نے صرف اور صرف حیا کی خوشی کی خاطر زہر مار کھانا نگلا تھا ۔۔۔۔۔

________

رات کو بالاج حیا نے کمرے میں آیا جو اپنے بیڈ نیم دراز کوئی کتاب پرھنے میں مصروف تھی

مما ۔۔۔۔ دروازہ ناک کرکے بالاج اندر آیا

بالاج او میری جان حیا نے اپنے چشمے اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اپنے پاؤں سمیٹے

مما ۔۔۔۔

بالاج بالکل ان کے پاس ہی ٹک گیا

ہاں میری جان کیا ہوا ہے اپنا ہاتھ بالاج کے شانے پر رکھا

بالاج نے اسی ہاتھ کو تھام کر پہلے لبوں سے لگایا پھر آنکھوں سے

ماما میں چاہتا ہوں آپ انابیہ کی رخصتی کی تیاری کریں

بالاج میں بھی یہ ہی چاہتی ہوں اب تمہاری اور انابیہ کی رخصتی ہوجانی چاہیے ۔۔۔۔۔ میں اپنے بھائی کے سامنے روزِ قیامت سرخ رو ہونا چاہتی ہوں پھر انابیہ کے بعد میں صفا کی زمہ داری سے سبکدوش ہوجاؤ گی تو میری جان کو سکون آجائے گا ۔۔۔۔

ان شاءاللہ

بالاج انابیہ کو بہت خوش رکھنا میرے بچے اس کی آنکھوں میں کبھی آنسو نہ آئے میں نہیں جانتی انابیہ کو کل کیا ہوا تھا اسے وہ چوٹ کیسے آئی مگر آئندہ ایسا کچھ بھی نہیں ہونا چائیے وہ صرف اور صرف تمہاری زمہ داری ہے اور بھابھی کے بعد میں بڑے مان کے ساتھ انابیہ کو تمہیں سونپوں گی

جی مما آپ کو میری طرف سے کوئی شکایت نہیں ہوگی

مما ایک اور بات تھی

اس ویک کے اینڈ پر بیسٹ بزنس مین آف دا ائیر کی اوارڈ سرمنی ہے اور میں نومینیٹڈ ہوں

ماشاءاللہ ماشاءاللہ میری جان اللہ پاک تمہیں ڈھیروں کامیابیوں سے نوازے آمین ثمہ آمین حیا کی آنکھیں نم ہوگئی اپنی زندگی میں کتنی مشکلات سے لڑ کر آج وہ اس مقام تک پہنچے تھے

وہ بھی وہاں پر موجود ہوں گے

بالاج نے سنجیدہ نظروں سے حیا کے تاثرات جانچنے چاہے

ہممم کبھی نہ کبھی تو ملاقات ہونی ہی تھی بچے خیر ہم کسی کے ڈر سے اپنی خوشیوں کو گرہن نہیں لگا سکتے

جی مما اس لیے میں چاہتا ہوں آپ اور صفا وہاں پر موجود ہوں

اور انابیہ ؟؟؟ حیا نے سوالیہ نظروں سے دیکھا

نہیں ابھی انابیہ نہیں اپنا اور انابیہ کا رشتہ میں اپنے ریسیپشن پر ہی سب کے سامنے ڈس کلوس کروں گا ابھی میڈیا تک یہ خبر نہیں پہنچنی چائیے تو ہی بہتر ہو گا

ہمم صحیح جیسے تمہیں ٹھیک لگے میری جان

حیا بالاج کے بالوں کو سہلا رہی تھی جب ان کا فون رنگ ہوا

بالاج سیدھا ہوا

جازب صاحب کا فون !!! حیا نے ٹائم دیکھا بارہ بجنے والے تھے

اٹینڈ کریں مما ہوسکتا ہے ضروری بات ہو میری طرف سے سلام کہیے گا اور ساتھ ساتھ اس ویکینڈ جازب انکل نے بھی لازمی آنا باقی میں خود بھی ان سے کہوں گا

ماں کے سر پر پیار دے کر بالاج وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔

_______

ہیلو اسلام علیکم!!!….

حیا نے کال اٹینڈ کرتے ہی کہا

مگر دوسری جانب سے خاموشی ہی ملی

جازب صاحب ؟؟ سب ٹھیک ہے آپ نے اس وقت کال کی …؟؟ سر جی ٹھیک ہیں ان کی طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔؟؟ ہیلو !!!

دوسری جانب جازب اعوان کو نیند ہی نہیں آرہی تھی اس لیے بغیر وقت دیکھے حیا کے نمبر پر کال ملا چکے تھے ۔

اب انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی حیا کو کیا کہیں

ہیلو حیا صاحبہ

وہ میں ۔۔۔۔۔