212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 7)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

انابیہ اب اگر تم نے مجھے روکا تو میں دو سال کی بجائے کبھی واپس نہیں آؤں گا

بالاج کا سرد لہجہ بالکل ویسا ہی جیسا وہ انابیہ کو تنبیہہ کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا

انابیہ جہاں تھی وہی رک گئی ۔۔۔۔

” انابیہ انابیہ ۔۔۔!!! “عمیر کے بلانے پر انابیہ ہوش میں آئی چہرے پر ہاتھ پھیرنے پر اسے نمی سی محسوس ہوئی تو انابیہ چونک گئی

“انابیہ کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہو” عمیر انابیہ کے پاس ہی بیٹھ گیا وہ آنکھوں میں اضطراب لئیے غائب دماغی سے عمیر کی جانب دیکھنے لگی

عمیر پریشان سا ہوا انابیہ تو اسے پہلے دن سے ہی پسند تھی اور وہ اپنے دل کا حال انابیہ سے شیئر کرنے میں بھی انٹرسٹڈ تھا مگر ۔۔۔۔۔۔

اس دن انابیہ کا یوں کسی لڑکے کے ساتھ بے تکلفی سے ہاتھ تھام کے وہاں سے چلے جانا عمیر کو شش و پنج میں مبتلا کر گیا

ابھی وہ گراؤنڈ کے پاس سے گزر رہا تھا اسے وہاں انابیہ اکیلی بیٹھی نظر آئی تو وہ اس کے پاس چلا آیا

” انابیہ کیوں رو رہی ہو کیا ہوا ہے یار؟؟!!”

نہیں ۔۔۔میں نہیں تو وہ بس آنکھ میں شاہد کچھ چلا گیا تھا چہرہ تھپتھپا کر اپنا بیگ بائے کندھے میں پہن کر کھڑی ہوئی

بالاج !!! سامنے کھڑے بالاج کو دیکھ کر انابیہ کا سانس خشک ہوگیا وہ دور کر اس کے پاس آئی۔۔۔۔۔

” میں نہیں وہ خود ہی آیا تھا بالاج “۔۔۔۔ “میں ۔۔۔۔میں بس وہاں بیٹھی ہوئی تھی۔۔” نفی میں سر ہلا کر اپنی نم آلود پیشانی کے ساتھ سہمے ہوئے لہجے میں کہتی بالاج کو پریشان سا کر گئی

انا چلو ۔۔۔!!! نرمی سے اپنے گرم ہاتھ کی گرفت میں انابیہ کا ٹھنڈا پڑتا ہاتھ لیا وہ بے جان سی ہوتی بالاج کے ساتھ اُس کے پیچھے پیچھے کھینچتی چلی گئی ۔۔۔۔

بالاج نے گاڑی کے پاس پہنچ کر پہلے انابیہ کی طرف کا دروازہ کھولا اسے بٹھایا پھر خود ڈرائونگ سیٹ سنبھالی

ٹھک سے دروازہ بند ہونے کی آواز پر انابیہ ہوش میں آئی

بالاج نے گاڑی جیسے ہی سٹارٹ کی

اس دن گاڑی والا خوفناک واقع یاد آنے پر انابیہ نے پہلی فرصت میں سیٹ بیلٹ لگائی

اور اتنی ہی شدت سے بالاج کے بازو کو اپنے گرفت میں لے لیا

انابیہ کے خوف پر جہاں بالاج کے ماتھے پر بل پڑے وہی اس کا اپنے بازوؤں پر گرفت مضبوط کرنے پر سبز آنکھیں مسکرائی تھیں بالاج نے بھی اس کے دوسرے شانے پر ہاتھ رکھ کر تحفظ کا احساس دیا تھا

انابیہ کا خود سے خوف اسے سوچنے پر مجبور کرگیا تھا اس کی انا اتنی ڈرپوک تو کبھی بھی نہ تھی اتنی سہمی خاص طور پر اپنے لاج سے تو کیا یہ دو سال کا آیا غیپ ان کے رشتے میں خلا پیدا کرگیا تھا

گزشتہ دنوں کچھ اپنی پریشانی اور کچھ حالات کی وجہ سے وہ انابیہ کو بدظن کر چکا تھا اب اس کا ارادہ تمام غلط فہمیوں کو ختم کرنا تھا

اسی سوچ کے تحت بالاج نے گاڑی کا رخ اپنا اور انابیہ کے فیورٹ کیفے کی جانب گاڑی موڑ لی

انابیہ پورے راستے خاموش رہی تھی ۔۔۔۔۔

__________

صفا اپنا بیگ کندے سے اتار کر بیڈ پر پھینکتی خود اوندھے منہ بیڈ پر گڑی تھی

عون ابراہیم تم اس قدر چھوٹی سوچ کے مالک ہو گے مجھے اندازہ نہیں تھا

اپنے سرخ ہوتے ہاتھ کو دیکھ کر صفا کو تھپڑ یاد آیا

” میں پوچھ رہا ہوں وہ لڑکا کون تھا صفا خان جس کے حصار میں کھڑی تھی آپ “

“ڈیم اٹ جواب دیں کون تھا آپ کے اس قدر نزدیک کس کی ہمت ہوئی “

مکا بنا کر اس کے چہرے کے پاس سے گزارتا دیوار پر دے مارا

اہ۔۔۔۔صفا دونوں ہاتھ منہ پر رکھ چیخ کا گلا گھونٹ گئی

صف۔۔۔۔چٹاخ !!! بھائی تھا وہ میرا میرا بڑا بھائی عون ابراہیم ۔۔۔۔۔!!! تھپڑ مار کر اسے اپنی پوری طاقت کے ساتھ خود سے جھٹکا

آج کے بعد اپنی گڑی ہوئی سوچ لے کر اپنا یہ چہرہ مجھے مت دکھانا عون ابراہیم آئی سوئیر تمہیں جا۔ن سے مار دوں گی میں ۔۔۔۔

ایک دفعہ پھر آنسو بے دریغ بہنے لگے تھے

اور اپنے اور عون کی پہلی ملاقات یاد آئی تھی وہ شروع سے ہی انٹروورٹ قسم کی لڑکی تھی دوست بھی نا ہونے کے برابر تھے اپنے شروعاتی سمسٹر میں وہ دوست بنانے میں کامیاب نہ ہو پائی اور آخری سمسٹر میں تو ویسے گروپ ڈیوائڈز ہوجاتے ہیں اس لیے دوست دوستی کو چھوڑ کر صفا نے اپنا سارا دھیان پڑھائی کی طرف لگایا اس کا بس ایک ہی خواب تھا اپنی مما جیسی کامیاب ایڈوکیٹ بننا

عون کی ملاقات بھی اس سے لائیبریری میں ہی ہوئی تھی عون شدید قسم کا باتونی لڑکا اس کا جونئیر تھا بات بے بات اس کی مدد مانگنے آجانا اس سے ڈھیروں باتیں کرنا اس کی مدد کرنا صفا کی ایک آواز پر حاظر ہوجانا اپنے فضول جوکس سے اسے ہنسانا صفا کو لگا وہ بھی دوست بنا سکتی ہے تو اس نے عون کو اپنا دوست تصور کرلیا ۔۔۔۔

آج اسے لگا اس نے اپنا دوست کھو دیا ۔۔۔۔

_______

حیا گھر میں داخل ہوئی جب ان کے فون پر بالاج کے میسج کا آیا

” وہ انابیہ کو پک کر چکا ہے وہ لنچ کرکے ہی گھر آئیں گے “

حیا مسکرا کر ‘ اوکے’ کا میسج کر کے لاونج میں آئی میڈ پہلے سے ہی حیا کے لیے پانی کا گلاس تھامے کھڑی تھی

پانی پی کر حیا نے صفا کے متعلق پوچھا

صفا کہاں ہر ہے ؟؟

“وہ جی صفا میڈیم تو اپنے کمرے میں ہیں شاید پڑھ رہی ہیں”….. میڈ نے گلاس پکڑ کر بتایا

اچھا تم یہ بتاؤ کھانا بنا لیا ہے ؟؟

نہیں میڈیم جی ابھی نہیں مگر پالک گوشت کا سامان سارا نکال لیا ہے

اچھا تم ایسا کرو اُس سامان کو کل کے لیے سنبھالو اور چکن باہر نکال کر رکھو اور شملہ مرچ گاجریں بند گوبی وغیرہ سبزیاں کاٹنے کی تیاری میں فریش ہو کر آتی ہوں آج کھانا میں بناؤ گی

بچوں کی پسند کا

اوکے میڈیم میڈ حیا کے حکم پر کیچن کی طرف بڑھ گئی

حیا بھی اوپر فریش ہونے کی غرض سے چلی گئی ۔۔۔۔

_______

گاڑی اپنے پسندیدہ کیفے کے باہر روکنے پر انابیہ نے چونک کر سر اٹھا یا خود کو بالاج کے اتنے قریب پا کر ہوش میں آتے ہی دوری اختیار کی بالاج نے گاڑی سے نکل کر انابیہ کے لیے دروازہ کھولا انابیہ نے ہنوز خالی نظروں سے اپنے سامنے کھڑے شاندار اور وجیہہ شخص کو دیکھا جو اس کی طرف اپنی کشادہ ہتھیلی کئیے کھڑا تھا

“ہم یہاں کیوں آئے ہیں “

خاموش سے اپنا ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھ کر بیوقوفانہ سوال کیا

لوگ کیفے میں کیوں آتے ہیں بالاج نے تاسف سے اسے دیکھ کر کہا

“شاہد جھوٹے وعدے کرنے “بہت دھیرے سے سرگوشیانہ انداز میں کہا بالاج نے انابیہ کو دیکھا مگر وہ کیفے کے گلاس وال سے نظر آتے اندر بیٹھے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کپل کی جانب دیکھ رہی تھی

بالاج ایک پل کو سن ہوا تھا یہ طنز اس کے لیے تھا یاں ۔۔۔۔۔۔

سرد سانس ہوا میں خارج کی تھوڑی نہیں بیت ناراض تھی اس کی بیوی ۔۔۔۔

اندر چلیں ۔۔۔۔ خود ہی کہہ کر خود ہی انابیہ کا ہاتھ تھام کر اسے اندر لے جانے لگا

________

عون میری جاااان میرا بچہ کیا ہوا ہے مما کو بتاو تو صحیح۔۔۔۔

حدیقہ شاہ عون کے کمرے سے آتی ٹوٹنے پھوٹنے کی آوازوں پر دہل کر دروازہ بجانے لگی

عون پلیز دروازہ کھولو بچے میرے دل کو کچھ ہورہا ہے

حدیقہ شاہ رونے لگی

مگر کمرے کو تہس نہس کرتے عون کے سر پر اس وقت بھوت سوار تھا

گال صفا کے ہاتھ کا تپھڑ کھا کر دہک رہا تھا

“آج کے بعد اپنی گڑی ہوئی سوچ لے کر اپنا یہ چہرہ مجھے مت دکھانا عون ابراہیم آئی سوئیر تمہیں جا۔ن سے مار دوں گی میں ۔۔۔۔”

آئی لو یو صفا

آپ مجھ سے دور نہیں جا سکتی

اپنا زخمی ہاتھ دیوار کے ساتھ اٹیچ شیشے پر دے مارا

خون کا فوارا تھا جو عون ابراہیم کے ہاتھ سے پھوٹ پڑا مگر وہ ہر درد سے لاپرواہ آج تو جیسے خود کو شدید نقصان پہنچانے کے در پر تھا ۔۔۔۔

ابراہیم ۔۔۔۔ عون ابراہیم شاہ کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ حدیقہ شاہ روتے ہوئے بھاگ کر ان کے پاس آئیں تھی

ابراہیم شاہ نے اپنی بیوی کو سہارا دیا

عون میری جان دروازہ کھولو بیٹا کیا ہوا ؟؟؟

اپنے ڈیڈ کی آواز سن کر عون آنکھوں کو موند کر ایک دم دہاڑا ڈیڈ چلے جائیں مجھے کسی سے بھی بات نہیں کرنی

اپنی سرخ ہوتی ہیزل آنکھوں میں انگاروں سی دہک لئیے وہ صفا کے لہجے کی نفرت کو محسوس کرنے لگا

جب نظر فرش پر پڑے شیشے کے ٹکڑے پر گئی ٹکرا اٹھائے وہ شیشے کے سامنے آیا شرٹ وہ پہلے ہی اتار کر پھینک چکا تھا سینے پر دل کے مقام پر اردو میں صفا لکھنے لگا خون کی لکیریں بہہ کر جسم میں پھیلنے لگی جب ابراہیم شاہ ماسٹر کی سے دروازہ کھول کر اندر آئے دونوں میاں بیوی اپنے اکلوتے بیٹے کو اس حال میں دیکھ کر دہل گئے

عون !!!۔۔۔۔

_______

بالاج اور انابیہ قدرے پرسکون اور کم رش والی سائیڈ میں موجود ٹیبل پر بیٹھے تھے جب ویٹر مینیو کارڈ لئیے مؤدب سا وہاں آیا

سر آڈر

One Hot Chocolate with Churros

and One black coffee without sugar and…. Cinnamon Bun

Any thing else sir??

No …..

بالاج نے بغیر مینیو کارڈ تھامے اپنے اور انابیہ کے لیے آرڈر لکھوایا

جب چوائس نہیں پوچھنی تھی تو ساتھ کیوں لائے انابیہ نے منہ بنا کر کہا

مگر سچ تو یہ تھا کہ دونوں چیزیں ہی اس کی موسٹ فیورٹ تھی

“دونوں چیزیں تمہاری فیورٹ ہیں “

ٹیبل پر پڑے انابیہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر

بالاج نے نرم لہجے میں کہا اس وقت انابیہ کو اس کی موجودگی اور احساس کی ضرورت تھی

دو سال بہت ہوتے ہیں پسند نا پسند بدلنے کے لیے ۔۔۔۔

” دو سال “کو دبا کر کہا

خاصا ٹھنڈا لہجہ تھا مگر بالاج پیچھے نہیں ہٹا کوئی بات نہیں لنچ تمہاری “پسندیدہ” جگہ پر کرلیں گے

بالاج نے اپنی سبز مقناطیسی آنکھوں کو اس کی سیاہ آنکھوں میں گاڑ کر کہا

انگوٹھے کی سہلاہٹ اپنے ہاتھ کی پشت پر محسوس کئیے ایک لہر انابیہ کے وجود میں سرائیت کر گئی

وہ سبز آنکھیں انابیہ کو ہیپنوٹائز کرنے لگیں وہ پگلنے لگی تھی کہ ۔۔

اشاروں سے دلوں کو چھیڑ کر اقرار کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔

اٹھاتی ہیں بہار نو کے نذرانے تری آنکھیں ۔۔۔۔

سر آپ کا آرڈر انابیہ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا

بالاج نے دانت پیس کر ویٹر کو دیکھا

بھوک تو انابیہ کو ویسے ہی لگی تھی باقی وہ اپنا سارا دھیان اپنے چروس کی جانب مبذول کروا کر کچھ دیر پہلے کا اثر زائل کرنے لگی

بالاج نے دو گھونٹوں میں گرم کافی کو خود میں انڈیلا اب مزے سے انابیہ کے آگے پڑی کافی میں چروس ڈپ کرکے کھانے لگا

انابیہ نے گھور کر بالاج کو دیکھ پھر سر جھٹکا

مجھے تمہاری کافی پینی ہے مسسز جوٹھا پینے سے پیار بھرتا ہے

بالاج نے خاصے اونچے لہجے میں کہا

انابیہ نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا کہیں کسی نے سن نہ لیا ہو مگر سب اپنے آپ میں مصروف تھے

بالاج کیوں تنگ کر رہے ہیں

انابیہ نے جھنجھلا کر کہا

تنگ کہاں کر رہا ہوں یار تم سے کافی ہی مانگی ہے تمہیں تو خاص پسند بھی نہیں تو سوچا آپنی نازک سی جان پر اتنا جبر نہ کروں اور کافی ختم کرنے میں اس کی مدد کروں

بالاج نے شرارتی انداز میں کہا

مگر انابیہ نازک جان کہنے پر سٹپٹا گئی ۔۔۔۔

بالاج !!!۔۔۔۔۔

_______

حیا نے انابیہ اور بالاج کا پسندیدہ چکن چلی ڈرائے بنایا صفا کے لیے لائٹ سے ایک فرائیڈ رائس بنائے اسے مرچے برداشت نہیں ہوتی تھی اور ساتھ بادام کا حلوہ اور انابیہ کا پسندیدہ چاکلیٹ موز بنایا چاکلیٹ کے لیے آمیزہ پھینٹتے ہوئے حیا کو جاذب اعوان یاد آئے اور پھر نمکین کافی تو بے ساختہ وہ ہنس دی تھیں

______

اپنے کمرے میں موجود جاذب اعوان مسلسل اضطراب میں ادھر سے اُدھر چکر کاٹ رہے تھے انہیں ہر گز سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اپنی سٹوپڈ حرکت پر کیسے حیا سے معزرت کرے

” حیا جی وہ سوری مجھے پتا نہیں لگا اور میں نے چینی کی جگہ نمک ڈال دیا “

اففف نہیں ۔۔۔۔

“وہ حیا جی کُک نے سب اپنے طریقے سے آرگنائز کیا ہے تو مجھے پتا نہیں لگا چینے اور نمک کے ڈبے کا “

تم نمک اور چینی کے درمیان فرق نہیں کر سکے ہاؤ سٹوپڈ یو آر جازب کمال

ڈمپ لگو گے تم جازب کمال

وہ سر تھام گئے

تم تو یوں پریشان ہورہے ہو وکیل صاحب جیسے حیا کو سوری نہیں پرپوز کرنے لگے ہو

شیشے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ کر جازب کمال چونکے

” کیا ہوا اتنے حیران کیوں ہورہے ہو تم ہی ہو “

ارے یار کوئی بات نہیں عمر ہوگئی ہے تمہاری اتنی غلطی تو ہی جاتی ہے اس عکس نے ہمدردی جتائی

اتنی بھی عمر نہیں ہوئی ہے میری اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کر گردن کی پشت سہلائی

اچھا دیکھو حیا کو فون کرو اور صاف صاف کہہ دو کہ سوری تم نے غلطی سے کافی میں نمک ڈال دیا سمپل

عکس نے عاجزانہ انداز میں مشورہ دیا

….ہاں ۔۔۔۔یہ کر سکتا ہوں میں