Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 59)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 59)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“آپ کی وجہ سے میرا باپ چھن گیا مجھ سے میں نے دوڑ کر شادی نہیں کی تھی آپ لوگوں کی مرضی سے کی تھی مگر مجھے بدنام اور مجبور کردیا گیا میرے نکاح کو گناہ بنا دیا سب نے مل کر “
حیا کی بلند آوازیں گونج رہی تھیں وہ پہلے ہی اتنی پریشان تھی وشمہ بھابھی اپنی ساری حدیں پار کر چکی تھیں حیا کی بھی بس ہوگئی
ان کے کچھ فاصلے پر لاونج میں کھڑے علی اور عدنان بھائی
بے یقینی سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے بالاج فوراً حیا کے قریب گیا ماں اس نے ماں کو اپنے حصار میں لیا
“دور رہا کریں آپ میری ماں سے آپ کی عزت صرف اپنی ماں کی تربیت کا مان رکھ کر کرتا ہوں نہیں تو آپ ابھی بالاج خان کو جانتی نہیں ہیں “
بالاج کی شیر سی دھاڑ پر وشمہ سہم گئی
دروازے پر کھڑی پریہان کے پاؤں لرزے کیا اس کی ماں ایسا بھی کچھ کر سکتی ہے
عدنان صاحب بے یقین تھے سالوں کی محبت اور رفاقت ضائع ہوتی محسوس ہوئی
علی بھائی کے ساتھ کوثر بھابھی خاموش ہوگئے اتنا بڑا سچ
جبکہ وہاں بچوں کے پاس کھڑی صفا کی آنکھیں بھیگ گئیں اس کی ماں کے ماضی کا چھوٹا سا حصہ اسے آج معلوم ہوا تھا اور وہ پوری جان سے لرز گئی تھی حقیقت جاننے کی خواہش دل پر بھاری پڑنے لگی
“دادو۔۔۔!” تبھی سمعیہ روتی ہوئی دادو کے قریب گئیں
“مجھے معاف کر دو میری بچی” وہ کانپتے ہوئے ہاتھوں کو حیات کے سامنے جوڑ کر تڑپ کر روتے ہوئے بولیں
حیات نے تڑپ کر نفی میں سر ہلا کر ماں کے ہاتھوں کو چوما
“نہیں مما ایسے مت کریں میں یہاں اتنے سالوں بعد ماضی یاد کرنے نہیں آئی تھی “
“چٹاخ !” تبھی اپنے پیچھے سے اسے بھاری تھپڑ کی آواز آئی
حیات پریشانی سے مڑی تو وشمہ بھابھی منہ پر ہاتھ رکھے
بے یقینی سے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی
“معاف کر دو حیات معاف کر دو اپنے بد نصیب بھائی کو معاف کر دو
تمہارے دو دو سگے بھائی ہونے کے باوجود تم غیر وں کے در میں رہی ہم سے اچھا تو تمہارا جہانگیر بھائی بھائی ہونے کا فرض نبھا گیا “
عدنان بھائی کا چہرہ آنسوں سے تر تھا
“نہیں بنائی پلیز رو کر مجھے شرمندہ نہ کریں
پلیز آپ سب لوگ نے مانگیں معافی مجھ سے” حیا باری باری سب کو رونے سے منع کرتی خود بھی رو دی
سالوں پرانا زخم تھا جس نے اس کی روح کو سلگتی آگ میں جھونکے رکھا تھا
آج درد نکل رہا تھا تو وہ تو رو ہی رہی تھی سب کو بھی رلا رہی تھی کیا بڑے کیا بچے سب ہی رو رہے تھے
انابیہ ماں کے گلے لگ کر ماں کے آنسوں صاف کرنے لگی
” آپ کے رونے سے تکلیف ہوتی ہے مجھے اور مما بابا کو بھی ہوگی” انابیہ نے ماں کے گالوں کو چوما
بالاج نے محبت پاش نظروں سے انابیہ کو دیکھا تھا کب کب اس لڑکی نے اُس کا مان نہیں بڑھایا تھا
“حیات !”علی بھائی نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا لیا
“کتنے غم چھپا کر بیٹھی ہو میری گڑیا کب سے اتنی بڑی اتنی صابر ہوگئی میری گڑیا تم تو پر بات اپنے بھیا کو بتاتی تھی”
وہ حیات کے بال سہلا کر پرانی حیات کو یاد کر رہے تھے جو کوئی بھی بات دل میں نہیں رکھتی تھی ہر بات آکر اپنے بھائی سے شئیر کرتی تھی
“بھیا لڑکیوں کی جب شادی ہو جاتی ہے وہ پرائی ہو جاتی ہیں پھر وہ ساری باتیں دل میں ہی جمع کرتی رہتی ہیں ” وہ سر اٹھا کر علی بھائی کو کہتی آج برسو پرانی حیات لگی جو یوں ہی معصومیت سے چہرہ اٹھا کر ان سے سوال کیا کرتی تھی
یہ تمہارا گھر ہے حیات میرا بچہ یہ گھر تمہارا ہے ہم تمہارے بھائی ہیں جسے تمہارے یہاں آنے سے تکلیف ہے وہ نکل جائے اس گھر سے عدنان بھائی نے حیات کی پرائی والی بات پر تکلیف سے تڑپ کر کہا
پلیز بھائی میں نے اتنے سال اس خبر کو اس لیے نہیں چھپا کر رکھا تھا کہ آپ ایک لمحے میں ہی فیصلہ سنا دیں اپنے بچوں کو دیکھیں بھائی جو ہونا تھا ہوگیا ہم بدل نہیں سکتے آپ پلیز پرانی بات کی خاطر اس گھر کو بکھرنے مت دیجیے گا نہیں تو میری قربانی ضائع چلی جائے گی ” سسکی روکی
“میں جاتے جاتے آپ لوگوں کے چہرے پر آسودگی چاہتی ہوں ماضی کا افسوس نہیں “
“کہاں جارہی ہو حیات ؟ ” عدنان بھائی نے بے چینی سے کہا
“حیات میری بچی چوبیس سال دور رہے ہیں تم سے اب تو زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اب ہمیں چھوڑ کر مت جانا “
ماں کی پکار پر حیات نے انھیں خود میں بھینجا
“آپ کی حیات کے کندھے پر بہت سے فرائض ہیں جن سے اس نے ابھی سبکدوش ہونا ہے ماں صبح میری سپریم کورٹ میں ایک کیس کو لے کر ہیرینگ ہے صفا کو بھی دیکھنے کچھ لوگوں نے آنا ہے “
اور پھر میری پری اور حمزہ کی بھی تو شادی ہے
حیات پری کے پاس آئی
“آئی ایم سوری پھوپھو ” پریہان شرمندہ شرمندہ سی سر بھی نہ اٹھا سکی حیات نے اس کا تھوڑی سے چہرہ اٹھا کر اسے گلے سے لگا لیا
“تم مجھے بہت عزیز ہو پریہان تم میں مجھے اپنا عکس نظر آتا ہے ،حمزہ۔۔! حیات نے حمزہ کو پکارا جو گیلی آنکھوں سے حیات کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو چوم گیا اسے کوئی تکلیف نہ دینا میرے شہزادے اسے بہت خوش رکھنا وعدہ کرو بڑوں کی غلطیوں کی سزا بچوں نہیں ملتی چاہیے حمزہ بہت تکلیف ہوتی ہے
حیات نے ٹرانس میں کہا مگر علی بھائی نے اس کے لہجے سے جھلکتے درد کو دل تک محسوس کیا
“ماں آپ چلیں نہ میرے ساتھ بھائی آپ لوگ بھی ” حیات نے سب کی جانب دیکھا
“ہم آئیں گے ضرور آئیں گے اپنی بچی کی خوشی میں آئیں گے” علی بھائی نے پاس کھڑی صفا کو خود سے لگاتے کہا
“ماموں” صفا کا دل بھیگا
“ماموں کا بیٹا اللہ پاک تمہارے نصیب بہت اچھے کرے “
“آمین” سب نے آمین کہا وشمہ بھابھی تو ابھی بھی وہی پر سکتے میں کھڑی تھیں
مجھے اجازت دیں آپ لوگ جاؤ میری بچی اللہ تمہیں ڈھیروں کامیابیوں سے نوازے
“آمین “
وہ چاروں سب سے اجازت لے کر نکلے سب ان کے پیچھے پیچھے مین گیٹ تک گئے جبکہ وشمہ لاونج میں کھڑی پیروں سے جان نکلنے پر بیٹھتی چلی گئی
“تم ایسے نہیں جا سکتی حیات تم ایسے نہیں مجھے بھی معاف کرکے جاؤ حیات ” مجھے بھی وہ چیخ رہی تھی
مگر کوئی نہیں تھا ان کو سننے والا۔۔!!
” جس کو انھوں نے سالوں پہلے گھر سے بے دخل کر دیا تھا وہ تو آج بھی سب کے دلوں میں تھی دلوں سے کیسے بے دخل کرتی؟”
________
وہ چاروں ایک ہی گاڑی میں تھے گاڑی بالاج ڈرائیو کر رہا تھا
“بالاج ہم کہاں جارہے ہیں؟ “
حیات نے موبائل پر سے نظر ہٹا کر دائیں جانب بیٹھے پر بالاج سے کہا کیونکہ وہ دائیں جانب کی بجائے بائیں جانب گاڑی موڑ چکا تھا
” ائیرپورٹ کی طرف اس وقت بائے روڈ سفر کرنا سیو نہیں “
وہ سٹیرنگ گھماتا فرنٹ مرر سے انابیہ کو دیکھ کر بولا جو شاید تھک گئی تھی تبھی صفا کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موند گئی تھی
تقریباً چالیس منٹ کے سفر کے بعد وہ لوگ ائیرپورٹ پر موجود تھے
“علی بخش یہ لو” بالاج نے وہاں پہلے ہی موجود اپنے خاص ملازم کی طرف گاڑی کی چابی اچھالی خود انابیہ اور صفا کو اپنی حصار میں لیے ائیر پورٹ کے اندر چلا گیا وہ ایمرجنسی ٹکٹ پہلے ہی اون لائن بک کرچکا تھا اب بس بورڈنگ کا انتظار تھا
انابیہ کی سیٹ بالاج کے ساتھ تھی صفا کی حیا کے ساتھ وہ لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے
“آپ ٹھیک ہیں نہ ؟” انابیہ نے بالاج کی جانب دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا
بالاج نے دائیں جانب چہرہ موڑا وہ نیند سے بھری آنکھوں کو زبردستی جگا کر اس کی جانب دیکھتی اسے فکروں سے آزاد کرنے کا ہنر رکھتی تھی
بالاج مسکرا دیا “جس کی اتنی سمجھدار محبت کرنے والی بیوی ہوگی اسے کچھ ہوسکتا ہے ؟”
وہ انابیہ کے شانے سے ہاتھ گزار کر اس کا سر اپنے شانے پر ٹکائے تھپکنے لگا
“سو جاؤ گھنٹہ لگ ہی جائے گا ہمیں “
انابیہ بھی آنکھیں موندتی کچھ ہی منٹ میں سوگئی تھی
________
رات کا پہر تھا ملازمین آپس میں کل کے انتظامات کے بارے میں کھٹ پٹ کر رہی تھیں
جب فائزہ بھی سوگوار سی کچن کے پاس سے گزرتی اپنے کمرے کی جانب جارہی تھی جب اس نے نے دو ملازماؤں کو کہتے سنا تھا
“تجھے پتا ہے کل کیا ہے ؟ ” ایک نے بڑا تجسس پیدا کرتے دوسری سے کہا
فائزہ نہ چاہتے ہوئے بھی رک گئی
اور گھر کے حالات کے بارے میں بہترین خبر ملازمین کے پاس ہی ہوتی ہیں
“کل چھوٹے صاحب کا رشتہ لے کر جارہے ہیں بڑے صاحب اور
بیگم صاحبہ سنا ہے چھوٹے صاحب لڑکی پر دیوانے ہوئے پڑے ہیں ان کے تو قدم ہی زمین پر نہیں لگ رہے “
ا”رے ہاں رات کو بڑے خوش تھے میں نے دعا دی تو جیب سے پانچ ہزار کے چار نوٹ نکال کر مجھے دیئے اور کہا فضیلہ میرے لیے دعا کرنا “
فضیلہ نام کی ملازمہ نے اپنے پلو سے باندھی گڑا اوپر کرتے خوش ہوکر کہا
ارے واہ فضیلہ بارے بھاگ کھلے ابھی چھوٹی بی بی آئی نہیں چھوٹے صاحب اتنے مہربان ہورہے ہیں وہ جب آجائیں گی تو صاحب کے کیا ہی کہنے ہوں گے
ہاں میں تو کہتی ہوں جلدی جلدی آئیں چھوٹے صاحب تو صدقے واری جائیں گے اسی بہانے ہم غریبوں کا بھی بھلا ہوگا
فائزہ ننگے پاؤں ہی شجاع کے کمرے کی جانب دوڑ گئی
وہ اس وقت سیاہ رنگ کی شلوار قمیض میں تھی سفید ریشمی ڈوپٹہ سر پر ٹکائے ہاتھوں سے تھام رکھا تھا
وہ ننگے پاؤں لون کی گھاس میں پھر رہی تھی اب سیدھا شجاع کے کمرے کی طرف بڑھی
اس نے بغیر دستک دیے ہی دروازہ کھول دیا
شجاع نیم دراز سا لیٹا ہوا تھا ایک دم سے اٹھ کر بیٹھا
” فائزہ “
وہ بڑی بدحواس سی چلتی اس کے پاس آکر ٹک گئی
شجاع جتنا حیران ہوتا کم تھا اس کو یاد نہیں پڑتا ان کی کبھی کوئی خاص گفتگو بھی ہوئی ہو کجا کہ اتنی بے تکلفی کے وہ اس پہر اس کے کمرے میں ہو
“میں بات کر سکتی ہوں ؟ “
وہ ستے ستے چہرے سے شجاع کو دیکھنے لگی
“کیا بات ہے تم ٹھیک ہو فائزہ ؟ “
“کیا بہت محبت کرتے ہیں اس سے ؟”
فائزہ آنکھوں کو شجاع کی طرف مرکوز کیے ٹرانس کی کیفیت میں بولی پھر اس نے پہلو میں اٹھتے درد کو محسوس کیا
اور پھر عاشق کو تو موقع چاہیے ہوتا ہے محبوب کو زیرِ موضوع لانے کا وہ سب بھولے آنکھوں میں جگنو سمٹ آئے
بہت اتنی کہ اگر وہ ایک دفعہ کہ دے کہ شجاع خاور انتظار کرو میرا تو میں ساری زندگی اس کا انتطار کرسکتا ہوں
وہ کہہ دے شجاع آپ صرف میرے ہیں تو میں دوسری نظر کسی کی طرف نہ کروں
وہ اگر کہہ دے شجاع اپنی محبت ثابت کرکے دکھاؤ
تو میں اس کے لیے جان بھی دے دوں
وہ اگر کہہ دے صرف میرے ہو جاؤ
تو میں اس کے لیے خود سے بھی لاتعلق ہو جاؤں
وہ آنکھوں میں چمک لیے محبت سے بولا
فائزہ کو دل ڈولتا ہوا محسوس ہوا
“اللہ آپ کو آپ کی محبت سے ملا دے میں نے آپ کو آزاد کیا شجاع خاور “
وہ شجاع کے ہاتھوں کو اپنی نازک ہتھیلیوں میں بھر کر کسی جوگن کی طرح دعا دیتی وہاں سے چلی گئی وہ ننگے پاؤں آئی تھی ننگے سر جا رہی تھی اس نے اپنے سائبان کو آزاد کردیا تھا وہ آج بھی کچھ دے کر ہی گئی تھی اتنا دل اور حوصلہ تھا اس گاؤں کی ہیر کے پاس
