212K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 57)

Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh

” بیٹا کیسے ہو ؟” کمال اعوان کی پر شفقت سی آواز پر بالاج کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ کھلی تھی

“الحمدللہ انکل! میں بالکل ٹھیک ہوں۔ “

“کب تک واپس آرہے ہو تم لوگ ادھر؟” وہ مسکراتے ہوئے بولے

“کل تک کل صبح نکل آئیں گے ماں کو ضروری ہیرنگ کے لیے جانا ہے۔” بالاج نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے کہا وہ ویسے ہی پیدل قریبی مارٹ سے آئسکریم لینے کے لیے جارہا

“مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے تم سے حیا کے بارے میں”

“ماں کے بارے میں اپنی سٹوڈنٹ کی شکایت تو نہیں لگانی؟؟”

بالاج نے ہنس کر شرارتی لہجے میں کہا

“ایسے ہی سمجھ لو “وہ بھی بالاج کے ہی انداز میں بولے تو بدلے میں بالاج کا قہقہ گونجا

” اچھا چلیں کل ان شاءاللہ آپ سے ملاقات ہوتی ہے ویسے میں بہت اچھا بچہ ہوں اپنی ماما کے خلاف باتیں نہیں سنتا “

“مجھے معلوم ہے بچے تبھی یہ بات تمہاری ماں سے براہِ راست کرنے کی بجائے پہلے تم سے کرنا چاہتا ہوں “

“میں جانتا ہوں تم تینوں ہی اپنی ماما سے بہت محبت کرتے ہو “

“اچھا چلیں بتائیں تو بات کس حوالے سے ہے اپنی ماما کو بھی تو ڈیفنیڈ کرنا ہے میں نے ، بیرسٹر کمال اعوان سے ملنے آؤں گا تھوڑا تو ہوم ورک کرکے آؤں “

بالاج نے مارٹ کے فریزر میں سامنے ہی پڑی انابیہ کی پسندیدہ آئسکریم نکلوانے کے ساتھ ساتھ صفا کی پسند کے علاؤہ دوسرے بچوں کے لیے بھی ڈھیر ساری آئسکریم لیں تھیں

“فکر مت کرو ینگ مین جب تم کل آؤں گے تو اپنے سامنے بیرسٹر کمال اعوان کو نہیں جازب کمال کے باپ کو پاؤ گے جس کی خواہش اپنی اولاد کو بستے دیکھنے کی ہے “

“جازب انکل کی کال آرہی ہے ” وہ شاید دھیان نہیں دے پایا یاں دوسری دفعہ جازب کی آتی کال پر زیادہ متوجہ ہوا تھا

“اچھا تم کال اٹنیڈ کرو ان شاءاللہ کل ملاقات ہوتی ہے “

“اوکے اللہ حافظ “

________

“بالاج ۔۔۔بالاج کہاں ہو تم ؟”

انکل کیا ہوا سب خیریت ہے بالاج جازب کی ہڑبڑائی ہوئی آواز پر فکرمند ہوا تھا

“حیا صاحبہ کہاں پر ہیں وہ فون نہیں اٹینڈ کر رہی ؟ “

ماما جازب کی بے تابی پر بالاج کو تشویش ہوئی

“ماما تو کام سے ۔۔۔ کیا ہوا ہے جازب انکل مجھے بتائیں “

بالاج کے دماغ میں کچھ غلط ہونے کی سائرن بجا

“خرم داد ۔۔۔۔ خرم داد وہ شخص حیا کی جان کو خطرہ ہے بالاج

وہ کہاں گئیں ہیں جلدی بتاؤ بالاج ابھی وقت نہیں ہے “

جازب جتنی تیزی سے ڈرائیو کر سکتا تھا کر رہا تھا

ماما نے دو جگہوں پر جانا تھا مگر دونوں ہی مخالف روٹ پر ہیں

بالاج نے جلدی سے یاد کرتے ہوئے بتایا

“تم ایسا کرو ایک طرف تم جاؤ دوسری طرف میں جاتا ہوں”

بالاج نے دماغ تیزی سے چلاتے واپس قدم گھر کی جانب بڑھا دیئے تھے تاکہ گاڑی میں حیا کو دیکھنے نکل سکے ہاتھ میں تھامی آئسکریم کے لفافے کو بھی بغیر دیکھے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پھینکا

“مگر انکل آپ تو واپس اسلام آباد چلے گئے تھے “

“ابھی وقت نہیں بالاج ہے تم کانٹیکٹ میں رہنا اگر حیا صاحبہ سے کال مل گئی تب بھی بتانا “

وہ فون کاٹ کر اپنے ساتھ والی سیٹ پر پھینکتے بالاج کے بتائی ہوئی جگہ کی طرف گاڑی موڑ گئے

وہی دوسری جانب بالاج بھی گاڑی لے کر نکلا تھا ۔۔۔۔ اوپر سے مضبوط مگر دل چھوٹے بچے ماند سہما ہوا تھا

________

“وہ نہیں آئے گی عون تمہیں کم از کم اسے بلانے سے پہلے ایک دفعہ مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا “

حدید شاہ بستر پر بیٹھے بے چینی سے بولے ڈرپ ابھی بھی ان کے ہاتھ پر لگی ہوئی تھی

“وہ آئیں گی ماموں مجھے پورا یقین ہے “

“عون وہ آ بھی گئی تو مجھ سے نہیں ملے گی نفرت کرتے ہیں میرے دونوں بچے مجھ سے ” وہ سنجیدگی سے عون کے چہرے کو دیکھنے لگے

بالاج کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھنے کے بعد ان میں ہمت نہیں تھی اپنی بیٹی کی آنکھوں میں بھی وہ ہی سب دیکھتے

“میں اکثر سوچتا ہوں ماموں، میں مما سے اتنی محبت کرتا ہوں کہ آسٹریلیا جانے کی خواہش رکھنے کے باوجود ان کے ایک دفعہ کہنے پر کہ “عون مجھ سے دور مت جاؤ ” میں وہاں نہیں گیا ، میں نے اپنا خواب بھلا دیا اپنی ماں کی محبت میں تو پھر ماں نے کیوں نانو کی بجائے نانا کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی ؟”

بابا اور میرے درمیان باپ بیٹے سے کہیں زیادہ دوستوں جیسا رشتہ ہونے کے باوجود وہ مجھے اکثر کہتے ہیں کہ تمہاری بجائے میری بیٹی ہوتی تو وہ اسے اپنی چھاؤں میں پورا آسمان گھماتے،

باپ اور بیٹی کا رشتہ بہت ہی اچھوتا سا ہوتا ہے میرے خیال سے بیٹی کے دل میں ہمیشہ اپنے باپ کے لیے نرم گوشہ رہتا ہے پھر چاہے وہ ان کے قریب رہے یاں دور “

“وہ آگئی ہیں۔۔۔”

فون پر “arrive” کا میسج پڑھ کر وہ حدید شاہ پر نظر ڈالتا کمرے سے نکل کر کوریڈور کی لفٹ کی جانب بڑھا ساتھ ساتھ فون پر صفا کا نمبر ملانے لگا

________

گھر سے ہسپتال کا راستہ دس منٹ کا تھا وہ کیب سے یہاں پر آئی تھی ہسپتال میں داخل ہوتے وہ اسی کوریڈور کی طرف جا رہی تھی جہاں اس کی آخری بار عون سے ملاقات ہوئی تھی

صفا کے لیفٹ سے نکلتے ہی اسے سامنے کھڑا عون نظر آیا اس کے ہاتھ میں فون تھا وہ شاید اسے ہی فون کرنے والا تھا

” اب بتاؤ یہاں کیا کر رہے ہو “

صفا نے چھوٹتے ہی پوچھا

“ٹھہرئیے پہلے یقین تو کر لینے دیں کہ آپ میرے بلانے پر آئی ہیں بالکل میرے سامنے کھڑی ہیں “

“پہلے بتاؤ تم ادھر کیا کر رہے ہو ” وہ باضد ہوئی تھی

“میرے مریض کو ابھی ڈاکٹر نے چھٹی نہیں دی ایک بیماری کے علاج کے لیے آئے تھے ان کی مگر وہ تو دل کے کہیں عارضے لاحق کروائے بیٹھے ہیں جن کی تشخیص بہت جان لیوا تھی “

لہجے کی ٹوٹ پھوٹ نے صفا پر واضح کیا تھا عون کا مریض کتنا اہم تھا اس کے لیے

“اللہ پاک ان کو شفا دے۔” صفا نے بھی افسردگی سے کہا

ویسے کیا لگتے ہیں وہ تمہارے

صفا نے اس کی آنکھوں میں تیرتی نمی سے یکسر نظریں چرا کر پوچھا تھا

“ماموں ۔۔۔ماموں لگتے ہیں میرے مجھے اپنے ماں بابا سے زیادہ عزیز ہیں ان کے لیے مجھے اپنی جان بھی دینی پڑے تو میں ایک لمحہ نہیں سوچوں گا سب کر گزر جاؤں گا

ان میں میری جان بستی ہے وہ میرے لیے میرے دوسرے بابا ہی ہیں “

وہ جزباتی لہجے میں بولا

“لکی ہو تم عون اللہ نے تمہیں تمہارے بابا اور باپ جیسے ماموں دونوں کی ہی محبت اور شفقت دی ہے۔۔

کچھ لوگوں کے پاس ان کے سگے رشتے تو سرے سے ہی نہیں ہوتے ان جیسے رشتے بھی بہت چھوٹی عمر میں دور ہوجاتے ہیں “

“آئی ایم سوری صفا” وہ فوراً افسردہ ہوکر بولا

صفا نے جلدی سے اپنی آنکھوں میں جمع ہوتی نمی اپنے اندر اتاری یہ جذباتی گفتگو ابھی آنے سے پہلے علی ماموں اور سمعیہ کی محبت دیکھنے کا نتیجہ تھی اسے آج شدت سے باپ کی کمی کا احساس ہوا تھا کیسا تھا وہ شخص جو پیسوں کی خواہش میں اپنے دونوں بچوں سے دور پردیس میں بیٹھا ہوا تھا کیا اسے ہماری یاد نہیں آتی تھی جو ایک دفعہ بھی ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی

“نہیں کوئی بات نہیں اللہ پاک میری اریبہ مما اور جہانگیر بابا کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائیں وہ دونوں میری زندگی کا خوشگوار باب ہیں جہانگیر بابا نے مجھے کبھی اپنے سگے باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی”

“تم جانتے ہو عون ان دونوں نے مجھے اپنی سگی بیٹی سے زیادہ پیار دیا مجھے اس شخص کے حصے کا بھی پیار اور مان دیا جسے میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی روبرو نہیں دیکھا “

عون کا دل شدت سے دھڑکا اسے اس لمحے اپنا فیصلہ غلط لگا

“آپ ۔۔۔ مطلب آپ کے بابا کہاں ہیں آپ نے کبھی ان سے بات نہیں کی ؟ “

عون نے جھجھکتے ہوئے پوچھا یہ جاننے کے لیے صفا کیا سوچ رکھتی ہے حدید شاہ کے لیے

“کہاں ہیں ،وہ نہیں جانتی، کبھی ملی ہی نہیں جب میں چھوٹی تھی ضد کرتی تھی تب مما بتایا کرتی تھیں وہ میرے اور بالاج بھائی کے مستقبل کے لیے دوسرے ملک میں ہوتے ہیں پھر آہستہ آہستہ میں بڑی ہوئی تو ماما سے پوچھنا چھوڑ دیا جب انہیں ہماری فکر نہیں تو ہمیں بھی اب ان کی ضرورت نہیں ہے “

صفا نے اپنے چہرے کو رگڑ کر کہا

“ہوسکتا ہے وہ آپ لوگوں کے لیے ہی گئے ہوں “

عون پہلے کچھ تشویش زدہ ہوا صفا کی باتوں سے تو اندازہ ہوا تھا کہ وہ بہت سی باتوں سے لاعلم تھی تبھی دماغ چلاتے وہ بولا

“ہنہہ۔۔۔۔!! نہیں عون بچے کو کبھی بھی مادی چیزیں اپنے ماں باپ سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی اور ہم نے تو کبھی ان سے کچھ نہیں مانگا خیر مانگتے بھی کیسے وہ آتے تو سہی ملنے وہ تو شاید مصروف ہوں گے اب تک تو انہوں نے ایک نئی زندگی شروع کر لی ہوگی ماما نے کبھی زکر نہیں کیا مگر مجھے یہ ہی لگتا ہے “

چئیر پر بیٹھے باتیں کرتے صفا کو آدھے گھنٹے کے گزر جانے کا احساس نہیں ہوا تھا

“خیر ۔۔۔!!” اس نے سرد سی سانس کھینچی

“تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا تھا عون “

امتحان کی گھڑی شروع ہوگئی تھی

“آپ کسی کو پسند کرتی ہیں صفا ؟

صفا کی حیران نظروں پر وہ سراسر نظریں چرا گیا

“ایسے حیران ہوکر مت دیکھیں صفا میں اتنا فراخ دل نہیں ہوں جو اپنی محبت سے بار بار ایسا اذیت ناک سوال کروں اگر آپ کسی کو پسند کرتی ہیں تو آپ مجھے بتا سکتی ہیں میں آپ کا دوست بھی تو تھا اگر ایسا کچھ ہے تو بتادیں میں پھر کبھی آپ کو تنگ نہیں کروں گا “

“تم نے یہ پوچھنے کے لیے بلایا ہے عون ابراہیم ؟”

صفا نے سنجیدگی سے کہا وہ مزید پانچ منٹ تک وہاں سے نکلنے والی تھی

عون کی نظریں ہنوز اس کے پیرؤں کی جانب تھی

“میں نے چاہتا کبھی آپ کے دل میں یہ بات آئے کہ عون ابراہیم نے اپنی شدت پسندی میں آپ کی خواہش کو ترجیح نہیں دی “

محبوب کی خواہش ہمیشہ سر فہرست رہتی ہے

“کوئی ہے ؟ “

“نہیں “وہ صاف انکار کر گئی

عون نے بے ساختہ ہلکا ہوکر روکی ہوئی سانس ہوا میں منتقل کی

چہرے پر پرسکون تاثرات آگئے تھے

مگر اسلام آباد پہنچ کر ماما میری منگنی کردیں بھائی کے دوست کا رشتہ آیا ہے

صفا نے مزید کہا تو عون نے اپنی پیشانی مسلی

“کیا آپ ملیں گی میرے ماموں سے ؟ “

“می۔۔میں ان سے ۔۔۔مطلب” صفا کو سمجھ نہ آئی وہ یہاں عون سے آڑ پار کی بات کرنے آئی تھی اور عون نے بھی تو اسی لیے بلایا تھا اسے پھر ۔۔۔۔

“ہاں مل لیجیے صفا پھر میں آپ کے اسلام آباد پہنچتے ہی اپنے گھر والوں کو بھیجوں گا آپ کی ماما اور بھائی یقیناً کوئی بھی فیصلہ آپ کی اجازت کے بغیر نہیں کریں گے “

عون نے جزبات سے بھاری ہوتے لہجے میں کہا جو وہ کرنے جارہا تھا اس میں رسک تھا آج شاید وہ اپنے ماموں کی تکلیفوں میں کمی لے آتا یاں ساری زندگی کے لیے صفا کو کھو دیتا

چلیں عون نے حدید شاہ کے کمرے کا دروازہ صفا کے لیے کھولا تھا

________

بالاج کی بتائی ہوئی جگہ پر حیا نہیں ملی تھی

“ہیلو بالاج حیا صاحبہ کا کچھ معلوم ہوا یاں انھوں نے فون اٹینڈ کیا ؟ “

“نہیں انکل وہ ادھر بھی نہیں آئیں”

وہ بے سہارا خواتین کے ادارے کے باہر کھڑا تھا

“اس کے علاوہ کچھ بتایا تھا حیا صاحبہ نے کسی جگہ کا؟” وہ مضطرب سے ہوکر بولے گاڑی کی سپیڈ سلو کردی تھی

“نہیں انکل” دوسری جانب بالاج بھی پریشان سا ہوکر بولا

________

“پک اپ مائی کال حیا” جازب بے بسی کے مارے چیخا تھا سرخ ہوتی آنکھوں میں نمی سی تیری

رِنگ مسلسل جارہی تھی مگر دوسری جانب سے کال اٹینڈ نہیں ہو رہی تھی

مین روڈ سے تھوڑے فاصلے پر آکر جازب نے گاڑی روک کر عجلت سے دروازہ کھولتے ہوئے باہر نکل کر گہری سانس لی سانس جیسے گھٹ رہی تھی

خرم داد کے آخری میسج نے اسے جس قدر زہنی ازیت سے دو چار کیا تھا اس وقت حیا کی لاپرواہی اتنا ہی اسے وحشت زدہ کر رہی تھی

“شٹ!” مارے ضبط کے اس نے اپنا پاؤں زور سے اپنی گاڑی کے ٹائر پر مارا اور بالوں میں انگلیاں گھسا کر انہیں سختی سے تھاما اس وقت وہ خود کو دنیا کے بے بس انسان محسوس کر رہے تھے

“کہاں ہوں گی حیا کہاں ہیں آپ حیا ” آسمان پر نظر ڈالتے ہوئے کہا آواز میں خراش کی آمیزش تھی

یک دم زہن میں جھماکا سا ہوا وہ اتنی ہی تیزی سے گاڑی میں بیٹھے رفتار حد سے زیادہ تھی گاڑی کے شیشے نیچے تھے ان کا دھیان سامنے روڈ کی بجائے اپنی دائیں بائیں زیادہ تھا

“ہیلو بالاج میں آرفن ہاؤز جارہا ہوں اسی راستے پر ہے “

وہ وائس نوٹ بالاج کے لیے چھوڑ کر گاڑی کی رفتار بڑھا گئے

تبھی سامنے ہی مین روڈ کی دائیں جانب کھڑی شناسا سی سیاہ گاڑی پر نظر پڑتے

جازب کمال ایک ہی جھٹکے سے گاڑی سے اتر کر بغیر دروازہ بند کیے اس گاڑی کی جانب بڑھے دل میں جیسے سکون سا اترنے لگا مگر وہ سکون کا دورانیہ چند سیکنڈ کا ہی تھا

________

“سر مل گیا شکار سڑک بھی سنسان ہے ۔۔!!”

“اڑا دو۔۔” رعونت بھری آواز سپیکر سے گونجی ڈرائیور نے مسکرا کر ٹرالے کی سپیڈ حد درجہ بڑھا دی

جازب چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اسی جانب جارہا تھا جب

پیلے رنگ کا بڑا سا ٹرالا حیا کی گاڑی میں لگتا اس کے پرخچے اڑا گیا

سامنے گاڑی سے اٹھتے دھوئیں کے ساتھ جازب کو لگا اس کا وجود بھی اسی سرمئی رنگ کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہورہا ہے

“جازب جی انہیں بچالیں” ایک نسوانی چیخ پوری شدت سے ہتھوڑے کی مانند دماغ میں لگی

اس لمحے جازب کے وجود میں حرکت ہوئی وہ چیختا ہوا اس گاڑی کی جانب بڑھا آگ اگلتے انجن کو نظر انداز کیے اس نے پوری شدت کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ والے شیشے پر مکے برسانے شروع کیے “حیا ۔۔۔۔ ح۔یا” ہر ضرب کے ساتھ جازب کمال کا ہاتھ پہلے سے زیادہ زخمی اور خو۔ن آلود اور آواز ضبط سے بھاری ہورہی تھی

“مگر جازب کے دماغ میں بس ایک ہی بات سوار تھی اگر حیا کو کچھ ہوا تو وہ بھی زندہ نہیں رہ پائے گا “

آخری ضرب لگانے پر شیشہ چھناکے سے ٹوٹا سنسان جگا پر شیشے کی آواز کے ساتھ جازب کمال کی تڑپتی آواز گونجی تھی

________

بالاج جازب کے وائس ناٹ سنتے ہی اس راستے پر گاڑی ڈال چکا تھا جب تھوڑے سے فاصلے پر اسے دھماکے کی آواز آئی

انھیرے میں سامنے سے نظر آتے آگ کے شعلوں کے بعد سرمئی دھویں پر بالاج کا دل تھما تھا ماں کا مسکراتا چہرہ نظروں کے سامنے گھوما تھا اس نے گاڑی کی سپیڈ خطرناک حد تک تیز کردی تھی

________

چھناکے کی آواز پر گاڑی کے سیاہ شیشوں کے ٹوٹتے ہی خالی گاڑی پر نظر پڑتے ہی جازب کے پورے وجود میں یک دم لرزہ سا طاری ہوگیا

جب نظر کچھ فاصلے پر کھڑی حیا پر گئی وہ گنگ ہوئی خالی نظروں سے جازب کو دیکھ رہی تھی

جازب اس کی جانب بھاگے

________

وارڈ کا دروازہ کھلتے ہی صفا کی نظر سامنے ہسپتال کے مخصوص گاؤن میں بیٹھے شخص پر پڑی اس کے قدم ساکت ہوئے تھے

“بابا ” آواز اتنی آہستہ تھی کہ وہ خود بھی بامشکل ہی سن پائی

________

جازب لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہ حیا کے سامنے آ کھڑے ہوئے

چہرے پر بے یقینی تھی وہ اپنے سامنے حیا کی موجودگی پر آنکھوں کو یقین دلا رہے تھے

حیا نے ہاتھ بڑھا کر جازب کے خون آلود ہاتھوں کو تھام کر دیکھا تھا

اور پھر اس نے اپنے پورے قد سے کھڑے باوقار بارعب اس پینتالیس سالہ مرد کو اپنے سامنے گھنٹوں میں گڑے تڑپ کر روتے دیکھا تھا

وہی کچھ فاصلے پر کھڑے بالاج کے کانوں میں کمال اعوان کی آواز اب واضح مطلب کے ساتھ گونجی تھی

اس نے بے یقینی سے اپنی ماں کے لیے روتے اس شخص کو دیکھا

وہ تینوں ماں بچے ایک عجیب دہرائے میں آکھڑے ہوئے تھے