Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 51)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 51)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“ہیلو حدیقہ !”
“ابراہیم ۔۔ابراہیم کیسے ہیں اب بھائی وہ ٹھیک ہیں نا؟
حدیقہ نے جلدی سے فون کان سے لگاتے بے چینی سے پوچھا تھا
“وہ ٹھیک ہے حدیقہ ۔۔۔۔ وہ ٹھیک ہے” ابراہیم نے گہری سانس بھر کر مسکراتے ہوئے کہا اس کی آنکھیں نم تھیں کہاں معلوم تھا وہ شخص اس کے لیے بھی اِتنا اہم جس کی غیر حالت خود ابراہیم کی آنکھیں بھی نم کر گئیں ۔۔۔
“اللہ تیرا شکر ہے” حدیقہ روتے ہوئے مسکرا دی
“ابراہیم بھائی کو لے کر گھر آئیے گا مجھے انہیں دیکھنا ہے” حدیقہ کی آواز بیٹھی ہوئی تھی وہ یقیناً پوری رات روتی رہی ہے
“رونا بند کرو حدیقہ میں نے کہا نہ وہ ٹھیک ہے” ابراہیم نے اس کی بھرائی آواز محسوس کرکے فکر مندی سے کہا ہاں ان گزرتے سالوں کے ساتھ ان کا دل حدیقہ کے لیے حساس ہی ہوا ہے حدیقہ کے آنسو کسی تیزاب کی مانند ان کے دل پر گرتے تھے ۔۔۔
“میں نہیں رو رہی ابراہیم” وہ آنسو پونچھ کر نفی میں سر ہلا گئی مگر پھر سے گال تر ہوگئے
“اب تم مزید روئی نہ حدیقہ ابراہیم شاہ تو ابراہیم کی ناراضگی جھیلنا مشکل ہو جائے گا تمہارے لیے “
ابراہیم نے سختی سے سرزنش کی اور کال کاٹ دی
حدیقہ منہ پر ہاتھ رکھ کر سسکی دبا گئی وہ جانتی تھی ابراہیم کی نظروں میں اپنے آنسوؤں کی قیمت اس کی تکلیف میں ابراہیم کا تڑپ جانا پھر گہرا سانس بھر کر نم سانس ہوا میں منتقل کی چہرہ رگڑا اور ہونٹوں پر فرضی مسکراہٹ لائی اسے فیصل جاوید شاہ کے کمرے میں جانا تھا ان سے کھانے کا پوچھنے۔۔۔۔
________
“یا اللہ ! میں تیرا گناہگار بندہ ہوں یا اللہ تو بڑا رحیم ہے کریم ہے رحم کرنے والا رحمان ہے یا اللہ تو میرے حالِ دل سے واقف ، میری شہ رگ سے قریب تر اللہ مجھ پر رحم کر اللہ میرے ماموں کو زندگی دینے والے میرے مالک میرے لیے آسانیاں پیدا کر اللہ اس کی محبت میرے نہاں دل میں ڈالنے والے رب اسے میری محرم بنا دے۔۔۔۔”
وہ ہسپتال کے پرئیر روم میں سجدے میں روتے ہوئے اس لڑکی کو اپنی محرم بنانے کی دعا مانگ رہا تھا جو کچھ دیر پہلے نہایت سفاکی سے اسے اپنی منگنی کا بتانے آئی تھی
وہ مرد تھا اپنی ماں کا لاڈلا اپنے باپ کا دل اپنے ماموں کا جگر
وہ اپنا دل مانگ رہا تھا
روتے ہوئے ۔۔۔ سسکتے ہوئے
“لگتا ہے کوئی بہت اپنا اس کا ہسپتال میں داخل ہے “
ایک بوڑھی آواز اسے اپنے قریب سنائی دی
“اللہ نے چاہا اور اس کی زندگی ہوئی تو وہ شخص بچ جائے گا بچے” وہ بوڑھا عون ابراہیم کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اٹھتا وہاں سے چلا گیا
عون کتنے ہی لمحے اپنے سفید ہاتھوں میں واضح ہوتی لکیروں کو دیکھتا رہا
_______
شجاع بالاج کے لاہور پہنچنے والے میسج کو پڑھ اپنے کمرے کے ٹیرس میں آگیا دل بہت بے چین سا ہورہا تھا گو کہ روز روز صفا سے ملاقات اس کی بھی کہاں ہوتی تھی مگر وہ ایک شہر میں تھے وہ جب مرضی ان کے گھر جا سکتا تھا صفا کو دیکھ سکتا تھا مگر اس نے خود ہی اپنی حدود کو پھلانگنے کی کوشش نہیں تھی
اب جب وہ ایک شہر دور تھی تو یوں لگ رہا تھا جانے کتنے میلوں دور ہوگئی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ رات و رات ہی اس کا صفا سے نکاح ہو جائے وہ اسے اپنے دل کا حال بتائے کہ جب وہ پہلی بار بالاج کے ساتھ ان کے گھر آیا تھا وہ معصوم سی لڑکی اپنے ہاتھوں میں کتابیں اٹھائے اسے بالاج سمجھ کر پکارنے والی اسی روز اس کے دل میں اتر گئی تھی وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ دل کے اتنے ہمکنے کے باوجود اس نے اپنے دوست کی عزت کو غلط نگاہ سے نہیں دیکھا تھا کبھی بے مقصد اس کے گھر آکر اعتبار کا فائدہ نہیں اٹھایا تھا
مگر ابھی تو بس بات چلی تھی ہاں ہونی تھی منگنی پھر کہیں جا کر نکاح وہ اتنے تکلفات میں نہیں ڈلنا چاہتا تھا مگر آہ۔۔۔ یہ دنیا داری اور اس کے اصول
“کب آپ میرے نام لکھ دی جائیں گی صفا ۔۔۔۔”
اس کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آئی تھی اس کی محبت آسانی سے ملنے والی تھی
مگر وہ اپنی ماں کو بھول رہا تھا وہ کل کے ہوئے واقعے کو بھول چکا تھا ۔۔۔۔
محبوب کی یاد میں ڈوبے وہ بہت کچھ فراموش کر چکا تھا
اس نے صفا کے نمبر پر میسج چھوڑا
“آپ کی واپسی کا شدت سے انتظار ہے صفا خان۔۔! “
چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس کی نظر اپنے گھر کے لان پر پڑی پھولوں کے درمیان اپنے گھٹنے اپنے سینے سے لگائے وہ یقیناً فائزہ ہی تھی ۔۔۔
“فائزہ !”
______
وہ سب لوگ اس وقت لاونج میں موجود تھے سوائے صفا کے جو اچانک سر میں اٹھتے درد کی وجہ سے کمرے میں موجود تھی
کوثر کی نظر انابیہ پر تھی کون تھی وہ لڑکی جبکہ وشمہ کی آنکھیں بھی انابیہ کے غیر آشنا نقوش دیکھنے کے بعد صفا کو تلاش کر رہی تھی یہ دونوں لڑکیاں کون تھیں؟
اماں سوگئی ہیں بچوں آپ لوگ دادو کے روم میں جاؤ ان کا خیال رکھنا اور شور بالکل نہیں
علی صاحب نے سمعیہ، انس اور زید کو اشارہ کیا اور خود وہاں آکر بیٹھ گئے
لاونج میں مکمل خاموشی کا راج تھا
سب ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے
“کہاں سے شروع کریں کون پہلے شروع کرے ؟”
مگر حیا نے اپنی بھابھیوں کی انابیہ پر گڑی نظر کا مفہوم سمجھتے ہوئے خود ہی بات شروع کی
“وہ پہلے سے ہی شادی شدہ تھے ان کی کزن ہی ان کی پہلی بیوی تھی” حیا نے نام نہیں لیے وہ لینا ضروری بھی نہیں سمجھتی تھی لہجے میں کرب تھا وجود میں اٹھتی ٹیسوں کو یکسر فراموش کیے وہ پھر بولی
“ان کا مقصد دوسری شادی کرنے کا صرف اولاد کا حصول تھا اسی لیے انہوں نے چھوٹے بیک گراؤنڈ میں شادی کرنے کو ترجیح دی تا کہ وہ میری اولاد آرام سے چھین لیں” وہ علی بھائی کے ایکسیڈنٹ کے بدلے والی بات گول کر گئی جب اس کے بڑے بھائی نے بغیر کسی سوال کے اسے سینے لگا لیا تھا تو وہ کیسے حقیقت بتا کر انہیں تکلیف کی گہرائیوں میں جھونک سکتی تھی
“چھے نومبر کو ۔۔۔!” حیا نے جیسے ہی ڈیٹ کا زکر کیا وشمہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئی تھیں انھوں نے سختی سے اپنی ہتھیلی کے نیچے موجود صوفے کو دبوچا
ابھی بس اس راز سے پردہ اٹھتا جس کو وہ سالوں سے دل میں چھپائے راتوں کو ڈر کر جاگ جاتی تھی
حیا نے عدنان بھائی کو دیکھا جو پوری توجہ سے اسے سن رہے تھے پھر کچھ فاصلے میں بیٹھی پریہان کو
اپنی سبز آنکھوں کو بھیگنے سے روکا
“چھ نمبر کو میں یہاں ہی آرہی تھی مگر طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے میں سیدھا کلینک گئی وہاں مجھے خبر ملی میں پھر سے امید سے ہوں اس خبر پر میں یہاں آنے کا ارادہ ترک کرتی سیدھا گھر گئی وہاں مجھے۔۔۔۔۔اس شخص کی اصلیت معلوم ہوئی اور ۔۔۔۔” حیا نے ضبط سے اپنے جبڑے بھینجے بالاج نے اگر بڑھ کر ماں کو اپنے حصار میں لے لیا
پھر حیا بولتی گئی اور باقی گھر والے سنتے گئے ۔۔۔۔۔
_______
صفا کو سمعیہ کمرے میں چھوڑ کر گئی تھی
عون سے ہوئی ملاقات ، حیا کا ایک دم اپنی فیملی سے ملنا شجاع کا میسج در پے ہوئے حملوں کے سبب اس کا سر درد سے جھنجھنا اٹھا تھا وہ واشروم سے منہ پر چھٹے مار کر آئی
یہ کمرہ یقیناً کسی لڑکی کا تھا دیواروں پر مختلف ہینڈ میڈ ڈیکوریشن پیس سجائے ہوئے تھے ڈریسنگ ٹیبل پر بھی زنانہ پرفیومز اور میک اپ کا سامان موجود تھا غرض یہ کہ کمرے پر پہلی نظر پڑتے کوئی بھی کہہ سکتا ہے یہ کسی لڑکی کا کمرہ ہے
صفا نے گہری سانس ہوا میں خارج کی اور سب سمجھنے کی کوشش کرنے لگی حیا کی فیملی یعنی اس کا ننھیال ۔۔ ایک معمہ ہی تھا یہ سب اس کے لیے
اگر اس ننھیال تھا تو اتنے عرصے یہ لوگ کیوں نہیں ملنے آئے ہم سے اور ماموں وہ ماما پر کیوں چلا رہے تھے، کیوں کہہ رہے تھے کہ ماما وہاں سے بھاگ کر کیوں آئی؟
” کون تھی وہ؟” کون ہے اس کا باپ ؟”کیوں نہیں رہتا وہ ان کے ساتھ اور کہاں سے آئی تھی ماما کیوں وہ اتنے عرصے اپنے خونی رشتوں سے دور رہی اور اگر یہ حیا کے خونی رشتے ہیں تو اریبہ اور جہانگیر کون تھے ؟ “
اتنے سوال سوالوں کا انبار تھا اب وہ حیا کی کسی بھی قسم میں نہیں آنے والی تھی اسے ہر سوال کا جواب چاہیے تھا
وہ کمرے سے باہر نکل گئی
________
صفا باہر آکر ماں کے پاس بیٹھ گئی اپنی غائب دماغی میں اس نے بس اریبہ اور جہانگیر والا حصہ ہی سنا تھا جسے سن کر وہ سکتے میں آگئی
اس کی اریبہ مما نے غیر ہوکر اس کی ماں کا اس کا بالاج بھیا کا اتنا دھیان رکھا ایک دفعہ پھر اریبہ مما کی یاد آئی
“تم یہاں بھی آسکتی تھی حیات “عدنان بھائی نے سب کچھ سننے کے بعد بہن کو سینے سے لگا کر شکوہ کیا
یہاں آجاتی بھائی تو وہ آپ لوگوں سے بھی چھین لیتے میرے بچے مجھے اس وقت کو سمجھ آئی میں نے کیا
بالاج کی اپنے بازو پر مضبوط گرفت پر وہ سر جھکا گئی وہ نہیں بتا سکی اسے اپنی بھابھی سے زیادہ اپنا بھائی عزیز تھا اسے پریہان میں اپنا آپ نظر آرہا تھا اس عورت کی بے رحمی کی سزا اس کی اپنی اولاد کو نگل جاتی اور حیا تو بچوں والی تھی نہ ۔۔۔!!
وشمہ نے گہری سانس بھری اور روتی ہوئی صفا کے قریب آئی ماشاءاللہ بہت پیاری ہے حیات ہماری بچی
وشمہ بھابھی کے صفا کو خود سے لگانے پر بالاج اور حیا دونوں نے ناگوار نظروں سے انہیں دیکھا تھا
صفا نے اپنے آنسوں صاف کیے اب اس کے ارادے اور مضبوط ہوگئے تھے خود سے جڑے ماضی کو جاننے کی
تبھی اس نے بھی ماں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
________
اسے دوسری بار ہوش آیا تھا پہلے جب ہوش آیا تو سب دھندلا سا تھا بس ہلکی ہلکی سی درد اٹھ رہی تھی کہاں سے اٹھ رہی تھی اسے معلوم نہیں ہوا وہ دوبارہ غنودگی میں چلا گیا مگر اس بار جب آنکھ کھلی تو پہلے سے بھی زیادہ درد اٹھی تھی وہ بھی دل میں
حیات وہ بے چینی سے پکارنے لگے ان کا جسم سفید گاؤن سے ڈھکا ہوا تھا
حدید نے اپنا ہاتھ ہلانا چاہا مگر وجود منجمند سا ہوا پڑا تھا تبھی دروازہ کھلنے کے بعد ان کی آنکھوں کو عزیز چہرہ نظر آیا
عون حدید کو ہوش میں دیکھ کر بے تابی سے آگے بڑھ کر ماموں کا ہاتھ تھام گیا
“کیسے ہیں آپ ماموں ؟ کہیں درد تو نہیں ہورہا ؟”وہ حدید کی مٹھی ہونٹوں پر رکھے روہانسا ہوا
حدید شاہ کو بے ساختہ عون کو پہلی دفعہ گود میں اٹھانے والا منظر یاد آیا
اسی طرح انھوں نے بھی عون کی ننھی سرخ سفید مٹھی اپنے لبوں سے لگائی تھی
“چھوٹے۔۔۔۔ شاہ لڑکیوں ۔۔۔۔۔ کی طرح رو رہے ۔۔۔ہو “
اپنا ماسک چہرے سے ہٹا کر عون کو قریب کرکے ٹھہر ٹھہر کر حدید نے کہا تو عون روتے ہوئے مسکرا دیا
“ماموں آپ نے ڈرا دیا تھا مجھے “
“شاہ ڈرتے نہیں ہوتے چھوٹے شاہ اپنی گھرتی اس لیے نہیں دی تھی کہ تم باپ جیسے ڈر پوک بنو “
وہ اندر داخل ہوتے ابراہیم کی طرف آنکھ کا اشارہ کرکے عون سے بولے
عون کا بس نہ چلا اپنے ماموں کے سینے لگ جائے جیسے وہ بچپن میں لگتا تھا
ابراہیم نے چہرے پر مصنوعی تیور سجا کر حدید کو گھورا تھا
“کتنے آرام سے پڑے ہوئے ہو سالے صاحب وہاں میری بیوی بابا کے پاس بیٹھی تمہاری فکر میں اپنے کتنے کلو آنسو بہا چکی ہے “
ابراہیم شاہ نے نرمی سے حدید کا ہاتھ پکڑ کر کہا
“بابا ؟!”
بابا کے زکر پر حدید کا دل خوش فہم ہوا تھا وہ ملنے آئے تھے کیا اس سے ؟
“بابا کو بتایا نہیں ان کی طبیعت نہ بگڑ جائے اس غرض سے “
حدید کے سوالیہ انداز پر سمجھتے ہوئے ابراہیم نے جلدی سے کہا
جس پر حدید تمسخر بھری مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں موند گیا
ابراہیم نے اس مسکراہٹ سے صاف نظریں چرائی تھیں
_______
“بیگم صاحبہ دوائی کھا لیں “
ملازمہ پانچ منٹ سے آبدہ شاہ کو بلا رہی تھی جو خاموش سی لیٹی ہوئی تھی
“بیگم صاحبہ ،صاحب پھر ڈانٹیں گے ہمیں “
اب ملازمہ بھی اکتا گئی در حقیقت صاحب کی غیر موجودگی میں وہ شیر ہوئی ہوئی تھی
“بیگم صاحبہ!” ملازمہ نے آگے ہوکر آبدہ شاہ کو ہلایا ان کا پسینے سے تر وجود ساکن تھا
ملازمہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے
“رؤف ۔۔۔ قاسم بتول باجی!” وہ دوسرے ملازمین کو آوازیں دینے لگی
