Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 50)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 50)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“علی بھائی ” حیا کی بے ساختہ منہ سے نکلنے والی سرگوشی خاموش کمرے میں پھیلی تھی
علی صاحب بے یقینی سے اپنے سامنے کھڑی اپنی بہن کو دیکھ رہے تھے
“حیات “
حیا کے صبر کی انتہا ہوئی تھی سامنے اس کا بڑا بھائی موجود تھا جو اسے بیٹیوں کی طرح پیار کرتا تھا
حیا علی بھائی کے سینے سے لگ گئی اتنے سال جو آنسو اس نے دل میں دبائے رکھے تھے وہ سارے آج اس نے آزاد چھوڑ دیئے تھے ۔۔۔۔
سمعیہ حیرانگی سے اپنے بابا کے گلے لگی اُس روتی عورت کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
تبھی عدنان بھائی دروازہ کھولتے اندر آئے ان کے قدم حیات کو دیکھ کر منجمند ہوئے
“حیات !” ان کی آواز اتنی آہستہ تھی کہ ان کے کانوں نے بھی بامشکل سنا تھا
علی بھائی کو روتا دیکھ کر عدنان صاحب نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں بڑے بڑے قدم لیتے انہوں نے ایک جھٹکے میں حیات کو علی بھائی سے الگ کرکے دروازے کی جانب جھٹکا تھا
“ماموں !”
کمرے میں داخل ہوتے بالاج نے ماں کے لڑکھڑاتے وجود کو سنبھال کر اونچی آواز میں کہا
عدنان صاحب نے چونک کر بالاج کی طرف دیکھا
صفا جو بالاج اور انابیہ کے پیچھے ہی ادھر آئی تھی وہ بھی اندر کا ماحول دیکھ کر ششدر ہوئی تھی
“ماما آپ ٹھیک ہیں؟“ انابیہ نے حیا کو شانوں سے تھام کر خوفزدہ ہوکر کہا
اگر ابھی بالاج اور وہ کمرے میں نہ آتے تو شاید حیا گِڑ جاتی
“م۔۔میں ٹھیک ہوں میری جان حیا نے اپنے بازو میں اٹھتی درد کو برداشت کرتے انابیہ اور بالاج سے کہا
عدنان بھائی کا جارحانہ انداز حیا کو توڑ گیا تھا
“کیوں آئی ہو تم یہاں پر کیا لینے آئی ہو بابا کو تو مار دیا کیا اب ماں کو مارنا چاہتی ۔۔۔!“
” بھائی ” حیا نے تڑپ کر بھائی کو ٹوکا تھا
“عدنان!” علی بھائی نے بھی بھائی کو سختی سے تنبیہہ کیا
”کیوں بھائی کیوں ٹوک رہے ہیں کہ لینے دیں کیوں یہ بھاگی تھی گھر سے کیوں اسے احساس نہ ہوا آپ کا ،میرا، بابا کا کیوں ؟ کیوں ہماری عزتیں رول گئی “
عدنان بھائی چیخے تھے
بالاج ماموں کی بات پر لب بھینج گیا جبکہ انابیہ نظریں چرا گئی کیونکہ وہ دونوں ماضی سے واقف تھے جبکہ صفا حیران پریشان سی نا سمجھی سے کبھی اپنی ماں کو تو کبھی کمرے میں موجود غیر شناسا لوگوں کو
تبھی حاجرہ بیگم کی ہارٹ بیٹ دیکھتی مشین سے آوازیں آنے لگی
”بالاج ڈاکٹر کو بلاؤ !“ حیا نے خوفزدہ لہجے میں کہا
دل شدت سے دھڑکا جبکہ عدنان صاحب خود بھی دل میں اٹھتے خوف کو سلاتے باہر کی جانب بھاگے
ڈاکٹر نے جلدی سے حاجرہ بیگم کو سکون آور انجیکشن دیا تھا
“میں نے آپ لوگوں سے کہا تھا انہیں کسی قسم کا کوئی سٹریس نہیں ہونا چاہیے” ڈاکٹر علی اور عدنان صاحب کی طرف سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے
“ڈاکٹر وہ ٹھیک تو ہیں نہ ؟”حیا نے بے چینی سنگ فکر مند لہجے میں کہا
“جی مس خان وہ اب بالکل ٹھیک ہیں ویسے مجھے علم نہیں تھا یہ آپ کے رشتے دار ہیں!”ڈاکٹر خالد حیا کے پاس آتے احتراماً بولے “جی یہ میری والدہ ہیں اور یہ دونوں میرے بڑے بھائی ” حیا نے حاجرہ بیگم کی جانب چہرہ کیے کھڑے اپنے بھائیوں کی جانب اشارہ کرکے کہا
ڈاکٹر خالد اثبات میں سر ہلا کر چلے گئے
“اتی آپ نے مل لیا ؟’ تبھی حمزہ کی خوشگوار آواز پر بیک وقت علی اور عدنان صاحب نے اس کی جانب چہرہ موڑا
کمرے میں محسوس ہوتی خاموشی اور تناؤ کے باعث حمزہ ایک دم بات سمجھتے ہوئے چُپ ہوگیا
“کمرے میں رش ختم کریں ” نرس ڈرپ بیگ تھامے کمرے میں آتے ہوئے بولی حیا آگے بڑھ کر حاجرہ بیگم کے ماتھے پر بوسہ دے کر کمرے سے نکل گئی
“بھائی یہ سب ؟” صفا بالاج کے قریب آتے پریشانی سے بولی
“کچھ نہیں میری جان تمہیں سب بتاؤں گا ابھی ماما کو ان کے بھائیوں کے پاس کچھ وقت دو” وہ انابیہ اور صفا کو لے کر کچھ فاصلے پر چلا گیا
“علی بھائی میں نے آپ لوگوں کی عزت کے ساتھ کچھ۔۔۔۔ بھائی میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی” حیا کی آواز رند گئی
“میں جانتا ہوں حیات” علی بھائی نے اس کے بولنے سے پہلے ہی اس کے سر پر ہاتھ رکھتے اسے خود سے لگا لیا
عدنان صاحب ان سے کافی فاصلے میں سر جھکائے بیٹھے تھے
“بھائی!” حیا کی بھیگی آواز پر عدنان صاحب آنکھیں موند گئے اتنے سال وہ اس آواز کو ترسے تھے
“بھائی میں آپ لوگوں کی عزت خراب کرنے کا مر کر بھی نہیں سوچ سکتی بھائی میرا یقین کریں بھائی میں اس وقت اگر وہاں سے نہ جاتی تو وہ شخص میری اولاد مجھ سے چھین لیتا بھائی اس نے مجھے میرے نا کردہ گناہ کی سزا دی تھی “
حیا نے روتے ہوئے کہا
عدنان بھائی نے اسے روتے دیکھ کر پہلو بدلہ
“بھائی” حیا نے عدنان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ دیئے
“تم واپس کیوں نہ آئی حیات “
عدنان بھائی کی شکست خوردہ لہجے میں سرگوشی نکلی
ایک سایہ سا حیا کے چہرے پر لہرایا
“یہاں مت آنا حیات “
کسی کی جانی پہچانی سفاکیت میں ڈوبی آواز اسے کانوں کے قریب سرگوشی ماند محسوس ہوئی تھی
وہ آنکھیں موند کر خود کو کمپوز کر گئی
“بھائی میں وہاں آتی تو بھی میرے بچے سیو نہیں رہتے وہ لوگ چھین لیتے ” حیا نے سر جھکا کر کہا تھا آواز بھرا گئی تھی
“بس کرو اب عدنان “علی بھائی نے چھوٹے بھائی کو ڈپٹا جو ہسپتال میں ہی عدالت لگا کر بیٹھ گیا تھا
“حیات میری جان اٹھو یہاں سے “علی بھائی نے اسے اٹھایا چلو تم لوگ ہمارے ساتھ امی کو بھی آدھے گھنٹے میں ڈسچارج مل جائے گا
علی بھائی نے آتے جاتے لوگوں کی نظریں محسوس کرکے حیا کو اٹھایا ۔۔۔
“حمزہ تم سمی اور پھوپھو وغیرہ کو گھر لے کر چلو میں اور چاچو آتے ہیں دادو کو لے کر “
“جی ٹھیک ہے آجائیں اتی” حمزہ نے مسکرا کر حیات کو پکارا تھا
جو ابھی امی سے دور جانا تو نہیں چاہتی تھی مگر پھر گھر بھی تو جانا تھا
________
“بھابھی میری پری کا زیور بچ گیا اس سے زیادہ کیا خوشی ہوگی مجھے” وشمہ بھابھی کوثر بھابھی کے پاس بیٹھی تشکر بھرے لہجے میں بولی
“ہاں اب اماں بھی ٹھیک ہو جائیں میرا بہت دل گھبرا رہا ہے وشمہ” کوثر بھابھی نے قرآن پاک چوم کر ریک میں رکھتے ہوئے کہا
“ہو جائیں گی ٹھیک “
“پری پانی لانا “وشمہ بھابھی نے پریہان کو پکارا
آئی ماما وہ بھی نماز ادا کرکے فارغ ہوئی تھی ماں کی آواز پر کچن سے پانی کا گلاس لے آئی
جیتی رہو میری جان وشمہ بھابھی نے محبت پاش نظروں سے اپنی بچی کو دیکھا
ماما چاچی پری
حمزہ کی تیز آواز پر دونوں دیورانی جیٹھانی خوفزدہ ہوکر صوفے سے اٹھ کر دروازے کی جانب آئیں
“مما چاچی دیکھیں کون آیا ہے “
“حیات! ” وشمہ بھابھی کے ہاتھ سے شیشے کا گلاس زمین بوس ہوکر چکنا چور ہوگیا
حیا نے بھی بس ایک نظر وشمہ بھابھی پر ڈالی تھی جن کے فق پڑتے چہرے پر اس کا دوسری نظر ڈالنے کو دل نہیں کیا
ہاں وہ وہ سخت سفاک الفاظ یاد آگئے تھے
ج”ان کیوں نہیں چھوڑ دیتی تم ہماری اللہ اللہ کرکے تمہیں گھر سے نکالا تھا تمہاری وجہ سے ہمارے شوہر ہمیں وقت نہیں دیتے تھے ہمیشہ حیات حیات حیات اب گئی ہو تو جان چھوڑ دو ویسے بھی تمہارا شوہر اتنا امیر ہے تمہیں لگتا ہے ہم اس سے لڑ سکتے ہیں تمہاری وجہ سے ہمیں کتنا برداشت کرنا پڑے گا حیات بس کر جاؤ ایک بیٹی ہے اب میری میں اپنے شوہر کو ان لڑائیوں میں نہیں پڑنے دوں گی جاؤ جان چھوڑو جہاں مرضی جاؤ مگر اِدھر مت آنا حیات رحم کھاؤ اپنے بوڑھے ماں باپ پر “
وشمہ کے الفاظ اس کے اپنے کانوں میں بھی اسی سفاکیت سے گونجے اس کا جسم انجانے خوف سے کانپنے لگا
اگر عدنان یاں گھر میں کسی کو بھی خبر ہوگئی وہ اس عمر میں آکر رسوا ہو جائیں گی اور ان کا شوہر وہ ایک لمحہ لگائے گا انہیں یہاں سے نکالنے میں یک دم ہی وشمہ کے وجود میں کپکپی سے طاری ہونے لگی
چاچی آپ ٹھیک ہیں حمزہ نے وشمہ کے گرد ہاتھ رکھ کر انہیں سہارا دیا
جبکہ کوثر بیگم حیات کے چہرے کو نم آنکھوں سے دیکھتی اس کے گلے لگ گئی
“کہاں چلی گئی تھی تم حیات تمہیں ایک بار بھی اپنے ماں باپ اپنے بھائیوں بھابھیوں کا خیال نہ آیا “
کوثر بھابھی نے اسے شانوں سے تھامے محسوس کرتے کہا
انہیں ابھی تک یقین نہ آیا ان کی حیات ان کی پیاری حیات ان کے سامنے ہے
“بھابھی ماں بابا بھائی اور اپنے بچوں کی غرض سے ہی گئی تھی نہیں تو آپ کی حیات اتنی مضبوط اور بہادر کہاں تھی ؟”
وہ کوثر بھابھی کے گلے لگی تمسخر اڑاتے لہجے میں بولی
پری کب سے اس عورت کو تک رہی تھی جو اس کی پھوپھو تھی اور ہوبہو اس کے جیسی ہی تھی نہیں بلکہ پری ان کے جیسی تھی ویسی آنکھیں کافی حد تک ملتے نقوش مگر پری کی ٹھوڑی پر تِل تھا سیاہ واضح ہوتا تِل
حیا کوثر بھابھی سے الگ ہوئی
“حمزہ کتنا برا ہوگیا ہے نہ بھابھی” اس نے ایک دفعہ پھر محبت پاش نظروں سے حمزہ کے خوبرو چہرے کو دیکھا
“آپی یہ دیکھیں میں نے جب پہلی بار پھوپھو کو دیکھا تو مجھے لگا یہ آپ ہی ہیں فیوچر سے آئی ہیں “
سمعیہ کی آواز اتنی اونچی ضرور تھی کہ سب کے کانوں تک جاتی
حیات کے ساتھ بالاج انابیہ اور صفا نے بھی چونک کر پریہان کو دیکھا اس میں کوئی شک نہیں وہ کافی حد تک حیا سے مماثلت رکھتی تھی
حیا نے آگے بڑھ کر پری کو گلے لگا لیا
تم جانتے ہوں بالاج تم اور پری ایک ہی دن پیدا ہوئے تھے
حیا نے مسکراتے ہوئے بالاج کو بھی متوجہ کیا بالاج نے بس ایک سرسری سی نظر کے ساتھ ہلکی سی مسکراہٹ پاس کی تھی ماں کے متوجہ کرنے پر
جبکہ وشمہ نے حیات کا اپنی بیٹی کے لیے والہانہ پن دیکھ کر لمحے کو سکھ کا سانس ہوا کے سپرد کیا شاید حیات نے کسی کو نہیں بتایا
کوثر بیگم نے ستائشی نظروں سے بالاج کے شہزادے سی آن بان رکھنے والے قد و قامت وجود کو دیکھا
“آپ ۔۔۔ آپ تو وہ ہی ہو نا ورلڈ ٹاپ فائیو ینگ بزنس ٹائیکون “
سمعیہ نے بالاج کو دیکھ کر لہجے میں خوشی سموئے کہا وہ سولہ سال کی لڑکی نیوز میگزین کی بے حد شوقین تھی
بالاج کے لب بے ساختہ مسکراہٹ میں ڈھلے وہ معصوم گڑیا صفا کے بچپن کی یاد دلا گئی وہ بھی یوں ہی سوال پر سوال کرتی تھی
تبھی وہاں علی اور عدنان صاحب حاجرہ بیگم کو لیے آگئے
“بالاج مدد کرو میرا بچہ “
حیا نے حاجرہ بیگم کی جانب دیکھتے بے چینی سے کہا ۔۔۔
_______
حاجرہ بیگم کو کچھ کچھ ہوش آ چکا تھا
ان کی بے چین بوڑھی آنکھوں نے حیات کو تلاشا
ان کی نظروں کا مطلب سمجھ کر حیات آگے بڑھ ماں کے نخیف سے وجود کو سینے سے لگا گئی
“ماں “
حیات کی سبز آنکھوں سے کتنے ہی آنسوں اس کی ماں کے قمیض کے کندھے کو تر کر گئے
“میری حیات حیاتی” وہ بھاری لہجے میں روتے ہوئے حیات کا چہرہ کندھے سے نکالے اسے اپنی کانپتی انگلیوں سے چھو کر محسوس کرنے لگی حیات نے اپنی ماں کی ان ہی انگلیوں کو تھام کر چوم لیا انہی انگلیوں کو تھام کر اس نے اس زمین پر پہلا قدم رکھا تھا
دل پھر سے بھر آیا
“حیاتی ” اس لمحے حیات کو اپنے بابا کی آواز بہت قریب محسوس ہوئی وہ شدت سے رونے لگی ماں سے بابا کا زکر کرکے ان کی طبیعت اور خراب نہیں کر سکتی تھی تبھی بند باندھے ان سے لگی رہی نہیں تو دل کیا ماں کی آغوش میں چھپ کر اتنا روئے کہ اس کے آنسو خشک ہو جائیں
صفا اور انابیہ حیا کو مسلسل روتے دیکھ خود بھی رونے والی ہوگئی
“حیات میری جان میری گڑیا بس کرو اماں کی طبیعت بہت مشکل سے سنبھلی ہے “
علی بھائی نے اس کے خوب رو لینے کے بعد اسے حصار میں لے کر کہا
“بچیاں بھی پریشان ہورہی ہیں “
انہوں نے سمعیہ صفا انابیہ پر نظر ڈال کر کہا
حیا اپنے آنسو صاف کر گئی تبھی وشمہ پانی کا گلاس لیے حیات کے پاس آئی
“حیات پانی پی لو”
ان کے لہجے میں شرینی گھولی ہوئی تھی حیات نے چونک کر اٹھایا
“نہیں بھابھی “وہ منع کر گئی
________
“مت مارو مجھے مت ” ان کا وجود جھٹکے کھانے لگا “مت مارو میں تمہاری ماں ہوں “
وہ مسلسل اپنے گلے میں بھاری ہوتی گرفت پر تڑپ کر پکار رہی تھی
“مت کرو میں نے تم سے محبت کی ہے “اب ان کی آواز ہلکی ہوگئی
گلے میں درد بڑھتا چلا گیا
“میں نے تمہیں اپنی سگی اولاد پر ترجی دی ہے ” ان کی پھسی سی آواز نکلی
مت مارو مجھے آنسو جھڑیوں زدہ آنکھوں سے بہہ نکلے ….
جیسے ان کی جان سی نکل گئی ہو ۔۔۔
______
“مسٹر شاہ ناؤ ہی از آؤٹ آف ڈینجر تھوڑی دیر میں ہم انہیں روم میں شفٹ کردیں گے “
ڈاکٹر قاسم نے ابراہیم شاہ سے کہا عون جو کب سے اضطراب کی کیفیت میں سر جھکائے بیٹھا تھا ان نے بے ساختہ سر اٹھا کر شکر ادا کیا
“کہاں جارہے ہو عون ؟ “
عون کو عجلت میں نکلتے دیکھ ابراہیم شاہ نے پریشانی سے پوچھا
شکریہ ادا کرنے
تین لفظی جواب دیتا وہ اپنے کف کھول کر فولڈ کرتا ہسپتال میں بنے پرئیر کی جانب بڑھ گیا دل میں بہت بوجھ تھا ابھی اسے اپنے ماموں کی زندگی کے ساتھ اپنی زندگی بھی چاہیے تھی ۔۔۔۔
وہ اس ذات سے مانگنے جا رہا تھا جس کے لیے کچھ بھی مشکل یا نا ممکن نہیں ۔۔۔
