Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 5)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 5)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
بالاج بالاج !!!
شجاع ہاتھ میں ایک میگزین تھامے اس کے آفس میں آیا تھا
بالاج نے چونک کر شجاع کے لہجے میں موجود خوشی کو محسوس کیا
شجاع نے مطلوبہ چیز بالاج کی طرف بڑھائی تھی
بالاج فرنٹ کوور پر آب و تاب سے چمکتی اپنی تصویر کو دیکھنے لگا
پھر آسودہ سی سانس ہوا میں خارج کے سر ریلینگ چئیر کی پشت پر ٹکا لیا
______
رات دیر سے وہ گھر پہنچا تھا شجاع نے کل آنے کا کہہ دیا تھا بالاج ہاتھ میں تھامی فائل لے کر گھر کے اندر داخل ہوا آنکھوں میں کچھ پا لینے کی چمک تھی
ماں!!!
لاونج میں داخل ہوتے ہی حیا اسے صوفے پر بیٹھے آگے شییشے کی ٹیبل پر اپنے ضروری کاغذات پھیلائے بیٹھی نظر آئی
حیا نے بالاج کی جانب دیکھا بھی نہیں اپنے لیپ ٹاپ میں کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھی
بالاج جا کر اپنا بازو ان کے گرد پھلا کر بیٹھ گیا
سوئی نہیں آپ اتنی رات ہوگئی ہے
اب بیا کے ساتھ ساتھ میری زندگی پر بھی حکم چلاؤ گے
بالاج کا بازو جھٹک کر دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگئی
ماں !! وہ متحیر ہوا تھا آج سے پہلے تو کبھی ماں نے اسے انابیہ کے لیے فیصلہ لینے پر نہیں روکا تھا ۔۔۔
بالاج جاؤ اس وقت میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتی
حیا نے سرد لہجے میں کہا ہاں سرد لہجہ آخر وہ بھی اس کی ماں تھی ۔۔۔۔
ماں مجھے بتائیں کیا ہوا ہے بالاج بے چین ہوگیا ماں کی ناراضگی اس کے لیے جان لینے کے مترادف تھی
مجھے ماں مت کہو بالاج خان صنف نازک پر ظلم ڈھانے والا میرا خون نہیں ہوسکتا
حیا اب کے اونچی آواز میں چیخی تھی
ک۔کیا ہوا ہے انابیہ کو ؟؟
آواز میں حیرات و پریشانی شامل تھی
ایک پل کو اپنے جنونی بیٹے کے اتنے بے خبر ہونے پر وہ خاموش ہوئی
کس منہ سے مجھ سے رخصتی مانگ رہے تھے بالاج خان جب اپنی منکوحہ کی ہی خیر خبر نہیں افسوس سے اپنا سامان اٹھا کر وہ لاونج سے چلی گئی
_______
رات کے آخری پہر اپنے ماتھے پر انگلیوں کی سرسراہٹ محسوس کئیے انابیہ کی نیند ٹوٹی تھی سر ہنوز بھاری ہورہا تھا جب انگلیوں کی سرسراہٹ ماتھے سے ہوتی آنکھوں اور انکھوں سے ہوتی گال پر آئی تو انابیہ کی جان نکلی
پلکیں لرزہ گئی
وہ ہی سٹرونگ کلون کی خوشبو ۔۔۔۔
دل کی دھڑکن سست پڑی
وہ بے حد قریب تھا
پتا نہیں مما نے کیا کہا ہوگا
تبھی
بالاج نے اس کا سرخ ہوتا ہاتھ تھاما ان زخموں پر دھیرے سے انگلی پھیری پھر انہیں اپنے چہرے کے قریب لے آیا اس ہاتھ کو لب سے چھو کر اس پر گرفت تھوڑی سخت کی
انابیہ نے سسکی لی
بالاج نے گرفت پھر سے نرم کردی اور جھک کر سرگوشی اس کی سماعتوں پر انڈیلی
خود کو چوٹ پہنچا کر اچھا نہیں کیا تم نے مسز بالاج
بالاج۔۔۔۔!!!
شش ۔۔۔!!!
انگوٹھہ لبوں پر رکھ کر اسے خاموش کروادیا
یکلخت انابیہ کی آنکھیں بھرنے لگیں تھی آنسو پھسل کر کنپٹی میں بہنے لگے
بالاج نے اپنی انگوٹھوں کی پوروں میں اس کے آنسو جزب کئیے
دو۔۔سال پہلے بھی آپ یوں ہی مجھے خاموشی سے چھوڑ کر چلے گئے تھے اور آج بھی آپ یوں ہی چھوڑ گئے میری کوئی حیثیت نہیں آپ کی زندگی میں آپ نے مجھ سے میرا دوست چھین لیا بالاج
وہ چیخنا چاہتی تھی بولنا چاہتی تھی مگر لب خاموش تھے مگر آنکھیں ان کی آنکھیں ہم کلام تھی اور بالاج نے وہ کرب پڑھ لیا
چوبیس ماہ ایک دن سترہ گھنٹے اور بیس منٹ تم سے دور تھا مگر غافل ہر گز نہیں رہا انا بالاج خان
بالاج نے انگلی سے انابیہ کے زخمی ہاتھ کو ٹریس کیا
انابیہ ششدر رہ گئی
وہ کیسے جان گیا بغیر اس کے بولے
انابیہ نے اپنی بھوری آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا مگر بیا کو آج بھی ان سبز پر اسرار آنکھوں میں دیکھنا مشکل لگا تھا
وہ اپنی بھیگی پلکیں عارضوں پر گڑا گئی
بالاج مبہوت ہو کر ان بھیگی پلکوں کا رقص دیکھنے لگا
اور پھر ۔۔۔۔۔ وہ اس بے رحم زخم پر اپنی مسیحائی کا لمس چھوڑ کر وہاں سے غائب ہوگیا
انابیہ ابھی پہلی حیرت سے نہ نکلی تھی دوسرا جھٹکا شدید ثابت ہوا تھا وہ سن ساکن لیٹی اسی سحر میں ڈوبی رہی
ساحر لہجہ اس کا کچھ پراسرار بھی ۔۔۔۔۔۔
کچھ نظریں جھکی جھکی تو ۔۔۔۔۔
کچھ لفظوں میں خمار بھی ۔۔۔۔۔
_______
شاور لے کر اپنے بستر پر لیٹا ہی تھا جب اس کے کمرے کا دروازہ
نوک ہوا تھا
ماں آجائیں وہ بغیر پوچھے جان گیا تھا کون ہو گا
حیا اس کے لیے کافی لے کر آئی تھی
ماں بالاج نے اٹھ کر ٹرے تھام کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور حیا کو بیڈ پر بٹھا کر خود ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
حیا نے پہلے جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھے اور پھر دھیرے دھیرے سے بالاج کے بھورے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی
منا لیا اسے ؟؟
حیا کے لہجے میں شرارت تھی
بالاج نے حیا کے ہاتھوں کو پیار سے تھام کر ان پر ہونٹ رکھے
بہت شکوے ہیں آپ کی چھوٹی سی بہو کو
وہ بھی شرارت میں اترا تھا
اسے کبھی دکھ مت دینا بالاج میں نے اس کی ماں سے وعدہ کیا تھا اسے ہمیشہ تم دونوں سے آگے رکھوں گی
ماں میں اسے دکھ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا بس میں جو کرتا ہوں اس کی بھلائی کے لیے کرتا ہوں
بالاج کو دوبارہ اس کے ماتھے پر لگی پٹی یاد آئی دل میں بے چینی پھر سے شروع ہوئی
ہاں اسی بھلائی میں دو سال دور ہوگئے
حیا نے پھر شکوہ کیا وہ دو سال پہلے ہر گز بالاج کے سنگاپور جانے پر خوش نہیں تھی
میرا جانا ضروری تھا ماں پھر غلط ہوجانا تھا جو میرے لیے آپ کے لیے صفا کے لیے ۔۔۔۔۔۔اور انا کے لیے نقصان دہ ہوتا
بالاج نے پیشانی حیا کی گود میں رکھ لی اور ہاتھ اس کے گرد باندھ دئیے
میری جان اُسی کا پھل تو ملا ہے تمہیں تم اپنی پہچان بنا چکے ہو
بہت بہت مبارک کو مما کی جان
حیا نے نیند میں جاتے بالاج سر پر پیار کیا ۔۔۔۔
_______
کم عمر کامیاب بزنس مین
“دی بالاج خان “
بالاج خان کا انٹر ویو جس میں اس کی پچیس سالہ زندگی کی کامیاب صبح کو حرفِ روشن میں لکھا گیا تھا
اپنی محنت ، ہمت اور جنون کی بدولت آج جو مقام اس نے پایا لوگوں کے لیے رشک کرنے کو کافی
حدید شاہ نے اپنے آفس میں داخل ہوتے ہوئے یہ الفاظ سنے تو قدم لمحے بھر کو رکے تھے
کبھی ان کا نام بھی یوں کم عمر کامیاب لوگوں میں شامل ہوا تھا خیر کامیاب تو وہ اب بھی بہت تھے
کامیاب بزنس مین فقط کامیاب بزنس مین!!!
ارے حدید صاحب خوش آمدید آپ یہاں اسلام آباد میں اتنے عرصے بعد مل کر خوشی ہوئی
وہاں بیٹھے چند لوگوں نے ایک نظر حدید شاہ پر ڈال کر اپنے آگے پڑی میگزین پر بھی ایک نظر ڈالی تھی
خاصے ملتے جلتے نقش تھے ترانی صاحب ایسے کیا گھور رہے ہیں کیا ہینڈسم مرد نہیں دیکھا اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کر حدید شاہ کھوکھلی سی ہنسی ہنستے تھے
کسی زمانے میں ان کے قہقہے بھی دلفریب ہوا کرتے تھے اب بس ان کے وجود کا رعب ہی رہ گیا تھا
ارے کہا حدید شاہ سالوں پہلے آپ کو دیکھا تھا ہینڈسم ہنک ود شارپ برین لگتا ہے سالوں بعد آپ کی جگہ لینے کوئی اور آگیا جو آپ سے بھی زیادہ ہینڈسم ہے اور کامیاب بھی ہے
ترانی صاحب استہزایہ مسکراہٹ کے ساتھ میگزین کے فرنٹ کوور پر لگی تصویر حدید شاہ کے آگے کر گئے
چونکے تھے حدید شاہ بھی بری طرح بالکل ترانی صاحب کی طرح اپنی جوانی اپنے نقش کون بھول سکتا ہے
وہ ہی سبز آنکھیں
ک۔کیا نام ہے ۔۔۔۔ اس کا
ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے اس میگزین کو اٹھایا
بالاج خان !!! ابھی حال ہی میں سنگاپور سے واپس آیا ہے
بالاج خان ماں اور اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ اپنے اسلام آباد والے گھر میں رہتا ہے اس کی فیملی لائف بہت پرائیویٹ ہے
بالاج خان ۔۔۔۔۔ بہن !!!
حدید شاہ کی رنگت نارمل ہوئی انہوں نے خود کو کمپوز کیا
صحیح
کیا ہوا حدید شاہ اتنے حیران کیوں رہ گئے کوئی جگہ لینے آگیا کیا اس لیے
ترانی صاحب نے حدید شاہ کے چہرے پر نظریں جمائے کہا
ہاہاہا حدید شاہ نے بلند و بالا قہقہہ لگایا
ارے بچہ ہے وہ ترانی صاحب میرا بچے سے کیا مقابلہ ابھی جوانی کا زور ہے تھوڑا اسے بھی اڑ لینے دیں حدید شاہ نے سگار کا کش لگایا تھا
ہاں ترانی صاحب اپنے دماغ میں آتی گہری سوچ پر پر اسرار سا مسکرائے
ضرور ۔۔۔۔!!!
_______
کل تک انابیہ خفا خفا سی بالاج کے سامنے نہیں آرہی تھی مگر آج وہ مارے شرم کے بالاج کے سامنے نہیں آ پا رہی تھی ۔۔۔۔
وہ ادھر اُدھر دیکھتے سیڑھیوں سے اترتی ہوئی آرہی تھی جب ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی صفا نے اسے آواز لگائی وہ ایک دم ڈر سی گئی
آجاؤ چندہ جس سے بچ رہی ہو وہ کب کے چلے گئے
صفا کی شرارتی آواز پر گھور کر اسے دیکھنے کے بعد وہ قدرے پرسکون ہوگئی تھی
ٹیبل پر آکر بیٹھی ارے میری جان یہ ماتھے پر کیا ہوا
اپنا ناشتہ چھوڑ کر صفا انابیہ کی جانب مڑ گئی
یہ ۔یہ کچھ نہیں آپی میں واشروم میں سلپ ہوگئی تھی تو بس
ماتھے پر انگلیوں سے چھوتے اس کی آنکھوں کے آگے رات کا منظر آگیا
گال ایک دم سرخیاں چھلکانے لگے کانوں سے بھی دھوئے نکلنے لگے
دھیان رکھا کرو چندہ تم امانت ہو کسی کی بالاج کو آتے دیکھ صفا مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی
آپی !!…. وہ جھنجھلائی
اچھا بابا سوری
خیر ایک بات بتاؤ چندہ تم بھائی سے اتنا گھبرا کیوں رہی ہو ان کے سامنے بھی نہیں جارہی کہیں اس لیے تو نہیں کہ پرسو تم سے ان کی پسندیدہ گھڑی ٹوٹ گئی تھی تو کہیں وہ تمہیں ڈانٹ نہ دیں۔۔۔۔؟؟؟ تم ان سے معافی مانگ لو میرے بھیا بڑے سخی دل ہیں تمہیں معاف کردیں گے
صفا نے کافی لمبی تحمید باندھی تھی انابیہ کی پشت کر کھڑا بالاج بھی اس جواب کو سننے کے لیے رک گیا تھا
ایسی بات نہیں ہے آپی میں کیوں گھبراؤ گی وہ تو بس میں ان سے ناراض تھی اور رہی گھڑی کے ٹوٹنے والی بات تو گھڑی جس کی ملکیت تھی وہ میرے ملکیت ہیں تو اس حساب سے اپنی چیز توڑنے پر کون معافی مانگتا ہے
وہ پورے ٹشن میں جواب دیتی پیچھے کھڑے بالاج کو بھی آئی برو اُچکانے پر مجبور کر گئی تھی
اچھا ایسا ہے کیا کیا یہ سچ ہے بھائی صفا نے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے انابیہ کے پیچھے کھڑے بالاج سے براہِ راست سوال کیا
انابیہ کی سٹی گل ہوگئی
میں کیا کہہ سکتا ہوں بچے میں تو خود کسی کی ملکیت ہوں میرے مالک سے پوچھو
انابیہ کی پلیٹ سے اس کا آدھ کھایا ہوا سینڈوچ پکڑ کر کھانا شروع کیا
انابیہ کی گرفت اپنے بیگ پر مضبوط ہوئی
بہت بری ہیں آپ آپی کٹی !!!
بیگ پکڑ وہ وہاں سے بھاگ گئی
ہاہاہا پیچھے صفا کا قہقہ بلند ہوا تھا
اتنا زور سے کیوں ہنسا جارہا ہے اور بیا کہاں پر ہے ؟؟؟ حیا تیار شیار وہاں آئی
ہاہاہا بھاگ گئی آپ کی بیا مما صفا ایک دفعہ پھر سے ہنسی بالاج بھی مسکرا دیا تھا
تم دونوں بہن بھائی سدھر جاؤ میری بچی کو تنگ کرتے رہتے ہو
حیا نے صفا کا کان کھینچا
آہ مما آپ فیوچر کی کامیاب وکیل کا کان کھینچ رہی ہیں صفا چیخی
فیوچیر کی وکیل صاحبہ پریزنٹ میں ائیں آپ کی چندہ گاڑی لے کر جا چکی ہے میں بھی جا رہی ہوں آپ کی نوٹنکی تک کے لیے ٹائم نہیں ہے میرے پاس آپ اپنے جانے کا انتظام کریں بالاج آج آپ کی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ساتھ میٹینگ ہے بچے جانا نہیں
حیا نے سنجیدگی سے بالاج کی جانب دیکھا
جی مما ابھی اس میں ٹائم ہے آج ہی سب سے ملاقات ہوجائے گی
گر میں پہلے صفا کو چھوڑ دو یونی
لو یو بھائی بس ایک منٹ میں بیگ لے کر آئی صفا بھاگ گئی
بالاج !!! صفا کے جانے کے بعد حیا نے اسے پکارا
جی ماں
بالاج نے حیا کو گلے سے لگایا
چوبیس سال کا انتظار ہے
چوبیس سال سات ماہ ماں !!! بالاج نے تصحیح کی
اللّٰہ کامیاب کرے میری جان
بالاج کے ماتھے پر پیار کرکے وہ وہاں سے نکل گئی ۔۔۔۔
آج انہیں کمال اعوان کی طرف بھی جانا تھا
_______
بالاج نے صفا کی یونیورسٹی کے مین گیٹ کے پاس گاڑی روکی اور صفا کے لیے دروازہ کھولا رومیصہ اور اس کی دوست بالاج کو دیکھ کر رہ گئی
صفا کا ہاتھ تھامے وہ اسے چھوڑنے کے لیے اندر آیا
بالاج کے حصار میں کھڑی صفا اپنی گاڑی سے اترتے عون کو انگاروں میں لٹا گئی
