Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 48)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 48)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
“ایبا ما(اریبہ ماما )۔۔۔۔”
ڈھائی سال کی صفا ہاتھ میں فیڈر پکڑے ایبا ما کی رٹ لگائے پورے گھر میں اریبہ کے پیچھے پیچھے پھر رہی تھی
جب فرش پر گِرے سافٹ ٹوئے سے اس کا پاؤں اٹکا وہ منہ کے بل گری اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا فیڈر زمین بوس ہوکر ٹوٹ گیا فیڈر میں سے دودھ نکل کر بہنے لگا ۔۔۔
اریبہ صفا کے رونے پر تیزی سے باہر آئی مگر فرش پر پھسلن کے باعث ایک لمحے کو تو وہ اپنا توازن کھو بیٹھی تھی جب حیا نے اتنی ہی تیزی سے اسے پکڑ لیا کچھ اریبہ نے صوفے کا بھی سہارا لے لیا تھا تبھی بچت ہوگئی تھی
“کیا کرتی ہو صفا ‘حیا نے سختی سے صفا کو بازو سے تھام کر کھڑا کیا ۔۔۔
“حیا آرام سے بچی ہے ” ۔۔۔
وہ اریبہ نے اپنی بے ہنگم ہوتی دھڑکنوں کو متوازن کیا ابھی پچھلے ہفتے ہی تو اسے خبر ملی تھی وہ امید سے تھی وہ کتنے لمحے سکتے میں رہی جہانگیر کو بھی یقین نہیں آرہا تھا دونوں میاں بیوی کتنے لمحے خاموش رہے یقین کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ کیا واقعی یہ خبر سچی ہے کہ اریبہ میں تو پہلے ہی جہانگیر کی جان بستی تھی اب تو وہ اسے ہتھیلی کا چھالہ بنا چکا تھا گھر وہ لوگ سال پہلے ہی تبدیل کر چکے تھے جہانگیر کو حکومت کی جانب سے ایک پوش علاقے میں ایک خوبصورت سا گھر ملا تھا جہاں وہ تینوں بچوں سمیت شفٹ ہوگئے تھے وہ پہلا گھر بھی جہانگیر نے نہیں بیچا تھا وہ اس کے ماں باپ کی آخری نشانی تھی وہ گھر جہانگیر نے کرائے پر چڑھا دیا تھا ۔۔۔
“آپی خدا نخواستہ کچھ ہوجاتا تو ؟” حیا نے دہل کر کہا وہ اس حالت سے گزر چکی تھی دو دفعہ ہر قدم میں کتنے دہرلے کتنے شعبے لگے رہتے تھے وہ جانتی تھی
“پھر بھی حیا آرام سے میری چندہ کو کچھ مت کہنا یہ جو اب آئے گا یاں آئی گی وہ میری دوسری اولاد ہوگی میری پہلی اولاد میری چندہ ہے بالاج کو میں نے پالا ہے مگر چندہ کے ساتھ میری ممتا کے احساسات جڑے ہیں “
اریبہ نے صفا کو خود میں بھینچ لیا
(ایبا ما )” اریبہ ماما “صفا نے بھی اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا اس نے اپنی زندگی کا پہلہ لفظ ہی ایبا ما کہنا سیکھا تھا حیا ان کی آپس میں اٹیچمنٹ اچھے سے جانتی تھی
ایسا نہیں تھا کہ وہ اب بھی صفا کے قریب نہیں جاتی تھی بلکہ وقت کے ساتھ اسے احساس ہوگیا تھا محض “اس شخص “کی مشابہت کی وجہ سے وہ اپنی بچی کو اگنور نہیں کر سکتی جس اولاد کی وجہ سے وہ” اسے “تک چھوڑ آئی جس سے اسے محبت تھی ۔۔۔۔ہاں “تھی “
حیا نے صفا کو گود میں لیا “مما کی جان دھیان سے ایبا ما کو ابھی چوٹ لگ جاتی نہ” حیا نے صفا کے دونوں گال چومے تو صفا مسکرا دی
تبھی جہانگیر کے ساتھ بالاج اندر آیا وہ جہانگیر کے کندھے پر بیٹھا ہوا تھا جہانگیر کے سیاہ شیڈز اس کے چھوٹے سے منہ پر بہت کیوٹ لگ رہے تھے حیا بے ساختہ اسے دیکھ کر ہنس دی اریبہ بھی بالاج کو آتے دیکھ مسکرائی تھی
بالاج فورا حیا کی جانب لپکا وہ مصروف ہوگئی تھی بہت کم گھر ملتی تھی لیکن جب گھر ہوتی بالاج اس کے ساتھ ہی چپکا رہتا اسے اپنی ماں سے عجیب سی محبت تھی وہ چھوٹا سا بچہ ماں کا ایسا خیال رکھتا جیسے جانے کتنا بڑا ہو
حیا کے پاس سوتا حیا کے بالوں میں اپنے ننھے ننھے ہاتھ ہاتھ پھیرتا ماں کے ہاتھ چومتا کبھی کبھی حیا اس کی حرکات پر گنگ ہوجایا کرتی تھی
وہی دوسری جانب صفا سے محبت اریبہ کی لفظی کلامی نہیں تھی انابیہ کی ولادت کے بعد بھی اریبہ کے لیے صفا اتنی ہی اہم تھی حیا اکثر سجدوں میں اللہ کا ادا کرتی کہ اللہ نے اسے رلنے نہیں دیا
________
“یہ کیا کیا ؟” بیا بالاج نے اس کے چہرے کے ساتھ اس کے کپڑوں پر لگی آئسکریم کو دیکھ کر اسے ڈپٹا
ہی ہی ہی۔۔۔۔ بدلے میں وہ شرارتی ہنسی ہنس دی
“آپ کو لگاؤ ہاتھ لاج” وہ اس کے پیچھے بھاگی بالاج نفی میں سر ہلاتا اس سے دور ہوا مگر وہ خرگوشنی ایک ہی جست میں اس کے قریب آتی اس کے کپڑے اپنی چاکلیٹ آئسکریم لگی انگلیوں سے بھوری کر چکی تھی
بالاج واش بیسن کے پاس کھڑا اب اس کا ہاتھ منہ دھلوا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اسے ڈانٹ بھی رہا تھا جبکہ وہ ایک کان سے سن کے دوسرے کان سے نکالنے کے مترادف مزے سے ٹھنڈے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے چہرے پر محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔
‘اچھا ادھر روکو میں مامی کو بلاتا ہوں “
بالاج اس کے کپڑوں پر ایک نظر ڈال کر سختی سے وہی کھڑا کرتا خود اریبہ اور جہانگیر کے مشترکہ کمرے میں پہنچا
“حیا میری جان صبر کرو اتنے سال صبر کیا ہے وہی تھوڑا اور صبر کرلو ایک دفعہ بالاج بڑا ہوگیا تو تمہیں ان کو کھونے کا خوف نہیں ہوگا “
“آپی صبر ہی کیا تھا اتنے سال” وہ ہچکی لے گئی
“تمہیں انکل کا کیسے معلوم ہوا؟ “
“میں نے اپنے گھر کا پتا کروایا تھا معلوم ہوا وہاں اب وہ لوگ نہیں رہتے ہیں وہاں کے رہائشی حفیظ صاحب کی وفات کے بعد ان کے بیٹے وہاں سے شفٹ کر گئے “
ملازم کی بتائی بات اریبہ کو بتاتے وہ دھارے مار کر روئی
“اس کے بابا نہیں رہے “
“حیا میری جان” اریبہ نے اسے خود میں بھینج لیا
“میں اس شخص کو کبھی معاف نہیں کروں گی آپی کبھی نہیں حدید شاہ تم نے مجھ سے میرا باپ چھین لیا ہے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی” وہ سسکی
باہر کھڑا بالاج اس کے آگے بہت سے واقعات گھوم گئے
“حدید شاہ ۔۔۔!!”
“ماما بابا کہاں ہیں ۔۔۔؟” وہ چھے سال کا تھا اپنے ہم جماعت اور شجاع کے بابا کو دیکھ کر اسے اپنے بابا کی کمی شدت سے محسوس ہوتی تھی
“بیٹا وہ باہر کے ملک میں ہوتے ہیں’
حیا نے مصروف سے انداز میں کہا
“میرے میری کلاس فیلو کے بابا کے باہر ہوتے ہیں مگر وہ انہیں روز فون کرتے ہیں “
“بابا کیوں نہیں کرتے۔۔۔ ؟”بالاج نے دوسرا سوال کیا
“بالاج جاؤ نہ ماما بزی ہیں “
“ماما ان کا نام بتا دیں پلیز مما “
“حدید۔۔!!” حیا نے بے ساختہ ہی کہا پھر اپنے تاثرات سخت کرکے بالاج کی جانب مڑی
“آپ مما سے محبت کرتے ہو نہ بالاج وعدہ کرو آج کے بعد مجھ سے بابا کے بارے میں کچھ نہیں پوچھو گے “
حیا کے لہجے کی سختی ہے بالاج سہم گیا
“مما پرامس کبھی نہیں کہوں گا بس آپ ہمیں چھوڑ کر باہر کے ملک نہ جانا “
بالاج کی بھیگی آواز پر حیا نے اسے اپنی آغوش میں چھپا لیا ۔۔۔
اس دن کے بعد سے بالاج نے کبھی حیا سے بابا کے بارے میں نہیں پوچھا تھا
وہ ماں کا دیوانہ تھا ماں کا ہر اشارہ سمجھتا تھا
________
بالاج دروازہ کھول کر اندر ہی آگیا
اریبہ اور حیا دونوں بری طرح چونکی
“بالاج شہزادے۔۔!”اریبہ کھڑی ہوئی کیونکہ بالاج کے چہرے کے تاثرات سے واضح ہوگیا تھا وہ بہت کچھ سن چکا ہے
بالاج حیا نے آنسو پونچھے
“ماما آپ کو میری قسم ہے آپ مجھے سب سچ بتائیں گی “
بالاج نے ماں کے ہاتھوں کو تھام کر سنجیدگی سے کہا
وہ اس پہر کہیں سے بھی دس سال کا بچہ نہیں لگ رہا تھا
“بالاج …” حیا نے سسکی بھری
“ماما آپ کو اپنے بالاج کی قسم “
حیا بالاج کے گلے لگ گئی
اریبہ دونوں ماں بیٹے کو اکیلا چھوڑ گئی دونوں کا غم تھا آپس میں بہتر غم ہلکا کر سکتے تھے ۔۔۔
حیا تمام باتیں بالاج کے گوش گزار کر گئی
اس روز بالاج کو حدید شاہ نامی شخص سے شدید نفرت ہوئی اس نے اپنے دوستوں کا حلقہ بس شجاع تک محدود کرلیا اس کا بس ایک ہی خواب تھا پڑھ لکھ کر اس قابل بننا ہے وہ حدید نامی شخص سے اپنی ماں کا بدلہ لے سکے ۔۔۔۔
اپنے بے گھر ہونے کا بدلہ لے سکے ۔۔۔۔
اپنی ماں کے ایک ایک آنسو کا بدلہ لے سکے ۔۔۔۔
ابھی وہ اتنے بڑے سچ سے گزرا تھا اس نے باپ نامی رشتے کو زندگی سے ہی نکال دیا ایسے میں جہانگیر کا ساتھ ایک نرم گرم سا سایہ تھا بالاج کے لیے جو ایک روز روڈ ایکسیڈنٹ میں بالاج سمیت حیا سے بھی چھن گیا
اریبہ اور جہانگیر کی موت نے بہت گہرا اثر چھوڑا تھا ان چاروں پر مگر حیا کے بعد بالاج نے حوصلہ نہیں توڑا
انابیہ سے نکاح کے بعد فطری طور پر اس کے احساسات بدلنے لگے تھے جس روز اسے محسوس ہوا اس کی اور انابیہ کی ایک ہی گھر میں موجودگی اسے اس کے مقصد سے ہٹا سکتی ہے وہ اسی روز باہر کے ملک چلا گیا
وہی دوسری جانب شجاع کے والد اور کمال اعوان نے حیا کی بہت مدد کی تھی ایک نے بہن تو دوسرے نے بیٹی سمجھ کر اس کی مدد کی جن کا احسان وہ کبھی نہیں بھلا سکتے
تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
________
حیا نے ڈائری کے آخری صفحے میں جہانگیر اور اریبہ کی مسکراتی تصویر پر نظر ڈالی ان کے ساتھ حیا کھڑی تھی جہانگیر کے آگے بالاج اریبہ کی گود میں صفا اور اس کی گود میں انابیہ حیا نے مسکرا کر ڈائری البم بند کرکے رکھ دی
اس البم میں بہت ساری تصاویریں تھیں ڈھیروں یادیں ۔۔۔۔
وہ الماری بند کرگئی
زندگی نے کم آزمائشیں نہیں لی تھی اس کی ۔۔۔۔
انابیہ نے سسکی کمرے کا فسوں ٹوٹا تھا
وہ جو اسے اپنے غم سنا کر ہلکا ہوا تھا
بالاج نے سر اٹھایا
“اپنے دکھوں کے سبب تمہاری آنکھوں میں آنسو دیکھنا تکلیف کا لمحہ ہے انابیہ “
اپنی انگلیوں کے پوروں سے اس کے گال پر پھیلے آنسوں کو نرمی سے صاف کرتے بولا
” بالاج خان آپ انابیہ بالاج کے دل میں قیام کرتے ہیں آپ کے دکھ ۔۔۔۔۔ میں خود میں کسی تمغے کی طرح سجانا چاہتی ہوں اور آپ کے سکھ و سکون کو ہوا،پانی، خوراک کی مانند واجب اپنے وجود سے وابسطہ کرنا چاہتی ہوں”
انابیہ نے اپنے انگوٹھوں سے اس کی سرخ ہوتی سبز انکھوں کو سہلایا
“تم مجھے کسی درویش کی دی گئی سدا سی لگتی ہو”
“کسی نیکی کا صلح سی لگتی ہو “
“کوئی مانگی گئی دعا سی لگتی ہو “
“سزا ختم ہونے کے بعد کی جزا سی لگتی ہو۔۔۔۔”
یہ اریبہ اور جہانگیر کے جانے کے بعد دوسری رات تھی جب گھر کے پانچوں فریق کی آنکھوں میں کٹی تھی حیا اپنے ماضی کے پنوں کو دیکھتی رہی بالاج اور انابیہ بھی اپنے بچپن اپنے ماضی کو یاد کرتے رہے جبکہ واحد صفا تھی جسے اپنے مستقبل کا خوف تھا جسے شجاع کے نام سے جڑنے کا خوف تھا ۔۔۔
________
اگلی صبح ہی حیا نے تینوں بچوں کو گھنٹے تک لاہور نکلنے کا عندیہ سنا دیا تھا
بالاج نے ایک دفعہ پوچھنا بھی چاہا مگر حیا نے ضروری کام کا کہہ کر خاموش کروا دیا
جبکہ صفا پرسکون تھی چلو شجاع والا قصہ کچھ دن کے لیے ہی صحیح ٹلا
ٹھیک ایک گھنٹے بعد وہ لوگ اپنا سامان لئیے گاڑی میں بیٹھ چکے تھے
ایک گاڑی میں حیا اور صفا موجود تھے
جبکہ دوسری گاڑی میں بالاج اور انابیہ
“مما ہم ایک ہی گاڑی میں کیوں نہیں جا رہے ۔۔۔ ؟”
صفا نے حیرانگی سے پوچھا بہتر تھا نہ چاروں ایک ہی گاڑی میں جاتے
تبھی جازب کمال عجلت میں وہاں آئے
“میں لیٹ تو نہیں ہوا ؟” انھوں نے اپنی گھڑی پر نظر ڈال کر کہا
” نہیں جازب صاحب چلئیے ہمیں سب سے پہلے کارڈیو ہسپتال جانا ہے “
حیا نے بے چینی سے کہا وہ صبح حمزہ سے بات کر چکی تھی ماں کی طبیعت اب خطرے سے باہر تھی مگر ان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اڑ کر ہسپتال پہنچ جائیں
________
“ڈاکٹر ۔۔۔ “عون ڈاکٹر کو ایمرجنسی روم سے باہر نکلتے دیکھ کر ان کے سامنے آیا
“کیسے ہیں میرے ماموں ؟”
“اگلے چوبیس گھنٹے ان کی زندگی کے بہت اہم ہیں اگر انھیں ہوش نہ آیا تو ہمیں انہیں وینٹیلیٹر پر منتقل کرنا پڑے گا “
ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا
عون سکتے میں کتنے ہی لمحے وہاں کھڑا رہا
ابراہیم نے دھیرے سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا
“کچھ نہیں ہوتا اسے عون وہ ٹھیک ہو جائے گا “
“ڈیڈ ۔۔۔۔” عون کی بھرائی آواز میں خوف تھا وہ خوفزدہ تھا ۔۔۔۔
_______
“ڈاکٹر میری اماں کیسی ہیں اب ؟ “
علی صاحب نے بے چینی سے پوچھا
“دیکھیں اب وہ خطرے سے باہر ہیں ان کا بلڈ پریشر بھی قدرے بہتر ہوگیا ہے تھوڑی دیر میں آپ ان سے مل بھی سکتے ہیں بس کوشش کیجئے گا کہ انہیں کسی بھی ذہنی دباؤ سے دور رکھا جائے “
ان کی صحت کے لیے ضروری ہے “
لیڈی ڈاکٹر اپنا ماسک اور گلوز اتار کر نرس کو پکراتے علی صاحب سے بولی
“جی ٹھیک ہے “
“اللہ تیرا شکر ہے ..” بے ساختہ ہی علی صاحب نے ہاتھ ہوا میں بلند کرکے اللہ کا شکر ادا کیا تھا ….
________
“لاج ہم لاہور اتنی ہڑبڑی میں سب خیریت ہے نہ ؟”
انابیہ نے فکر مندی سے بالاج کا سٹیرنگ میں دھڑا ہاتھ تھام کر پوچھا
“معلوم نہیں انا ماں نے کہا ہے ضروری ہے تو یقیناً ضروری ہی ہوگا “
بالاج نے انابیہ کے ہاتھ سے ہاتھ نکال کر اس کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھائی
“نہیں ماما اپنے گھر تو نہیں لے کر جارہی ہوسکتا ہے انھیں معلوم ہوگیا ہو ان کے بھائی اور مما کہاں رہتے ہیں “
انابیہ نے اپنے تہی اندازہ لگایا
“ہوسکتا ہے ۔۔۔۔اگر ایسا ہوگیا تو ماں بہت خوش ہوگی انا اور انہیں خوش دیکھ کر مجھے بہت سکون ملے گا “
بالاج نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے کہا
“اللہ کرے ایسا ہی ہو۔۔۔” وہ نرمی سے بولی
“اللہ میری مما اور لاج کو سکون دے دے۔ اللہ میرے لاج کو کبھی کوئی غم نے چھوئے”
وہ بالاج کو نہارتی زیر لب دعائیں کر رہی تھی
“ایسے کیا دیکھ رہی ہوں “
بالاج نے اس کی سیاہ مقناطیسی آنکھوں میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ کر مسکرا کر پوچھا
“دیکھ رہی ہوں بلکہ خود کو یقین دلا رہی ہوں یہ کوئی خواب تو نہیں میں اپنے محبوب کے ہی پہلو میں بیٹھی ہوں نہ “
وہ بے ساختہ بول گئی
پھر خود سے شرم سے گلنار ہوتی اپنا ہاتھ چھڑوا گئی
بالاج نے ہنس کر دوبارہ اس کا ہاتھ تھام کر اپنے گال سے رگڑا شیو کی چُبھن پر وہ کسمسائی
“اب آگیا یقین مسسز انا بالاج ، بالاج کے سکون ۔۔۔۔!”
بالاج نے ہنس کر کہا
خود کو اس کا سکون کہنے پر وہ جیسے جی اٹھی تھی
تبھی بالاج کے فون پر میسج آیا تھا
“ماں کا میسج!” بالاج نے موبائل کے ساتھ کونیکٹڈ گاڑی کے آٹو میٹیک سکرین پر حیا کے چمکتے میسج کو دیکھ کر حیرانگی سے کہا
میسج پر کسی کارڈیو ہسپتال کا زکر تھا حیا نے لوکیشن سینڈ کردی تھی
حیا کا حکم تھا وہ انابیہ کو لے کر وہاں آجائے ۔۔۔۔۔۔
ہسپتال ۔۔۔؟!! انابیہ نے حیرانگی سے دہرایا
اللہ خیر کرے وہ خوفزدہ ہوئی ۔۔۔
