Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 46) Part - 2
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 46) Part - 2
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
ڈاکٹر ۔۔۔
ڈاکٹر نیہا کو دیکھ کر حیات کھڑی ہوئی
بیٹھ جاؤ یار وہ مسکرا کر بولی
جی حیات آپ کا اندازہ درست تھا آپ پریگننٹ ہیں ٹو ویک پریگننٹ
ڈاکٹر نیہا کی مسکراتی آواز کر حیات مشتعل ہوئی
مگر ڈاکٹر اتنی جلدی احمد ابھی پانچ ماہ کا ہے حیات کو سمجھ نہ آیا وہ خوش ہو یاں پریشان
اس نے پریشانی میں اپنی بائی انگلی میں حدید کی دی ہوئی انگوٹھی کو گھمایا
اس میں پریشان ہونے والی کون سی بات ہے حیات یہ تو
تحفہ ہے اللہ کی طرف سے کسی کو جلدی جلدی مل جاتا ہے تو کوئی اپنی عمر گزار دیتا ہے اس انتظار کے پیچھے تم بہت خوش نصیب ہو
ڈاکٹر نیہا نے اس بہت محنت سے اسے سمجھا کر اس کے تاثرات کو نارمل کیا
جی بے شک ڈاکٹر مجھے بس یہ فکر ہے کہیں اتنی جلدی کے چکر میں ، میں احمد کو صحیح سے ٹائم نہ دے پاؤں
آرے میں ملی ہوں آپ کی ساس سے مسٹر شاہ سے جتنا وہ احمد کی آمد پر خوش تھے مجھے نہیں لگتا آپ کو احمد کی فکر کرنے کی ضرورت ہے وہ مسکرا کر بولی
تو حیات بھی ہنس دی بے شک گھر والے احمد کو لے کر بہت حساس تھے ۔۔۔
اپنی فائل لے کر وہ گھر آئی گھر میں بہت زیادہ خاموشی تھی
اچھا تھا حدید گھر پر نہیں ہے وہ اسے آرام سے سر پرائز سے سکتی ہے حیات نے الماری سے سرخ رنگ کی شلوار قمیض نکالی ہوکر فریش ہونے کے لیے واشروم چکی گئی خوبصورت سا تیار ہونے کے بعد اس نے احمد کو اچھے سے تیار کیا اپنے ڈرار میں سے حدید کا منہ دیکھائی میں دیا ڈائمنڈ کا سیٹ نکالا
وہ بے حد خوش تھی حدید کی خوشی کا تصور کرتے اس کے چہرے پر قوس قزح اُتری ۔۔۔۔
________
کافی دیر یوں ہی لیٹ کر وہ اٹھا نیند کوشش کے باوجود نہ آئی تھی اس نے زمین پر گڑی اپنی شرٹ اٹھا کر پہنی بند موبائل یوں ہی جیب میں اڑس کر وہ گھر کی طرف گاڑی موڑ گیا آج اس کا حیات کو لانے کا موڈ نہیں تھا یاں پھر وہ بھاگ رہا تھا ۔۔۔
_______
گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر نشاء کے کمرے کے کھلے دروازے پر پڑی وہاں اپنا سر تھامے نشاء کو دیکھ کر حدید نہ چاہتے ہوئے بھی ادھر آگیا
“نشاء طبیعت ٹھیک ہے ؟”
حدید نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا مگر وہ ہاتھ جھٹک گئی
دھوکہ دے رہے ہو نہ تم مجھے حدید شاہ
تم نے کہا تھا بچے کے بعد تم حیات کو چھوڑ دو گے تم نے کہا تھا حیات بس ایک بدلہ ہے ہمارے بچے کے مرنے کی قصور وار ہے حیات اس دن ایکسڈنٹ کرکے بھاگنے والی گاڑی میں حیات تھی پھر اپنے بچے کی قاتل سے دل کیوں لگایا تم نے کیوں حدید چھوڑ کیوں نہیں رہے اسے تم کیوں تم مرد ایسے ہوتے ہو وہ چیخ رہی تھی
اپنے ٹیرس سے حدید کی گاڑی کو دیکھ کر باہر آتی حیات ان کے دروازے کے باہر کھڑی ان دونوں کی باتیں سنتی لڑکھڑائی تھی
حدید قسم کھاؤ احمد کی تم نے حیات سے فقط بدلے کی خاطر شادی کی تھی
نشاء نے اس کا ہاتھ تھام چیخ کر کہا
میں نے حیات سے بدلے کے لیے شادی کی تھی نشاء حدید کی آواز سرد تھی
مگر باہر کھڑی حیات کا دل ٹکڑوں میں بٹ گیا
وہ لڑکھڑاتے ہوئے مڑی تھی اپنے کمرے آئی آنکھیں دھندلی ہورہی تھی مگر اس نے ہمت کرنی تھی اپنے بچے کی خاطر اپنے بچوں کی خاطر ۔۔۔۔
اس نے وشمہ بھابھی کو کال ملائی
جو پہلی بیل میں اٹھا لی گئی
بھابھی اس کی آواز نمی کی وجہ سے بھاری ہوئی ہوئی تھی
کیا ہوا ہے حیات
وشمہ بھابھی نے پریشان ہوکر کہا
بھابھی سب دھوکہ تھا
حدید کی شادی سب دھوکہ تھا میں احمد کو لے کر آرہی ہوں
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہ روتے ہوئے بولی
“حیات یہاں مت آنا “
ابھی حیات فون کاٹتی وشمہ بھابھی کی آواز پر اس نے حیرت سے فون کی جانب دیکھا
“بھابھی “
جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی تم ہماری اللہ اللہ کرکے تمہیں گھر سے نکالا تھا تمہاری وجہ سے ہمارے شوہر ہمیں وقت نہین دیتے تھے ہمیشہ حیات حیات حیات اب گئی ہو تو جان چھوڑ دو ویسے بھی تمہارا شوہر اتنا امیر ہے تمہیں لگتا ہے ہم اس سے لڑ سکتے ہیں تمہاری وجہ سے ہمیں کتنا برداشت کرنا پڑے گا حیات بس کر جاؤ ایک بیٹی ہے اب میری میں اپنے شوہر کو ان لڑایوں میں نہیں پڑنے دوں گی جاؤ جان چھوڑو جہان مرضی جاؤ مگر ادھر مت آنا حیات رحم کھاؤ اپنے بوڑھے ماں باپ پر
وشمہ کے الفاظ اس کے دل پر کھنجر پیوست کر گئے اس نے فون کاٹا ۔۔۔۔
نیند میں ہلتے احمد کو دیکھ کر وہ ڈر گئی اب جو کرنا تھا احمد کے جاگنے سے پہلے کرنا تھا
اس نے ہوش سے کام لیتے ہوئے الماری سے اپنے ضروری کاغزات نکالے اپنی پریگننسی کی فائل اور کچھ زیورات جو اس کی ماں کے تھے انھیں سفید پوٹلی میں باندھے ایک سفید کپڑے میں احمد کو لپیٹا اور وہ خاموشی سے کمرے سے نکلی مگر جانے سے اپنے سائیڈ ٹیبل کے لیمپ کے بیچے ایک پرچی رکھ چکی تھی ایک نظر کمرے میں دیکھا کتنی یادیں تھی ۔۔۔۔سب فریب تھیں ۔۔۔
وہ خاموشی سے گیٹ کے پاس آئی اندھیرا ہوگیا تھا گارڈ شاید نماز پڑھنے گیا تھا وہ دروازے سے باہر نکلی
چند قدم یوں ہی چلتی رہی اسے سمجھ نہ آیا کہاں جائے گھر ۔۔۔۔۔ نہیں جانا چاہتی تھی وہ خاص طور پر وشمہ بھابھی کے الفاظ سن کر تو کیا کوثر بھابھی بھی یہ ہی سوچتی تھی اس کے بارے میں جب کتے کے بھونکنے کی آواز پر اس کے جسم میں سنسنی سے دور گئی اس نے احمد کے گرفت اپنی گرفت مضبوط کی
سنانے ہی کتا کھڑا تاب
کتے نے سرخ آنکھوں نے حیات کی جانب دیکھا
حیات کے دل شدت سے دھڑکا اس نے سوچے سمجھے بغیر دوڑ لگا دی تھی
سنسان سڑک گھنگور اندھیرے میں تیز سرد ہوائوں کی زد میں بھاگتا آرہا وجود ہاتھ میں سفید رنگ کی چادر میں ایک ننھے وجود کو بھینجے سرد ہواؤں اور ارد گرد سے بے پرواہ وہ بھاگتی ہوئی آرہی تھی جب پیچھے سے آتی کھنکھناہٹ پر لحظے بھر کو خوف کے مارے گردن پیچھے کی طرف دیکھنے کے لیے موڑی تھی
اسے خوف تھا کتا ابھی بھی اس کے پیچھے نہ جب تیز رفتار گاڑی کی چمکتی روشنی اس کی آنکھیں چندیاں گئی اور اس کی ٹکر سامنے گاڑی سے ہوئی گرفت بازوں میں بھینجے وجود پر گہری ہوئی اور ایک نسوانی چیخ ارد گرد گونجی اور ساتھ ہی بچے کے رونے کی آوازیں گونجنیں لگیں ۔۔۔۔
______
ملا ہے جو مقدر میں رقم تھا ۔۔۔۔۔۔۔
زہے قسمت مرے حصے میں غم تھا ۔۔۔۔۔۔
سرخ رنگ کی شلوار قمیض میں اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے بھینجے پانچ چھ ماہ کے بچے کو تھامے وہ اس وقت سڑک پر بے یار و مددگار پڑی تھی اس کے بازوؤں میں سونے کی بھر بھر کر چوڑیاں کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹوپس اس کے امیر ہونے کی گواہی دے رہے تھے گاڑی سے نکلنے وجود نے اتنے سونے سے لدے وجود پر ایک نظر ڈال کر آنکھوں سے ہی اپنے ساتھ والے وجود کو دیکھا
وہ سفید چادر میں روتا بچہ بھی اب خاموش ہوگیا تھا ۔۔۔۔
غرض کے وہاں اب مکمل خاموشی تھی
بس سرد ہوا کے جھونکے اُس وجود کی بے بسی پر افسوس کرتے ماحول میں ہلکی سی خنکی ڈال رہے تھے ۔۔۔۔
_______
ابھی زندگی کا ایک حصہ دیکھا ہے ابھی کہیں سرے باقی ہیں۔۔۔۔۔۔
ابھی ایک زخم ہی تو بھرا ہے ابھی کہیں زخم باقی ہیں۔۔۔۔۔۔
گاڑی سے نکلنے والی اریبہ نے اس سرخ جوڑے میں بے ہوش لڑکی کے چہرے سے بال ہٹائے وہ بلا کی خوبصورت تھی مگر شاہد اس کی قسمت اتنی خوبصورت نہیں تھی اریبہ نے اس کے محفوظ حصار میں موجود بچے کو اپنی گود میں بھرا
دونوں میاں بیوی نے جیسے تیسے کرکے اسے گاڑی میں لٹایا
اس کی جیولری اتار لو اریبہ اپنے شوہر کی آواز پر اریبہ ایک لمحے کو رک کر اثبات میں سر ہلاتی اس کی جیولری اتارنے لگی ماتھے سے خون نکل نکل کر بہہ رہا تھا جبکہ چہرے پر درد کے تاثرات اب مدھم پر گئے تھے وہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھی ۔۔۔۔۔
اس لڑکی کو جلدی سے ایمرجنسی لے جایا گیا بچے کو اریبہ نے اپنی گود میں سمیٹ لیا تھا ۔۔۔۔
وہ ایک نظر بینچ پر بیٹھے اپنے شوہر سے ملاتی تو کبھی ہاتھ تھامے وجود کو جو سمٹ سا گیا تھا تو کبھی ایمرجنسی پر چلتی سرخ بتی کو ۔۔۔۔۔
اریبہ بیٹھ جاؤ تھک جاؤ گی اپنے شوہر کی فکر مند آواز پر آری ہے گہری سانس بڑھ کر ان کے پاس ہی بیٹھ گئی
جب تقریباً آدھے گھنٹے بعد ایک نرس نہایت ہڑبڑی سے باہر نکلی
آپ کے پیشنٹ کی حالت کافی نازک ہے آپ یہ دوائیاں لے آئیں
جی میں لاتا ہوں اریبہ کے شانے پر ہاتھ رکھ کر وہ وہاں سے چلے گئے ۔۔۔۔
ابھی وہ دوائی لے کر وارڈ میں آئے ہی تھے کہ نرس ایک دفعہ پھر ان کے پاس آئی
آپ کے پیشنٹ کی حالت بہت ناساز تھی وہ سروایو نہیں کر پائے
اریبہ پریشان سی ہوگئی وہ بچہ جو اس کی گود میں تھا وہ بھی اپنی قسمت کی ستم ظریفی پر اب رونے لگا تھا ۔۔۔
اریبہ نے اسے خود میں بھینچ لیا
اسے مجھے دے دو اریبہ ان کے شوہر نے اس بچے کو تھامنا چاہا مگر اریبہ اسے خود کے ساتھ لگا گئیں
نہیں ۔۔۔میں اسے نہیں دوں گی شاہد اللّٰہ نے میری خالی جھولی کو بھرنے کے لیے یہ بچہ ہمیں دیا ہے
ایسی باتیں مت کرو اریبہ۔۔۔۔
نہیں نہ آپ کو میری قسم یہ بچہ مجھے رکھنے دیں میری تڑپتی ممتا کو سکون میسر آئے جہانگیر پلیز
اریبہ اور جہانگیر لاہور کے مشہور ہسپتال چیک اپ کے سلسلے میں ہی آئے تھے شادی کے اتنے سال بعد بھی وہ اولاد جیسی نعمت سے محروم تھے جس کے لیے انہیں لاہور آنا پڑا مگر راستے میں یہ حادثہ ہوگیا جس سڑک میں وہ لوگ موجود تھے وہاں پاس ہی ایک چھوٹے طبقے کا چھوٹا سا کلینک تھا جہاں وہ اس وقت موجود تھے ۔۔۔۔
تبھی نرس ان کے پاس آئی وہ سرخ سوٹ میں پیشنت
جی اریبہ متوجہ ہوئی
وہ ٹھیک ہیں اب اور ان کا بے بی نرس نے مزید کہا
دونوں میاں بیوی نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا
پہلی نرس شاید کسی اور کا بتا کر گئی تھی دونوں نے شکر کا سانس لیا
______
حدید حیات کو بلاؤ ابھی کے ابھی ابھی فیصلہ ہوگا
نشاء حدید کو ہاتھ سے تھامے کھینچتے ہوئے باہر لے آئی تھی
نشاء ہاتھ چھوڑو حاجت اچھی گھر پر نہیں ہے اسے میں اس کے میکے چھوڑ آیا ہوں
تبھی ملازم ہاتھ میں گلابوں کا بوکے لے کر اندر آیا
سر یہ باہر کیب والے نے دئیے ہیں حیات بی بی یہ پھول گاڑی میں ہی بھول گئی تھیں
ملازم نے بتایا
چلو حدید نشاء اسے ہاتھ سے کھینچ کر اس کے کمرے کے پاس لے گئی
نہیں نشاء میں ایسے نہیں کر سکتا
ٹھیک ہے حدید میں خود ہی بتا دوں گی
نشاء اس کا ہاتھ جھٹک کر اندر آئی مگر اندر کوئی نہیں تھا بلکہ الماریوں کے پٹ کھولے ہوئے تھے اور بیڈ پر تین سے چار جیولری کیس کھلے ہوئے تھے
حدید نشاء کا ہاتھ جھٹکتا اندر آیا ۔۔۔۔۔
کپڑے ویسے کے ویسے ہی تھے باقی کا زیور بھی جب حدید کی نظر جلتے لیمپ پر پڑی اس کے نیچے سے پرچہ نکال کر اس نے پڑھی تھی
اتنا بڑا دھوکہ حدید شاہ نا کردہ گناہ کا
کاش اس دن ایکسیڈنٹ میں ہی مرجاتی روح پر اتنا گہرا زخم نہ لگتا
سمجھنا مر گئی حیات اور مرگیا احمد بھی ۔۔۔۔
چھوٹی سی تحریر اس کا وجود زلزلوں میں لاد گئی
نشاء نےا س کے ہاتھ سے پرچی تھامی
یہ ۔۔۔یہ کیا ہے حدید یہ سب کیا ہے وہ ہزیانی سا ہوکر چیخی
________
میرا بچہ سسکیاں ایک دم سے بلند ہوئی
میرا بچہ لے کر دور گئی وہ مکار عورت
میرا احمد ۔۔۔۔۔۔ میرا بچہ ۔۔۔!!…
گیلی آنکھوں سے اپنے کھالی ہاتھ دیکھتے وہ ایک دم آپے سے باہر ہوئی
موم میرا بیٹا موم آپ کا وارث لے کر دور گئی آپ۔۔۔۔۔ آپ یہاں ۔۔۔۔کیا کھڑے ہیں جاتے کیوں نہیں میرا بچہ لا کر دیں مجھے
حدید کا گریبان تھام کر چلائی جو خود صدمے کی کیفیت میں تھا ان کا بیٹا
میری جان رو نہیں ہمارا احمد آج کے آج ہی ہمارے پاس ہوگا چائے اس لڑکی کو جان سے کیوں نہ مارنا پر جائے
ہمارا پوتا صحیح سلامت تمہاری گود میں ہوگا
بہت غلط کیا ہے اس لڑکی نے۔۔۔۔۔
بہت غلط !!!۔۔۔۔۔
آبدہ شاہ پھنکاری تھی
حدید شاہ ہمیں آج ہی ہمارا ہوتا چاہیے
حدید ہوش میں آتا گھر سے نکلا
