Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 46) Part - 1
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 46) Part - 1
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
وہ تینوں حسب معمول لون میں بیٹھے ہوئے شام کی چائے پی رہے تھے جب ملازم ہاتھ میں میٹھائی کے ٹوکرے اندر لایا تھا
“یہ کہاں سے آئی” فیصل جاوید نے حیرانگی سے ابراہیم کی جانب دیکھ کر پوچھا
“مجھے نہیں معلوم بابا “وہ کرسی سے اٹھے
“یہ حدید صاحب نے بھجوائی ہیں ان کے گھر بیٹا ہوا ہے “
ملازم نے ادب سے سر جھکا کر کہا
“واپس لے جاؤ اسے “جاوید شاہ کی دھاڑ پر حدیقہ بھی سہم گئی
بابا۔۔۔” ابراہیم نے کچھ کہنا چاہا
“اسے واپس بھجوا دو ابراہیم نہیں تو میں اسے باہر پھنکوا دوں گا
حدیقہ نے حسرت سے ملازم کے ہاتھ میں موجود میٹھائی کو دیکھا اس کا بھائی باپ بن گیا وہ پھوپھو بن گئی
پھر اس نے ایک نظر اپنی جھولی میں ڈالی
گہری سانس بھر کر اپنے آنسو اندر کو کھینچے اس کے آنسو ابراہیم کو تکلیف دیتے تھے اگر وہ روتی تو ابراہیم بھی کہیں نہ کہیں اس کمی کے بارے میں سوچتا اس لیے حدیقہ ایسی ہوگئی جیسے یہ خبر اس کے لیے کوئی معنے نہ رکھتی ہو۔۔۔
_______
“اس شخص سے تمہاری خوشی بھی برداشت نہیں حدید اس نے اپنی بیٹی کو بھی اپنے جیسا کر لیا ہے بے حث “
آبدہ شاہ نے ملازم کے ہاتھ سامان واپس آنے کی خبر پر حدید کو جتایا
حدید احمد کو گود میں اٹھائے اس وقت آبدہ شاہ کے کمرے میں موجود تھا باپ بننے کی خوشی کا احساس محسوس کرنے کے بعد جانے اس کے دل میں کیا سمائی تھی اس نے دل سے مٹھائی باپ اور بہن کو بھجوائی جہاں سے ٹھکرا کر واپس صرف میٹھائی نہیں اس کے دل میں پیدا ہونے والا نرم گوشہ بھی تھا جو پھر سے سخت ہوچکا تھا
________
“پانچ ماہ بعد ۔۔۔۔ “
ان پانچ ماہ میں حیات نے چھِلا آبدہ شاہ کے کہنے پر سسرال میں ہی پورا کیا تھا ایک بھی لمحہ ایسا نہیں تھا جس میں حدید اس کے پاس نہ رہا ہو جبکہ احمد کے بعد آبدہ شاہ کا رویہ حیات کے ساتھ کچھ کچھ سرد سا ہوگیا تھا مگر حیات نظر انداز کر گئی جبکہ پوتے کے بعد تو حیات کی اہمیت اور بڑھ جانی چاہیے تھی
احمد اس وقت نشاء کے روم میں تھا نشاء اکثر احمد کو بڑے ہی حق کے ساتھ اُس سے لے کر اپنے کمرے میں لے جایا کرتی تھی اور کبھی کبھی تو احمد کے چھوٹے موٹے کام آبدہ شاہ نشاء سے کروایا کرتی حیات یہ سب ان کی محبت سمجھ کر مسکرا دیا کرتی تھی
اس وقت بھی احمد نشاء کے پاس تھا حیات اس وقت حدید کے پاس بیٹھی ہوئی تھی
“شاہ ۔۔۔۔” حیات نے اسے پکارا مگر وہ نہایت انہماک سے مووی دیکھ رہا تھا حیات نے بھی نظر ایل سی ڈی کی طرف گھمائی
سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی چیخ نکلی
حدید نے چونک کر حیات کو دیکھ
جو خوفزدہ آنکھوں سے سامنے سکرین پر نظر آتے ایکسیڈنٹ سین کو دیکھ کر پینک ہورہی تھی
حدید نے ٹی وی سکرین کو بند کرکے حیات کو پانی پلا کر اس کی کمر سہلائی
“کچھ نہیں ہوا ادھر دیکھو میری طرف حیات “
حدید نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرا کیا ہوا تھا
“حدید حیات کو (Dystychiphobia)
ڈیسٹیچی فیوبیا ہے وہ کوئی بھی ایکسیڈنٹ دیکھتی ہے تو اس کی طبیعت بگڑنے لگ جاتی ہے اور کبھی کبھی وہ ٹروماٹائیز ہوجاتی ہے”
علی بھائی کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجی اس دن وہ حیات سے پوچھنا چاہتا تھا مگر پھر اس کی بگڑتی طبیعت کے بعد احمد کی خوشی میں وہ پوچھ ہی نہ سکا تھا
کیا ہوا ہے حیات
“وہ ایکسیڈنٹ ۔۔۔۔” اس کی دھڑکنیں بامشکل معمول پر آئی تھی
وہ بس مووی کا ایک سین تھا حیات
حدید نے نرمی سے کہا
“تمہیں ڈر لگتا ہے اس دن بھی تم بے ہوش ہوگئی تھی حیات”
حدید نے اس کا چہرہ اپنی جانب کرکے پوچھا
“پچپن میں میں اپنی دوست کے ساتھ پارک گئی تھی وہاں سے واپسی پر ایک گاڑی میری طرف آرہی تھی مگر میری دوست نے مجھے دھکا دے دیا اور وہ گاڑی کے نیچے اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس کا خون آلود وجود میری آنکھوں کے سامنے تھا میں زمین پر گڑی سب دیکھ رہی تھی میرے ہاتھ پاؤں چلنے سے قاصر تھے آواز گلے میں بند ہوگئی وہ گاڑی چلانے والا شخص بھاگ گیا مگر میری دوست وہ ۔۔۔وہ مر گئی “
حیات کی ہچکیاں بندھ گئی
“اس واقعے کے بعد میں کہیں راتیں۔م سو نہیں سکی اس کے بعد ٹی وی پر بھی کوئی ایسا سین آتا ہے تو مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی “
حیات اس کے شانے میں چہرہ چھپائے اپنے خوف کے بارے میں بتانے لگی
جبکہ حدید کے دماغ میں کچھ سالوں پہلے کا منظر گھوما
“نشو میں کیک لے کر آرہا ہوں “
“تم یہاں بیٹھو بس پانچ منٹ “وہ گاڑی کا دروازہ بند کرکے نکلا
وہ ہاتھ میں کیک تھامے باہر نکلا جب دو گاڑیاں ایک ساتھ بڑی طرح رگڑتی ہوئی سامنے کھڑی اس کی گاڑی کے ساتھ ہٹ ہوئی تھی
آہ ۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ سے کیک گڑا وہ بھاگتا ہوا گاڑی کے پاس آیا
“نشو ۔۔۔۔۔!!”
مگر نشاء کے ماتھے سے خون رس رہا تھا وہ نیم بے ہوش ہوچکی تھی حدید کی جان نکل رہی تھی اس نے گاڑی چلائی مگر جانے کیا مسئلہ بنا تھا گاڑی چل نہیں رہی تھی
نشاء کی حالت بگڑ رہی تھی خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا حدید دوسری گاڑی کی جانب آیا وہاں اس کی نظر علی بھائی پر پڑی جو بغیر حدید کی دیکھے تیزی سے گاڑی بھگا لے گئے حدید کی نظر اندر بیٹھی حیات پر پڑی تھی اور گاڑی کے نمبر پر بھی
اس شخص کے نقصان کرنے کے ساتھ بھاگ جانے پر حدید شاہ نے اپنا غصہ دبایا اس وقت نشاء اور اس کے بچے سے زیادہ کیا ضروری ہوسکتا تھا
دوسری گاڑی والا شخص بھی زخمی ہوا تھا حدید عجلت میں نشاء کو اسی گاڑی میں لٹا کر اس زخمی شخص کو لئیے نکلا تھا
ڈاکٹر ۔۔۔؟؟
“نشاء ۔۔۔!!! میری بیوی کیسی ہے ؟”
حدید نے بے چینی سے کہا
“وہ ٹھیک ہیں اب مسٹر شاہ مگر آئی ایم سوری ہم آپ کے بچے کو نہیں بچا سکے گاڑی کے اگلا حصہ ان کے پیٹ پر لگا ہے اور دوسرا خون بہت بہہ چکا تھا آپ لیٹ ہوگئے باقی دوسری ریپورٹس کا ہم ویٹ کر رہے ہیں مگر سچ کہوں تو وہ اب شاید کبھی ماں بھی نہ بن سکیں “
حدید بے یقینی کی کیفیت میں ڈاکٹر کا منہ تکتا رہا
جو افسوس کرتی وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔
حدید نشاء کے روم میں آیا تو وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھی
وہ بددعائیں دے رہی تھی
“خدا غارت کرے اس شخص کو میرا بچہ “
حدید شاہ کی آنکھیں سرخ ہوئی
حدید کی آنکھیں بھی گیلی ہوئی
اسے شدید نفرت ہوئی اس شخص پر کیا تھا وہ اگر رک جاتا
کم از کم حدید کو دیر نہ ہوتی اس کا بچہ بچ جاتا
“ش۔شاہ ایک دفعہ میرا اور بھائی کا بہت خطر ناک ایکسیڈنٹ ہوا تھا “
حیات کی آواز پر حدید کو ہوش آیا
“پھر۔۔۔” حدید نے دانت پیس کر پوچھا مگر حیات نے غور نہیں کیا
“میری طبیعت بگڑ گئی تھی میں بے ہوش ہوگئی جب ہوش آیا تو میں ہاسپٹل میں تھی اللہ کا شکر تھا مجھے چوٹیں نہیں آئیں “
وہ مزید بتا رہی تھی مگر اس کے پہلو میں بیٹھا حدید سن ہی کہاں رہا تھا
یہ خبر یہ انکشاف کتنا بڑا جھٹکا تھا اس کے لیے
“شاہ آج مجھے ماما بابا کی طرف چھوڑ دیں گے مجھے ان سب کی یاد آرہی ہے “
حیات نے کھوئے ہوئے حدید کو خود کی طرف متوجہ کیا
حدید نے غائب دماغی سے اس کی طرف دیکھ کر سر اثبات میں ہلا دیا ۔۔۔
“اوکے میں تیار ہوکر آتی ہوں آپ احمد کو بھی لادیں میں اسے تیار کردوں” حیات مسکرا کر اٹھی تھی
حدید نشاء کے کمرے کی جانب بڑھ گیا
________
حدید کمرے میں آیا تو بیڈ پر بے ترتیب سا لیٹا احمد بری طرح سے رو رہا تھا حدید نے فوراً اسے گود میں اٹھایا
“کیا ہوا ہے بابا کی جان کو “
حدید نے اس کے بے تحاشا سرخ گالوں کو چوما تو وہ ایک دم سے چپ ہوا اپنی ہری آنکھوں کو بری کیا حدید کو پہچان رہا تھا
حدید نے اس کی سبز آنکھوں کو بھی چوم لیا
مونچھوں کے چبن پر احمد کھلکھلایا تھا مگر پھر بھوک کی وجہ سے انگوٹھے کو ہونٹوں میں دبائے چوسنے لگا ۔
حدید نے ٹیرس کے کھلے دروازے کی طرف دیکھا تو وہاں نشاء فون پر کسی سے بات کر رہی تھی
نشاء حدید کی آواز پر نشاء نے چونک کر پیچھے دیکھا اور جلدی سے فون کاٹ کر اس کے پاس آئی
“حدید ۔۔”
“نشاء تم سینس میں ہو اندر احمد اکیلا لیٹا ہوا تھا اگر کروٹ لے کر بیڈ سے گر جاتا تو “
حدید نے غصے سے کہا
“حدید بے و قوف نہیں ہوں میں ا سکے پاس تکیہ رکھا تھا میں نے اور گپے نہیں ہانک رہی تھی ضروری فون کال تھا “
نشاء نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا
“اچھا اب رو نہیں نشاء تم جانتی ہوں ہم سب احمد کو لے کر کتنے سینسٹیو ہیں “
“جانتی ہوں حدید مجھ سے بہتر کون جانے گا جس نے اپنی اولاد کھو دی” نشاء نے ٹوٹے لہجے میں کہا
نشاء حدید نے اسے ساتھ لگایا ہے نہ احمد تمہارا بیٹا۔۔۔۔ میرا بیٹا۔۔۔۔ ہمارا بیٹا
صرف میرا حدید نشاء نے احمد کے گال پر ہاتھ رکھا
تم حیات کو کب چھوڑ رہے ہوں
ایک دم سے نشاء نے اس کی آنکھوں میں دیکھا
حدید نظریں چرا گیا
“پانچ ماہ ۔۔۔۔ پانچ ماہ ہوگئے ہیں حدید تم کب حیات کو چھوڑو گے؟ “
نشاء اب اس کے سامنے آگئی
“جلد “وہ احمد کو لے کر مڑ گیا
“کہاں جا رہے ہو حدید ؟ بغیر میرے سوال کا جواب دئیے ” نشاء نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا
حیات کو اس کے میکے چھوڑنے اس بارے میں بعد میں بات کریں گے
وہ احمد کو لئیے کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
_______
حیات کے ساتھ احمد کو اس کے میکے چھوڑنے کے بعد حدید کچھ دیر لاہور کے پوش علاقے میں اپنے خریدے فلیٹ میں آگیا
تبھی اس کے موبائل پر آبدہ شاہ کا فون آیا تھا
“ماما “
حدید نے دھیرے سے پکارا
“حدید اتوار کا دن ہے تمہارے پاس حیات کو فارغ کرو اور احمد کی کسٹڈی لو اور جلد از جلد اس مسئلے سے نکلو میں نشاء کی آنکھوں میں اور آنسو برداشت نہیں کر سکتی “
وہ اپنی ماں سے اپنے دل کا حال بیان کرنے لگا تھا ماں کے حکم پر فون کاٹ گیا ۔۔۔
“حیات ۔۔۔۔ احمد “
حیات کا مسکراتا شرماتا چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا
حیات فقط بدلہ تھی
اس سے دل لگانے کے لئے نہیں لاتا تھا وہ
آئسکریم پارلر سے لے کر وہ چھوٹی سی ٹکڑ اتفاق نہیں حدید کی سوچی سمجھی سازش تھی
“پھر کہاں ۔۔۔۔کہاں چوکا تھا وہ کہاں اس نے حیات کو دل کے قریب آنے دیا ۔۔۔”
غصہ سے جب دماغ کی رگیں دکھنے لگی تو وہ اپنی شرٹ اتار کر موبائل سوئچ آف کئیے اپنے بیڈ روم میں منہ کے بل کر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔۔
________
“بھابھی ماشاءاللہ یہ کتنی پیاری ہوگئی ہے نہ “
حیات نے پریہان کے گال پر لب رکھ کر کہا
پریہان اپنی ہری آنکھوں سے اپنی پھوپھو کو دیکھ رہی تھی
“پھوپھو یہ آتا کیوں نہیں ہے کسی کے ہاتھ میں ؟”
حمزہ نے منہ بنا کر احمد کی طرف دیکھا جسے وہ جب گود میں اٹھاتا وہ گالا پھاڑ کر رونے لگتا
“ہاہاہا ۔۔۔۔ پھوپھو کے شہزادے پھوپھو کا بے بی بڑا موڈی ہے”
حیات نے ہمیشہ کی طرح حمزہ کے گال کھینچے تو وہ مسکرایا
“بھابھی یہ تو بالکل میری جیسی ہے ‘
حیات پھر سے بولی
“تو اپنے گھر لے جاؤ چندہ اپنی بیٹی بنا کر “
وشمہ بھابھی نے ہنس کر کہا
مگر حیات نے چونک کر وشمہ بھابھی کو دیکھا
“کیا واقعی آپ اپنی پری میرے احمد کو دیں گی..”
حیات کے چہرے پر روشنیاں چھلکنے لگی
وشمہ بھابھی مسکرا دی چلو اس بہانے ان کی بیٹی کو بھی احمد جتنی امپورٹنس ملے گی
ایسی ان کی سوچ تھی وہ اپنی سوچ سے نکل کر دیکھتی تو گھر بھر کی لاڈلی تھی پری اپنے بابا تایا حمزہ تائی دادا دادی سب کی
تقریباً تین چار بجے کا وقت تھا جب حیات کو ابکائی آئی وہ فوراً واشروم کی جانب بھاگی
وہ کچھ دنوں سے طبیعت خراب محسوس کر رہی تھی مگر اپنی سوچ کو جھٹک کر وہ دل خراب والی میڈیسن لے کر ریلیکس ہوگئی تھی
مگر آج طبیعت عجیب ہورہی تھی اس نے حدید کو فون ملایا مگر نمبر سویچ آف تھا
علی اور عدنان بھائی گھر پر نہیں تھے حفیظ صاحب سوئے ہوئے تھے حیات نے کچھ سوچ کر احمد کو لیا
بھابھی میں گھر جا رہی ہوں
حیات اتنی جلدی وشمہ بھابھی نے حیرت سے پوچھا
کوثر بھابھی اپنے میکے گئی ہوئی تھی
جی بھابھی وہ حدید کی کال آئی
وہ عجلت سے کہہ کر کیب میں بیٹھی
بھائی اس کلینک میں
حیات نے نیم غنودگی میں جاتے احمد کی گال پر لب رکھے تھے
وہ جو سوچ رہی تھی اگر صحیح ہے تو ۔۔۔۔!!
