Mann Mehram Mann Mujrim By Samreen Sheikh Readelle50311 Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 41)
Rate this Novel
Maan Mehram Maan Mujrim (Episode 41)
Maan Mehram Maan Mujrim By Samreen Sheikh
دونوں گھروں میں ایک خوشگوار صبح کا آغاز ہوا تھا
حدیقہ اور ابراہیم دونوں اس وقت فیصل جاوید کے ساتھ ڈائننگ ہال میں بیٹھے ناتہ کرنے کے ساتھ ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے
بھیچ بھیچ میں جاوید شاہ سے نظر بچا کر ابراہیم حدیقہ کو کبھی آنکھ مار دیتا تو کبھی کوئی شوخ جملہ کہہ دیتا جس پر کبھی حدیقہ گھور کر تو کبھی شرما کر رہ جاتی ۔۔۔۔
تبھی جاوید شاہ کا فون بجا تھا وہ فون سننے کی غرض سے اٹھے تھے جب حدیقہ نے بابا کا چہرہ دوسری جانب ہونے کا دائرہ اٹھا کر ہاتھ میں پکڑا کانٹا ابراہیم کے ہاتھ میں چبا دیا
ابراہیم دانتوں تلے اپنی چیخ دبا گیا
اپنے دائیں ہاتھ کی سرخ پڑتی جلد کے ساتھ کانٹے کے چاروں نوکیلے کونوں کے جلد میں تھوڑا سا گھسنے کے باعث ہلکا سا نکلتا خون دیکھ ابراہیم نے حدیقہ کو گھورا تھا جبکہ خون کو دیکھ کر حدیقہ خود بھی پریشان سی ہوگئی تھی
حدیقہ نے پریشانی سے ابراہیم کا ہاتھ تھاما
تبھی جاوید شاہ ادھر آئے
“کس کی کال تھی ماموں ۔؟”
ابراہیم نے حدیقہ کو اگنور کرکے جاوید شاہ سے استفسار کیا
“کچھ نہیں عبدل (سیکریٹری) کا فون تھا اس سے آج کی میٹینگس کا پوچھ رہا تھا “
“ارے ماموں اب آپ آرام کریں یار ہم ہیں نہ ہم سنبھال لیں گے “
ابراہیم نے فکر مندی سے کہا
“تم مجھے بوڑھا کہہ رہے ہو ابراہیم “
جاوید شاہ نے مصنوعی گھوری سے نوازتے ابراہیم کو کہا
“ارے نہیں ماموں “
ابراہیم کھسیانہ سا ہنس دیا
“ابھی تو ہم جوان ہے بہت طاقت ہے ان ہڈیوں میں ابھی تو اپنے نواسے نواسیوں کو اپنے کندھے پر بیٹھا کر سیر کروانی ہے “
جاوید شاہ نے ہنستے ہوئے چائے کا کپ منہ سے لگا کر کہا
جبکہ دوسری جانب حدیقہ کا رنگ فق ہوا تھا
دوسری جانب ابراہیم بھی ایک پل کو حدیقہ کا اڑا رنگ دیکھ کر جاوید شاہ سے نظریں چُرا کر ٹیبل کے نیچے سے ہی حدیقہ کا ہاتھ تھام گیا
جیسے اسے حوصلہ دیا
حدیقہ کے ایکسیڈنٹ کے بعد اس کی ماں نہ بننے والی خبر کو
دانستہ طور پر جاوید شاہ سے دور رکھا گیا تھا
ابراہیم نے از خود حدیقہ کو بھی اس بات کو دہرانے سے سختی سے منع کیا تھا
“ناشتہ کرو بچوں اور ابراہیم کوئی ضرورت نہیں تمہیں ابھی آفس جانے کی میرا تمہارا باس ہونے کے ساتھ ساتھ تمہارا سسر بھی ہوں جو تمہیں خود چھٹیاں دے رہا ہوں جاؤ گھوم پھر آو تم لوگ پھر بچوں کے بعد کہاں موقع ملتا ہے گھومنے پھرنے کا “
جاوید شاہ بغیر حدیقہ کی جانب دھیان دئیے بولتے ہوئے موبائل پر آئے چند میسجز دیکھنے لگے
جبکہ حدیقہ سے اب کہاں کھایا جانا تھا وہ ضبط کئیے بیٹھی رہی
جبکہ ابراہیم بھی ہاتھ کے درد کو فراموش کئیے جی جان سے حدیقہ کا درد محسوس کرنے لگا۔۔۔۔
________
حفیظ صاحب کے گھر میں اس وقت کھچڑی سی پکی ہوئی تھی حیات کا ناشتہ لے کر جانا تھا اور دونوں بھائی اپنی اکلوتی بہن کے سسرال میں پہلے ناشتے میں کوئی کثر چھوڑنا نہیں چاہتے تھے کوثر اور وشمہ بھابھی بھی انواں اقسام کے ناشتے بنا کر پیک کر رہی تھی ۔۔
حاجرہ بیگم بھی بار بار کچن میں آکر اپنی نگرانی میں سامنے رکھواتی کچھ بوکھلاہٹ کا شکار تھی
” جلدی کرو کوثر دیر نہیں ہونی چاہیے ‘
“جی امی آپ فکر مت کریں “
_______
حدید نے چہرے پر نمی محسوس کرکے آنکھیں واہ کی تھی سامنے ہی حیات اپنے گیلے بالوں کو سکھاتی نظر آئی
“صبح بخیر زندگی “
حدید شاہ کی گھمبیر آواز سن کر حیات کی دھڑکن رکی تھی ہیر برش ہاتھ سے پھسل کر زمین بوس ہوا
جسے حیات نے ہڑبڑا کر اٹھایا
“گڈ مارننگ مسسز شاہ “
اس کے بالکل پیچھے کھڑا حیات کو اپنا سرخ تپتا چہرہ جھکانے پر مجبور کرگیا
“جانتی ہو جب تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو تم مجھے گھبرائی سی لگی جیسے معصوم سی ہرنی جس کی سبز آنکھوں میں خوف تھا گھبراہٹ تھی “
“دوسری بار جب ملی تو گھبراہٹ کا شکار ہونے کے ساتھ لاپرواہ بھی لگی جو بغیر دیکھے سڑک پار کرتی ہے “
“پھر تیسری ملاقات میں بے حد ایٹیٹیوڈ والی جس نے نیچے گرے پھولوں کو دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی “
“لیکن کل سے آج تک میرے مشاہدے میں یہ اضافہ ہوا ہے مسسز شاہ گھبرانے کے ساتھ ساتھ شرما بھی اچھا خاصا لیتی ہیں “
حدید کی بھاری سرگوشی پر حیات نے ڈریسنگ ٹیبل سے پشت لگا کر خود کو کھڑا رکھنے کے لیے سہارا دیا
“پوچھو گی نہیں پہلی ملاقات کہاں ہوئی تھی ؟ “
حدید نے اس کی گیلی شریر لٹ کو اس کے چہرے سے ہٹاتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہا
“کہ۔کہاں ۔۔۔؟”
بہت ہمت کرکے اس کے لب ہلے
“جب آئسکریم پارلر میں تمہاری میرے ساتھ ٹکر ہوئی تھی مسسز”
حدید نے لب دانتوں میں دبا کے حیات کے چہرے پر آنے والے ایکپریشن کو انجوائے کیا تھا
جو اپنی سبز آنکھوں کو پورا کھولے حدید کا چہرہ دیکھنے لگی
“وہ آپ ۔۔۔تھے ؟؟”
حیات نے بے ساختہ ہی کہا
اسے یاد تھا جتنا وہ اس دن بغیر گھر والوں کو بتائے آئسکریم پارلر گئی تھی ایک جانب گھبراہٹ دوسری جانب اس کی ٹکر ہوگئی جس کے سبب آئسکریم زمین بوس ہوئی اور وہ بچاری آئسکریم بھی نہ کھا سکی
“دیکھا تمہیں لاپرواہ یوں بے سبب تو نہیں کہتا “
حدید نے ہنس کر کہا
اب ایسی بھی بات نہیں ہے حیات نے خفگی سے کہہ کر چہرا شیشے کی جانب موڑ لیا
‘پھر کیسی بات ہے مسسز “
وہ ہاتھ کا سرا ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر شیشے میں دیکھتا کہتا
ابھی بھی اسے تنگ کرنے سے باز نہیں آیا
حیات نے اپنی سبز آنکھوں میں کاجل بھرتے شیشے سے نظر آتے اپنے ساتھ اس کے چہرے پر نظر ڈالتے بے ساختہ بے آواز “ماشاءاللہ” کہا
اس کے لبوں کی حرکت کو محسوس کئیے حدید کے دائیں گال کا گڑھا نمایہ ہوا تھا
“ماشاءاللہ کے ساتھ نظر اتارے جانے کی بھی مستحق ہے مسسز شاہ” بالوں کی دلفریب خوشبو محسوس کرکے وہ سحر پھونکتا وہاں سے غائب ہوا
حیات دروازہ بجنے ہر ہوش میں آئی ۔۔۔۔
“بڑی بیگم بلا رہی ہیں “
“آ۔آئے ۔۔۔”
_______
نشاء اور آبدہ شاہ دونوں ہی ڈائننگ ہال میں بیٹھے حدید اور حیات کا انتظار کر رہے تھے
“السلام علیکم “
حیات نے سلام کیا
“وعلیکم السلام حیات بچے آو”
“ہیلو حیات ہائے حدید “
نشاء بھی آبدہ شاہ کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی
آنکھوں کے ہم رنگ سبز رنگ کی ویلوٹ کی لانگ قمیض کے ساتھ ٹراؤزر میں نکھری سی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
جب حدید نے اس کے لیے چئیر کھینچی تھی
حیات مسکرا کر بیٹھی مگر اس کے نگاہیں دروازے کے پاس ہی تھی
“حیات باہر دیکھ رہی ہو کیا کسی کا انتظار ہے تمہیں ؟” نشاء نے سلائس پر مکھن لگاتے حیات کی جانب دیکھ کر کہا
“جی۔۔۔۔ وہ گھر ۔۔۔۔”
تبھی ملازمہ نے حیات کے گھر والوں کے آنے کی خبر دی
ملازمہ کے خبر پر حیات کا چہرہ چمکا
________
“ارے بیٹا یہ تو تکلف کیا آپ لوگوں نے کیا ضرورت تھی اس کی “
“آنٹی یہ تو رسم ہوتی ہے اور حیات ہماری اکلوتی نند ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری چھوٹی بہن بھی ہے” وشمہ بھابھی نے حیات کو ساتھ لگاتے ہوئے کہا
حیات کا ناشتہ لے کر علی ، عدنان بھائی اور وشمہ بھابھی آئے تھے
حاجرہ بیگم اور کوثر بھابھی گھر میں دوسرے کاموں میں مصروف تھی
وشمہ بھابھی نے رشک سے حیات کے گھر اور اس کے سسرال والوں کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
_______
حدیقہ بیڈ کی بیک کے ساتھ ٹیک لگائے موبائل فون ہاتھ میں تھامے بیٹھی تھی مگر اس کا دھیان کسی اور ہی جگہ لگا ہوا تھا
جب ابراہیم ہاتھ میں ٹرے تھامے اندر آیا
حدیقہ خلاؤں میں کھوئی ہوئی تھی جب نوالہ اس کے لبوں کے قریب آیا
حدیقہ نے آنکھیں اٹھا کر ابراہیم کو دیکھا
یکلخت ہی اس کی آنکھوں میں آنسو سے بھر گئے
“ڈونٹ حدیقہ “
“مجھے کم از کم ہماری شادی کی اگلی صبح تمہاری آنکھوں میں دکھ کے آنسو نہیں دیکھنے “
ابراہیم نے ان آنسوں کو بہنے سے پہلے ہی چن لیا تھا
“چلو اب منہ کھولو
حدیقہ نے منہ کھول کر نوالہ کھایا”
پھر خود ہے ابراہیم کی ہاتھ سے پلیٹ لے کر اسے بھی کھلانے لگی کیونکہ حدیقہ کو معلوم تھا اس کے کھانا چھوڑتے ہی ابراہیم نے بھی پلیٹ کھسکا دی تھی
“سوری “وہ کا ہاتھ تھام کر اس پر انگلی پھیرتی معافی مانگ گئی
“ایسے تو معافی نہیں ملے گی “
ابراہیم نے آنکھ دبا کر کہا
“زیادہ فری مت ہوں “
وہ انگوٹھہ رکھ کر زخم دبا گئی
“ظالم ۔۔۔۔”
________
یہ ایک مہینہ حدید کی سنگت میں حیات کو خود پر رشک کرنے پر مجبور کرگیا تھا اوپر سے آبدہ شاہ کا رویہ اس کے ساتھ بالکل ماؤں جیسا تھا نشاء بھی زیادہ تر مصروف ہی رہتی وہ آبدہ شاہ کی طرح بزنس کرتی تھی آئے دن پارٹی میں مدعو رہتی جبکہ دوسری جانب حدید شاہ کے لیے اس کا دل اب دھڑکنے لگا تھا اس کی غیر موجودگی میں حیات کا دل ہی نہیں لگتا تھا
حدید ضروری میٹینگ کی غرض سے آفس گیا تھا نشاء اپنے کمرے میں تھی آبدہ شاہ کسی کام سے کراچی گئی تھی
_______
“وشمہ حیات سے بات ہوئی تمہاری کافی دن ہوگئے “
کوثر بھابھی حمزہ کو سُلاتے ہوئے بولی
‘یہ آج کل چڑچڑا سا ہوگیا ہے ہیں نہ بھابھی “وشمہ نے حمزہ کی گال چھو کر کہا
“ہاں وشمہ بڑا ہورہا ہے نہ دوسرا حیات کو بھی یاد کر رہا ہے تبھی چڑچڑا سا ہوگیا ہے تبھی مجھے تھکائے رکھتا ہے “
کوثر بھابھی نے ہنس کر کہا
“اللہ میری بھی گود بھر دے بھابھی اب تو مجھے بھی اپنی سونی گود تکلیف دینے لگی ہے “
وشمہ رونے لگی
“میری جان حوصلہ کرو دیکھنا اللہ تمہیں بھی جلد ہی اولاد سے نوازے گا
آمین ثم آمین “
کوثر بھابھی نے اسے حوصلہ دیتے کہا
جی وہ اثبات میں سر ہلا گئی جب ایک دم سے ان کا سر چکرایا تھا
“وشمہ ۔۔۔۔”
________
حیات نے یہاں وہاں چکر لگاتے بالآخر فون نکال لیا
پھر ناخن چباتے ہوئی حدید کا نمبر ملایا
مگر کال کرنے سے پہلے ہی فون آف کردیا
“یار ۔۔۔۔ میں بور ہورہی ہوں “
حیات نے لب دبائے
میں آج ان سے دوبارہ یونیورسٹی سٹارٹ کرنے کا پوچھوں گی
حیات سر ہلاتی خود سے بولی
پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے حدید کو کال ملا لی
دوسری ہی بیل پر فون بھی اٹھا لیا گیا
“السلام علیکم” حدید کی گھمبیر آواز پر اس کی ہتھیلیوں میں نمی سی آئی
“کیا مس کر رہی ہو مسسز !؟”
حدید نے پرجزب سے کہا تھا حیات بے ساختہ سر ہلا گئی مگر ہونٹوں سے اقرار نہیں کیا
‘مسسز صرف سر ہلاؤ گی ہاں منہ سے اقرار بھی کرو گی “
حدید کے اتنے وسوق سے کہنے پر حیات نے آنکھیں بڑی کرکے منہ کھولا
“منہ بند کر لو مسسز ۔۔۔۔”
حیات نے فوراً فون بند کیا
“اللہ یہ بھی کتنے تیز ہیں کہیں کیمرے تو نہیں لگوائے “
حیات نے یہاں وہاں نظر گھما کر باہر کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔۔
_______
“جی میری جان میں کسے یاد کر سکتی ہوں تمہارے سواہ
لیکن آج کل تمہارے پاس میری لئیے وقت کہاں ہوتا ہے
وہ شیشے سے نظر آتے دروازے کے پاس کھڑی حیات کے عکس ہر نظر ڈال کر خفگی سے بولی
“نہیں ۔۔۔۔آج نہیں آج مجھے بہت سارے کام ہیں “
حیات نشاء کی مسکراتی آواز سن کر اس کے پاس آئی مگر اسے مصروف دیکھ کر وہ دروازے سے ہی مڑ گئی ۔۔۔
_________
“اففف۔۔۔۔ کیا مصیبت ہے ایک تو وہ بے حد بور ہورہی تھی دوسرا بار بار گھومتے سر کو تھامے جھنجھلاہٹ کا شکار بھی ہوگئی تھی “
“کونسی مصیبت ہے جو میری مسسز کو تنگ کر رہی ہے “
تبھی حدید ہاتھ میں بیگ پکڑے کمرے میں آتا بولا
حیات کا چہرہ ایک دم سے روشن ہوا
“آپ آگئے۔۔۔”
حیات نے مسکراتے ہوئے کھڑے ہوکر کہا
“غالباً میں آ ہی گیا ہوں مسسز “
حدید نے ہنستے ہوئے شرارتا کہا
“آپ ہر وقت میرا مزاق ۔۔۔۔۔۔!!” اب کی بار وہ برا لڑکھڑائی تھی مگر اس کے گڑنے سے پہلے ہی حدید نے اسے تھام لیا
“حیات ۔۔۔۔”
“مسسز۔۔۔۔”
وہ پریشانی کے عالم میں اسے لے کر نکلا ۔۔۔۔
_________
حیات امید سے تھی یہ خبر سنتے ہی کراچی بیٹھی آبدہ شاہ پہلی فلائٹ سے لاہور پہنچی تھی
حیات تو حدید کے سامنے ہی آنے کو تیار نہ تھی شرم ایسی غالب آئی وہ حدید کو سامنے پاتے ہی چھپنے کی کرتی ۔۔۔۔۔
یہ خبر تھی یہ ایسی ۔۔۔
_______
“وشمہ میری جان بہت بہت مبارک ہو”
کوثر بھابھی اپنی دیورانی کو گلے سے لگائے مسکراہٹ سمیت بولی
جبکہ خود وشمہ کی آنکھیں بھی بھیگی ہوئی تھی اللہ نے اس کی سن لی وہ ماں بننے والی تھی
عدنان بھائی کی خوشی ان کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی وہ سب ابھی حیات کو کال کرکے یہ خبر دیتے حیات خود حدید کے ساتھ حفیظ ہاوس میں آئی
میٹھائی تھامے جب حیات نے ماں کے گلے لگ کر خبر دی تو سب ایک دم ساکن سے ہوگئے
حیات کی امید سے ہونے کی خبر جب سب گھر والوں نے سنی تو ہر شخص خوشی سے جھوم اٹھا
دونوں بڑے بھائی اپنی چھوٹی بہن کے لیے بے حد خوش تھے
آبدہ شاہ اس کی نظر اتار اتار نہیں تھک رہی تھی
جبکہ حاجرہ بیگم اپنی بیٹی کو اپنا خیال رکھنے کی تاکیدیں کر رہی تھی
آخر ان کے گھر میں دو دو اتنی بڑی خوشیاں آئی تھی
کوثر بھابھی بھی حیات کو لے کر بیٹھ گئی
جبکہ وہاں صوفے پر بیٹھی وشمہ عدنان اس لمحے خود کو تنہا محسوس کرنے لگی
اتنی بھیڑ کے باجود خود کو تنہا بالکل تنہا
کیوں حیات کیوں ہمیشہ تمہاری وجہ سے میری خوشیاں مانند پر جاتی ہیں صرف اور صرف تمہاری وجہ سے میرا شوہر ہمیشہ مجھے نظر انداز کر جاتا ہے تم کیوں نہیں اپنی خوشیاں خود تک محدود رکھتی کیوں آجاتی ہو مجھے میری محرومیوں کا احساس دلانے۔۔۔۔
